وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان

جمعه 30 جون 2017 صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان


امریکا نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے دورۂ امریکا کے موقع پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طورپر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔بھارت نے جہاںامریکا کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں اس کو ’مکمل طور پر بلاجواز‘قرار دیا ہے۔سید صلاح الدین مقبوضہ کشمیر میں حکومتی افواج سے برسرِپیکار سب سے بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے سیکشن ‘ون بی’ کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔یہ پابندی ان غیرملکی افراد پر عائد کی جاتی ہے جنھوں نے امریکی شہریوں یا ملک کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی یا معیشت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہوں یا ان سے ایسی کارروائیوں کا واضح خطرہ ہو۔یہ اعلان وائٹ ہاؤس میںبھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔خصوصی طور پر نامزددہشت گرد قرار دیے جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ صرف امریکی شہریوں پر اب سید صلاح الدین کے ساتھ مالیاتی لین دین پر پابندی ہوگی بلکہ ان کے امریکا میں تمام اثاثے بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔
سید صلاح الدین کی عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کئی دہائیوں سے کشمیر میں بھارت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صلاح الدین کی سربراہی میں حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔بھارتی حکومت سید صلاح الدین کو دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔بھارت کے مطابق سید صلاح الدین پاکستان میں رہ کر کشمیر میں مہم چلا رہے ہیں۔بھارت نے مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست دی تھی اس میں صلاح الدین کا نام بھی شامل تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں سید صلاح الدین کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو جو بھارت کے زیرِ انتظام مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے حامی ہیں، دہشت گرد قرار دیا جانا ایک بلاجواز اقدام ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 70 سال سے جاری تحریک جائز ہے اور پاکستان حقِ خود ارادیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز کوششوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازع کے کسی پرامن حل کا راستا روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔امریکا کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین طرح سے اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اول یہ کہ اس کے نتیجے میں کشمیری عسکریت گلوبلائز ہوسکتی ہے،جبکہ حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران میں کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا ہے۔گزشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اْٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اْستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ،جس کا ابھی تک کرداراور ایجنڈا مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔
دوسرے یہ کہ اس سے بھارتی حکومت کو جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوںکو دبانے کی چھوٹ ملے گی۔ظاہر ہے کشمیر میںجدوجہد آزادی کو دبانے کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکا اور یورپی اداروں نے بھارت پر نکتہ چینی بھی کی۔خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے توبھارتی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طر ف بھارتی کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔گزشتہ دنوں بھارتی فوج کے سابق کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہورہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکا کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کارروائیوں کے لیے بھارتی حکومت کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔
تیسرے یہ کہ اس سے حریت کانفرنس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔حریت پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا ’پْرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اوربھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔اس طرح حریت کانفرنس کا کشمیر کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے بعد اب حریت کانفرنس کو بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبورہوناپڑسکتاہے۔
ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنابھارتی وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں2سے 3 ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔
بھارت کے معروف تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’بھارت کو توقع تھی کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کردے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘بھارت کے ایک اورصحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اْس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں بھارت کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمہ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکا کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔‘کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکا اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آ جائے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں بری ملزمان کو رہا نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیاہے ۔بدھ کو عدالتِ عالیہ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی ضمنی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ستمبر میں حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ م...

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ہ عوام واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی پلیٹ فارم بپ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اس ایپ کی ڈائون لوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لوگ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق اندیشوں کے باعث فوری پیغام رسانی کی اپیلی کیشن واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی رابطہ پلیٹ فارم بِپ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے زیادہ بہتر ویڈیو کال، ایک ہزار افراد تک کے چیٹنگ گروپ اور مختلف چینلوں کی رکنیت کی اجازت دینے جیسی خصوصیات کی وجہ سے ہم بِپ کو تر...

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ۔ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔اب ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کے ضیاع کا ہے ،غیرملکی خبررساں ادراے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے بحیثیت امریکی صدر اپنا الوداعی خطاب بذریعہ یوٹیوب کیا ۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں...

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی ٹرمپ نے والد کی مدتِ صدارت کے آخری روز اپنی منگنی کا باضابطہ اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے منگیتر مائیکل بلوس کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی منگنی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ زندگی کا نیا باب ان کے ساتھ گزارنے کی منتظر ہیں۔اپنی پوسٹ میں ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں فیملی کے ہمراہ تاریخی مواقعوں پر سنہری یادیں سمیٹنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں میری سب سے بہترین یاد مائ...

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور متعدد موجودہ اور سابق اعلی امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عاید کردیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاکہ امریکی صدر ٹرمپ اور پومپیو کے علاوہ قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفرملر، وزیرخزانہ اسٹیفن نوشین ،سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل ،امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران اور وینزویلا ایلیٹ ابرامس، دفتر برائے غیرملکی اثاثہ کنٹرول کی سربراہ آندریا گاکی،صدر ٹرمپ کے قوم...

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

برطانیہ میں 44ارب کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے اور حکام کی جانب سے تلاشی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے 35سالہ آئی ٹی انجینئر نے 2009میں کرپٹو کرنسی میں حصہ لیا اور2013میں آفس کی صفائی کی دوران غلطی سے بٹ کوائن والی ہارڈ ڈرائیو کوڑے میں پھینک دی۔جیمز ہویلز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 75 سو بٹ کوائن موجود تھے جو آج کی قیمت کے مطابق 28 کروڑ ڈالرز کے قریب بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8 سال قبل پھینکے گئے کوڑے کے ڈھیر میں ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی حکام...

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

معروف آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما 2 ماہ سے زائد عوامی منظرنامے سے پراسرار طور پر غائب رہنے کے بعد سامنے آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جیک ما نے گزشتہ روز ویڈیو لِنک کے ذریعے دیہی اساتذہ کی زیر قیادت سماجی بہبود کے پروگرام میں شرکت کی۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کورونا کے بعد جلد ملاقات کریں گے ۔ خیال رہے کہ چین کے ریگولیٹری نظام پر تنقید کے بعد جیک ما کے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کی خبروں سے متعلق سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو...

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز وجود - منگل 19 جنوری 2021

سابق فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور پر مقدمے کا آغاز کردیاگیا ہے ،کراچی افیئرکے نام سے مشہور اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990کی دہائی میں ناکام صدارتی مہم کے سلسلے میں فنڈز کی فراہمی کے لیے اسلحہ کے معاہدوں میں رشوت لی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق91سالہ بیلاڈور بدانتظامی کے الزامات کا سامنا کرنے والے فرانسیسی سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن گئے جہاں اس فہرست میں سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے پیش رو جیک چیراک بھی شامل ہیں۔قدامت پسند سابق وزیر اعظم پر کورٹ آ...

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار وجود - منگل 19 جنوری 2021

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل جبکہ گانے گانے پرمتعدد لڑکیاں گرفتارکرلی گئیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل نے اپنے ایوننگ فیملی پروگرام کی میزبان روزیتا قبادی کو معطل کر دیا۔ ایک روز جب وہ ٹی وی کے دفتر پہنچی تو اسے وہ یہ جان کر حیران رہی کہ اسے پروگرام کی میزبانی سے روک دیا گیا ہے ۔روزیتا قبادی نے بتایا گیا کہ اس کے پروگرام میں ایک ڈاکٹر نے رقص جیسے متنازع الفاظ استعمال کیے تھے مگر اس نے اپنے مہمان کو ایسی گفتگو سے من...

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل وجود - منگل 19 جنوری 2021

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے پہلے واشنگٹن ڈی سی کا ریڈ زون فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی دارالحکومت میںرکاوٹیں، خاردار تاریں اور نیشنل گارڈز بڑی تعداد میں تعینات ہے جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔امریکا کی بعض ریاستوں میں ٹرمپ کے حامی سڑکوں پر نکلے ، تاہم سیکورٹی اہل کاروں کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری بدھ کو ہوگی۔

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع وجود - منگل 19 جنوری 2021

امریکی قائم مقام سیکٹری دفاع کرسٹوفر ملر نے کہاہے کہ امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی پرتعینات اہلکاروں کے حملے کا خدشہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کرسٹوفر ملر نے کہا کہ کوئی خفیہ اطلاعات نہیں کہ بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے حملے کاخدشہ ہو.انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پرتعینات تمام 25 ہزار نیشنل گارڈز کی اسکریننگ ہورہی ہے ، سیکیورٹی پرتعینات اہکاروں کی اسکریننگ معمول کی بات ہے ۔

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی وجود - منگل 19 جنوری 2021

بھارتی ریاست حیدرآباد دکن میں پڑھائی پر پڑھائی پر توجہ نہ دینے والے 10 سالہ بچے کو اس کے والد نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔باپ نے بیٹے پر تارپین کا تیل چھڑک کا آگ لگائی، باپ کے تشدد کا نشانہ بننے والے 10سالہ بچے کا 60 فیصد جسم جل گیا ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم پوری کوشش کررہی ہے ۔جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کا باپ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہے اور اپنے بچے کو نذر آتش کرنے کے بعد سے مفرور ہے ۔علاقہ پولیس کے مطابق یہ واق...

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی