وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ،قریبی ہمدرد ساتھ چھوڑنے لگے

منگل 13 جون 2017 تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ،قریبی ہمدرد ساتھ چھوڑنے لگے


برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے دوقریبی ساتھیوں نے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی واضح برتری حاصل نہ ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا جس کے بعد تھریسامے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نک ٹموتھی اور فیونا ہل کو تھریسامے کے انتہائی قریب سمجھا جاتا تھا تاہم انھوں نے اپنے راستے جدا کرلیے ہیں ،اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے کئی ارکان انھیں انتخابات میں پارٹی کی ناکام مہم کا الزام بھی دے رہے تھے۔کنزرویٹو پارٹی کی ویب سائٹ پر جاری اپنے استعفے میں انھوں نے تسلیم کیا کہ’تھریسامے کے مستقبل کے حوالے سے مثبت منصوبوں کی’ مہم ناکام ہوئی اور حمایت حزب اختلاف لیبر پارٹی کے حق میں گئی۔رواں سال مئی میں تھریسامے کے کمیونیکیشن چیف کی حیثیت سے استعفیٰ دینے والے کیٹی پیریئر کا کہنا تھا کہ ٹموتھی اور ہل دونوں ‘عظیم فائٹر تھے لیکن سیاسی رہنما کی حیثیت سے کمزور تھے’ او رانھوں نے وزیراعظم کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا استعمال کیا۔خیال رہے کہ برطانیہ میں دو روز قبل ہونے والے انتخابات میں تھریسامے کی پارٹی نے 318 سیٹیں حاصل کی تھیں جو حکومت بنانے کے لیے مقررہ 326 سیٹوں سے 8 کم تھیں۔برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے 262 سیٹیں حاصل کی تھیں، اسکاٹش نیشنل پارٹی 35، لبرل ڈیموکریٹ 12، جبکہ ڈیموکریٹک یونینسٹ 10 نشستیں حاصل کرپائیں۔برطانیہ میں موجود حلقوں کی تعداد 650 ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ہاؤس آف کامن میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے 326 ارکان کا جیتنا ضروری ہے۔
تھریسا مے نے قبل ازوقت انتخابات کرانے کا فیصلہ اپنی دانست میں بہت سوچ سمجھ کرکیاتھا ، ان کا خیال تھا کہ برطانیہ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت لیبر پارٹی چونکہ اندرونی خلفشار کا شکار ہے اس لئے وہ اچانک انتخابات کے اعلان پر سنبھل بھی نہیں پائے گی اور کنزرویٹو پارٹی کو اسے بری طرح کچل کر ایوان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع مل جائے گا ۔ دراصل تھریسا مے اس طرح بریگزٹ کے مسئلے پر وہ مخالف پارٹیوں کی پروا کئے بغیر زیادہ اعتماد کے ساتھ فیصلے کرسکیں گی ،لیکن انتخابی نتائج نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور وہ پارلیمنٹ میں حاصل اپنی سادہ اکثریت سے بھی محروم ہوگئیں یہاں تک کہ انھیں اقلیتی حکومت کے قیام کیلئے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی آئر لینڈ کی ایک چھوٹی سی پارٹی کو بیساکھی بنانا پڑ رہاہے تھریسامے نے نئی حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے شمالی آئرلینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کے ساتھ کام کرنے کا اشارہ دیا ہے۔اور شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے وزیراعظم تھریسامے کو سہارا دینے کی حامی بھی بھر لی ہے،تھریسا مے نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اکثریت نہ ملنے کے باوجود بکنگھم پیلس میں ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کے دوران حکومت سازی کے لیے اجازت طلب کی اورملاقات کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ 10 روز میں شروع ہونے والے بریگزٹ مذاکرات میں ملک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گی۔
برطانیہ کے قبل از وقت ہونے والے عام انتخابات میں موجودہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی کنزرویٹو جماعت اگرچہ اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے جس کے بعد برطانوی پارلیمان کی صورتحال معلق ہوگئی لیکن پولنگ کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اب بھی برطانوی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ہے اگرچہ وہ پارلیمان میں سادہ اکثریت کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکیں لیکن اقلیتی حکومت سازی کا حق اب بھی سب سے پہلے اسی کاہے جبکہ اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی واضح برتری کے بعد زائد نشستیں حاصل کرنے والی دوسری جماعت ہے اورحکومت بنانے یا حکومت چلانے میں تھریسا مے کی ناکامی کے بعد ہی لیبر پارٹی کو اقلیتی حکومت بنانے کاموقع مل سکتاہے۔
عام انتخابات کے نتیجے میںکنزرویٹو پارٹی کے اکثریت کھوجانے کو وزیراعظم تھریسا مے کے لیے خفت قرار دیا جارہا ہے جو برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حوالے سے مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے پرامید تھیں۔توقع کے برخلاف ان نتائج کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے برطانوی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا جس پر تھریسا مے کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت برطانیہ کا استحکام ‘یقینی’ بنائے گی۔
واضح رہے کہ تھریسا مے برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں، جس کے بعد جون 2016 میں بریگزٹ کے حوالے سے ریفرنڈم میں شکست کے بعد ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے پر انہیں وزیراعظم بنایا گیا تھا۔وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تھریسا مے کو اس فیصلے میں اہم وزراکی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے ملکہ الزبتھ کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کردیا۔یاد رہے کہ 29 مارچ کو تھریسامے نے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاکا عمل شروع کرنے کے لیے یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو خط لکھا تھا جس کے بعد بریگزٹ کا دو سالہ عمل باضابطہ طور پر شروع ہوگیا۔وزیراعظم تھریسا مے نے آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بریگزٹ کا عمل شروع کیا تھا اور خط میں برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا تھا کہ برطانیہ واقعی یورپی بلاک سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے جس میں وہ 1973 میں شامل ہوا تھا۔
برطانوی پارلیمان کے انتخابات میں کوئی پارٹی حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ انتخابات کا اعلان ہوا تو رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق حکمران کنزرویٹو پارٹی کو حزب مخالف لیبر پارٹی پر تقریباً 20 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ انتخابی مہم کے دوران بھی مقبولیت کا گراف اونچا رہا لیکن حتمی نتائج میں وہ حکومت سازی کیلئے 650 کے پارلیمان میں 326 کی مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے۔ وزیراعظم تھریسا مے شمالی آئر لینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی پی یو) سے ملکر مخلوط حکومت بنائیں گی۔ ڈی پی یو کے رہنماؤں نے کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ دونوں پارٹیاں مل کر برطانیہ میں استحکام قائم رکھنے کی راہ تلاش کریںگی جبکہ وزیراعظم تھریسا مے نے بھی ملکہ برطانیہ سے حکومت سازی کی اجازت ملنے کے بعد پریس بریفنگ میں ایسے ہی جذبات اور خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا کہ ان کی حکومت ڈی پی یو سے مل کر بے یقینی کو ختم کرکے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے کام کرے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس وقت ملک کو استحکام کی ضرورت ہے دس روز بعد بریگزٹ مذاکرات شروع ہونیوالے ہیں۔ وہ ملک کے تحفظات اور برطانوی عوام کے ووٹ کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالیں گی۔ انتخابات میںوزیراعظم تھریسا مے کی کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمان کی 319 سیٹیں ملی ہیں۔ لیبر پارٹی کو 261 سیٹوں پر کامیابی ملی جبکہ ڈی بی یو پارٹی نے 10 سیٹیں جیتی ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی سے ڈی بی یو کا اتحاد ہونے سے دارالعوام میں انہیں 329 کی اکثریت حاصل ہو جائیگی۔ جو کسی بھی حکومت کیلئے ایوان میں قانون سازی کرنے اور اپوزیشن کے ہاتھوں شکست سے بچنے کیلئے کافی ہے۔ یورپی یونین میں شامل رہنے کی حامی پارٹی کو برطانوی عوام نے اسی بنیاد پر دھچکا دیا ہے۔ تاہم اس پارٹی کے قائدین نے برطانوی عوام کی رائے کے آگے سر تسلیم خم کیا اور عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہی اصل جمہوریت ہے۔


متعلقہ خبریں


ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان وجود - اتوار 17 نومبر 2019

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں نصف ملین ڈالر کا معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔فلسطینی وزارت محنت وافرادی قوت کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گذشتہ تین روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی مکانات اور عمارتوں کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ نصف ملین ڈالر لگایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی مراکز کے علاوہ زرعی املاک، پالتو مویشیوں کے فارموں، بحری مقاصد میں استعمال ہونے والی عمارتو...

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ وجود - اتوار 17 نومبر 2019

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات کا پہلے سے زیادہ حصہ برداشت کرے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جولائی میں اس وقت کے امریکی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اپنے دورہ جاپان کے دوران جاپانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ موجودہ سالانہ اخراجات کا تقریبا 4 گنا ادا کیا کرے ۔اس کا مطلب موجودہ 2 ارب ڈالر سالانہ کی بجائے 8 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی ہے ۔فوجی اڈوں کے اخراجات میں جاپان کے حصے کے معاملے پر دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات...

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے وجود - هفته 16 نومبر 2019

پاکستان میں 2000ء سے 2015ء تک غربت میں واضح کمی ہوئی اور ملک میں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں سے 3 کروڑ 38 لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے۔2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن15 ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے دنیا کے114ممالک میں پاکستان 14ویں نمبر پر آگیا۔ 2001ء میں پاکستان کی 28.6 فیصد فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، جس میں سالانہ 1.8 فیصد کمی ہوئی اور یوں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں ...

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا وجود - هفته 16 نومبر 2019

ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جوصرف 9 سال کی عْمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بننے کے لیے تیار ہے۔

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ وجود - هفته 16 نومبر 2019

آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی قنطاس نے لندن سے ساڑھے انیس گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ پرواز لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے جمعرات کی صبح روانہ ہوئی اور بغیر کہیں اترے سڈنی کے ہوائی اڈے پر جمعے کی دوپہر پہنچی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس پرواز کے لیے بوئنگ 787-9 کو استعمال کیا گیا۔ اس پرواز نے ساڑھے انیس گھنٹے میں سترہ ہزار آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ قنطاس اگلے برسوں میں لندن اور نیویارک کے لیے بغیر کسی اسٹاپ کے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہ...

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج وجود - هفته 16 نومبر 2019

امریکی ریاست ماسا چیوسٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی کے کالج برائے حقوق کے طلباء نے نیویارک میں تعینات اسرائیلی قونصل جنرل کی تقریر کے لیے آمد پرطلباء نے احتجاج کیا اور بہ طور احتجاج انہوں نے صہیونی سفارت کار کا بائیکاٹ کیا۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی سفارت کار ڈانی ڈایان کو فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اسرائیلی حکمت عملی پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔سماجی کارکنوں اور طلباء نے اسرائیلی سفارت کار کے بائیکاٹ اوراس کے بعد احتجاجی مظاہرے کی تصاویر اور ویڈی...

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا وجود - هفته 16 نومبر 2019

بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ایسی درگاہ موجود ہے جہاں بچھو پائے جاتے ہیںلیکن یہ بچھو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر امروہہ میں واقع درگاہ پوری ریاست اتر پردیش اور اترکھنڈ میںبچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے، اس درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں اور دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں، اس درگاہ پر زائرین کا تانتا لگا رہتا ہے۔ایک ر پورٹ کے مطابق اس درگاہ کی خاص بات یہ ہے کے درگاہ پر رہنے والے بچھو انسانوں کو نہیں کاٹتے...

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا وجود - هفته 16 نومبر 2019

چین نے 2020ء میں مریخ پر لینڈ کرنے کا اعلان کر دیا اور بتایا ہے کہ اس سلسلے میں تجربہ بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چین 2020ء میں مریخ پر مشن بھیجنے والا ہے جس کے سلسلے میں صوبے ہیبائی میں مریخ پر پہلا غیر انسانی مشن بھیجنے کے تجربے میں اہم کامیابی ملی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مریخ پر پہنچنے کے لیے مشن کو 7 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا، جب کہ صرف 7 منٹ میں مریخ پر لینڈنگ عمل میں آ جائے گی۔سربرا...

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل وجود - هفته 16 نومبر 2019

سوشل میڈیا پر ایک خاتون وکیل کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں حلف لینے والے جج نے خاتون کا بچہ گود میں اٹھایا ہوا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر موجود اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ٹینیسی کورٹ آف اپیل کے جج رچرڈز ڈنکنز نے ٹینیسی بار کی وکیل جولیانا لامر ٹینیسی سے حلف لیتے ہوئے انہی کے ایک سالہ بیٹے کو بھی گود میں لیا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو جولیا لامر کے لاء اسکول کی ایک ساتھی سارہ مارٹن نے آن لائن شیئر کی جس کے بعد اب اس کا دنیا بھر میں چرچا ہ...

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر برس کشمیر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔شہرہ آفاق سیاحتی مقامات پہلگام، گلمرگ، اور سونہ مرگ میں سال کے آخر میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھارہتا تھا لیکن آج یہ مقامات سنسان ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2018کے مقابلے میں رواں برس سیاحوں کی آمد میں 88.41 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے ۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلی افسررشید احمد کے مطابق مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور غیر یق...

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

انتہا پسند اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی کو خبردار کیا ہے کہ وہ راکٹ حملے روک دے ،ورنہ وہ مزید صدموں کو سہنے کے لیے تیار رہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ انھیں (جہادِ اسلامی کو) حملے روکنے یا صدمے سہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کسی رحم کے بغیر ان حملوں کا جواب دے گا۔

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی