... loading ...

باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں شجر کاری اور جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنے کیلئے عالمی بینک سے سرسبز پاکستان کے نام پر 100 ملین ڈالر کا نیاقرض حاصل کرنے کی تیاریاں کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی بینک کے حکام نے پاکستان کو جنگلات میں اضافے اور اس کیلئے ضروری انفرااسٹرکچر تیار کرنے اور اس کیلئے مناسب انتظامات کرنے کیلئے پاکستان کو مطلوبہ 100 ملین ڈالر کا قرض فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بینک پاکستان کو سرسبز پاکستان کا منصوبہ کامیاب بنانے کیلئے لوگوں کی حالت زندگی بہتر بنانے کے اقدامات میں مدد دینے اور اس حوالے سے حکومت کی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کو تیار ہے، عالمی بینک کے ماحولیات سے متعلق ایک سینئر ماہر جیانگ رو کا کہناہے کہ بینک اس حوالے سے جنگلات میں اضافے کی کوششوں میں مدد دے گا ۔ان کاکہنا تھا کہ بینک قومی سطح پر ماحول کی آلودگی کم کرنے اور آلودگی پر قابو پانے کی صلاحیت میں اضافے کی کوششوں میں معاونت کرسکتاہے۔
اطلاعات کے مطابق بینک کے ایک وفد نے گزشتہ دنوں ماحولیات سے متعلق امور کے وزیر زاہد حامد سے ملاقات کی تھی اور سرسبز پاکستان پروگرام کے مختلف پہلوئوں اور اس کیلئے رقم کی فراہمی اور اس کے استعمال کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیالات کیاتھا۔اس ملاقات کے دوران اطلاعات کے مطابق وزیر ماحولیات زاہد حامد نے عالمی بینک کے وفد کو باور کرایاتھا کہ سرسبز پاکستان پروگرام کے تحت ملک میں جنگلات کے رقبے میں اضافے کیلئے 100 ملین درخت لگائے جائیں گے۔عالمی بینک کے ماہر ماحولیات جیانگ رو کاکہناہے کہ عالمی بینک اس حوالے سے گرین کلائمٹ فنڈ اور اقوام متحدہ کی گرین انوائرمنٹ فیسی لیٹی سے بھی فنڈ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتاہے۔ان کاکہناتھا کہ ہماری توجہ جنگلات میں اضافے کیلئے انفرااسٹرکچر ،لینڈ اسکیپ مینجمنٹ اور کفایت شعاری کے ساتھ اس کے انتظامات یعنی ان جنگلات کو برقرار رکھنے اور ان کو اقتصادی طورپر قابل عمل بنانے پر ہوگی۔
عالمی بینک کے ماہر ماحولیات نے اطلاعات کے مطابق حکومت کو مشورہ دیاہے کہ وہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنے ،نئے درخت لگانے اور انھیں پروان چڑھانے کے انتظامات کیلئے صوبوں کوترغیبات فراہم کرے۔تاکہ ملک کے تمام صوبوں میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہو اور حقیقی معنوں میں سرسبز اور ہرے بھرے پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنایاجاسکے۔جیانگ رو نے یہ بھی بتایا کہ عالمی بینک بلوچستان میں واٹر شیڈ مینجمنٹ کے ایک پروجیکٹ پر بھی کام کررہاہے۔ جبکہ وزیر ماحولیات نے دعویٰ کیاہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے صوبوں سے مشاورت کے بعد ان کی مرضی کے مطابق جنگلات سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری دیدی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ ہم پاکستان میں بحری حدود میں بھی جنگلات یعنی بحری نوعیت کے پودوں کی افزائش کیلئے ایک مخصوص رقبے کو حفاظتی رقبہ قرار دے کر کام کرنے کاارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔
سرسبز پاکستان پروگرام سے متعلق وزیر اعظم کے ترجمان رضوان محبوب کاکہناہے کہ حکومت اس منصوبے کیلئے بین الاقوامی ڈونرز سے اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی خواہاں ہے اور اس کے طریقہ کار پر غور کیاجارہاہے۔رضوان محبوب نے بتایا کہ اقتصادی امور ڈویژن کی درخواست پر عالمی بینک کے ایک مشن کے ارکان نے گزشتہ دنوں پاکستان کادورہ کیاتھا اور اس دوران مشن کے ارکان نے پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے جنگلات سے متعلق محکموں کے حکام سے اور ماحول میں تبدیلی سے متعلق وزارت کے سیکریٹری سے بھی ملاقاتیں کرکے اس پروجیکٹ کے حوالے سے تفصیلات پر تبادلہ خیالات کیاتھا۔اس کے علاوہ قومی رابطہ کمیٹی نے میناماتا کنونشن سے بھی ملاقاتیں کی ہیں یہ کنونشن ماحول اور انسانی صحت کو دھوئیں اور آلودگی کے اخراج سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رکھنے کیلئے کام کرتاہے۔پاکستان نے 2013 میں اس کنونشن پر دستخط کیے تھے لیکن اس کے بعد اب تک اس کی تجدید نہیں کی ہے اس ملاقات میں اس کی تجدید کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیالات کیاگیا ہے۔
ماحول سے متعلق وزارت کے ایک افسر کاکہناہے کہ حکومت نے اپنی 2016 کی درآمدی پالیسی میں مرکری کے استعمال کی شرح کم از کم سطح پر رکھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔اس پالیسی کے تحت مرکری اور اس سے متعلق مصنوعات کی درآمد سے قبل ماحولیات سے متعلق وزارت سے اجازت حاصل کرنے کی پابندی عاید کردی گئی ہے۔افسر کے مطابق میناماتا کنونشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس کنونشن کی تجدید کی صورت میں آنے والے اخراجات اور اس سے ہونے والے فوائد پر تفصیل سے غور کیاگیاہے۔تاہم پاکستان کو اس حوالے سے فنڈز اس کنونشن کی تجدید کے بعد ہی مل سکیں گے۔اس کنونشن کے تحت فنڈ حاصل کرنے کی ایک بڑی شرط یہ ہے کہ کنونشن کیلئے حاصل ہونے والے فنڈ سے زیادہ رقم خود حکومت کو اپنے پاس سے اس منصوبے پر خرچ کرناپڑے گی۔اس میٹنگ میں حکام نے پاکستانی حکام پر یہ واضح کردیاہے کہ اس کنونشن کے اصول بہت سخت ہیں جن کی پاکستان کو پاسداری کرنا پڑے گی۔اس کنونشن کامقصد 2020 تک ان اشیا کی تعداد یامقدار کم از کم سطح پر لانا ہے جن میں مرکری استعمال ہوتاہے اور 2025 تک ان کامکمل طورپر خاتمہ کر دینا ہے ۔ اس کنونشن کے تحت رکن ممالک کو اپنے کوئلے کے موجودہ پلانٹ سے 10سال کے اندر مرکری کاخاتمہ کرنا لازمی ہوگا جبکہ نئے پلانٹ سے 5سال کے اندر مرکری کامکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔
ماحولیات سے متعلق وزارت کے سیکریٹری ابو احمد عاکف نے اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کوایک خط لکھ کر اس منصوبے کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں ایک ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کافیصلہ کیا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس حوالے سے اس کی تمام جزئیات اور اس حوالے سے اپنی رائے اور تحفظات کااظہار کرسکیں ،واضح رہے کہ فی الوقت دنیا کے 128 ممالک اس کنونشن پر دستخط کرچکے ہیں لیکن ان میں سے صرف 55 نے اس کی توثیق اور تجدید کی ہے۔
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...