وجود

... loading ...

وجود

عیدکی تیاریاں اہل کراچی نے 10 دنوں میں80 ارب روپے عید کی خریداری پر پھونک دیے

پیر 26 جون 2017 عیدکی تیاریاں اہل کراچی نے 10 دنوں میں80 ارب روپے عید کی خریداری پر پھونک دیے

کراچی میںاس سال بھی سابقہ روایات کے مطابق عید کی خریداری کاسلسلہ عید کی صبح تک جاری رہا،خاص طورپر خواتین میچنگ کی چوڑیوں کی خریداری اور مہندی لگوانے کے لیے صبح تک بیوٹی پارلر کے سامنے لگے ہوئے شامیانوں میں انتظار میں بیٹھی نظر آئیں۔ایک اندازے کے مطابق کراچی کے شہریوں نے مہنگائی اور بے بضاعتی کارونا روتے ہوئے عید سے قبل رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران کم وبیش 80 ارب روپے عید کی خریداری پر پھونک دیے ،جبکہ رمضان المبارک کے آخری دن یعنی چاند رات کو افطار کے بعد سے عید کی صبح تک صرف کراچی میں مجموعی طورپر 15 ارب روپے کی خریداری کی گئی ۔ اس طرح کراچی کے دکانداروں نے رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران کراچی اور بیرون شہر سے آنے والے خریداروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ان 9-10 دنوں کے دوران مجموعی طورپر5 ارب روپے کامنافع کمایا جس پر بیشتر دکاندار کسی طرح کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔ جبکہ اگر پورے ملک میں عید کی خریداری پر خرچ ہونے والی رقم کااندازہ لگایاجائے تو رواں سال ایک محتاط اندازے کے مطابق عید کی خریداری پورے ملک میں مجموعی طورپر900 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ 2014 میں عید کی خریداری پر ملک بھر میں 700 ارب روپے اور 2015 میں770 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے۔
کراچی میں عیدکی شاپنگ ملک کے دیگر تمام شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے،چند برس قبل آل کراچی تاجر اتحاد کے ایک عہدیدار نے بتایاتھا کہ کراچی کے شہری عید کی شاپنگ پر کم وبیش 70 ارب روپے خرچ کردیتے ہیں جبکہ اس عہدیدار کے مطابق 2سال قبل کراچی میں ایک برانڈ اسٹور کی صرف چاند رات کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی مصنوعات فروخت ہوئی تھیں، اس سے کراچی میں عید شاپنگ پر خرچ کی جانے والی رقم کااندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
عید کی تیاریوں کے لیے کپڑے جوتے اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری پر 80 ارب روپے سے زاید خرچ کے علاوہ کراچی کے شہریوں نے عید کی خوشیاں بانٹنے کے لیے بڑی تعداد میں نئے نوٹ بھی حاصل کیے اور صرف اسٹیٹ بینک نے کراچی کے شہریوں کو 342 ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ فراہم کیے جن میں 40 ارب روپے کے چھوٹے نوٹ شامل تھے ،جبکہ کرنسی ڈیلروں سے منہ مانگے کمیشن پر حاصل کیے جانے والے نئے اور کرارے نوٹوں کی مالیت اس کے علاوہ ہے۔
سابقہ روایات کے برعکس اس سال کراچی کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے صدر، کلفٹن، ڈیفنس اور طارق روڈ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں خریداری کرنے کے بجائے شہر میں جابجا کھل جانے والے ایئر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز میں خریداری کرنے کو ترجیح دی ، ایئر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز سے خریداری کرنے والے لوگوں کاموقف یہ تھا کہ ان شاپنگ مالز میں خریداری کے لیے انھیں قیمتوں کے لیے مول تول نہیں کرنا پڑا اور انھیں اس بات کایقین ہے کہ انھوںنے معیاری چیز مناسب قیمت پر خریدی ہے جبکہ عام دکانوں پر عید کے دن قریب آتے ہی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کاسلسلہ شروع کردیاجاتاہے ۔
مذہبی اعتبار سے عید الفطر اسلام کی ملی، تہذیبی اور روحانی اقدار کی روشن علامت ہے، یہ اہل ایمان کے لیے رمضان المبارک کی عبادتوں اور ریاضتوں کو باری تعالیٰ کی جانب سے انعام واکرام کادن ہے۔مسلمانوں کی عید اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اقرار واظہار اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے شروع ہوتی ہے ،اس کامقصد اللہ تبارک تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مستحکم اور استوار کرنا ہے۔تہذیب وشائستگی کا یہ جشن مسرت اہل ایمان کے دینی ومذہبی تشخص کامظہر ہوتاہے۔ یہ مبارک وپرمسرت روز سعید تاریخی اعتبار سے ہجرت کے دوسرے سال سے منایاجارہا ہے۔
خوشیوں سے معمور اس مبارک دن کی ایک بڑی خصوصیت نماز عید کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا ، بغل گیر ہونا مبارکباد دینا اور چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے نیک تمنائوں کااظہار کرنا بھی ہے۔اس مبارک دن کی ایک اور خصوصیت نئے اور صاف ستھرے ملبوسات زیب تن کرنا بچوں اور خواتین سے لے کر ضعیفوں تک ہر ایک کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس دن اگر نئے کپڑے میسر نہ ہوں تو کم از کم صاف ستھرے کپڑے پہن کر ہی نماز عید ادا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے دن سندھ کے صحرائوں سے لے کر بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور خیبر پختونخوا کی وادیوں سے پنجاب کے سرسبز وشاداب کھیتوں تک ہر جگہ امیر وغریب سفید پوش اور متوسط غرض ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق صاف ستھرے لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں۔
عید کے دن ہر ایک دوسرے سے مسکرا کر ملتا اور بغلگیر ہوتا نظر آتاہے لیکن تجربہ شاہد ہے کہ اس طرح بغلگیر ہونے والے بہت کم لوگ اپنے دل کی کدورت اور دوسرے کے لیے اپنے دل میں بغض وحسد کو فراموش کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور دراصل دکھاوے اور دنیاوی روایت پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بغلگیر ہورہے ہوتے ہیں۔ہماری یہ دوعملی یا منافقانہ طرز عمل اگرچہ اب ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن چکاہے لیکن عید کے دن ہماری یہ دوعملی کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے،اس کاسبب غالبا ً یہ ہے کہ عید کی تیاریوںاورلباس کے انتخاب پر تو ہم مجموعی طورپر اربوں روپے پھونک دیتے ہیں لیکن باطن کی صفائی اور پاکیزگی کبھی بھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہی ہے۔عید کامقصد صلہ رحمی اخوت ومحبت باہمی یکجہتی کے جذبات کو فروغ دینا معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کو ختم کرنا ،رشتہ ناتوں کو جوڑے رکھنا ہے،لیکن اب ہمارے تہوار بھی محض دکھاوا اور نمود ونمائش کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں ہماری وہ مذہبی اقدار جو عید کا حقیقی رنگ تھیں وہ کہیں کھو گئی ہیں۔وہ مذہبی روایات جن سے حقیقی خوشیوں کے سوتے پھوٹتے تھے ،اور نماز عید کے بعد گلے ملتے ہی کدورتوں ،عداوتوں کی تہیں پل بھر میں ختم ہوجاتی تھیں ہمسایوں اور محلہ داروںکو عید کی سوغات سویاں بھیجنا ،بزرگوں کی خوشی اور حکم کی تکمیل کے لیے ناراض رشتہ داروں سے بطور خاص ملاقات کرنا غریب رشتہ داروںکے احوال کی خبر رکھنا اور عیدی کے بہانے ان کی مدد کاسامان کرنا ،بھائی کے غم کو اپنا غم سمجھنا یہ تما م اعلیٰ اقدار وروایات اب ناپید ہوچکی ہیں۔اب تو یہ حال ہے کہ عید کے دن بھی رشتہ داروں کی خاطر مدارات یہاں تک کہ ان کے سلام کاجواب بھی ان کا اسٹیٹس دیکھ کرہی دیاجاتاہے۔
عید کی یہ صورت حال نہ تو ہماری مذہبی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی ہماری قدیم روایات اور اقدار سے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس سال عید مناتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں 2 رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے ہوئے اپنے اس طرز عمل کو تبدیل کرنے اور اس کو اسلامی تعلیمات اورمذہبی اقدار کے عین مطابق ڈھالنے کا بھی عہد کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس عہد کی تکمیل کی ہمت اور استقامت ادا کرنے کی دعا کریں کیونکہ عید کی حقیقی خوشیاں اسی وقت نصیب ہوسکتی ہیں جب ہمارے دل سے بغض وعداوت کی تمام تہیں صاف ہوجائیں ۔دلوں کے پوری طرح صاف ہوجانے کے بعد ہی ہمیںحقیقی معنوں میں عید کی خوشیوں کااحساس ہوسکے گا ۔


متعلقہ خبریں


ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

مضامین
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے! وجود پیر 02 مارچ 2026
طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے!

ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ وجود پیر 02 مارچ 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر