وجود

... loading ...

وجود

سندھ حکومت کنگال ، تنخواہوں اور پنشن کے علاوہ تمام ادائیگیاں رک گئیں

بدھ 28 جون 2017 سندھ حکومت کنگال ، تنخواہوں اور پنشن کے علاوہ تمام ادائیگیاں رک گئیں


یوں تو بظاہر حکومت سندھ نے تاریخی بجٹ پیش کیا ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں اور جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ خوفناک ہیں۔ حکومت سندھ نے اس مرتبہ بجٹ میں جو اعلانات کیے ہیں وہ صرف کاغذ تک محدود ہیں کیونکہ وفاقی حکومت نے 77 ارب روپے کے بجائے صرف 18 ارب روپے فراہم کیے ہیں اس صورتحال نے حکومت سندھ کو سخت پریشان کر دیا ہے۔
حکومت سندھ نے جو بجٹ تیار کیا تھا اس میں آمدنی کے دو ذرائع تھے۔ ایک وفاقی حکومت فراہم کرے گی اور دوسرا اپنے وسائل سے جو آمدنی ہوگی ۔ یعنی اپنے ٹیکس سے جو رقومات ملیں گی اس سے نہ صرف ترقیاتی کا م کرائے جائیں گے اور دیگر اخراجات بھی کیے جائیں گے بلکہ تنخواہیں اور پنشن بھی ادا کی جائیں گی۔ رواں مالی سال 2016-17 ء کی مدت 30 جون تک ختم ہو رہی ہے اور نیا مالی سال 2017-18 یکم جولائی سے شروع ہوگا۔ ختم ہونے والے مالی سال میں حکومت سندھ کے لیے کئی مشکلات پیدا ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی محکمہ خزانہ نے اکائونٹنٹ جنرل (اے جی) سندھ کے خط لکھا ہے کہ فی الحال صرف تنخواہوں ، پنشن کے بل منظور کیے جائیں اور باقی کوئی بل منظور نہ کیا جائے۔ جس کی وجہ سے 20 سے 22 ارب روپے کی ادائیاں روک دی گئی ہیں اور یہ سب ٹھیکیداروں کے پیسے ہیں۔ اگر ان کو یہ رقم نہ ملی تو یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے سال میں ترقیاتی کام رُک جائیں گے ۔ لیکن حکومت سندھ نے متبادل انتظام نہیں کیا ہے۔
ایک طرف ترقیاتی منصوبوں پر کام رک گیا ہے تو دوسری جانب نئے ترقیاتی منصوبے بھی شروع نہیں ہوسکیں گے۔ حکومت سندھ نے آنے والے نئے مالی سال کے لیے 14 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ حالانکہ محکمہ ایکسائز نے جو بجٹ تجاویز پیش کی تھیں اس میں کہا گیا تھا کہ صوبہ میں نئے ٹیکس لگائے جائیں یا ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔ پہلے تو وزیراعلیٰ سندھ نے حامی بھری لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو آگاہ کیا تو انہوں نے صاف منع کر دیا۔ کہ چونکہ یہ آخری سال ہے اس لیے اس سال کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ آصف زرداری کے حکم پر وزیراعلیٰ نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جس میں14 ارب روپے کا خسارہ شامل ہے۔ حکومت سندھ نے مالی بحران کا متبادل حل بھی تلاش نہیں کیا ۔سندھ ریونیو بورڈ ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، بورڈ آف ریونیو اور بلدیاتی اداروں نے تاحال ٹیکس اصلاحات نہیں کی ہیں اور نہ ہی ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت سندھ نے اس مالی بحران کے پیش نظر صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا اعلان بھی نہیں کیا حالانکہ حکومت سندھ نے پی ایف سی کا ایک اجلاس بھی بلایا تھا جس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا اور یوں یہ کہہ کر اجلاس ملتوی کیا گیا کہ متعلقہ ادارے ہوم ورک کرلیں پھر اجلاس بلاکر تمام اضلاع کے حصے میں اضافہ کیا جائے گا۔ پی ایف سی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت تمام اضلاع کو 60 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔ اب اس میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا تو اضلاع کی رقومات 66 ارب روپے ہو جائیں گی اور حکومت سندھ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ یہ رقومات تمام اضلاع کو دے سکے۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال تمام اضلاع کو پرانے پی ایف سی کے تحت رقومات ملتی رہیں گی۔ کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت سندھ کو اپنے حصے کی رقم میں سے 77 ارب ملنے تھے جو تاحال نہیں مل سکے ہیں اور اس کی جگہ صرف 18 ارب روپے ملے ہیں۔ اب حکومت سندھ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی ہے کہ اس رقم سے کیا کام کیے جائیں؟ فی الحال ہنگامی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کی جائے اس کے بعد نئے مالی سال میں نجی بینکوں سے قرضے لے کر حکومتی امور چلائے جائیںگے۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ نے گورنر اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نئے مالی سال میں حکومت سندھ نے اگر اسٹیٹ بینک یا نجی بینکوں سے قرض مانگا تو وہ دے دیا جائے گا تاکہ حکومت سندھ کسی بحران کا شکار نہ ہو۔ اسٹیٹ بینک سے انڈ ر اسٹینڈنگ کے بعد حکومت سندھ نے صوبہ بھر کے ٹھیکیداروں سے بھی رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ فی الحال چند روز صبر کریں، نئے مالی سال میں ان کی تمام ادائیگیاں کر دی جائیں گی اور پھر وہ نئے مالی سال میں نئے اور پرانے منصوبوں پر کام شروع کردیں ٹھیکیدار بھی چند روز کے لیے خاموش ہوگئے ہیں اور وہ حکومت سندھ کے اس لالی پاپ پر کچھ نہیں کہہ رہے لیکن نئے مالی سال میں اگر ٹھیکیداروں کو پرانی ادائیگیاں نہ کی گئیں تو پھر وہ نئے اور پرانے ترقیاتی منصوبوں پر کام بند کر دیں گے۔ حکومت سندھ مالی بحران کا شکار اس لیے ہوئی ہے کیونکہ ختم ہونے والی مالی سال 2016-17 میں مالی بے قاعدگیاں کی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالی سال ختم ہو رہا ہے اور مالی بحران بڑھ رہا ہے۔
الیاس احمد


متعلقہ خبریں


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر