وجود

... loading ...

وجود

تعلیم دوستی کا ”اعلیٰ ثبوت“ سندھ حکومت تعلیمی بجٹ کی دستیاب رقم استعمال کرنے میں ناکام

جمعرات 08 جون 2017 تعلیم دوستی کا ”اعلیٰ ثبوت“ سندھ حکومت تعلیمی بجٹ کی دستیاب رقم استعمال کرنے میں ناکام


سندھ میں تعلیم کے شعبے کی بدحالی کااعتراف خود حکمراں بھی کرتے ہیں ٹ اس صوبے کے خستہ حال ،بنیادی سہولتوں یہاں تک کہ واش روم اور پینے کے پانی کی سہولتوں سے محروم اسکولوں کے بارے میں رپورٹوں جب منظر عام پر آتی ہیں تو عام طورپر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام یہاں تک کہ وزرا تک فنڈ ز کی نایابی کا رونا روکر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے اور ناقدین کی زبان بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن محکمہ تعلیم کے حوالے سے جو تازہ ترین اعدادوشمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی کے فنڈز نہ ہونے کارونا رونے والے ارباب اختیار رواں مالی سال کے گزشتہ 11ماہ کے دوران یعنی مئی 2017 ءتک اس محکمے کے لیے بجٹ میں مختص صرف 31فیصد رقم خرچ کرسکے اور اگر رواں ایک ماہ کے دوران بقیہ رقم خرچ نہ کی جاسکی تو یہ رقم واپس چلی جائے گی اور سندھ کے اسکول بنیادی سہولتوں سے اسی طرح محروم رہیں گے ۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے لیے سندھ کے بجٹ میں سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی کے لیے 17,233 ملین روپے مختص کیے گئے تھے،اعدادوشمار کے مطابق سندھ کی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں زیر تکمیل تعلیمی منصوبوں کے لیے 12,394.218 ملین روپے مختص کیے تھے ،یہ وہ اسکیمیں تھیں جن پر پہلے یعنی گزشتہ مالی سال کے دوران کام شروع کیاجاچکاتھا لیکن یہ مکمل نہیں ہوسکی تھیں ،اس کے علاوہ تعلیمی شعبے کی نئی اسکیموں کے لیے 4,838.782 ملین روپے رکھے گئے تھے اور ان نئی اسکیموں پر پروگرام کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کام شروع کیاجانا تھا۔
2016-17ءکے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام سے متعلق سمری کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام 172 زیر تکمیل منصوبے تھے جن میں غیر ملکی امداد سے شروع کیے گئے منصوبے بھی شامل تھے اور پہلے شروع کیے گئے ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سندھ کی حکومت نے 12,394.218 ملین روپے مختص کیے تھے اور محکمہ فنانس یعنی مالیات نے اس مقصد کے لیے 9913.210 ملین روپے کے فنڈز جاری بھی کردیے تھے ،لیکن ان تمام زیر تکمیل اسکیموں اور پراجیکٹس پر پورے 11ماہ کے دوران صرف 5219.075 ملین روپے خرچ کیے جاسکے ،جس سے ظاہر ہوتاہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام زیر تکمیل منصوبوں کی تکمیل کا کام بھی مکمل کرانے میں ناکام رہے اور اس مقصد کے لیے رکھا گیا صرف 42 فیصد فنڈ خرچ کیاجاسکا۔
اعدادوشمار کے مطابق ان زیر تکمیل منصوبوں کے علاوہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران تعلیمی شعبے میں 225 نئی اسکیموں پر بھی کام شروع کیاتھا اور ان نئی شروع کی جانے والی اسکیموں کے لیے 2016-17ءکے سندھ کے بجٹ میں 4,838. 782 ملین روپے مختص کیے گئے تھے اور محکمہ فنانس نے اس مقصد کے لیے 1270.281 ملین روپے جاری کردیے تھے لیکن ان نئے شروع کیے گئے منصوبوں پر اس میں سے صرف 123.684 ملین روپے خرچ کیے جاسکے ،اس طرح سندھ میں تعلیمی شعبے کے نئے منصوبوں کے لیے مختص رقم کا صرف 2.5 فیصد حصہ خرچ کیاجاسکا جس سے تعلیم کے شعبے سے حکومت اور ارباب حکومت کی چشم پوشی کا پتہ چلتاہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مئی 2017ءتک فنانس ڈیپارٹمنٹ نے مجموعی طورپر 11,183.491 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے لیکن محکمہ تعلیم نے رواں مالی سال کے دوران مجموعی طورپر صرف 5,342.759 ملین روپے خرچ کیے،اس طرح فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 47.8 فیصد فنڈز جاری کیے جبکہ محکمہ تعلیم نے صرف 31 فیصد فنڈز استعمال کیے۔ایسے وقت جب صوبے میں معیار تعلیم گر رہاہے اور اطلاعات کے مطابق ہزاروں طلبہ کو اسکولوں کامنہ دیکھنا میسر نہیں ہے ،اور فروری 2017ءمیں وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 2015-16 ءکے دوران پاکستان میں پرائمری ، مڈل ،ہائی اور ہائیر سیکنڈری سطح کے 66لاکھ 67 ہزار 268 طالب علم کسی نہ کسی وجہ سے تعلیمی اداروں سے باہر تھے ۔اس صورت حال میں صوبے میں تعلیم ک بہتری کے لیے رکھی جانے والی رقم استعمال نہ کرنا پورے محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم کے لیے ایک بڑا سوال ہے ، وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر تعلیم سندھ سے اس حوالے سے جواب طلب کرنا چاہیے ، اس صوبے کے عوام یہ جاننے کاحق رکھتے ہیں کہ حکومت نے محکمہ تعلیم میں ایسے کون سے گدھ بٹھا رکھے ہیں جنہیں اپنی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ اور کسی بات کی کوئی پروا نہیں اور جو اس صوبے کے عوام کو تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے گریزاں ہیں ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ سندھ میں مجموعی طورپر 45 ہزار682 تعلیمی ادارے موجود ہیں ، جن میں 41 ہزار131 پرائمری اسکول، 2ہزار329 مڈل اسکول،ایک ہزار 696 ہائی اسکول ، 291 لائیر سیکنڈری اسکول، 41 انٹر کالج اور194ڈگری کالج شامل ہیں ۔ ان سرکاری تعلیمی اسکولوں اور کالجوں میں کم وبیش 44لاکھ79ہزار 154 طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، اس طرح پرائمری اسکولوں کی ہر کلاس میں طلبہ کی اوسط تعداد 43 ریکارڈ کی گئی ہے ۔جبکہ مڈل اسکولوں میں ہر کلاس میں اوسط 102 طلبہ اور ہائی اور ہائیرسیکنڈری اسکولوں میں فی کلاس طلبہ کی اوسط 109 ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ اس صوبے کے بیشتر اسکولوں میں طلبہ کو پینے کے صاف پانی ، بجلی ،فرنیچر ،اور ٹوائلٹس کی سہولت حاصل نہیں ہے جبکہ بیشتر اسکول چاردیواری سے بھی محروم ہیں ۔ ٹوائلٹ اور چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے خاص طورپر طالبات کو بے انتہا پریشانی کاسامنا کرنا پڑتاہے اور طالبات کو حوائج ضروریہ کے لیے بھی قریبی مکانوں کے مکینوں سے مدد حاصل کرنا پڑتی ہے ۔طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بیشتر اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کا داخلہ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
یہ صورت حال وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس صوبے کے عوام کو ناخواندگی کی دلدل سے بچانے کا نہ صرف یہ کہ عزم رکھتے ہیں بلکہ موجودہ بدترین صورتحال کو تبدیل کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

مضامین
وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر