وجود

... loading ...

وجود

سولجر بازار کے سرکاری اسکول پر قبضہ ‘ وفاقی حکومت کا ملوث پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا حکم

پیر 12 جون 2017 سولجر بازار کے سرکاری اسکول پر قبضہ ‘ وفاقی حکومت کا ملوث پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا حکم


سابق سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے جس طرح تعلیم کا بیڑا غرق کیااُس کی تفصیلات ان صفحات پر مستقل چھپتی رہی ہیں۔ کراچی کے 2500 سرکاری اسکول فروخت کر دیے گئے، محکمہ تعلیم میں انتظامی افسران کا کیڈر بنایا جن کو 2 سے 3 لاکھ روپے خصوصی الاؤنس دیا گیا، پھر ملازمین کی بائیو میٹرک کرائی گئی۔ گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹرز آئی بی اے سکھر کے ذریعے بھرتی کیے گئے جبکہ انہیں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ بھرتی کرنا تھا۔ پھر ساڑھے چار ہزار نئے ملازم بھرتی کیے گئے اور سینکڑوں پرانے ملازمین کے جی پی فنڈ اور میڈیکل بلز کی مد میں کروڑوں روپے ہڑپ کیے گئے ،یہ وہ کارنامے ہیں جن پر سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیمیں ایک لفظ بھی بولنے کے لیے تیار نہیں ۔
ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو اتنے طاقتور اور بااختیار ہوگئے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائز پالیسی کو مسترد کر کے 2500 اسکولوں کو ڈی نیشنلائز کر دیا۔ یوں اتنا بڑا اسکینڈل بنا لیکن نیب، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور دیگر ادارے نامعلوم وجوہات کی بناءپر خاموش رہے۔ لیکن جب پچھلے دنوں 1928 میں تعمیر شدہ سولجر بازار کے سرکاری اسکول کو اچانک رات کی تاریکی میں مسمار کر دیا گیا تو صوبے میں ہی نہیں پورے ملک میں شور مچ گیا۔دراصل اس اسکول کی راتوں رات مسماری کی وجہ یہ تھی کہ یہ اسکول ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے اپنی سالی فریال تالپر کو تحفہ میں دے دیا تھا۔ اور اُنہوں نے اِسے اپنے پولیٹکل سیکریٹری اور سندھ کے وزیر قانون ضیاءالحسن لنجار کودان دے دیا۔ ضیاءالحسن لنجار نے بھی اِسے اپنے کزن ڈاکٹر فرخ لنجار (ایس ایس پی سانگھڑ) کے حوالے کر دیا۔اُنہوں نے اپنے بھائی اور ایف آئی اے کے انسپکٹر عدنان لنجار کو دے دیا۔بعدازاں ایس ایس پی نے اپنے بھائی کو سولجر بازار تھانے بھیج دیا اور یوں پولیس کی بھاری نفری اسکول مسمار کرنے والوں کی حفاظت کے لیے کھڑی کر دی گئی ۔
مگر جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی نے اس پورے عمل کی مزاحمت کی اور یوں یہ اسکینڈل سامنے آیا۔ حکومت سندھ نے اس اسکینڈل کو خفیہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی لیکن میڈیا نے جب اس ایشو پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا تو پھر آئی جی سندھ پولیس حرکت میں آئے اور انہوں نے فوری طور پر مقدمہ درج کرایا۔ ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ ایس ایچ او ارشاد سومرو سمیت چار اہلکار معطل کرکے گرفتار کیے گئے، جوں ہی حالات حکومت سندھ کے کنٹرول سے نکلے تو حکومت سندھ نے فوری طور پر فریال تالپر کے حکم پر ضیاءالحسن لنجار کو بچانے کے لیے صوبائی وزیر بنادیا اور اس معاملہ کو اپنے طو رپر ختم کر دیا۔ ایس ایچ او اور چار اہلکار تو جیل چلے گئے لیکن ایس ایس پی سانگھڑ فرخ لنجار کے بھائی عدنان لنجار اور ان کے ساتھیوں کو کچھ نہیں ہوا۔ اور ایس ایس پی سانگھڑ کو ایک لفظ تک نہیں کیا گیا۔ ان کو بھلا کچھ کہنے کی جرا¿ت کیسے کی جاتی؟ وہ آخر ضیاءالحسن لنجار کے کزن ہیں اور ضیاءالحسن لنجار تو فریال تالپر کے رائٹ ہینڈ ہیں۔ فرخ لنجار کو کچھ کہنا فریال تالپر کو کچھ کہنے کے مترادف ہے۔ اس لیے حکومت سندھ نے معاملے کو دبا دیا حالانکہ جب ایس ایچ او سولجر بازار ارشاد سومرو کو گرفتار کیا گیا تھا تو اس وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے اجازت لے کر ڈاکٹر فرخ لنجار کو بھی گرفتار کیا جاتا، کیونکہ اس میں ایس ایچ او کا تو کوئی مفاد اور قصور نہ تھا، اس نے ایک ایس ایس پی کی” عزت“ رکھی۔ فورس میں یہی تو مسئلہ ہوتا ہے کہ سینئر کہیں بھی ہو اس کے حکم کو جونیئر افسران مانتے ہیں۔ ارشاد سومرو تو آج جیل میں ہیں لیکن ایس ایس پی سانگھڑ آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ لیکن وفاقی حکومت نے حساس اداروں اور پولیس رپورٹوں کے بعد اب تحریری حکم جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے کہا ہے کہ ایس ایس پی سانگھڑ فرخ لنجار کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ وہ سرکاری اسکول کو مسمار کرانے میں ملوث ہیں۔ اسٹیلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے چیف سیکریٹری سندھ کو لکھے گئے خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ فرخ لنجار کے خلاف کارروائی کرکے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا جائے۔ اس خط کے بعد حکومت سندھ ، فریال تالپراور ضیاءالحسن لنجار کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں کیونکہ اب اگر حکومت سندھ کوئی کارروائی نہیں کرتی تو پھر ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی رپورٹ پر وفاقی حکومت معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے کے انسپکٹر عدنان لنجار کا نام پہلے ہی ایف آئی آر میں درج ہے۔ اگر حکومت سندھ اپنے لاڈلے ایس ایس پی فرخ لنجار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو وفاقی حکومت فرخ لنجار کا وفاقی حکومت میں تبادلہ کرسکتی ہے اور پھر ان کے خلاف ایف آئی اے یا دیگر تحقیقاتی اداروں سے تحقیقات کرکے نہ صرف مقدمہ درج کرسکتی ہے بلکہ ان کو الزام ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف بھی کرسکتی ہے۔ حیرت ہے کہ کوئی بھی ادارہ فضل اللہ پیچوہو، فریال تالپر اور ضیاءالحسن لنجار سے پوچھنے والا نہیں ہے۔ لیکن”حکم کے تابع“ چار پولیس اہلکار جیل میں سڑ رہے ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اصل ملزمان اور ان کے سرپرستوں کو بھی جیل میں ڈال کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر