وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان

جمعه 30 جون 2017 صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان


امریکا نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے دورۂ امریکا کے موقع پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طورپر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔بھارت نے جہاںامریکا کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں اس کو ’مکمل طور پر بلاجواز‘قرار دیا ہے۔سید صلاح الدین مقبوضہ کشمیر میں حکومتی افواج سے برسرِپیکار سب سے بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے سیکشن ‘ون بی’ کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔یہ پابندی ان غیرملکی افراد پر عائد کی جاتی ہے جنھوں نے امریکی شہریوں یا ملک کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی یا معیشت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہوں یا ان سے ایسی کارروائیوں کا واضح خطرہ ہو۔یہ اعلان وائٹ ہاؤس میںبھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔خصوصی طور پر نامزددہشت گرد قرار دیے جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ صرف امریکی شہریوں پر اب سید صلاح الدین کے ساتھ مالیاتی لین دین پر پابندی ہوگی بلکہ ان کے امریکا میں تمام اثاثے بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔
سید صلاح الدین کی عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کئی دہائیوں سے کشمیر میں بھارت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صلاح الدین کی سربراہی میں حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔بھارتی حکومت سید صلاح الدین کو دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔بھارت کے مطابق سید صلاح الدین پاکستان میں رہ کر کشمیر میں مہم چلا رہے ہیں۔بھارت نے مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست دی تھی اس میں صلاح الدین کا نام بھی شامل تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں سید صلاح الدین کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو جو بھارت کے زیرِ انتظام مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے حامی ہیں، دہشت گرد قرار دیا جانا ایک بلاجواز اقدام ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 70 سال سے جاری تحریک جائز ہے اور پاکستان حقِ خود ارادیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز کوششوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔امریکا کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین طرح سے اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اول یہ کہ اس کے نتیجے میں کشمیری عسکریت گلوبلائز ہوسکتی ہے،جبکہ حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران میں کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا ہے۔گزشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اْٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اْستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ،جس کا ابھی تک کرداراور ایجنڈا مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔
دوسرے یہ کہ اس سے بھارتی حکومت کو جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوںکو دبانے کی چھوٹ ملے گی۔ظاہر ہے کشمیر میںجدوجہد آزادی کو دبانے کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکا اور یورپی اداروں نے بھارت پر نکتہ چینی بھی کی۔خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے توبھارتی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طر ف بھارتی کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔گزشتہ دنوں بھارتی فوج کے سابق کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہورہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکا کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کارروائیوں کے لیے بھارتی حکومت کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔
تیسرے یہ کہ اس سے حریت کانفرنس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔حریت پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا ’پْرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اوربھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔اس طرح حریت کانفرنس کا کشمیر کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے بعد اب حریت کانفرنس کو بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبورہوناپڑسکتاہے۔
ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنابھارتی وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں2سے 3 ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔
بھارت کے معروف تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’بھارت کو توقع تھی کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کردے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘بھارت کے ایک اورصحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اْس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں بھارت کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمہ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکا کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔‘کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکا اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آ جائے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، آرمی چیف وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دشمنی ہے ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہ پہنچائیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپر دیر مالاکنڈ ڈویژن کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ان کا استقبال کیا۔آرمی چیف کو استحکام آپریشنز اور بارڈر مینجمنٹ پر بریفنگ دی گئی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنگل...

دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، آرمی چیف

ججوں کے انتظامی فیصلے انفرادی نہیں بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ، سپریم کورٹ وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ہائیکورٹس اور ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات فیصلے بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ۔ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے 16 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات کے حوالے سے فیصلہ جاری کردیا، 42 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹس اور ہائی کورٹ ججز کے ...

ججوں کے انتظامی فیصلے انفرادی نہیں بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ، سپریم کورٹ

قومی اسمبلی،اجلاس بلانے کیلئے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی جانب سے کرائی جانے والی یقین دہانی کے بعد واپس لی ۔ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ (آج)اپوزیشن رہنماں کو بات کرنے کا زیادہ موقع دیں گے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا جائیگا۔اپوزیشن کی جانب سے جو ریکوزیشن دی گئی تھی اس میں اجلاس کے لیے اپنا ایجنڈا دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی،اجلاس بلانے کیلئے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی

بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

امریکا میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چمگادڑیں جب بیمار ہوتی ہیں تو وہ سماجی دوری اختیارکرلیتی ہیں۔کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں جب ماہرین نے متاثرہ افرادکو سماجی دوری اور قرنطینہ کا مشورہ دیا تو بعض افراد نے اس طریقہ کار پر انگلیاں بھی اٹھائیں اور اسے غیرفطری قرار دیا کہ کسی کو بیمار ہونے پر تنہاکردیا جائے تاہم اب امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ جھنڈ میں رہنے والی چمگادڑیں بھی بیماری کی صورت میں سماجی دوری اختیار کرتی ہیں۔امریکی اور...

بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

گلشن اقبال مسکن چورنگی دھماکے کے متاثرین کو تاحال کوئی معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاسکی جب کہ عمارت بھی منہدم کردی گئی ہے ۔گلشن اقبال مسکن چورنگی پر واقع عمارت اللہ نور اپارٹمنٹس میں 21 اکتوبر بروز بدھ کو ہونے والے دھماکے کے متاثرین کو تاحال حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ اور رہائش گاہ فراہم نہیں کی گئی، عمارت کے متاثرہ حصے کے اطراف ٹیپ لگا کر سیل کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے عمارت سے متصل قائم ایک ریسٹورانٹ اور کیفے بھی گزشتہ ایک ہفتے سے بند پڑا ہے ۔عمارت کے متاثرہ خاندانوں...

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غورشروع کردیا ہے ،حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے ،کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے باعث پاکستان بھارت سے مذاکرات نہیں کرسکتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فرانس سے اپنے سفیر کو مشاورت کیلئے بلوانا پڑا تو بلائیں گے اور پارلیمنٹ سے رہنمائی لیں گے ۔حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں بھا...

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں یوم سیاہ کے موقع پر ایک اور کشمیری مخالف اقدام اٹھاتے ہوئے منگل کوزمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیااور اب مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے ۔تاہم اس میں ذرعی زمین شامل نہیں ہے ۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ ری آرگنازیشن 2020کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔یہ اس سلسلے میں پاس کئے گئے قوانین کا تیسر...

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ

27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،مشال ملک وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو قتل، قید اور ان کی املاک تباہ کر رہی ہے ۔ اپنے بیان میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا کہ 27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ، بھارتی فوج نے 70 سال سے کشمیر میں لاشوں کا انبار لگا رکھا ہے ۔مشال ملک نے کہا کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو قتل اور قید اور ان کی املاک تباہ کر رہی ہے ، کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ بہت جلد بھارت اور دنیا کشمیر...

27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،مشال ملک

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

بھارت نیو انڈیا کے بیانیے کی آڑ میں پاکستان اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ چین سے مار کھانے والے بھارتی حکمران بڑی بڑھکیں مارنے لگے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کہتے ہیں کہ جنگ اس ملک لے کر جا سکتے ہیں جہاں سے خطرہ سر اٹھا رہا ہو گا ، انہوں نے جارحیت کی دھمکیوں کو بھارت کے نئے بیانئے سے جوڑ دیا۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول نے نئی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زمین کے ساتھ ساتھ غیرملکی زمین پر بھی جاکر لڑیں گے، چین سے حالیہ ہزیمت اٹھا...

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نامعلوم شخص نے ترک مسجد پرحملہ کر کے مسجد کی ایک لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم شخص نے مسجد کے اندر داخل ہو کر اسکی کھڑکیاں اور فانوس توڑ دیئے، پولیس نے حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا جسے عدالت میں پیش کیاجائیگا۔آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک شخص اوبرن گیلی پولی مسجد میں داخل ہوا اور فائرہائیڈرنٹ اور ویکیوم کلینر کے ذریعے مسجد کی املاک کو نقصان پہنچایا۔مسجد ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد میں اس وق...

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

کورونا وائرس کے انسداد کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے جمع ہونے والے 4.84 ارب کے عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش کی گئیں جس میں حکومت نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 4ارب 84 کروڑ 24 لاکھ 26 ہزار 121 روپے کی عطیات جمع ہوئے۔ جس میں سے بیرون ملک سے 1 ارب 6 کروڑ 34 لاکھ 8 ہزار 414 روپے اور اندرون ملک سے 3 ارب 78 کروڑ20 لاکھ 77 ہزار 707 روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ارک...

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گھٹنے ٹیک دئیے،فرانس نے خلیجی ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی حکومت کے اسلام مخالف رویئے پر مشرق وسطی کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر بائیکاٹ فرنچ پروڈکٹس اوربائیکاٹ فرانس کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم کے بعد کویت کی مارکیٹوں سے فرانسیسی مصنوعات ...

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان