وجود

... loading ...

وجود

سرسبز پاکستان کے نام پر عالمی بینک سے 100 ملین ڈالر قرض حاصل کرنے کی تیاریاں

پیر 19 جون 2017 سرسبز پاکستان کے نام پر عالمی بینک سے 100 ملین ڈالر قرض حاصل کرنے کی تیاریاں


باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں شجر کاری اور جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنے کیلئے عالمی بینک سے سرسبز پاکستان کے نام پر 100 ملین ڈالر کا نیاقرض حاصل کرنے کی تیاریاں کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی بینک کے حکام نے پاکستان کو جنگلات میں اضافے اور اس کیلئے ضروری انفرااسٹرکچر تیار کرنے اور اس کیلئے مناسب انتظامات کرنے کیلئے پاکستان کو مطلوبہ 100 ملین ڈالر کا قرض فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بینک پاکستان کو سرسبز پاکستان کا منصوبہ کامیاب بنانے کیلئے لوگوں کی حالت زندگی بہتر بنانے کے اقدامات میں مدد دینے اور اس حوالے سے حکومت کی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کو تیار ہے، عالمی بینک کے ماحولیات سے متعلق ایک سینئر ماہر جیانگ رو کا کہناہے کہ بینک اس حوالے سے جنگلات میں اضافے کی کوششوں میں مدد دے گا ۔ان کاکہنا تھا کہ بینک قومی سطح پر ماحول کی آلودگی کم کرنے اور آلودگی پر قابو پانے کی صلاحیت میں اضافے کی کوششوں میں معاونت کرسکتاہے۔
اطلاعات کے مطابق بینک کے ایک وفد نے گزشتہ دنوں ماحولیات سے متعلق امور کے وزیر زاہد حامد سے ملاقات کی تھی اور سرسبز پاکستان پروگرام کے مختلف پہلوئوں اور اس کیلئے رقم کی فراہمی اور اس کے استعمال کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیالات کیاتھا۔اس ملاقات کے دوران اطلاعات کے مطابق وزیر ماحولیات زاہد حامد نے عالمی بینک کے وفد کو باور کرایاتھا کہ سرسبز پاکستان پروگرام کے تحت ملک میں جنگلات کے رقبے میں اضافے کیلئے 100 ملین درخت لگائے جائیں گے۔عالمی بینک کے ماہر ماحولیات جیانگ رو کاکہناہے کہ عالمی بینک اس حوالے سے گرین کلائمٹ فنڈ اور اقوام متحدہ کی گرین انوائرمنٹ فیسی لیٹی سے بھی فنڈ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتاہے۔ان کاکہناتھا کہ ہماری توجہ جنگلات میں اضافے کیلئے انفرااسٹرکچر ،لینڈ اسکیپ مینجمنٹ اور کفایت شعاری کے ساتھ اس کے انتظامات یعنی ان جنگلات کو برقرار رکھنے اور ان کو اقتصادی طورپر قابل عمل بنانے پر ہوگی۔
عالمی بینک کے ماہر ماحولیات نے اطلاعات کے مطابق حکومت کو مشورہ دیاہے کہ وہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنے ،نئے درخت لگانے اور انھیں پروان چڑھانے کے انتظامات کیلئے صوبوں کوترغیبات فراہم کرے۔تاکہ ملک کے تمام صوبوں میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہو اور حقیقی معنوں میں سرسبز اور ہرے بھرے پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنایاجاسکے۔جیانگ رو نے یہ بھی بتایا کہ عالمی بینک بلوچستان میں واٹر شیڈ مینجمنٹ کے ایک پروجیکٹ پر بھی کام کررہاہے۔ جبکہ وزیر ماحولیات نے دعویٰ کیاہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے صوبوں سے مشاورت کے بعد ان کی مرضی کے مطابق جنگلات سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری دیدی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ ہم پاکستان میں بحری حدود میں بھی جنگلات یعنی بحری نوعیت کے پودوں کی افزائش کیلئے ایک مخصوص رقبے کو حفاظتی رقبہ قرار دے کر کام کرنے کاارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔
سرسبز پاکستان پروگرام سے متعلق وزیر اعظم کے ترجمان رضوان محبوب کاکہناہے کہ حکومت اس منصوبے کیلئے بین الاقوامی ڈونرز سے اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی خواہاں ہے اور اس کے طریقہ کار پر غور کیاجارہاہے۔رضوان محبوب نے بتایا کہ اقتصادی امور ڈویژن کی درخواست پر عالمی بینک کے ایک مشن کے ارکان نے گزشتہ دنوں پاکستان کادورہ کیاتھا اور اس دوران مشن کے ارکان نے پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے جنگلات سے متعلق محکموں کے حکام سے اور ماحول میں تبدیلی سے متعلق وزارت کے سیکریٹری سے بھی ملاقاتیں کرکے اس پروجیکٹ کے حوالے سے تفصیلات پر تبادلہ خیالات کیاتھا۔اس کے علاوہ قومی رابطہ کمیٹی نے میناماتا کنونشن سے بھی ملاقاتیں کی ہیں یہ کنونشن ماحول اور انسانی صحت کو دھوئیں اور آلودگی کے اخراج سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رکھنے کیلئے کام کرتاہے۔پاکستان نے 2013 میں اس کنونشن پر دستخط کیے تھے لیکن اس کے بعد اب تک اس کی تجدید نہیں کی ہے اس ملاقات میں اس کی تجدید کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیالات کیاگیا ہے۔
ماحول سے متعلق وزارت کے ایک افسر کاکہناہے کہ حکومت نے اپنی 2016 کی درآمدی پالیسی میں مرکری کے استعمال کی شرح کم از کم سطح پر رکھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔اس پالیسی کے تحت مرکری اور اس سے متعلق مصنوعات کی درآمد سے قبل ماحولیات سے متعلق وزارت سے اجازت حاصل کرنے کی پابندی عاید کردی گئی ہے۔افسر کے مطابق میناماتا کنونشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس کنونشن کی تجدید کی صورت میں آنے والے اخراجات اور اس سے ہونے والے فوائد پر تفصیل سے غور کیاگیاہے۔تاہم پاکستان کو اس حوالے سے فنڈز اس کنونشن کی تجدید کے بعد ہی مل سکیں گے۔اس کنونشن کے تحت فنڈ حاصل کرنے کی ایک بڑی شرط یہ ہے کہ کنونشن کیلئے حاصل ہونے والے فنڈ سے زیادہ رقم خود حکومت کو اپنے پاس سے اس منصوبے پر خرچ کرناپڑے گی۔اس میٹنگ میں حکام نے پاکستانی حکام پر یہ واضح کردیاہے کہ اس کنونشن کے اصول بہت سخت ہیں جن کی پاکستان کو پاسداری کرنا پڑے گی۔اس کنونشن کامقصد 2020 تک ان اشیا کی تعداد یامقدار کم از کم سطح پر لانا ہے جن میں مرکری استعمال ہوتاہے اور 2025 تک ان کامکمل طورپر خاتمہ کر دینا ہے ۔ اس کنونشن کے تحت رکن ممالک کو اپنے کوئلے کے موجودہ پلانٹ سے 10سال کے اندر مرکری کاخاتمہ کرنا لازمی ہوگا جبکہ نئے پلانٹ سے 5سال کے اندر مرکری کامکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔
ماحولیات سے متعلق وزارت کے سیکریٹری ابو احمد عاکف نے اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کوایک خط لکھ کر اس منصوبے کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں ایک ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کافیصلہ کیا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس حوالے سے اس کی تمام جزئیات اور اس حوالے سے اپنی رائے اور تحفظات کااظہار کرسکیں ،واضح رہے کہ فی الوقت دنیا کے 128 ممالک اس کنونشن پر دستخط کرچکے ہیں لیکن ان میں سے صرف 55 نے اس کی توثیق اور تجدید کی ہے۔


متعلقہ خبریں


سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

مضامین
زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر