وجود

... loading ...

وجود

تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ،قریبی ہمدرد ساتھ چھوڑنے لگے

منگل 13 جون 2017 تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ،قریبی ہمدرد ساتھ چھوڑنے لگے


برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے دوقریبی ساتھیوں نے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی واضح برتری حاصل نہ ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا جس کے بعد تھریسامے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نک ٹموتھی اور فیونا ہل کو تھریسامے کے انتہائی قریب سمجھا جاتا تھا تاہم انھوں نے اپنے راستے جدا کرلیے ہیں ،اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے کئی ارکان انھیں انتخابات میں پارٹی کی ناکام مہم کا الزام بھی دے رہے تھے۔کنزرویٹو پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری اپنے استعفے میں انھوں نے تسلیم کیا کہ’تھریسامے کے مستقبل کے حوالے سے مثبت منصوبوں کی’ مہم ناکام ہوئی اور حمایت حزب اختلاف لیبر پارٹی کے حق میں گئی۔رواں سال مئی میں تھریسامے کے کمیونیکیشن چیف کی حیثیت سے استعفیٰ دینے والے کیٹی پیریئر کا کہنا تھا کہ ٹموتھی اور ہل دونوں ‘عظیم فائٹر تھے لیکن سیاسی رہنما کی حیثیت سے کمزور تھے’ او رانھوں نے وزیراعظم کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا استعمال کیا۔خیال رہے کہ برطانیہ میں دو روز قبل ہونے والے انتخابات میں تھریسامے کی پارٹی نے 318 سیٹیں حاصل کی تھیں جو حکومت بنانے کے لیے مقررہ 326 سیٹوں سے 8 کم تھیں۔برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے 262 سیٹیں حاصل کی تھیں، اسکاٹش نیشنل پارٹی 35، لبرل ڈیموکریٹ 12، جبکہ ڈیموکریٹک یونینسٹ 10 نشستیں حاصل کرپائیں۔برطانیہ میں موجود حلقوں کی تعداد 650 ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ہاؤس آف کامن میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے 326 ارکان کا جیتنا ضروری ہے۔
تھریسا مے نے قبل ازوقت انتخابات کرانے کا فیصلہ اپنی دانست میں بہت سوچ سمجھ کرکیاتھا ، ان کا خیال تھا کہ برطانیہ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت لیبر پارٹی چونکہ اندرونی خلفشار کا شکار ہے اس لئے وہ اچانک انتخابات کے اعلان پر سنبھل بھی نہیں پائے گی اور کنزرویٹو پارٹی کو اسے بری طرح کچل کر ایوان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع مل جائے گا ۔ دراصل تھریسا مے اس طرح بریگزٹ کے مسئلے پر وہ مخالف پارٹیوں کی پروا کئے بغیر زیادہ اعتماد کے ساتھ فیصلے کرسکیں گی ،لیکن انتخابی نتائج نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور وہ پارلیمنٹ میں حاصل اپنی سادہ اکثریت سے بھی محروم ہوگئیں یہاں تک کہ انھیں اقلیتی حکومت کے قیام کیلئے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی آئر لینڈ کی ایک چھوٹی سی پارٹی کو بیساکھی بنانا پڑ رہاہے تھریسامے نے نئی حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے شمالی آئرلینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کے ساتھ کام کرنے کا اشارہ دیا ہے۔اور شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے وزیراعظم تھریسامے کو سہارا دینے کی حامی بھی بھر لی ہے،تھریسا مے نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اکثریت نہ ملنے کے باوجود بکنگھم پیلس میں ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کے دوران حکومت سازی کے لیے اجازت طلب کی اورملاقات کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ 10 روز میں شروع ہونے والے بریگزٹ مذاکرات میں ملک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گی۔
برطانیہ کے قبل از وقت ہونے والے عام انتخابات میں موجودہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی کنزرویٹو جماعت اگرچہ اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے جس کے بعد برطانوی پارلیمان کی صورتحال معلق ہوگئی لیکن پولنگ کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اب بھی برطانوی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ہے اگرچہ وہ پارلیمان میں سادہ اکثریت کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکیں لیکن اقلیتی حکومت سازی کا حق اب بھی سب سے پہلے اسی کاہے جبکہ اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی واضح برتری کے بعد زائد نشستیں حاصل کرنے والی دوسری جماعت ہے اورحکومت بنانے یا حکومت چلانے میں تھریسا مے کی ناکامی کے بعد ہی لیبر پارٹی کو اقلیتی حکومت بنانے کاموقع مل سکتاہے۔
عام انتخابات کے نتیجے میںکنزرویٹو پارٹی کے اکثریت کھوجانے کو وزیراعظم تھریسا مے کے لیے خفت قرار دیا جارہا ہے جو برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حوالے سے مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے پرامید تھیں۔توقع کے برخلاف ان نتائج کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے برطانوی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا جس پر تھریسا مے کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت برطانیہ کا استحکام ‘یقینی’ بنائے گی۔
واضح رہے کہ تھریسا مے برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں، جس کے بعد جون 2016 میں بریگزٹ کے حوالے سے ریفرنڈم میں شکست کے بعد ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے پر انہیں وزیراعظم بنایا گیا تھا۔وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تھریسا مے کو اس فیصلے میں اہم وزراکی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے ملکہ الزبتھ کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کردیا۔یاد رہے کہ 29 مارچ کو تھریسامے نے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاکا عمل شروع کرنے کے لیے یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو خط لکھا تھا جس کے بعد بریگزٹ کا دو سالہ عمل باضابطہ طور پر شروع ہوگیا۔وزیراعظم تھریسا مے نے آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بریگزٹ کا عمل شروع کیا تھا اور خط میں برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا تھا کہ برطانیہ واقعی یورپی بلاک سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے جس میں وہ 1973 میں شامل ہوا تھا۔
برطانوی پارلیمان کے انتخابات میں کوئی پارٹی حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ انتخابات کا اعلان ہوا تو رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق حکمران کنزرویٹو پارٹی کو حزب مخالف لیبر پارٹی پر تقریباً 20 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ انتخابی مہم کے دوران بھی مقبولیت کا گراف اونچا رہا لیکن حتمی نتائج میں وہ حکومت سازی کیلئے 650 کے پارلیمان میں 326 کی مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے۔ وزیراعظم تھریسا مے شمالی آئر لینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی پی یو) سے ملکر مخلوط حکومت بنائیں گی۔ ڈی پی یو کے رہنماؤں نے کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ دونوں پارٹیاں مل کر برطانیہ میں استحکام قائم رکھنے کی راہ تلاش کریںگی جبکہ وزیراعظم تھریسا مے نے بھی ملکہ برطانیہ سے حکومت سازی کی اجازت ملنے کے بعد پریس بریفنگ میں ایسے ہی جذبات اور خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا کہ ان کی حکومت ڈی پی یو سے مل کر بے یقینی کو ختم کرکے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے کام کرے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس وقت ملک کو استحکام کی ضرورت ہے دس روز بعد بریگزٹ مذاکرات شروع ہونیوالے ہیں۔ وہ ملک کے تحفظات اور برطانوی عوام کے ووٹ کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالیں گی۔ انتخابات میںوزیراعظم تھریسا مے کی کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمان کی 319 سیٹیں ملی ہیں۔ لیبر پارٹی کو 261 سیٹوں پر کامیابی ملی جبکہ ڈی بی یو پارٹی نے 10 سیٹیں جیتی ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی سے ڈی بی یو کا اتحاد ہونے سے دارالعوام میں انہیں 329 کی اکثریت حاصل ہو جائیگی۔ جو کسی بھی حکومت کیلئے ایوان میں قانون سازی کرنے اور اپوزیشن کے ہاتھوں شکست سے بچنے کیلئے کافی ہے۔ یورپی یونین میں شامل رہنے کی حامی پارٹی کو برطانوی عوام نے اسی بنیاد پر دھچکا دیا ہے۔ تاہم اس پارٹی کے قائدین نے برطانوی عوام کی رائے کے آگے سر تسلیم خم کیا اور عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہی اصل جمہوریت ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر