وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مسائل سے مجرمانہ چشم پوشی : سیلاب وقدرتی آفات سے بچائو کیلئے بجٹ میں ایک پیسہ نہیں رکھاگیا

منگل 06 جون 2017 مسائل سے مجرمانہ چشم پوشی : سیلاب وقدرتی آفات سے بچائو کیلئے بجٹ میں ایک پیسہ نہیں رکھاگیا

پاکستان میں ہر سال بڑے پیمانے پر تباہ کاری ہوتی ہے قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں ، کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں اور غریب کاشتکاروں اور ہاریوں کے مویشی بہہ جاتے ہیں اور اس طرح اس ملک کے 20 کروڑ عوام کیلئے غلہ اگانے والے کاشتکار خود کوڑی کوڑی کے محتاج ہوجاتے ہیں۔ہر سال سیلابی موسم کے آغاز سے قبل سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام اور سیلابی علاقوں کے مکینوں کی جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے مختلف منصوبوں کااعلان کیا جاتاہے ،اس مقصد کیلئے ہنگامی اقدامات پر مجبور ہونا پڑتاہے اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد سرکاری طورپر سیلاب سے بچائو کے مختلف منصوبوں کا ذکر کیاجاتاہے اور لوگوں کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار کیاجاتاہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود جو کہ اس ملک میں معمول بن چکی ہیں ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ہماری وزارت خزانہ کے نزدیک ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں اضافہ کرنے اور صدر مملکت کی تنخواہ میں بھاری اضافہ کرنے کی تو فکر لاحق ہے لیکن ملک کے عوام کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے ان کے نزدیک کوئی اہمیت اور ضرورت نہیں ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ نئے سال کے بجٹ میں ملک کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے بنائے گئے 10 سالہ منصوبے پر عملدرآمد کیلئے مشترکہ مفادات کی کونسل جس کی منظوری دے چکی ہے اور جس پر خرچ کا اندازہ 177.661 بلین روپے لگایا گیاہے کیلئے ایک پیسہ بھی مختص نہیں کیا گیاہے۔پاکستان میں 2010 کے تباہ کن سیلاب کے بعد جس کے دوران کم وبیش 2ہزار افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے مشترکہ مفادات کونسل نے رواں سال مئی کے اوائل میں سیلاب سے بچائو کے 177.661 بلین روپے لاگت کے منصوبے کی منظوری دی تھی اور یہ طے پایا تھا کہ اس رقم کا نصف بوجھ وفاقی حکومت جبکہ نصف متعلقہ صوبے برداشت کریں گے ۔
موسم میں ہونے والی تیزی سے تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو زبردست بارشوں اورسیلابوں کا خطرہ درپیش ہے اس صورت حال میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سیلاب سے بچائو کے اس منظور شدہ منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے اس منصوبے کیلئے وافر فنڈز مہیا کئے جاتے اور وفاقی حکومت اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اپنے حصے کی رقم ادا کرنے کے علاوہ کم وسیلہ صوبوں کو بھی اس پر عملدرآمد کیلئے مناسب مالی امداد بہم پہنچاتی لیکن اس کے برعکس ہماری وزرات خزانہ نے اس منصوبے کو سرے سے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا اور کسی بھی متوقع اور غیر متوقع ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کیلئے کوئی انتظام کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
پانی وبجلی کی وزارت کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ صورت حال میں ہمیں توقع تھی کہ سیلاب سے بچائو کے اس منصوبے کیلئے وافر رقم رکھی جائے گی اور ہم اس پر کام کا تیزی سے آغاز کرسکیں گے ۔لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شد۔اس افسر کاکہناتھا کہ صرف مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے کسی منصوبے کی منظوری ہی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ سیلاب سے بچائو کے اس منصوبے کی تکمیل پر کئی سال لگیں گے لیکن یہ مکمل تو اسی وقت ہوسکتاہے جب اس پر کام شروع کیاجائے اور کام اسی وقت شروع ہوسکتاہے جب اس کیلئے مناسب رقم فراہم کی جائے رقم کے بغیر صرف کاغذوں پر منصوبوں کی تیاری سے صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔
سرکاری افسران کاکہناہے کہ 2010 کے تباہ کن سیلاب کے بعد مشترکہ مفادات کونسل نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائو کے منصوبے کی صرف منظوری میں 7 سال ضائع کردئے ، اور مختلف مراحل میں مختلف طرح کی رکاوٹوں اور اعتراضات کے بعد جب یہ منصوبہ منظور کیا گیا تو اب اس پر عملدرآمد کیلئے رقم رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ، افسران کاکہناہے کہ اس اہم منصوبے کیلئے رقم مختص کرنے سے وزار ت خزانہ کی پہلو تہی یا چشم پوشی ہر اعتبار سے مجرمانہ نوعیت کی ہے کیونکہ سیلاب سے بچائو کا مناسب انتظام نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی وقت شہریوں کو ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ہنگامی صورت حال میں بچائو کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر خرچ بھی بہت زیادہ ہوتاہے اور اس کے باوجود انسانی جانوں ،فصلوں اور مویشیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ممکن نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے ملک کو اربوں روپے کاخسارہ برداشت کرنا پڑتاہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ یہ خیال کرنا کہ پاکستان میں سیلاب سے 2010 والی صورت حال پیدا نہیں ہوگی محض خام خیالی ہے کیونکہ دنیا بھر میں موسم میں جس طرح سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور اس کی وجہ سے پوری دنیا کو جس طرح طوفانوں اورسیلابوں کا خطرہ درپیش ہے جس کا اندازہ چند ماہ قبل کینیڈا میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے لگایاجاسکتاہے ، پاکستان کسی بھی وقت ایک دفعہ پھر 2010 بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین صورت حال کا شکار ہوسکتاہے۔ماہرین کاکہنا ہے کہ پاکستان کو ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامنا کرنا پڑتاہے جس کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں ، فصلیں تباہ ہوتی ہیں اور دیہی باشندے اپنے مویشیوں سے بھی محروم ہوجاتے ہیں، امریکہ میں دنیا کے وسائل پر ریسرچ کرنے والے ادارے کی جانب سے2015 میں شائع کرائی جانے والی رپورٹ میں یہ اندازہ لگایاگیاتھا کہ پاکستان کی مجموعی ملکی آمدنی کاایک فی صد حصہ ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کی نذر ہوجاتاہے ،اور سیلابوں کے نتیجے میں پاکستان کو ہرسال کم وبیش334 بلین روپے یعنی3کھرب 34 ارب روپئے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اس صورت حال کے باوجود وزارت خزانہ کی جانب سے سیلاب سے بچائو کے ایک اہم منصوبے کیلئے رقم مختص کرنے سے پہلو تہی معنی خیز ہے۔


متعلقہ خبریں


بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ سے لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئیں۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس نے زمین کو پھاڑ ڈالا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لبنان کے دارالخلافہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی سیٹلائٹ سی لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زور دار دھماکے نے کس قدر تباہی مچا دی تھی۔تصویر میں دکھایا گیاکہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بندرگاہ کا ایک حصہ جہاں دھماکہ خیز مواد موجود تھا وہ مکمل طور پر پھٹ گیا۔ غیر ملکی ...

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے برطانوی شہریت ترک کرنے کا کہا تو 2 سیکنڈز سے زیادہ وقت نہیں لگائوں گا۔ غیرملکی ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اگلے 8 سال پاکستان کے لیے بڑے بہترین ہوں گے ، اس سے پہلے ہم کہیں نہیں جا رہے ، 8سال کے لیے اپوزیشن کوئی نوکری ڈھونڈ لے اور کام کرے ، بہت ہو گیا ملک کو لوٹنا، کچھ اب محنت بھی کرلے ۔دہری شہریت رکھنے والے مشیروں اور معاونین خصوصی پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے ک...

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان وجود - جمعه 07 اگست 2020

جاپان پاکستانی سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے اسکالر شپ مہیا کرے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپان رواں مالی سال 2020ـ21 میں سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے سکالر شپ فراہم کرے جس کیلئے پاکستان اور جاپانا کے درمیان پاکستان میں ہیومن ریسورس ڈویلپمینٹ کے لیے جاپانی حکومت کی جانب سے گرانٹ کی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا، اس حوالے سے تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی، جس میں پراجیکٹ کی دستاویزات پر دستخط کئے گئے ۔پروگرام کے تحت جاپان رواں مالی سال پاکستان...

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔3لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور3 سے 5 ارب ڈالر کے املاک کی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیر رو...

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا وجود - جمعرات 06 اگست 2020

وزیراعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر اپنی جماعت بی جے پی کی مسلم دشمنی اور نفرت آمیز منشور کی تکمیل کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ راکھی رام مندر کی تعمیر کے لیے تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نے سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے ہنومان گڑھی مندر میں بھومی پوجن کی رسومات بھی ادا کی تھی۔ 161 فٹ بلند رام مندر کی تعمیر میں دو سال اور 8 ماہ لگیں گے ۔خوف زدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتظامیہ نے ایودھیا میں سخت سیکیور...

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو وجود - جمعرات 06 اگست 2020

چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹرویوکرلیے ۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور اس کے انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے ، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کیں۔عالمی ادارہ صحت...

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے تعلیمی اداروں کی بندش نے ایک پوری نسل کو بحران سے دو چار کر دیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کی ایک نئی مہم ہمارا مستقبل بچائیں کے آغاز کے موقع پر ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہی۔اس مہم کا مقصد کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے ۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کے 160 کے لگ بھگ ممالک میں ایک ارب سے زا...

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن وجود - جمعرات 06 اگست 2020

ٓ امریکی صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اگر کوئی امریکی کمپنی خریدتی ہے ، تو اس کی آمدنی کا اچھا خاصا حصہ امریکی حکومت کو ملنا چاہیے ۔ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پہلے ہی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے اس کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہی ہے ۔ لیکن صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک سے متعلق سخت موقف نے بظاہر ان مذاکرات کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چند دن پہلے مائیکروسافٹ کے سرابراہان سے فون پر بات چیت میں واضح ک...

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے جار ی لاک ڈاون کے سبب بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے جنسی اور جسمانی استحصال کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بے روزگاری اور اقتصادی بحران کی وجہ سے پریشان حال افراد خود بھی اپنے بچوں سے مزدوری کرانے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کے چلڈرنس فاونڈیشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں یہ باتیں کہی گئیں۔فاونڈیشن نے لاک ڈاون کے بالخصوص دیہی علاقوں کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ ل...

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت وجود - جمعرات 06 اگست 2020

سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ایک پیچیدہ ترین معمے سے پردہ اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آخر کچھ لوگ کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار کیوں ہوجاتے ہیں جبکہ بیشتر بہت جلد صحتیاب ہوجاتے ہیں۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مخصوص افراد میں یہ وائرس مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کردیتا ہے ۔حملہ آور وائرس کے خلاف جنگ میںدرست خلیات اور مالیکیولز کو متحرک کرنے میں ناکامی پر بیمار افراد کے جسم تمام ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیتا ہے ۔اور یہ حملہ صحت م...

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی