وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ،قریبی ہمدرد ساتھ چھوڑنے لگے

منگل 13 جون 2017 تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ،قریبی ہمدرد ساتھ چھوڑنے لگے


برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے دوقریبی ساتھیوں نے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی واضح برتری حاصل نہ ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا جس کے بعد تھریسامے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نک ٹموتھی اور فیونا ہل کو تھریسامے کے انتہائی قریب سمجھا جاتا تھا تاہم انھوں نے اپنے راستے جدا کرلیے ہیں ،اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے کئی ارکان انھیں انتخابات میں پارٹی کی ناکام مہم کا الزام بھی دے رہے تھے۔کنزرویٹو پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری اپنے استعفے میں انھوں نے تسلیم کیا کہ’تھریسامے کے مستقبل کے حوالے سے مثبت منصوبوں کی’ مہم ناکام ہوئی اور حمایت حزب اختلاف لیبر پارٹی کے حق میں گئی۔رواں سال مئی میں تھریسامے کے کمیونیکیشن چیف کی حیثیت سے استعفیٰ دینے والے کیٹی پیریئر کا کہنا تھا کہ ٹموتھی اور ہل دونوں ‘عظیم فائٹر تھے لیکن سیاسی رہنما کی حیثیت سے کمزور تھے’ او رانھوں نے وزیراعظم کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا استعمال کیا۔خیال رہے کہ برطانیہ میں دو روز قبل ہونے والے انتخابات میں تھریسامے کی پارٹی نے 318 سیٹیں حاصل کی تھیں جو حکومت بنانے کے لیے مقررہ 326 سیٹوں سے 8 کم تھیں۔برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے 262 سیٹیں حاصل کی تھیں، اسکاٹش نیشنل پارٹی 35، لبرل ڈیموکریٹ 12، جبکہ ڈیموکریٹک یونینسٹ 10 نشستیں حاصل کرپائیں۔برطانیہ میں موجود حلقوں کی تعداد 650 ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ہاؤس آف کامن میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے 326 ارکان کا جیتنا ضروری ہے۔
تھریسا مے نے قبل ازوقت انتخابات کرانے کا فیصلہ اپنی دانست میں بہت سوچ سمجھ کرکیاتھا ، ان کا خیال تھا کہ برطانیہ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت لیبر پارٹی چونکہ اندرونی خلفشار کا شکار ہے اس لئے وہ اچانک انتخابات کے اعلان پر سنبھل بھی نہیں پائے گی اور کنزرویٹو پارٹی کو اسے بری طرح کچل کر ایوان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع مل جائے گا ۔ دراصل تھریسا مے اس طرح بریگزٹ کے مسئلے پر وہ مخالف پارٹیوں کی پروا کئے بغیر زیادہ اعتماد کے ساتھ فیصلے کرسکیں گی ،لیکن انتخابی نتائج نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور وہ پارلیمنٹ میں حاصل اپنی سادہ اکثریت سے بھی محروم ہوگئیں یہاں تک کہ انھیں اقلیتی حکومت کے قیام کیلئے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی آئر لینڈ کی ایک چھوٹی سی پارٹی کو بیساکھی بنانا پڑ رہاہے تھریسامے نے نئی حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے شمالی آئرلینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کے ساتھ کام کرنے کا اشارہ دیا ہے۔اور شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے وزیراعظم تھریسامے کو سہارا دینے کی حامی بھی بھر لی ہے،تھریسا مے نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اکثریت نہ ملنے کے باوجود بکنگھم پیلس میں ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کے دوران حکومت سازی کے لیے اجازت طلب کی اورملاقات کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ 10 روز میں شروع ہونے والے بریگزٹ مذاکرات میں ملک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گی۔
برطانیہ کے قبل از وقت ہونے والے عام انتخابات میں موجودہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی کنزرویٹو جماعت اگرچہ اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے جس کے بعد برطانوی پارلیمان کی صورتحال معلق ہوگئی لیکن پولنگ کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اب بھی برطانوی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ہے اگرچہ وہ پارلیمان میں سادہ اکثریت کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکیں لیکن اقلیتی حکومت سازی کا حق اب بھی سب سے پہلے اسی کاہے جبکہ اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی واضح برتری کے بعد زائد نشستیں حاصل کرنے والی دوسری جماعت ہے اورحکومت بنانے یا حکومت چلانے میں تھریسا مے کی ناکامی کے بعد ہی لیبر پارٹی کو اقلیتی حکومت بنانے کاموقع مل سکتاہے۔
عام انتخابات کے نتیجے میںکنزرویٹو پارٹی کے اکثریت کھوجانے کو وزیراعظم تھریسا مے کے لیے خفت قرار دیا جارہا ہے جو برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حوالے سے مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے پرامید تھیں۔توقع کے برخلاف ان نتائج کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے برطانوی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا جس پر تھریسا مے کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت برطانیہ کا استحکام ‘یقینی’ بنائے گی۔
واضح رہے کہ تھریسا مے برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں، جس کے بعد جون 2016 میں بریگزٹ کے حوالے سے ریفرنڈم میں شکست کے بعد ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے پر انہیں وزیراعظم بنایا گیا تھا۔وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تھریسا مے کو اس فیصلے میں اہم وزراکی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے ملکہ الزبتھ کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کردیا۔یاد رہے کہ 29 مارچ کو تھریسامے نے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاکا عمل شروع کرنے کے لیے یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو خط لکھا تھا جس کے بعد بریگزٹ کا دو سالہ عمل باضابطہ طور پر شروع ہوگیا۔وزیراعظم تھریسا مے نے آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بریگزٹ کا عمل شروع کیا تھا اور خط میں برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا تھا کہ برطانیہ واقعی یورپی بلاک سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے جس میں وہ 1973 میں شامل ہوا تھا۔
برطانوی پارلیمان کے انتخابات میں کوئی پارٹی حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ انتخابات کا اعلان ہوا تو رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق حکمران کنزرویٹو پارٹی کو حزب مخالف لیبر پارٹی پر تقریباً 20 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ انتخابی مہم کے دوران بھی مقبولیت کا گراف اونچا رہا لیکن حتمی نتائج میں وہ حکومت سازی کیلئے 650 کے پارلیمان میں 326 کی مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے۔ وزیراعظم تھریسا مے شمالی آئر لینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی پی یو) سے ملکر مخلوط حکومت بنائیں گی۔ ڈی پی یو کے رہنماؤں نے کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ دونوں پارٹیاں مل کر برطانیہ میں استحکام قائم رکھنے کی راہ تلاش کریںگی جبکہ وزیراعظم تھریسا مے نے بھی ملکہ برطانیہ سے حکومت سازی کی اجازت ملنے کے بعد پریس بریفنگ میں ایسے ہی جذبات اور خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا کہ ان کی حکومت ڈی پی یو سے مل کر بے یقینی کو ختم کرکے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے کام کرے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس وقت ملک کو استحکام کی ضرورت ہے دس روز بعد بریگزٹ مذاکرات شروع ہونیوالے ہیں۔ وہ ملک کے تحفظات اور برطانوی عوام کے ووٹ کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالیں گی۔ انتخابات میںوزیراعظم تھریسا مے کی کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمان کی 319 سیٹیں ملی ہیں۔ لیبر پارٹی کو 261 سیٹوں پر کامیابی ملی جبکہ ڈی بی یو پارٹی نے 10 سیٹیں جیتی ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی سے ڈی بی یو کا اتحاد ہونے سے دارالعوام میں انہیں 329 کی اکثریت حاصل ہو جائیگی۔ جو کسی بھی حکومت کیلئے ایوان میں قانون سازی کرنے اور اپوزیشن کے ہاتھوں شکست سے بچنے کیلئے کافی ہے۔ یورپی یونین میں شامل رہنے کی حامی پارٹی کو برطانوی عوام نے اسی بنیاد پر دھچکا دیا ہے۔ تاہم اس پارٹی کے قائدین نے برطانوی عوام کی رائے کے آگے سر تسلیم خم کیا اور عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہی اصل جمہوریت ہے۔


متعلقہ خبریں


بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین وجود - بدھ 19 فروری 2020

چین کی وزارت تجارت نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے اور اصراف کو فروغ دینے کے کام کو آگے بڑھایا جائے اور تجارتی ترقی پر وبا کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے ۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری ،لاجسٹکس اور ای کارمرس سے منسلک صنعتی اداروں کی پیداوار بحال کرنے میں مددفراہم کی جائے ،دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ اہم منصوبوں کو منظم طور پر آگے بڑھایا جائے ۔

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت وجود - بدھ 19 فروری 2020

مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ الدقھلیہ صوبے کے معروف مقام ام الخلجان میں 83تاریخی قبرستان دریافت ہوئے ہیں۔ یہ مصر کا ڈیلٹا کہلاتا ہے ۔ دریافت ہونے والے آثار کا تعلق 4ہزار قبل مسیح کے نصف اول سے ہے ۔یہ مصر زیریں یا بوتوتمدن کے نام سے مشہور ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قبرستان بیضوی شکل کے ہیں۔ قبریں ریگستانی جزیرے میں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ قبروں میں نعشیںاکڑوںشکل میں رکھی ہوئی ہیں۔میتوں کے ساتھ سامان وغیرہ بھی موجود ہے ۔وہاں سے ملنے والا سامان مختلف ...

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد وجود - بدھ 19 فروری 2020

کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد نے کہا ہے کہ جنوری 2020 تک 47ممالک میں 4ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے ۔سب سے زیادہ امداد یمن میں دی گئی جہاں سینٹر نے اب تک دو بلین ریال مالیت سے زیادہ منصوبے ، امدادی سامان، علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں مستحقین کو فراہم کی ہیں۔فلسطین دوسرے نمبر پر جہاں 355ملین ڈالر کی امداد دی گئی۔شام چوتھے نمبر پر ہے جہاں 286ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی گئی جبکہ پانچویں نمبر پر صومالیہ ہے جہاں 186ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی گئی۔سینٹر نے کہا ہے کہ اس نے س...

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت وجود - منگل 18 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھنوم نے کہا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کورونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اس لئے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وبا کے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج م...

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین وجود - منگل 18 فروری 2020

چین نے ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو ایران اوردوسرے ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے داخلی قوانین اور یکطرفہ طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کرے ۔گنگ شوانگ نے ایران کے خلاف امریک...

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل وجود - منگل 18 فروری 2020

سعودی عرب دنیا کے دس پرکشش ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق2020 کے دوران سعودی عرب مختلف تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ترین ملک بن جائے گا۔عالمی بنک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کو دنیا کے دس پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سعودی عرب دبئی کا طاقتور حریف بننے جارہا ہے ۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں سعودی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی بدولت کمپنیاں دبئی سے سعودی عرب منتقل ہونے لگی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کا ...

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز وجود - پیر 17 فروری 2020

سوڈان میں گزشتہ برس صدر عمر البشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی حکومت نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردیا ۔ سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی اجازت سے اسرائیل کے لیے سوڈان کی فضائی حدود کو کھول دیا گیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے باب میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سوڈان نے اسرائیلی سول طیاروں کو اپنی حدودمیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔رپورٹ کے مطابق ایک سول طیارہ تل ابیب سے سو...

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز

امریکی کمپنی کا یہودی آبادکاروں کیلئے مفت کارگو سروس کا اعلان وجود - پیر 17 فروری 2020

امریکا کی سب سے بڑی آن لائن کاروباری کمپنی ایمازون نے غرب اردن اور القدس میں بسنے والے یہودی آبادکاروں کسی بھی قسم کا سامان منگوانے کی صورت میں مفت کارگو سروس فراہم کرنے کی پیشکش کردی ۔کمپنی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اگرآپ فلسطین میں قائم کی گئی کسی یہودی کالونی میں بسنے والے یہودی ہیں تو اس کالونی میں اپنا ڈاک کا پتا درج کریں، ہم آپ کی مطلوبہ چیز کسی اضافی سروس چارچز کے بغیر آپ تک پہنچائیں گے ۔کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ اگر یہودی کالونی میں کوئی فلسطینی آباد ہے ...

امریکی کمپنی کا یہودی آبادکاروں کیلئے مفت کارگو سروس کا اعلان

حماس کی سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کو پھنسانے کی چال کامیاب‘اسرائیل کا اعتراف وجود - پیر 17 فروری 2020

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کے موبائل ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام نے بھی حماس کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے فوجیوں کے بارے میںمعلومات کے حصول کی کوشش کا اعتراف کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلٰی فوج کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خوبصورت اور پرکشش لڑکیوں کی تصاویر پرمبنی اکائونٹس سے اسرائیلی فوجیوں کو دوستی کا پیغام بھیجا جاتا اور فرین...

حماس کی سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کو پھنسانے کی چال کامیاب‘اسرائیل کا اعتراف

چین میں ہسپتال تعمیر کرنے والی مشینوں کو ہیروز کا درجہ مل گیا وجود - پیر 17 فروری 2020

چین میں کورونا وائرس بحران کے نتیجے میں انسان تو گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے لیکن تعمیراتی کاموں میں حصہ لینے والی گاڑیوں کو ہیروز کا درجہ مل چکا ہے۔ان گاڑیوں کی مدد سے چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان میں دو نئے ہسپتال ریکارڈ مدت میں تعمیر کیے گئے تھے۔ملک کے سبھی حصوں میں چونکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور تاکید کی گئی تھی کہ صرف اشد ضرورت کے تحت ہی باہر نکلا جائے۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں یقیناً چینی عوام تفریحی موقعوں ک...

چین میں ہسپتال تعمیر کرنے والی مشینوں کو ہیروز کا درجہ مل گیا

ہواوے سے متعلق ممالک سے انٹیلی جنس شیئرنگ نہیں ہوگی‘ ٹرمپ وجود - پیر 17 فروری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ تعلق رکھنے والے ممالک کے ساتھ حساس معلومات کا تبادلہ ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔جرمنی میں تعینات امریکی سفیر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ہواوے کمپنی کے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام ممالک کو متنبہ کیا جائے کہ امریکا ان کے ساتھ حساس معلومات کا تبادلہ نہیں کرے گا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا کچھ عرصے سے اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ چین کی کمپنی ہواوے ٹیکنالوجی پر پابندی لگائیں۔ہواوے کا شمار دنیا کی ...

ہواوے سے متعلق ممالک سے انٹیلی جنس شیئرنگ نہیں ہوگی‘ ٹرمپ

برطانوی عدالت نے اسلامی شادیوں کوغیر مستند قرار دیدیا وجود - پیر 17 فروری 2020

ایک برطانوی عدالت نے دو سال قبل ایک مسلمان جوڑے کے مقدمے کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کیونکہ ان کی شادی کی تقریب اسلامی رسومات کے تحت ہوئی اس لیے اب وہ قانونی طور پر طلاق کا حق بھی رکھتے ہیں۔ 2018 میں ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اس (مسلم) جوڑے کا اسلامی طور پر ہونے والا نکاح کا بندھن بھی ملکی قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ تاہم اپیل کورٹ نے سرے سے نکاح کی اس تقریب کو ہی ’غیر مستند‘ اور غیر قانونی قرار دیدیا۔ججز نے واضح کیا کہ مروجہ ملکی قوا...

برطانوی عدالت نے اسلامی شادیوں کوغیر مستند قرار دیدیا