... loading ...

سندھ میں تعلیم کے شعبے کی بدحالی کااعتراف خود حکمراں بھی کرتے ہیں ٹ اس صوبے کے خستہ حال ،بنیادی سہولتوں یہاں تک کہ واش روم اور پینے کے پانی کی سہولتوں سے محروم اسکولوں کے بارے میں رپورٹوں جب منظر عام پر آتی ہیں تو عام طورپر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام یہاں تک کہ وزرا تک فنڈ ز کی نایابی کا رونا روکر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے اور ناقدین کی زبان بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن محکمہ تعلیم کے حوالے سے جو تازہ ترین اعدادوشمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی کے فنڈز نہ ہونے کارونا رونے والے ارباب اختیار رواں مالی سال کے گزشتہ 11ماہ کے دوران یعنی مئی 2017 ءتک اس محکمے کے لیے بجٹ میں مختص صرف 31فیصد رقم خرچ کرسکے اور اگر رواں ایک ماہ کے دوران بقیہ رقم خرچ نہ کی جاسکی تو یہ رقم واپس چلی جائے گی اور سندھ کے اسکول بنیادی سہولتوں سے اسی طرح محروم رہیں گے ۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے لیے سندھ کے بجٹ میں سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی کے لیے 17,233 ملین روپے مختص کیے گئے تھے،اعدادوشمار کے مطابق سندھ کی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں زیر تکمیل تعلیمی منصوبوں کے لیے 12,394.218 ملین روپے مختص کیے تھے ،یہ وہ اسکیمیں تھیں جن پر پہلے یعنی گزشتہ مالی سال کے دوران کام شروع کیاجاچکاتھا لیکن یہ مکمل نہیں ہوسکی تھیں ،اس کے علاوہ تعلیمی شعبے کی نئی اسکیموں کے لیے 4,838.782 ملین روپے رکھے گئے تھے اور ان نئی اسکیموں پر پروگرام کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کام شروع کیاجانا تھا۔
2016-17ءکے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام سے متعلق سمری کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام 172 زیر تکمیل منصوبے تھے جن میں غیر ملکی امداد سے شروع کیے گئے منصوبے بھی شامل تھے اور پہلے شروع کیے گئے ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سندھ کی حکومت نے 12,394.218 ملین روپے مختص کیے تھے اور محکمہ فنانس یعنی مالیات نے اس مقصد کے لیے 9913.210 ملین روپے کے فنڈز جاری بھی کردیے تھے ،لیکن ان تمام زیر تکمیل اسکیموں اور پراجیکٹس پر پورے 11ماہ کے دوران صرف 5219.075 ملین روپے خرچ کیے جاسکے ،جس سے ظاہر ہوتاہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام زیر تکمیل منصوبوں کی تکمیل کا کام بھی مکمل کرانے میں ناکام رہے اور اس مقصد کے لیے رکھا گیا صرف 42 فیصد فنڈ خرچ کیاجاسکا۔
اعدادوشمار کے مطابق ان زیر تکمیل منصوبوں کے علاوہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران تعلیمی شعبے میں 225 نئی اسکیموں پر بھی کام شروع کیاتھا اور ان نئی شروع کی جانے والی اسکیموں کے لیے 2016-17ءکے سندھ کے بجٹ میں 4,838. 782 ملین روپے مختص کیے گئے تھے اور محکمہ فنانس نے اس مقصد کے لیے 1270.281 ملین روپے جاری کردیے تھے لیکن ان نئے شروع کیے گئے منصوبوں پر اس میں سے صرف 123.684 ملین روپے خرچ کیے جاسکے ،اس طرح سندھ میں تعلیمی شعبے کے نئے منصوبوں کے لیے مختص رقم کا صرف 2.5 فیصد حصہ خرچ کیاجاسکا جس سے تعلیم کے شعبے سے حکومت اور ارباب حکومت کی چشم پوشی کا پتہ چلتاہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مئی 2017ءتک فنانس ڈیپارٹمنٹ نے مجموعی طورپر 11,183.491 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے لیکن محکمہ تعلیم نے رواں مالی سال کے دوران مجموعی طورپر صرف 5,342.759 ملین روپے خرچ کیے،اس طرح فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 47.8 فیصد فنڈز جاری کیے جبکہ محکمہ تعلیم نے صرف 31 فیصد فنڈز استعمال کیے۔ایسے وقت جب صوبے میں معیار تعلیم گر رہاہے اور اطلاعات کے مطابق ہزاروں طلبہ کو اسکولوں کامنہ دیکھنا میسر نہیں ہے ،اور فروری 2017ءمیں وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 2015-16 ءکے دوران پاکستان میں پرائمری ، مڈل ،ہائی اور ہائیر سیکنڈری سطح کے 66لاکھ 67 ہزار 268 طالب علم کسی نہ کسی وجہ سے تعلیمی اداروں سے باہر تھے ۔اس صورت حال میں صوبے میں تعلیم ک بہتری کے لیے رکھی جانے والی رقم استعمال نہ کرنا پورے محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم کے لیے ایک بڑا سوال ہے ، وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر تعلیم سندھ سے اس حوالے سے جواب طلب کرنا چاہیے ، اس صوبے کے عوام یہ جاننے کاحق رکھتے ہیں کہ حکومت نے محکمہ تعلیم میں ایسے کون سے گدھ بٹھا رکھے ہیں جنہیں اپنی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ اور کسی بات کی کوئی پروا نہیں اور جو اس صوبے کے عوام کو تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے گریزاں ہیں ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ سندھ میں مجموعی طورپر 45 ہزار682 تعلیمی ادارے موجود ہیں ، جن میں 41 ہزار131 پرائمری اسکول، 2ہزار329 مڈل اسکول،ایک ہزار 696 ہائی اسکول ، 291 لائیر سیکنڈری اسکول، 41 انٹر کالج اور194ڈگری کالج شامل ہیں ۔ ان سرکاری تعلیمی اسکولوں اور کالجوں میں کم وبیش 44لاکھ79ہزار 154 طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، اس طرح پرائمری اسکولوں کی ہر کلاس میں طلبہ کی اوسط تعداد 43 ریکارڈ کی گئی ہے ۔جبکہ مڈل اسکولوں میں ہر کلاس میں اوسط 102 طلبہ اور ہائی اور ہائیرسیکنڈری اسکولوں میں فی کلاس طلبہ کی اوسط 109 ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ اس صوبے کے بیشتر اسکولوں میں طلبہ کو پینے کے صاف پانی ، بجلی ،فرنیچر ،اور ٹوائلٹس کی سہولت حاصل نہیں ہے جبکہ بیشتر اسکول چاردیواری سے بھی محروم ہیں ۔ ٹوائلٹ اور چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے خاص طورپر طالبات کو بے انتہا پریشانی کاسامنا کرنا پڑتاہے اور طالبات کو حوائج ضروریہ کے لیے بھی قریبی مکانوں کے مکینوں سے مدد حاصل کرنا پڑتی ہے ۔طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بیشتر اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کا داخلہ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
یہ صورت حال وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس صوبے کے عوام کو ناخواندگی کی دلدل سے بچانے کا نہ صرف یہ کہ عزم رکھتے ہیں بلکہ موجودہ بدترین صورتحال کو تبدیل کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...