وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان

جمعه 30 جون 2017 صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان


امریکا نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے دورۂ امریکا کے موقع پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طورپر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔بھارت نے جہاںامریکا کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں اس کو ’مکمل طور پر بلاجواز‘قرار دیا ہے۔سید صلاح الدین مقبوضہ کشمیر میں حکومتی افواج سے برسرِپیکار سب سے بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے سیکشن ‘ون بی’ کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔یہ پابندی ان غیرملکی افراد پر عائد کی جاتی ہے جنھوں نے امریکی شہریوں یا ملک کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی یا معیشت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہوں یا ان سے ایسی کارروائیوں کا واضح خطرہ ہو۔یہ اعلان وائٹ ہاؤس میںبھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔خصوصی طور پر نامزددہشت گرد قرار دیے جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ صرف امریکی شہریوں پر اب سید صلاح الدین کے ساتھ مالیاتی لین دین پر پابندی ہوگی بلکہ ان کے امریکا میں تمام اثاثے بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔
سید صلاح الدین کی عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کئی دہائیوں سے کشمیر میں بھارت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صلاح الدین کی سربراہی میں حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔بھارتی حکومت سید صلاح الدین کو دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔بھارت کے مطابق سید صلاح الدین پاکستان میں رہ کر کشمیر میں مہم چلا رہے ہیں۔بھارت نے مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست دی تھی اس میں صلاح الدین کا نام بھی شامل تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں سید صلاح الدین کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو جو بھارت کے زیرِ انتظام مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے حامی ہیں، دہشت گرد قرار دیا جانا ایک بلاجواز اقدام ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 70 سال سے جاری تحریک جائز ہے اور پاکستان حقِ خود ارادیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز کوششوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔امریکا کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین طرح سے اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اول یہ کہ اس کے نتیجے میں کشمیری عسکریت گلوبلائز ہوسکتی ہے،جبکہ حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران میں کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا ہے۔گزشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اْٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اْستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ،جس کا ابھی تک کرداراور ایجنڈا مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔
دوسرے یہ کہ اس سے بھارتی حکومت کو جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوںکو دبانے کی چھوٹ ملے گی۔ظاہر ہے کشمیر میںجدوجہد آزادی کو دبانے کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکا اور یورپی اداروں نے بھارت پر نکتہ چینی بھی کی۔خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے توبھارتی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طر ف بھارتی کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔گزشتہ دنوں بھارتی فوج کے سابق کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہورہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکا کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کارروائیوں کے لیے بھارتی حکومت کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔
تیسرے یہ کہ اس سے حریت کانفرنس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔حریت پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا ’پْرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اوربھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔اس طرح حریت کانفرنس کا کشمیر کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے بعد اب حریت کانفرنس کو بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبورہوناپڑسکتاہے۔
ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنابھارتی وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں2سے 3 ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔
بھارت کے معروف تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’بھارت کو توقع تھی کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کردے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘بھارت کے ایک اورصحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اْس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں بھارت کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمہ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکا کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔‘کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکا اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آ جائے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


بھارت میں 376 تبلیغی ارکان کے خلاف چارج شیٹ داخل وجود - جمعه 29 مئی 2020

تبلیغی ارکان کے خلاف کورونا پھیلانے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں دہلی پولیس نے نظام الدین مرکز میں مذہبی اجتماعات میں شرکت کے لیے آئے 34 ممالک کے 376 غیرملکی تبلیغی ارکان کے خلاف کورونا پھیلانے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی اور مشنری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مجموعی طور پر 35 چارج شیٹ داخل کردیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی پولیس نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران 26 تاریخ کو 20 ممالک کے 82 غیر ملکیوں تبلیغی شرکا کے خلاف 20 چارج ...

بھارت میں 376 تبلیغی ارکان کے خلاف چارج شیٹ داخل

پاکستان کی بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی مذمت وجود - جمعه 29 مئی 2020

پاکستان نے بھارت میں بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کورونا وبا کا مقابلہ کررہی ہے اور بھارت ہندتوا ایجنڈے پرعمل پیرا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 26 مئی کو بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی پاکستانی حکومت اور عوام سخت مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مندر کی تعمیر 9 نومبر 2019 کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلے کی کڑی ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا، بھارتی...

پاکستان کی بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی مذمت

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیو یارک ٹائمز نے کورونا کے خلاف مودی سرکار کی پالیسیوں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں۔نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی عوام حکومت پر اعتماد کھونے لگے ہیں، سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں جب کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں کیسز کم ہیں، جنوبی ایشیاء میں لاک ڈاؤن ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی اہم تھے، جنہیں مودی حکومت نے نظر انداز کیا۔رپورٹ میں کہا گیا...

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز

تجارتی جنگ عروج پر، چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کیلئے خطرناک قرار وجود - جمعرات 28 مئی 2020

چین 2022 میں ایک ڈیجیٹل یوآن کرنسی لانا چاہتا ہے جس کا نام ای آر ایم بی رکھا گیا ہے۔ 2022 میں چین جانے والے لوگوں کو اس نئی ڈیجیٹل کرنسی میں خرید و فروخت یا لین دین کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ ایسی کرنسی ہوگی جو نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی آپ اسے نوٹوں کی طرح ہاتھ میں پکڑ سکیں گے اور یہ کوئی خیالی بات نہیں ہے۔ایسے وقت میں جب دنیا کا ہر ملک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے چین ڈیجیٹل یوآن پر پائلٹ پروجیکٹ لانچ کرنے میں مصروف ہے۔گذشتہ ماہ چین کے مرکزی بینک پیپلز ب...

تجارتی جنگ عروج پر، چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کیلئے خطرناک قرار

کورونا کے باعث ہالی وڈ کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان وجود - جمعرات 28 مئی 2020

عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں عالمی معیشت کو دھچکا لگا وہیں ہالی وڈ انڈسٹری کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر کے سینما گھر بند ہونے سے فلم انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔جیمزبانڈ،ونڈر وومن اور ایونجرز سمیت بڑے بڑیسپر ہیروز کی فلموں کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔ جیمز بانڈ زیرو زیرو سیون کو جن کی فلم نوٹائم ٹو ڈائی کو اپریل میں ریلیز کیا جانا تھا لیکن کورونا وائرس کے سبب شائقین اب نومبر میں جیمز بانڈ کو ایکشن میں دیکھیں گے۔کورونا وائرس زیاد...

کورونا کے باعث ہالی وڈ کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا سپاہی کی ویڈیووائرل وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا، سوشل میڈیا پر نیپال کے سپاہی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت اور نیپال کے درمیان کشیدگی کا تعلق ہے تو بھارت کی طرف سے کھولی گئی ایک نئی سڑک جومتنازعہ علاقہ سے گزرتی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی تنازعہ پیداکردیاہے۔یہ رابطہ سڑک بھارتی ریاست اترکھنڈ کے علاقہ دھرچلا کو چین کے ساتھ بھارت کی سرحدلائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب لیپولیکھ پاس سے ملاتی ہے،بھارت کا کہنا ہے کہ یہ سڑک کیلاشمن سرورارجانے والے ...

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا سپاہی کی ویڈیووائرل

جنگ کیلئے مضبوط تیاری شروع کردیں، چینی صدر کا فوج کوتیار رہنے کا حکم وجود - جمعرات 28 مئی 2020

چینی صدر شی جن پنگ نے پیپلز لبریشن آرمی سے کہا ہے کہ ملک کا دفاع مزید مضبوط کیا جائے، فوج بد ترین حالات کے لیے اپنی مشقیں مکمل کر لے۔پیپلز لبریشن آرمی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ قومی خود مختاری، سیکورٹی اور ترقی سے منسلک مفادات کی حفاظت کی جائے گی۔چینی صدر نے کہا کہ تمام حالات سے فوری اور موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے فوج اپنی ٹریننگ کو بڑھائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ کی طرف سے فوج کو تیار رہنے کے حکم کو بھارت کی...

جنگ کیلئے مضبوط تیاری شروع کردیں، چینی صدر کا فوج کوتیار رہنے کا حکم

دبئی کا آج سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اعلان وجود - بدھ 27 مئی 2020

دبئی نے (آج) بدھ 27 مئی سے جِم ، سینما گھر اور دوسری کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے ۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق کاروباروں کو صبح چھے بجے سے رات گیارہ بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی لیکن انھیں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا یہ اعلان دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد کے زیر صدارت سپریم کمیٹی برائے بحران اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ کے ورچوئل اجلاس کے بعد کیا گیا ہے...

دبئی کا آج سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اعلان

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے 'ڈبلیو ایچ او وجود - بدھ 27 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہورہی ہے اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہوجائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ بہت سارے ممالک میں کیسز کم ہورہے ہیں تو وسطی اور جنوبی امریکا، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری اکثر لہروں کی صورت میں آتی ہے ، اس ...

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے 'ڈبلیو ایچ او

جاپان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائی گئی ایمرجنسی ختم وجود - بدھ 27 مئی 2020

جاپان نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی ہٹا دی ہے ۔جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبے کا ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ جاپان کی حکومت نے ایمرجنسی اٹھانے کے حوالے سے انتہائی سخت پیمانہ رکھا تھا، جس پر اب پورے اترے ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ جاپان کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔جاپان نے اپریل کے شروع میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے خدشے پر ٹوکیو سمیت 6 ریجن میں ایمرجنسی لگائی تھی۔واضح رہے کہ جاپان میں کورونا کیسز کی تعداد 16 ...

جاپان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائی گئی ایمرجنسی ختم

امریکا کا 28 سال بعد ایک بار پھر تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور وجود - بدھ 27 مئی 2020

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایک حالیہ اجلاس میں ایک بار پھر سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور کیا گیا ہے تاکہ روس اور چین کو مؤثر تنبیہ کی جاسکے ۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، 15 مئی کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ''جلد ہی'' تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر بھی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکا نے 1992 میں اپنا آخری تجرباتی ایٹمی دھماکہ کیا تھا لیکن تب تک وہ 1,032 ایٹمی دھماکے کرچکا تھا جن میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1945 میں جاپانی شہروں ہیر...

امریکا کا 28 سال بعد ایک بار پھر تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا وجود - بدھ 27 مئی 2020

یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل نے چین اور امریکا کے مابین راستہ بنائے جانے کے معاملے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی بحث و مباحثے کے دوران کہا ہے کہ ایشیائی صدی، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے 'دی گارجین' کی رپورٹ کے مطابق جرمن سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجزیہ کار طویل عرصے سے امریکی کے زیر قیادت نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کے بارے میں بات کررہے ہیں، یہ بات اب ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے ۔ج...

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا