وجود

... loading ...

وجود

فضل اللہ پیچوہو کا وزیر صحت سے جھگڑا، معمول کے کام ٹھپ

منگل 13 جون 2017 فضل اللہ پیچوہو کا وزیر صحت سے جھگڑا، معمول کے کام ٹھپ


اس وقت صوبائی محکموں میں افراتفری کا عالم ہے ایک درجن سے زائد با اثر افراد نے صوبائی محکموں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ آصف زرداری، فریال تالپر، عذرا پیچوہو، فضل اللہ پیچوہو، انور مجید، حاجی علی حسن زرداری، جلال سمیت ایسے کئی ظاہر اور خفیہ نام ہیں جو حکومت سندھ میں اپنی الگ الگ حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ سہیل انور سیال اور ضیاء الحسن لنجار ایسے وزیر ہیں جن سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، فضل اللہ پیچو ہو ایسے افسر ہیں جو اپنے محکمے میں بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ محکمہ تعلیم میں رہے تو وہاں پورے نظام کو تہہ و بالا کرکے آگئے، اب محکمہ صحت میں آئے ہیں تو وہی لوٹ مار کرنے والی ٹیم بھی اپنے ساتھ لائے ہیں ۔وہ سیکرٹری صحت ہیں لیکن صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو کو کچھ بھی نہیں سمجھتے، 80 فیصد فیصلے تو وہ خود ہی کر لیتے ہیں اور صوبائی وزیر صحت کو خاطر میں نہیں لاتے ان کی کرپشن کرنے والی ٹیم کا بھانڈا سابق ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے پھوڑ دیا تھا کہ کس طرح انہیں سیکریٹری صحت نے ان کو اپنے دفتر میں بلا کر دبائو ڈالا اورکہا کہ ٹھیکے کس کس کو دینے ہیں؟ اور کس کس کو ادائیگی کرنی ہے؟ لیکن جب سیکریٹری کے سامنے ایم ایس نے انکار کیا تو وہ سیخ پا ہوگئے اور اپنے ٹولے کے
اہم رکن ریحان بلوچ کے ساتھ مل کر ڈاکٹر ذوالفقار سیال کو سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیں ان پر تشدد کرنے کی کوشش کی گئی، مقدمات بنانے کی باتیں کیں لیکن وہ کسی دھونس یا دبائو میں نہیں آئے اور پھر پوری کہانی کھل کر جب میڈیا کے سامنے آئی تو حکومت سندھ نے چپ کا روزہ رکھ لیا ۔کسی کی کیا مجال کہ وہ سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچو ہو سے پوچھتا کہ بتایا جائے کہ اصل قصہ کیا ہے؟ شروع سے ہی سیکریٹری صحت صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور ان کی شرافت شائستگی اور سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور وزیر کے اختیارات بھی سیکریٹری صحت خود استعمال کر رہے ہیں کئی بار وزیر صحت نے سیکریٹری کوٹوکا لیکن سیکریٹری صحت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اور مسلسل من مانیاں کرتے رہے جس پر صوبائی وزیر صحت نے پہلے وزیر اعلیٰ سے شکایت کی مگر ازالہ نہ ہوا تو وزیر صحت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے صوبائی سیکریٹری صحت سے رابطہ منقطع کر لیا ہے اور تمام فائل واپس کر دیئے اور اپنے اسٹاف سے کہا ہے کہ وہ سیکریٹری صحت کے دفتر سے کوئی رابطہ نہ کریں ،وہ آصف علی زرداری سے بات کریں گے اور پھر جو فیصلہ ہوگا اس کے تحت کام کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جب قائم علی شاہ وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت سندھ کابینہ میں تبدیلی کی گئی تھی اور میر ہزار خان بجارانی کو وزیر تعلیم بنایا گیا تو انہوں نے سیکریٹری تعلیم فصل اللہ پیچوہو کی وجہ سے وزیر تعلیم کا قلمدان نہیں سنبھالا جس پر پارٹی قیادت ان سے ناراض رہی اور نتیجہ میں میر ہزار خان بجارانی کئی ماہ تک بغیر کسی محکمہ کے وزیر بنے رہے اور پھر جب دوبارہ کا بینہ میں تبدیلیاں کی گئیں تو میر ہزار خان بجارانی کو محکمہ منصو بہ بندی و ترقیات کا قلمدان دیا گیا۔ پھر جام مہتاب ڈہر وزیر تعلیم بنے تو فضل اللہ پیچوہو باز نہ آئے، جام مہتاب ڈیر نے سارے قصے آصف زرداری کے سامنے پیش کر دیئے اس پر آصف زرداری ناراض بھی ہوگئے تب انہوں نے فضل اللہ پیچوہو کا تبادلہ کرنے کا حکم جاری کیا اور پھر فضل اللہ پیچوہو کو محکمہ تبدیل کرکے سیکریٹری صحت بنا دیا گیا۔ فضل اللہ پیچوہو کو اصل میں اس بات کا گھمنڈ ہے کہ وہ آصف زرداری کے بہنوئی ہیں اس لیے ان کو کوئی کہنے والا نہیں ہے۔ نثار کھوڑو جام مہتاب ڈہراور ڈاکٹر سکندر میندھرو کے ساتھ وہ اچھے نہیں چلے اور ان کو پریشان کیا نثار کھوڑو نے تو صبر و تحمل کیا مگر جام مہتاب ڈہر نے ٹھنڈے مزاج کے باوجود آصف زرداری کے سامنے ساری کہانی کھول کر رکھ دی اور آصف زرداری حیران ہوگئے۔ تب جا کر ان کا تبادلہ کیا اب ڈاکٹر سکندر میندھرو نے بھی کمر کس لی ہے، وہ آصف زرداری کے سامنے تمام حقائق کھول کر رکھیں گے اب دیکھنا ہوگا کہ اس بار آصف زرداری کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ کیونکہ ڈاکٹر سکندر میندھرو منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ ان کی ذات پر کوئی الزام بھی نہیں ہے، ان کا دامن داغ دار بھی نہیں ہے۔ انہوں نے خود کو مالی بے قاعدگیوں اور دیگر سیاسی تنازعات سے دور رکھا ہے۔ وہ اگر ثبوت لے کر آصف زرداری کے پاس گئے تو آصف زرداری کیا فیصلہ کریں گے؟ لیکن ایک بات طے ہے کہ آصف زرداری اپنے بہنوئی کے خلاف کوئی سخت فیصلہ نہیں کریں گے لیکن یہ ضرور سوچیں گے کہ اچھی شہرت رکھنے والے وزراء بھلا کیوں فضل اللہ پیچوھو کے خلاف کیوں شکایت کرتے ہیں؟ کہیں نہ کہیں فضل اللہ پیچوہو کا بھی تو قصور ہوگا مگر فضل اللہ پیچو ہو کی ہٹ دھرمی سے محکمہ صحت کو نقصان ہو رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر