... loading ...
پاکستان میں مسلمانوں نے رواں سال بھی زکوٰۃ ،فطرہ اور خیرات میں 600 ارب روپے سے زیادہ غریبوں ، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے کے دعویدار اداروں کے حوالے کردیے ، جبکہ گزشتہ سال ایک اندازے کے مطابق اس مد میں 554 ارب روپے ادا کیے گئے تھے ۔اس طرح رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں کم وبیش 46 ارب روپے زیادہ غریبوں کو دیے گئے۔
زکوٰۃ اور فطرہ کی مقررہ نصاب کے مطابق ادائی ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے جب کہ خیرات ایک صوابدیدی معاملہ ہے لیکن خاص طورپر رمضان المبارک کے دوران ہر مسلمان یہاں تک کہ غریبوں کی صف میں شمار کیے جانے والے لوگ بھی چلتے پھرتے صلہ رحمی کے جذبے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کی تمنا میں خیرات کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے اسی جذبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بے شمار غیر مستحق افراد اس ایک ماہ کے دوران لاکھوں روپے بٹورکر گھروں کی راہ لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کے دوران شہر کے معروف فلاحی اداروں کے علاوہ درجنوں ایسے غیر معروف اداروں کی جانب سے بھی زکوٰۃ وفطرے کی وصولی کے لیے پورے شہر کو بینرز سے سجادیاجاتاہے۔ پورے سال کسی نے جن کانام بھی نہیں سنا ہوتا، نہ معلوم کس کس گائوں دیہات کی مساجد اور مدرسوں کی جانب سے چندے جمع کرنے والی ٹولیاں شہر میں گشت کرنے لگتی ہیں اور مختلف مساجد میں امام مسجد کے مبینہ تعاون سے زکوٰۃ و فطرے کی رقم جمع کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ لوگوں کی جانب سے بلاتحقیق اس طرح زکوٰۃ اور فطرے کی ادائی کی وجہ سے شہر میں پورے سال فلاحی کام انجام دینے والے اداروں کو فنڈز کی کمی کاسامنا کرنا پڑتاہے۔جس کی واضح مثال عبدالستار ایدھی فائونڈیشن کی ہے جوپورے سال بلاامتیاز لوگوں کی خدمت میں مصروف نظر آتی ہے لیکن لوگوں کی زکوٰۃ ،فطرہ اور خیرات وصدقات کی رقم غیر مستحق لوگوں کے لے اڑنے کی وجہ سے ان دنوں فنڈز کی شدید کمی کاشکار ہے اور جس کی وجہ سے اسے اپنی خدمات کادائرہ سکیڑنے پر غور کرنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔
کراچی میں خدمات انجام دینے والے بڑے فلاحی اداروں کے ارباب اختیار کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پر فطرہ وزکوٰۃ وصول کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی اور اس پارٹی کے جنگجو گروپ کی روپوشی کے بعد شہر میں فلاحی اداروں کو ملنے والی رقوم میں کافی اضافہ ہواہے لیکن اس سے سب سے زیادہ فائدہ وہ غیر معروف ادارے جن میں سے بیشتر جعلی یاطالبان اوراس طرح کے انتہاپسند مذہبی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں اٹھارہے ہیں اوران کے کارکن گلی گلی گھوم کر مائیکروفون کے ذریعے مختلف مدارس کے غریب بچوں کی تعلیم وتدریس اور رہائشی اخراجات کے نام پر چندہ اکٹھا کرتے نظر آئے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستانی مسلمان پورے سال انسانی ہمدردی کے نام پر جو عطیات دیتے ہیں اس کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ رمضان المبار ک کے دوران دیتے ہیں ، اس لئے رمضان المبارک کا مہینہ فلاحی اداروں کے علاوہ ایسے جعلی اور انتہا پسند اداروں کے لیے گویا عید کامہینہ ہوتاہے اور وہ لوگوں کے جذبہ صلہ رحمی کو مختلف حربوں کے ذریعہ زیادہ اجاگر کرکے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں بڑی حد تک کامیاب رہتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ زکوٰۃ ،فطرہ، صدقات اور خیرات دیتے وقت اس بات کی تصدیق کو ضروری تصور کرتے ہیں کہ ان کی رقم صحیح ہاتھوں میں جارہی ہے یا نہیں ،جبکہ 98 فیصد سے زیادہ افراد بلاسوچے سمجھے لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میںآکر یا وعظ وتبلیغ سے متاثر ہوکررقم دے دیتے ہیں، اس طرح شہریوں کی جانب سے دی گئی رقم کاایک بڑا حصہ غیر مستحق لوگوں کے علاوہ ایسی تنظیموں کے پاس چلاجاتاہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر طالبان اور ان ہی کی طرح کے انتہا پسند گروپوں کے لیے کام کررہی ہوتی ہیںاور اس طرح جذبہ ہمدردی کے تحت شہریوں کی دی ہوئی رقم ان کی موت کاسامان بن جاتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اپنی طاقت کھوبیٹھنے اور جنگجو گروپوں کے روپوش ہونے سے قبل تک ایم کیو ایم اس شہر کے لوگوں کی زکوٰۃ ،فطرے اور خیرات کا کم وبیش70 فیصد حصہ برضا ورغبت یا بزور قوت وصول کرلیتی تھی اور دیگر فلاحی اداروں اور دیگر مدارس ومساجد کو صرف 30 فیصد رقم مل پاتی تھی لیکن منظر نامہ تبدیل ہوجانے اور ایم کیو ایم کے پس منظر میں چلے جانے کے بعد اب انتہا پسند مذہبی تنظیمیں شہریوں کی زکوٰۃ وفطرے کی رقم کا بڑا حصہ حاصل کرنے کی جستجو کرنے لگی ہیں۔تاہم صورت حال میں اس تبدیلی سے شہر کی فلاحی تنظیموں کو بھی بڑا سہارا ملا ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال شہر میں فلاحی کام انجام دینے اور شہر کے مستحق لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرنے والی تنظیم سیلانی ویلفیئر کو بڑے پیمانے پر عطیات ملے جس سے ان کو اپنے فلاحی کاموں کادائرہ وسیع کرنے کاموقع ملا۔اس کے برعکس ایدھی فائونڈیشن کے ذرائع کاکہناہے کہ ایدھی فائونڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی وفات کے بعد سے اس ادارے کو ملنے والے عطیات کی شرح میں مسلسل کمی ہورہی ہے جس کی وجہ سے انھیں فلاحی خدمات کی انجام دہی میں مشکلات کاسامناہے۔ایدھی فائونڈیشن کے سرکردہ رکن اور ادارے کے ترجمان کی حیثیت سے پہچان رکھنے والے انور کاظمی کاکہناہے کہ گزشتہ سال بھی ہمیں اس سے قبل ملنے والے عطیات کے مقابلے میں کم رقم ملی تھی اور اس سال بھی صورت حال کچھ بہت زیادہ بہتر نظر نہیں آرہی ہے، تاہم اس کااندازہ اس سال ملنے والے عطیات ، زکوٰۃ اور خیرات کی رقوم کے حساب کتاب کے بعد ہی ہوسکے گا،فلاحی اداروں کے سرکردہ ارباب اختیار کاکہناہے کہ زبردستی زکوٰۃ وفطرہ وصولی پر ضرب لگنے کے بعد فلاحی اداروں کو ملنے والی رقوم میں جہاں اضافہ ہواہے وہیں نئی نئی تنظیمیں رقوم کی وصولی کرتی نظر آرہی ہیںجس کی وجہ سے فلاحی اداروں میں بھی مقابلے کاایک ماحول پیدا ہوگیاہے۔
ایم کیو ایم کے دو حصوں ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیوایم لندن میں تقسیم ہوجانے کے بعد اب اس پارٹی کے دونوں دھڑے الگ الگ خطوط پر کام کررہے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان امین الحق کاکہناہے کہ اس سال ان کی پارٹی نے زکوٰۃ وفطرہ جمع نہ کرنے کافیصلہ کیاتھا اس لیے پارٹی نے اس مد میں کوئی رقم جمع نہیں کی، دوسری جانب ایم کیو ایم لندن کے ترجمان واسع جلیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیوایم لندن پر غیر اعلانیہ سخت پابندی کے باوجود بہت سے لوگوں نے پارٹی کو زکوٰۃ اور فطرے کی رقوم پہنچائیں اور انھوں نے اس مد میں وافر رقم جمع کرلی۔ تاہم انھوںنے اس طرح جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات نہیں بتائیں اور یہ بھی نہیں بتایا کہ اس طرح جمع ہونے والی رقم کس طرح اورکن مقاصد کے حصول کے لیے خرچ کی جائے گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد دہشت گردی سے متعلق ادارے کے حکام کا کہناہے کہ مساجد اور مدرسوں کے نام پر چندہ جمع کرکے انتہاپسندانہ اور دہشت گردی کی کارروائیوں پر رقم خرچ کرنے والے اداروں اور لوگوں کامحاسبہ کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ لوگ انھیں نقد رقم دیتے ہیں جس کا کوئی حساب کتاب ان اداروں کے پاس نہیں ہوتا اس طرح منی ٹریل کاپتہ لگانا ناممکن ہوتاہے اس کے علاوہ مدرسوں کے نام پر دہشت گردوں کی پرورش کرنے والے لوگوں کاپتہ لگانا بھی آسان نہیں ہوتا اور جب تک ان کے گروپ کا کوئی فرد گرفت میں آنے کے بعد تفصیلات افشا نہ کردے ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا۔اس طرح اس ملک کے خداترس اور مخیر افراد ہی غیر محسوس طریقے سے ان دہشت گردوں کی سرپرستی کے مرتکب ہورہے ہیں ، اس لیے اس سلسلے کو روکنے کے لیے باقاعدہ بھرپور آگہی مہم چلانے اور اس طرح چندے لے کر دہشت گردوں کو سہولت کاری فراہم کرنے والے لوگوں کی گرفتاری کے بعد ان کی بھرپور تشہیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو یہ احساس ہوسکے کہ وہ اللہ کے دین کی ترویج کی نیت سے جو رقم خرچ کررہے ہیں وہ دین کی ترویج کے بجائے اللہ کے نام لیوائوں کی جان لینے پر خرچ ہورہی ہے۔
تہمینہ نقوی
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...
ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...