... loading ...

یوں تو بظاہر حکومت سندھ نے تاریخی بجٹ پیش کیا ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں اور جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ خوفناک ہیں۔ حکومت سندھ نے اس مرتبہ بجٹ میں جو اعلانات کیے ہیں وہ صرف کاغذ تک محدود ہیں کیونکہ وفاقی حکومت نے 77 ارب روپے کے بجائے صرف 18 ارب روپے فراہم کیے ہیں اس صورتحال نے حکومت سندھ کو سخت پریشان کر دیا ہے۔
حکومت سندھ نے جو بجٹ تیار کیا تھا اس میں آمدنی کے دو ذرائع تھے۔ ایک وفاقی حکومت فراہم کرے گی اور دوسرا اپنے وسائل سے جو آمدنی ہوگی ۔ یعنی اپنے ٹیکس سے جو رقومات ملیں گی اس سے نہ صرف ترقیاتی کا م کرائے جائیں گے اور دیگر اخراجات بھی کیے جائیں گے بلکہ تنخواہیں اور پنشن بھی ادا کی جائیں گی۔ رواں مالی سال 2016-17 ء کی مدت 30 جون تک ختم ہو رہی ہے اور نیا مالی سال 2017-18 یکم جولائی سے شروع ہوگا۔ ختم ہونے والے مالی سال میں حکومت سندھ کے لیے کئی مشکلات پیدا ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی محکمہ خزانہ نے اکائونٹنٹ جنرل (اے جی) سندھ کے خط لکھا ہے کہ فی الحال صرف تنخواہوں ، پنشن کے بل منظور کیے جائیں اور باقی کوئی بل منظور نہ کیا جائے۔ جس کی وجہ سے 20 سے 22 ارب روپے کی ادائیاں روک دی گئی ہیں اور یہ سب ٹھیکیداروں کے پیسے ہیں۔ اگر ان کو یہ رقم نہ ملی تو یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے سال میں ترقیاتی کام رُک جائیں گے ۔ لیکن حکومت سندھ نے متبادل انتظام نہیں کیا ہے۔
ایک طرف ترقیاتی منصوبوں پر کام رک گیا ہے تو دوسری جانب نئے ترقیاتی منصوبے بھی شروع نہیں ہوسکیں گے۔ حکومت سندھ نے آنے والے نئے مالی سال کے لیے 14 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ حالانکہ محکمہ ایکسائز نے جو بجٹ تجاویز پیش کی تھیں اس میں کہا گیا تھا کہ صوبہ میں نئے ٹیکس لگائے جائیں یا ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔ پہلے تو وزیراعلیٰ سندھ نے حامی بھری لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو آگاہ کیا تو انہوں نے صاف منع کر دیا۔ کہ چونکہ یہ آخری سال ہے اس لیے اس سال کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ آصف زرداری کے حکم پر وزیراعلیٰ نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جس میں14 ارب روپے کا خسارہ شامل ہے۔ حکومت سندھ نے مالی بحران کا متبادل حل بھی تلاش نہیں کیا ۔سندھ ریونیو بورڈ ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، بورڈ آف ریونیو اور بلدیاتی اداروں نے تاحال ٹیکس اصلاحات نہیں کی ہیں اور نہ ہی ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت سندھ نے اس مالی بحران کے پیش نظر صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا اعلان بھی نہیں کیا حالانکہ حکومت سندھ نے پی ایف سی کا ایک اجلاس بھی بلایا تھا جس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا اور یوں یہ کہہ کر اجلاس ملتوی کیا گیا کہ متعلقہ ادارے ہوم ورک کرلیں پھر اجلاس بلاکر تمام اضلاع کے حصے میں اضافہ کیا جائے گا۔ پی ایف سی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت تمام اضلاع کو 60 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔ اب اس میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا تو اضلاع کی رقومات 66 ارب روپے ہو جائیں گی اور حکومت سندھ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ یہ رقومات تمام اضلاع کو دے سکے۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال تمام اضلاع کو پرانے پی ایف سی کے تحت رقومات ملتی رہیں گی۔ کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت سندھ کو اپنے حصے کی رقم میں سے 77 ارب ملنے تھے جو تاحال نہیں مل سکے ہیں اور اس کی جگہ صرف 18 ارب روپے ملے ہیں۔ اب حکومت سندھ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی ہے کہ اس رقم سے کیا کام کیے جائیں؟ فی الحال ہنگامی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کی جائے اس کے بعد نئے مالی سال میں نجی بینکوں سے قرضے لے کر حکومتی امور چلائے جائیںگے۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ نے گورنر اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نئے مالی سال میں حکومت سندھ نے اگر اسٹیٹ بینک یا نجی بینکوں سے قرض مانگا تو وہ دے دیا جائے گا تاکہ حکومت سندھ کسی بحران کا شکار نہ ہو۔ اسٹیٹ بینک سے انڈ ر اسٹینڈنگ کے بعد حکومت سندھ نے صوبہ بھر کے ٹھیکیداروں سے بھی رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ فی الحال چند روز صبر کریں، نئے مالی سال میں ان کی تمام ادائیگیاں کر دی جائیں گی اور پھر وہ نئے مالی سال میں نئے اور پرانے منصوبوں پر کام شروع کردیں ٹھیکیدار بھی چند روز کے لیے خاموش ہوگئے ہیں اور وہ حکومت سندھ کے اس لالی پاپ پر کچھ نہیں کہہ رہے لیکن نئے مالی سال میں اگر ٹھیکیداروں کو پرانی ادائیگیاں نہ کی گئیں تو پھر وہ نئے اور پرانے ترقیاتی منصوبوں پر کام بند کر دیں گے۔ حکومت سندھ مالی بحران کا شکار اس لیے ہوئی ہے کیونکہ ختم ہونے والی مالی سال 2016-17 میں مالی بے قاعدگیاں کی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالی سال ختم ہو رہا ہے اور مالی بحران بڑھ رہا ہے۔
الیاس احمد
امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...
فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...
حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...
جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...
ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...
حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...
محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...
ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...
جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...
مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...