... loading ...

پھلوں کا بادشاہ، آم پاکستان اور بھارت کی خاص سوغات ہے اور دونوں ممالک اس بات کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے آموں کو ذیادہ پذیرائی اور اہمیت حاصل ہوجائے۔معاشی طور پر آم کی برآمدات ( ایکسپورٹ) وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کوبھارت پر کچھ برتری حاصل ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان نے تقریباً 100,000 ٹن آم برآمد کرکے 48.6 ملین ڈالر حاصل کئے تھے جبکہ بھارت نے 56,000 ٹن آم بھجواکر 44.6 ملین ڈالر کمائے۔اب جبکہ یورپی یونین نے بھارت کے مشہور الفانسو آم پر پابندی عائد کردی ہے، پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ بہتر معیار کے عوام کی برآمدات کے ذریعے یورپ میں قدم مضبوطی سے جماسکے۔ بھارت کے الفانسو آم پر یہ پابندی گزشتہ سال یکم مئی کو عائد کی گئی تھی جب بھارت سے یورپ پہنچنے والی آموں کی پہلی کھیپ میں پھل مکھی اور دیگر چار سبزیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔پاکستان میں سب سے بڑے زراعتی صوبے پنجاب میں پارلیمانی سیکریٹری راجہ اعجاز احمد نون نے کہا کہ بھارت کی غلطیوں سے ہمیں فارمنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔’ ہم اس کام کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ ہم بھارت کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی آم کی پیداوار کا 40 فیصد برآمد کرنے کا پوٹینشل موجود ہے اور اس سال کوشش کریں گے کہ ہم برآمدات میں16 فیصد اضافہ کرسکیں۔” پھلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے ماہر سید عصمت حسین نے کہا کہ ان کے ادارے کے ماہر فارمز اور باغات کا دورہ کرکے لوگوں کو یورپی یونین کے معیارات سے آگاہ کرکے مزید منافع کمانے کی راہ دکھاتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پھل مکھی ( فروٹ فلائی) نے بھارت کے علاوہ پاکستانی آموں کو بھی متاثر کیا ہے لیکن ہم نے سادہ اور سائنسی طریقوں سے اسے کنٹرول کیا ہے۔’
اس طرح یہ امید کرنا غلط نہیں ہوگا کہ رواں سال آم کی برآمدات 70 ملین ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں جبکہ گذشتہ سال پاکستان نے ایک لاکھ 28 ہزار ٹن آم برآمد کئے تھے جس سے 68 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاق ایوانِ ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل قائمہ کمیٹی برائے ہارٹی کلچر ایکسپورٹ کے چیئرمین احمد جواد نے بتایا ہے کہ رواں سال مغربی اور وسط ایشیائی ممالک سے آم کے بڑے درآمدی آرڈرز موصول ہوئے جس کی وجہ سے آم کی برآمدات گزشتہ سال کی برآمدات سے بڑھنے کی توقع ہے تاہم آم کی قومی برآمدات اس کی استعداد سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم کی طبعی عمر کم ہونے کی وجہ سے اس کی برآمد بذریعہ ہوائی جہاز کی جاتی ہے جو انتہائی مہنگا ذریعہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آم کی برآمدات میں اضافے کے مواقع سے خاطر خواہ استفادہ کرنا ضروری ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت برآمد کنندگان کو ہوائی جہاز کے کرایوں میں 30 تا 35 فیصد کی سبسڈی فراہم کرے جبکہ آم کی پراسیسنگ اور پیکنگ کی سہولتوں میں اضافہ کے لیے بھی جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال یورپی منڈیوں میں بھارتی آم کی طلب میں کمی ہوئی ہے جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔احمد جواد نے مزید بتایا کہ پنجاب میں مینگو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ (ایم آر ڈی بی) کے قیام سے بھی آم کی ملکی پیداوار اور معیار میں بہتری سے برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں اضافہ ہوگا جو نہ صرف قومی معیشت بلکہ دیہی معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔
اطلاعات کے مطابق20 مئی کو برآمدی سیزن کے آغاز کے بعد سے پاکستان نے 11لاکھ ڈالرز مالیت کے لگ بھگ 2200 ٹن آم برآمد کردیے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق سیزن کے پہلے 30 دن کی برآمدات کے ریکارڈ کے مطابق 28 ہزار ٹن آم بیرون ملک بھیجے گئے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 4 ہزار ٹن زائد ہے۔یورپی یونین کی جانب سے بھارتی آموں پر پابندی کے بعد پاکستانی کسان اور ایکسپورٹرز توقع کررہے ہیں کہ بھارتی برآمدات کا کچھ حصہ وہ بھی حاصل کرسکیں گے۔
پاکستان کے دیگر کاشتکاروں کے مطابق ملکی آم کا ذائقہ حیرت انگیز ہے اور امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستانی آم یورپی یونین کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی اپنا اہم مقام پیدا کرسکیں گے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل کے درآمدکنندگان اور تاجروں کی تنظیم (پی ایف وی اے) کے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے چیئرمین وحید احمد نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان دولتِ مشترکہ کے ممالک اور عمان سمیت دیگرملکوں کو آم درآمد کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پھل 500 ڈالرز فی ٹن برآمد کیا گیا ہے، جبکہ پچھلے سال 250 ڈالرز فی ٹن کی قیمت پر درآمد کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حکومت کی جانب سے برآمدی پھلوں اور سبزیوں کے لیے لکڑی کے بکسز کے استعمال کی پابندی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔وحید احمد نے بتایا کہ ایرانی قرنطینہ محکمے کا ایک وفد اس مہینے گرم پانی سے صفائی کے پلانٹس کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے آرہا ہے۔بعض برآمدکنندگان قرنطینہ محکمے کی اجازت حاصل کرنے کے بعد ایران کو پہلے ہی ترسیل کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وزٹ کے دوران اگر پلانٹس کی منظوری مل جاتی ہے تو ایران کو آم کی برآمد مزید بڑھ جائے گی۔اس سال گرم پانی سے صفائی کے تقریباً 29 پلانٹس کام کررہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال صرف 3 پلانٹس موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’برآمدکنندگان پْرامید ہیں کہ آم کی ترسیلات برآمدات کے مقررہ ہدف ایک لاکھ ٹن کو پار کرجائے گی، جس سے 6 کروڑ ڈالرکی آمدنی ہوگی، اس کے مقابلے میں گزشتہ سال4 کروڑ80لاکھ ڈالرزمالیت کے 94 ہزار ٹن آم برآمد کیے گئے تھے۔اس سال توقع ہے کہ پاکستان میں آم کی پیداوار 18 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہوگی۔گزشتہ برس پاکستان نے اپنے آم یورپی یونین سمیت دنیا کے 47 ممالک کو برآمد کیے تھے، رواں برس اب تک پاکستان یورپی یونین کو 2700 ٹن آم برآمد کرچکا ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔گزشتہ برس یورپی یونین کو مجموعی طور پر 1400 ٹن آم برآمد کیے گئے تھے۔30 دن کے اندر 2 ہزر ٹن آم صرف برطانیہ ایکسپورٹ ہوئے، گزشتہ برس اسی عرصے میں یہمقدار 900 ٹن تھی، رواں برس آم کی برآمد 20 مئی کو شروع ہوئی تھی۔ تاہم اس ضمن میں اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر برآمدی مصنوعات کی طرح ہمارے آم کے یورپی خریدار ہمارے معیار سے مطمئن نظر نہیں آتے جس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کومتنبہ کیاہے کہ وہ اپنے آموں کی پیداوار کے معیار کو بہتر بنائے بصورت دیگر اسے ان کی درآمدات پر بھارت کی طرح پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وفاقی سیکریٹری سیرت اصغر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے دوران یورپی یونین کے اس انتباہ سے آگاہ کیا تھا۔سیرت اصغر نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین بھارت سے آموں کی درآمدات پر اگلے3 سال کے لیے پابندی عائد کر چکی ہے جب کہ اس حوالے سے پاکستان کو بھی تنبیہ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں آموں کی فصل پھلوں کی مکھی کے حملے کی زد میں ہے جب کہ حکومت کوشش کرے گی کہ انہیں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بعد ہی برآمد کرے۔ اصغر کا کہنا تھا کہ ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی نہ صرف پھلوں کو حشرات اور بیماریوں سے محفوظ بناتی ہے بلکہ یہ طریقہ کار سستا بھی ہے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے چیئرمین وحید احمد کا کہنا ہے کہ پھلوں کا معیار بہتر بنانے کے ثمرات بھی سامنے آرہے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں آم 550 سے 600 ڈالر فی ٹن فروخت ہورہا ہے۔لکڑی کی پیٹی پر پابندی سے قبل پاکستانی عام 250 ڈالر فی ٹن پر فروخت ہوتا تھا، گزشتہ برس پاکستانی آم کی قیمت 450 ڈالر فی ٹن تھی۔عام طور پر 70 فیصد عام پہلے دبئی بھیجے جاتے ہیں جہاں سے وہ دیگر خلیجی ممالک تک پہنچائے جاتے ہیں، اب تک 14 ہزار 600 ٹن عام متحدہ عرب امارات برآمد کیے جاچکے ہیں۔پہلی بار دبئی میں پاکستانی آم کی قیمت فروختبھارتی آم کے برابر رہی ہے، بعض اوقات تو پاکستانی آم کو بھارتی آم سے بھی زیادہ اچھی قیمت ملتی ہے۔
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...
ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...
بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...
عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...
تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...
پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...
متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...
ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...
دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...
پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...
عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...