وجود

... loading ...

وجود

مقامی سرمایہ کاروں کا چینی کمپنیوں پر حکومت کی خاص مہربانی کا شکوہ

جمعه 16 جون 2017 مقامی سرمایہ کاروں کا چینی کمپنیوں پر حکومت کی خاص مہربانی کا شکوہ

پاکستان میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو چین کے ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کا ایک اہم جزو ہے، پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور چینی کمپنیوں کو کسی ٹینڈر اور مقابلے کے بغیر بہت زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے اور مختلف منصوبوں پر مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے کم شرح پر کام کرنے کی پیشکش کے باوجود زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں ،اس کے ساتھ یہ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے میں پاکستان کا زیادہ پیسہ خرچ ہوگا۔ پاکستان میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو چین کے ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کا ایک اہم جزو ہے، پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور چینی کمپنیوں کو کسی ٹینڈر اور مقابلے کے بغیر بہت زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے اور مختلف منصوبوں پر مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے کم شرح پر کام کرنے کی پیشکش کے باوجود زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں ،اس کے ساتھ یہ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے میں پاکستان کا زیادہ پیسہ خرچ ہوگا۔

دوسری جانب چینی حکومت کی جانب سے سرکاری فنڈنگ کرنے والے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سلک روڈ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض فراہم کریں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چائنا ڈیولپمنٹ بینک (سی ڈی بی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنا (ای ایکس آئی ایم) کے 2 عہدیداروں نے بتایا کہ وہ پاکستان اور اس خطے میں ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض دینے کے سلسلے میں ترجیح دے رہے ہیں جو چین سے خام مال یا دیگر سازو سامان کی درآمد کرتے ہیں۔ دوسری جانب چینی حکومت کی جانب سے سرکاری فنڈنگ کرنے والے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سلک روڈ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض فراہم کریں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چائنا ڈیولپمنٹ بینک (سی ڈی بی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنا (ای ایکس آئی ایم) کے 2 عہدیداروں نے بتایا کہ وہ پاکستان اور اس خطے میں ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض دینے کے سلسلے میں ترجیح دے رہے ہیں جو چین سے خام مال یا دیگر سازو سامان کی درآمد کرتے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنی ’جنرل الیکٹرک‘، چینی کمپنی ’اسٹیٹ گرڈ‘ سے 25 فیصد کم لاگت میں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کے لیے تیار تھی جبکہ اس معاہدے کے لیے پاکستان نے چینی کمپنی کو زیادہ رقم ادا کی ہے۔

پاکستان میں پاور مینجمنٹ کے آزاد ادارے نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ چینی کمپنی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اسی منصوبے میں دیگر کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ پیشکش شامل نہیں تھی،تاہم پاکستانی حکومتی عہدیداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کی ذیلی کمپنی چائنا الیکٹرک پاور ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ (سی ای ٹی) کا کہنا ہے کہ جس قیمت کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مناسب ہے۔پاکستان نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اسٹیٹ گرڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک بہت ہی مناسب قیمت ہے‘۔ پاکستان میں پاور مینجمنٹ کے آزاد ادارے نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ چینی کمپنی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اسی منصوبے میں دیگر کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ پیشکش شامل نہیں تھی،تاہم پاکستانی حکومتی عہدیداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کی ذیلی کمپنی چائنا الیکٹرک پاور ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ (سی ای ٹی) کا کہنا ہے کہ جس قیمت کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مناسب ہے۔پاکستان نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اسٹیٹ گرڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک بہت ہی مناسب قیمت ہے‘۔

پاکستان میں بجلی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والی چین کی ایک اعلیٰ کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا مقصد منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ وہاں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے چینی نیوز ایجنسی شنہوا کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت میں شامل چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین وانگ بنگ ہوا کا کہنا ہے کہ ‘ہم پاکستان میں اپنے آلات کی تنصیب  فائدہ حاصل کرنے نہیں بلکہ پائیدار ترقی اور تباہ ہوتی مقامی صنعت کو مستحکم کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین نے یہ بات بلوچستان کے علاقے حب میں کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران کہی۔خیال رہے کہ یہ پلانٹ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوگا، اس میں بنگ ہوا کی پاور کمپنی اور پاکستان کی حب پاور کمپنی شراکت دار ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پاورپلانٹ سے اگست 2019 تک بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔چائنا پاور انٹرنیشنل کمپنی کے چیئرمین نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وعدہ کیا کہ منصوبے میں پاکستان کے گریجویٹ افراد کو تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا، جب کہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے افراد اگر کسی اور جگہ کام کرنا چاہیں گے تو بھی انہیں موقع فراہم کیا جائے گا۔ان کے مطابق حب میں بننے والا بجلی گھر سالانہ 9 ارب کلو واٹ آور (kWh) بجلی پیدا کر سکے گا، جب کہ پلانٹ لگنے سے 10 ہزار مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ہم پاکستانی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے اپنے گروپ میں زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی حب پاور پلانٹ پر سیفٹی، قابل اعتماد آپریشنل سسٹم، دوستانہ ماحول، معاشی استحکام اور معیار کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی، جب کہ منصوبہ بلوچستان اور مقامی افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ پاکستان میں بجلی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والی چین کی ایک اعلیٰ کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا مقصد منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ وہاں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے چینی نیوز ایجنسی شنہوا کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت میں شامل چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین وانگ بنگ ہوا کا کہنا ہے کہ ‘ہم پاکستان میں اپنے آلات کی تنصیب  فائدہ حاصل کرنے نہیں بلکہ پائیدار ترقی اور تباہ ہوتی مقامی صنعت کو مستحکم کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین نے یہ بات بلوچستان کے علاقے حب میں کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران کہی۔خیال رہے کہ یہ پلانٹ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوگا، اس میں بنگ ہوا کی پاور کمپنی اور پاکستان کی حب پاور کمپنی شراکت دار ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پاورپلانٹ سے اگست 2019 تک بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔چائنا پاور انٹرنیشنل کمپنی کے چیئرمین نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وعدہ کیا کہ منصوبے میں پاکستان کے گریجویٹ افراد کو تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا، جب کہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے افراد اگر کسی اور جگہ کام کرنا چاہیں گے تو بھی انہیں موقع فراہم کیا جائے گا۔ان کے مطابق حب میں بننے والا بجلی گھر سالانہ 9 ارب کلو واٹ آور (kWh) بجلی پیدا کر سکے گا، جب کہ پلانٹ لگنے سے 10 ہزار مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ہم پاکستانی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے اپنے گروپ میں زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی حب پاور پلانٹ پر سیفٹی، قابل اعتماد آپریشنل سسٹم، دوستانہ ماحول، معاشی استحکام اور معیار کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی، جب کہ منصوبہ بلوچستان اور مقامی افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ان کی کمپنی پاور پلانٹ کے قریب ہی سیمنٹ فیکٹری لگانے کا اردہ رکھتی ہے، تاکہ پاور پلانٹ میں جمع ہونے والے کچرے کو بھی قابل استعمال بنایا جاسکے۔ وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ان کی کمپنی پاور پلانٹ کے قریب ہی سیمنٹ فیکٹری لگانے کا اردہ رکھتی ہے، تاکہ پاور پلانٹ میں جمع ہونے والے کچرے کو بھی قابل استعمال بنایا جاسکے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے شفاف ہیں جو پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی ترقی کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چینی کمپنیوں کی برتری جاری رہے گی جبکہ ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کے تحت دونوں ملک 57 ارب ڈالرز کی لاگت سے پاکستان میں پاور پلانٹس، بندرگاہیں، ریلوے لائنیں اور سڑکیں بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو مزید تیز کیا جائے گا۔ان حکومتی معاہدوں کے تحت مٹیاری سے لاہور تک 878 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی۔پاکستانی حکام کے مطابق ان معاہدوں کی نیلامی کے دوران باقاعدہ مقابلہ سامنے نہیں اآیا اسی لیے گذشتہ برس دسمبر میں یہ منصوبہ چینی کمپنی کے سپرد کردیا گیا۔دوسری جانب حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی کمپنی سے 2016 میں جب مذاکرات ناکام ہوئے تھے تو جنرل الیکٹرک، سیمنز اور سوئٹزرلینڈ کی اے بی بی کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ محمد یونس ڈھاگا نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گذشتہ برس اگست میں پیرس پاور کانفرنس کے دوران علیحدہ ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے ان ٹرانسمیشن لائنوں کے معاہدے کے بارے میں غیر رسمی بات چیت کی تھی۔نیپرا کی دستاویزات  کے مطابق جنرل الیکٹرک نے ابتدا میں کنورٹر اسٹیشنز کے لیے اسٹیٹ گرڈ کے ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 80 کروڑ ڈالر کا تخمیہ دیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ کے مطابق جب یورپی کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے اسٹیٹ گرڈ کی ٹائم لائن کو میچ کریں تو ان کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اتنے کم عرصے میں ان منصوبوں کا مکمل ہونا ناممکن ہے۔ گذشتہ ماہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو مزید تیز کیا جائے گا۔ان حکومتی معاہدوں کے تحت مٹیاری سے لاہور تک 878 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی۔پاکستانی حکام کے مطابق ان معاہدوں کی نیلامی کے دوران باقاعدہ مقابلہ سامنے نہیں اآیا اسی لیے گذشتہ برس دسمبر میں یہ منصوبہ چینی کمپنی کے سپرد کردیا گیا۔دوسری جانب حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی کمپنی سے 2016 میں جب مذاکرات ناکام ہوئے تھے تو جنرل الیکٹرک، سیمنز اور سوئٹزرلینڈ کی اے بی بی کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ محمد یونس ڈھاگا نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گذشتہ برس اگست میں پیرس پاور کانفرنس کے دوران علیحدہ ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے ان ٹرانسمیشن لائنوں کے معاہدے کے بارے میں غیر رسمی بات چیت کی تھی۔نیپرا کی دستاویزات  کے مطابق جنرل الیکٹرک نے ابتدا میں کنورٹر اسٹیشنز کے لیے اسٹیٹ گرڈ کے ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 80 کروڑ ڈالر کا تخمیہ دیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ کے مطابق جب یورپی کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے اسٹیٹ گرڈ کی ٹائم لائن کو میچ کریں تو ان کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اتنے کم عرصے میں ان منصوبوں کا مکمل ہونا ناممکن ہے۔

دوسری جانب حکومتی اور نیپرا کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان پر مقامی سطح پر ان منصوبوں کو تیز کرنے کا دباؤ ہے۔نیپرا عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ گرڈ کی قیمتوں کو منظور کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور متنبہ کیا جارہا ہے کہ چینی معاہدے سے الگ ہوکر دستبردار ہو سکتے ہیں۔تاہم حکومت کی جانب سے نیپرا کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیپرا کی وجہ سے ماضی میں بھی ان منصوبوں کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس معاملے پر نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ گرڈ کو معاہدے میں ا?سانی پیدا کرتے ہوئے ٹیرف پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 7.5 فیصد تک کمی کردی ہے، جو یہ کمپنی 25 سال تک صارفین سے وصول کرے گی۔تاہم وفاقی حکومت اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے پاکستان کی جانب سے بجلی کے بنیادی ڈھانچوں کے لیے چینی کمپنیوں کو ترجیح دینے یا زیادہ ادائیگیوں کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ، ‘اس نتیجے کو تھوڑا سا غلط یا مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے’۔وزارت پانی و بجلی کے ایک سابق عہدیدار اشفاق محمود کے مطابق بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی پاکستانی ضرورت نے اس کے بڑے پڑوسی (چین) پر مخصوص انحصار کو ناگزیر بنایا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا، ‘یہ چینیوں کے لیے ایک موقع ہے اور ہم ان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے’۔ دوسری جانب حکومتی اور نیپرا کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان پر مقامی سطح پر ان منصوبوں کو تیز کرنے کا دباؤ ہے۔نیپرا عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ گرڈ کی قیمتوں کو منظور کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور متنبہ کیا جارہا ہے کہ چینی معاہدے سے الگ ہوکر دستبردار ہو سکتے ہیں۔تاہم حکومت کی جانب سے نیپرا کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیپرا کی وجہ سے ماضی میں بھی ان منصوبوں کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس معاملے پر نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ گرڈ کو معاہدے میں ا?سانی پیدا کرتے ہوئے ٹیرف پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 7.5 فیصد تک کمی کردی ہے، جو یہ کمپنی 25 سال تک صارفین سے وصول کرے گی۔تاہم وفاقی حکومت اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے پاکستان کی جانب سے بجلی کے بنیادی ڈھانچوں کے لیے چینی کمپنیوں کو ترجیح دینے یا زیادہ ادائیگیوں کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ، ‘اس نتیجے کو تھوڑا سا غلط یا مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے’۔وزارت پانی و بجلی کے ایک سابق عہدیدار اشفاق محمود کے مطابق بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی پاکستانی ضرورت نے اس کے بڑے پڑوسی (چین) پر مخصوص انحصار کو ناگزیر بنایا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا، ‘یہ چینیوں کے لیے ایک موقع ہے اور ہم ان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے’۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر