وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان

جمعه 30 جون 2017 صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان


امریکا نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے دورۂ امریکا کے موقع پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طورپر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔بھارت نے جہاںامریکا کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں اس کو ’مکمل طور پر بلاجواز‘قرار دیا ہے۔سید صلاح الدین مقبوضہ کشمیر میں حکومتی افواج سے برسرِپیکار سب سے بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے سیکشن ‘ون بی’ کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔یہ پابندی ان غیرملکی افراد پر عائد کی جاتی ہے جنھوں نے امریکی شہریوں یا ملک کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی یا معیشت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہوں یا ان سے ایسی کارروائیوں کا واضح خطرہ ہو۔یہ اعلان وائٹ ہاؤس میںبھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔خصوصی طور پر نامزددہشت گرد قرار دیے جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ صرف امریکی شہریوں پر اب سید صلاح الدین کے ساتھ مالیاتی لین دین پر پابندی ہوگی بلکہ ان کے امریکا میں تمام اثاثے بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔
سید صلاح الدین کی عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کئی دہائیوں سے کشمیر میں بھارت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صلاح الدین کی سربراہی میں حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔بھارتی حکومت سید صلاح الدین کو دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔بھارت کے مطابق سید صلاح الدین پاکستان میں رہ کر کشمیر میں مہم چلا رہے ہیں۔بھارت نے مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست دی تھی اس میں صلاح الدین کا نام بھی شامل تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں سید صلاح الدین کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو جو بھارت کے زیرِ انتظام مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے حامی ہیں، دہشت گرد قرار دیا جانا ایک بلاجواز اقدام ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 70 سال سے جاری تحریک جائز ہے اور پاکستان حقِ خود ارادیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز کوششوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔امریکا کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین طرح سے اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اول یہ کہ اس کے نتیجے میں کشمیری عسکریت گلوبلائز ہوسکتی ہے،جبکہ حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران میں کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا ہے۔گزشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اْٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اْستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ،جس کا ابھی تک کرداراور ایجنڈا مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔
دوسرے یہ کہ اس سے بھارتی حکومت کو جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوںکو دبانے کی چھوٹ ملے گی۔ظاہر ہے کشمیر میںجدوجہد آزادی کو دبانے کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکا اور یورپی اداروں نے بھارت پر نکتہ چینی بھی کی۔خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے توبھارتی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طر ف بھارتی کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔گزشتہ دنوں بھارتی فوج کے سابق کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہورہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکا کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کارروائیوں کے لیے بھارتی حکومت کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔
تیسرے یہ کہ اس سے حریت کانفرنس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔حریت پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا ’پْرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اوربھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔اس طرح حریت کانفرنس کا کشمیر کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے بعد اب حریت کانفرنس کو بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبورہوناپڑسکتاہے۔
ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنابھارتی وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں2سے 3 ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔
بھارت کے معروف تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’بھارت کو توقع تھی کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کردے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘بھارت کے ایک اورصحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اْس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں بھارت کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمہ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکا کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔‘کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکا اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آ جائے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


پی پی 38 سیالکوٹ ضمنی انتخابات:پی ٹی آئی نے میدان مار لیا وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سیالکوٹ حلقہ پی پی 38 کے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مارلیا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار احسن سلیم جیت گئے ۔ احسن سلیم بریار نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار طارق سبحانی کو 7ہزار ووٹوں کی برتری سے شکست دے دی ہے تمام 165 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار نے 59799 ووٹ حاصل کیے جبکہ ن لیگ کے امیدوار طارق سبحانی نے 52799 ووٹ حاصل کیے ۔ یوں سیالکوٹ حلقہ پی پی 38 کا یہ معرکہ تحریک انصاف نے اپنے نام کرلیا ہے ۔ یہ نشس...

پی پی 38 سیالکوٹ ضمنی انتخابات:پی ٹی آئی نے میدان مار لیا

وکلا تنظیموں کے اعتراضات مسترد ، جسٹس محمد علی مظہر کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

جوڈیشل کمیشن نے وکلا تنظیموں کے اعتراضات مسترد کر دیے ۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش کر دی گئی۔چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق کمیشن نے چار کے مقابلے میں پانچ کی اکثریت سے جسٹس محمد علی مظہر کے نام کی سفارش کر دی۔بعدازاں معاملہ پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو بھیج دیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کا سندھ ہائیکورٹ میں سنیارٹی کے لحاظ سے پانچواں نمبر تھا۔دوسری جانب پاکستان بار کو...

وکلا تنظیموں کے اعتراضات مسترد ، جسٹس محمد علی مظہر کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش

کورونا پھیلاؤ ، سندھ حکومت کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سندھ حکومت نے کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے ۔سندھ حکومت کی جانب سے این سی او سی کو سفارش کی جائے گی وفاقی سرکاری ادارروں میں 15دن کی چھٹی کے ساتھ زمینی ،فضائی اور ریلوے کے سفر پر پابندی عائد کی جائے ۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص کورونا کی لہر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے ، کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے ، جس کے ساتھ ہی سندھ حکومت نے کورونا کے پھیلا کو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات کا ...

کورونا پھیلاؤ ، سندھ حکومت کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سندھ اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج جمعرات 29 جولائی کو ہوگا۔ذرائع سندھ حکومت کے مطابق کراچی میں احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے ۔احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کا معاملہ ایپکس کمیٹی اجلاس کے ایجنڈا میں شامل کرلیا گیاہے ۔صوبائی ایپکس کمیٹی اجلاس 29جولائی کو شیڈول ہے ۔وزیراعلی مراعلی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کورکمانڈر کراچی ڈی جی رینجرز شریک ہونگے۔ ریاست مخالف عناصر کے خلاف کاروائی کا معاملہ بھی ایپکس کمیٹی اجلاس میں زیر غور آئیگا کراچی میں اسٹریٹ کرائم,...

احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا،عمران خان وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے اور اگر ہم نظریے پر کھڑے رہے تو کبھی ناکام نہیں ہوں گے ، لیڈرشپ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اندر پریشر برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے ، افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم پریشر میں آنے کے بجائے وہ فیصلے کریں گے جو عوام کی بہتری کے لیے ہوں۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنمائوں کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی رہنماوں اور ترجمانوں نے آزاد کشمیر الیکشن میں کامیابی پر وزیراعظم کو مبارکباد پ...

افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا،عمران خان

قرنطینہ سینٹر سے 23کورونا مریض فرار ،سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

محکمہ صحت سندھ نے محکمہ داخلہ کو خط لکھ دیا ہے ۔محکمہ صحت نے قرنطینہ سینٹرز کی سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب تک قرنطینہ سینٹرز سے 23 کورونا مریض فرار ہوچکے ہیں سب سے زیادہ مریض سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد سے فرار ہوئے یہ مریض بیرون ملک سے پاکستان آئے ، جن میں خطرناک ڈیٹا ویرنٹ کی تصدیق ہوئی تھی یہ مریض باآسانی دوسروں میں کورونا پھیلا سکتے ہیں۔

قرنطینہ سینٹر سے 23کورونا مریض فرار ،سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ

چین جوہری ہتھیار رکھنے کیلئے زیر زمین مزید گودام بنا رہا ہے ، امریکی سائنسدان وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

امریکی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چین جوہری ہتھیار رکھنے کیلئے زیر زمین مزید گودام بنا رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کی مدد سے لی گئی تصاویر سے میں دیکھا جاسکتا ہے چین کے مغربی شہرکے پاس ایک صحرا میں میزائلوں کو محفوظ طریقے سے رکھنے کے لیے زیر زمین گودام تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ زیر زمین گودام بالکل اسی نوعیت کے ہیں جس میں چین نے موجودہ ایٹمی ہتھیار محفوظ کر رکھے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق دوماہ میں یہ دوسری جگہ دریافت ہوئی ہے جہاں چین زیر زمین گودام بنا رہا ہے ۔ نئے علاقے ...

چین جوہری ہتھیار رکھنے کیلئے زیر زمین مزید گودام بنا رہا ہے ، امریکی سائنسدان

ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز کورونا کے ریکارڈ 3 ہزار کیسز رپورٹ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

اولمپک کی میزبانی کرنے والے جاپان کے شہر ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز کورونا کے ریکارڈ 3 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ۔ جاپانی حکام کے مطابق شہر میں کورونا وائرس کی نئی بھارتی قسم ڈیلٹا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ہورہا ہے ۔ٹوکیو کے قریبی تین ریجن کے گورنروں نے مرکزی حکومت سے ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کی درخواست کردی ہے جبکہ ٹوکیو میں پہلے ہی ہنگامی صورتحال کا نفاذ برقرار ہے ۔اولمپک کھیلوں میں شریک مزید 16افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد169ہوگئی ہے ۔

ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز کورونا کے ریکارڈ 3 ہزار کیسز رپورٹ

غیر معیاری ادویات تیاری 'ڈریپ نے 5 لوکل دوا ساز کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے غیر معیاری ادویات تیار کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 5لوکل دوا ساز کمپنیوں کے لائسنس کینسل کر دئیے ۔ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 12 لوکل دوا سازکمپنیوں کے لائسنس معطل کر دئیے ۔ڈریپ نے سندھ کی پانچ، بلوچستان کی ایک دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل کردیا جبکہ خیبرپختونخوا کی 5 اور اسلام آباد کی ایک دواساز کمپنی کا لائسنس معطل کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق ڈریپ نے پنجاب کی 2، سندھ کی 2 اور اسلام آباد کی 1 فارما کمپنی کا لائسنس کینسل...

غیر معیاری ادویات تیاری 'ڈریپ نے 5 لوکل دوا ساز کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے

سینئر صحافی و سابق مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر انتقال کرگئے وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سینئر صحافی اور سابق مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر کراچی میں انتقال کرگئے ۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ صلاح الدین حیدر کچھ عرصے سے علیل تھے اور بدھ کی صبح ان کا انتقال ہوا۔ان کی صاحبزادی نے بتایا کہ والد کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سینئر صحافی و سابق مشیر اطلاعات کی نماز جنازہ و تدفین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

سینئر صحافی و سابق مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر انتقال کرگئے

پاکستان نے عدالتی نظام سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کردی وجود - بدھ 28 جولائی 2021

پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق رپورٹ مسترد کردی ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں عدالتی نظام کے بارے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں امریکی رپورٹ میں دیے گئے تاثرات غیر معقول اور غیرمصدقہ ہیں، پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور عدالتیں ملک کے آئین و قوانین کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں الزامات کو حقائق کے برعکس اور گمراہ کن طور پر پیش کیا گیا، حکوم...

پاکستان نے عدالتی نظام سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کردی

معید یوسف امریکی ہم منصب سے ملاقات کیلئے امریکا روانہ وجود - بدھ 28 جولائی 2021

قومی سلامتی کے مشیرمعید یوسف امریکا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے جو مئی میں جنیوا میں اجلاس کے دوران ان کے اور امریکی مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان کے درمیان اعلی سطح مشغولیت کے لیے ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے ۔اس دورے کے دوران معید یوسف جیک سلیوان سے ملاقات کریں گے تاکہ وہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لے سکیں۔وہ دیگر امریکی قانون سازوں، سینئر عہدیداروں، امریکا میں مقیم تھنک ٹینکس کے علاوہ میڈیا اور پاکستانی برادری سے بھی ملاقاتیں کری...

معید یوسف امریکی ہم منصب سے ملاقات کیلئے امریکا روانہ

مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین