وجود

... loading ...

وجود

پرتھوی میزائل کا ایک اورتجربہ ‘بھارت دنیا کو ایٹمی تباہ کاری میں جھونکے میں کوشاں

جمعه 23 جون 2017 پرتھوی میزائل کا ایک اورتجربہ ‘بھارت دنیا کو ایٹمی تباہ کاری میں جھونکے میں کوشاں


بھارت نے گزشتہ روز ایک اور پرتھوی میزائل کا تجربہ کرکے یہ ثابت کردیاہے کہ بھارتی حکمراں اس خطے کو اسلحہ کی دوڑ کامرکز بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور بھارتی حکمراں ہر حال میں اس خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔
بھارتی فوجی ماہرین اور خود بھارتی فوج کے سربراہ جنرل راونت اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ بھارت کی فوجی حکمت عملی پاکستان پر تیزی سے حملہ کرکے اس کو ختم کرنا ہے اور اس مقصد کیلئے اس نے ایٹمی ہتھیار تیار کرلئے ہیں جبکہ ان کی جنگی تیاری کا سلسلہ جاری ہے ۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارت نے اپنی ایٹمی طاقت کامظاہرہ 1974 میں پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کرکے کیاتھا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک بھارت کی ان جنگی تیاریوں میں نہ صرف یہ کہ اس کے ساتھ ہیں بلکہ اس کیلئے بھارت کو وسائل بھی فراہم کررہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے جب مئی 1998 میں ایٹمی دھماکہ کیا تو امریکا نے پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور امریکا کیلئے پاکستان کی خدمات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ پاکستان کی ہر طرح کی امداد بند کردی بلکہ دیگر مغربی ممالک کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کیا۔
بھارت کی تمام تر جنگی تیاریوں اور دھمکیوںکے باوجود پاکستان نے بحر ہند کو ایٹمی تابکاری سے پاک علاقے کے طورپر برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن بھارت نے پاکستان کی ان کوششوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بحر ہند کو بھی ایٹمی اسلحہ کی دوڑ میں شامل کرنے کیلئے مسلسل اقدامات کئے جس کا اندازہ بھارت کی جانب سے روس کی امداد سے بحر ہند میں ایٹمی آبدوز کی تعیناتی اور ایٹمی اسلحہ کے استعمال کیلئے پلیٹ فارم کی تیاری کے حوالے سے کوششوں سے لگایاجاسکتاہے۔
عام طورپر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ پاکستان کی جانب سے اپنی ایٹمی ہتھیاروں کی تفصیلات ظاہر کئے جانے کے بعد بھارت علاقے میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ سے الگ ہوجائے گا اور اس خطے کو ایٹم سے پاک بنانے کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں میں اس کاساتھ دے گا لیکن اس کے برعکس بھارتی حکمرانوں نے پاکستان ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے پر فوجی برتری اور بالادستی حاصل کرنے کیلئے فوجی مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے اورفضا سے فضا میں مار کرنے کے علاوہ زمین سے فضا میں اور زمین سے سمندر میں مار کرنے والے میزائلوں کی تیار ی کا سلسلہ شروع کردیا ہے، پرتھوی سلسلے کے تازہ ترین میزائل کا تجربہ بھارت کی ان ہی کوششوں کاثبوت ہے۔
اس حوالے سے اہم اور خطرناک بات یہ ہے کہ بھارت کی تمام تر فوجی تیاریوں اور حکمت عملیوں جس میں کولڈ ڈاکٹرائن اور جرمنی کی فوجی حکمت عملی کی طرز پر تیزی سے فوجی کارروائی کرکے مخالف کو جوابی حملے کے قابل نہ رہنے دینے کی حکمت عملی کا محور پاکستان ہے۔ان تمام تر تیاریوں کے باوجود ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت خود ہی پاکستان کی جانب سے جوابی دفاعی تیاریوںپر شور مچاتاہے اور اسے خطے میں امن کے خلاف قرار دینے کی کوششوں کے علاوہ پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کرتارہاہے کہ پاکستان کے ایٹمی اسلحے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس سے پوری دنیا شدید تباہی سے دوچار ہوسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت خود پراہار اور سوریہ قسم کے ایٹمی میزائلوں کی تیاری کے بارے میں کوئی وضاحت دینے کو تیار نظر نہیں آتا۔اس کے ساتھ ہی بھارت تیزی کے ساتھ بحر ہند میں بھی ایٹمی اسلحہ کا انبار جمع کرنے کیلئے کوشاں ہے اور اس کی ان کوششوں میں امریکا اس کی ہمنوائی اور سرپرستی کررہاہے کیونکہ امریکی فوجی قیادت کاخیال ہے کہ بحر ہند کے علاوہ جنوبی چین کے بحری علاقے اور اردگرد کے علاقوں میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنے اورا س کامقابلہ کرنے کیلئے بحر ہند میں متوازی بحری قوت کا وجود ضروری ہے۔امریکی فوجی قیادت کی اس حکمت عملی کی بنیادپر امریکا بھارت کو علاقے میں ایٹمی طاقت بڑھانے کا خواب پورا کرنے میں پوری مدد فراہم کررہاہے اور اس کے ساتھ ہی اسے نیوکلیئر سپلائیر گروپ کی رکنیت دینے کی بھی بھرپور کوشش کررہاہے ۔
بھارت کی بحری حکمت عملی کے حوالے سے 2015 میں سامنے آنے والے ڈاکومنٹس سے بھارت کی ایٹمی طاقت بننے کی خواہشات پوری طرح آشکارا ہوچکی ہیں اور یہ ظاہرہوچکاہے کہ بحر ہند میں ایٹمی آبدوزوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی بھارت ایٹمی اور دوسری روایتی اسلحہ سے لیس فضا سے فضا اور سمندر اور زمین سے فضا اور سمندر میں مار کرنے والے ایٹمی اسلحہ کی تیاری اور اس کے استعمال کیلئے پلیٹ فارم کی تیاریوںمیں مصروف ہے جن میں آئی این ایس چکرا اور اکولہ کلاس کی روس سے لیز پر حاصل کی گئی آبدوز شامل ہے۔اس کے علاوہ بھارت 1999 سے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بحری جنگی جہاز تیار کرنے کے ایک پروجیکٹ پر مسلسل کام کررہاہے یہ کام بھارتی بحریہ، بھابھا ایٹمی ریسرچ سینٹر ، دفاعی ریسرچ اور ترقی سے متعلق ادارے کی مشترکہ نگرانی میں انجام دیاجارہاہے۔اس پروجیکٹ کے تحت بھارت اپنی پہلی بیلسٹک میزائل بردار آبدوز آئی این ایس ایری ہنٹ تیار کرچکاہے ،بھارت کی تیار کردہ یہ ایٹمی آبدوز سمندر میں ڈبکیاں لگانے کے مشکل ترین ٹیسٹ اور بیلسٹک میزائل داغنے کے تجربات میں کامیابی حاصل کرچکی ہے ۔اس کے علاوہ اس پروجیکٹ کے تحت ایک اور ایٹمی آبدوز آئی این ایس اریدھمان بھی تیار کی جاچکی ہے اور ضروری ٹیسٹ کے بعد کسی بھی وقت سمندر میں اتار دی جائے گی۔مارچ 2016 میں بھارت نے ایٹمی آبدوز سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کے 4 بیلسٹک میزائل چلانے کا کامیاب تجربہ کیاتھا یہ تجربہ بھارت نے اپنی تیار کردہ ایٹمی آبدوز آئی این ایس ایری ہنٹ سے بحیرہ بنگال میں کیاتھا۔اس کے بعد کے 4 اورکے5 اس کے ایٹمی اسلحہ کے ذخیرے میں شامل کرلئے گئے تھے اور اس سے بھارت کو حملہ کرنے کی دوسری دفاعی لائن مل گئی تھی۔
بھارتی بحریہ کی کارروائی کا محور بحر ہند ، بحر عرب اور بحیرہ بنگال ہیں اور یہ تینوں سمندر آبنائے ہرمز،باب المندب اور آبنائے ملاکہ کی طرح پوری دنیا کے مختلف خطوں سے رابطوں کا محور اور ان کی گزرگاہ ہیں۔اپنی اس بحری قوت کے ذریعہ اب بھارت ان علاقوں کی ناکہ بندی کرنے اور بعض ممالک کے جہازوں کی آمدورفت روکنے کیلئے استعمال کرسکتاہے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان ابتدا ہی سے بحر ہند کو ایٹمی سے پاک علاقہ دیکھنا چاہتاہے اور اس کیلئے کوشش کرتارہاہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ علاقے میںطاقت کاتوازن قائم رکھنے کیلئے سول نیوکلیئر طاقت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا بھی خواہاں ہے۔جبکہ بھارت جنوبی ایشا اور بحر ہند میں امن اور استحکام کے ماحول کو تباہ کرنے پر تلاہواہے ۔ یہ صورت حال پوری عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے اور امریکا سمیت پوری عالمی برادری کو وقتی فوائد حاصل کرنے یا صرف چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی کے تحت اس خطے کو جنگ کامیدان بنانے سے گریز کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

مضامین
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی وجود جمعرات 05 مارچ 2026
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

Crime and Punishment وجود جمعرات 05 مارچ 2026
Crime and Punishment

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ وجود جمعرات 05 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر