وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ماحولیاتی معاہدے سے امریکا باہر ،اہداف کا حصول مشکل6

اتوار 04 جون 2017 ماحولیاتی معاہدے سے امریکا باہر ،اہداف کا حصول مشکل6


امریکا نے ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے باہر ہونے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس کا اثر باقی دنیا پر کیا پڑے گا؟امریکا کے نکل جانے سے معاہدہ اور عالمی برادری دونوں متاثر ہوں گے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے سے عالمی برادری نے اس معاہدے کے تحت جو اہداف مقرر کیے تھے ان کا حصول اب اور زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
پیرس معاہدے کے تحت عالمی سطح پر حدت میں دو ڈگری سیلسیئس سے زیادہ اضافہ نہ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔عالمی سطح پر کاربن کا جو بھی اخراج ہوتا ہے اس میں امریکا کا 15 فیصد حصہ ہے وہیں وہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحولیات سے متعلق ٹیکنالوجی تک رسائی اور مالی امداد کے لیے بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ایک سوال اخلاقی قیادت کا بھی ہے، جسے امریکا ترک کر دے گا اور اس کے دیگر سفارتی سطح پر بھی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔امریکا میں ماحولیات کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سے وابستہ کارکن مائیکل بروئن کا کہنا ہے ’اس معاہدے سے الگ ہو نا ایک تاریخی غلطی ہے۔‘ان کا کہنا تھا: ’ہمارے پوتے اور نواسے مایوسی سے پیچھے کی طرف یہ سوچ کر دیکھیں گے کہ ایک عالمی رہنما کیسے اس قدر اخلاقی قدروں اور حقیقت سے دور ہو سکتا ہے۔‘
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدے سے نکلنے کے اعلان کے بعد امریکا میں ایک دفعہ پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کاسلسلہ شروع ہوگیاہے،اور مظاہرین ’’ہمیں جینے دو ۔۔۔انسانوں کو جینے دو ‘‘،’’ڈونلڈ تم نے امریکا کو شرمندہ کردیا‘‘کے نعرے لگاتے ہوئے اور بینر اٹھائے ہوئے مظاہرہ کیااور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے۔
امریکا اور چین کی انتھک کوششوں کے سبب ہی پیرس معاہدہ طے پایا تھا۔ اب جب کہ امریکا نے اس سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے چین نے یورپ کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر عمل کرنے کی بات کہی ہے اور اس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔یورپی یونین میں ماحولیات سے متعلق کمشنر میگیوئل اریاز نے کہا ’کسی کو بھی اس میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے لیکن یورپی یونین اور چین نے اس سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘امریکی خطے سے کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک بھی ماحولیات کی بہتری کے لیے اپنا اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔
امریکا کے کارپوریٹ شعبے کے بیشتر لوگ پیرس معاہدے کے حامی ہیں۔ گوگل، ایپل اور فوسل ایندھن کے شعبے میں کام کرنے والی سینکڑوں دیگر کمپنیوں نے صدر ٹرمپ سے پیرس معاہدے پر عمل پیرا ہونے کے لیے زور دیا تھا۔بعض کمپنیوں نے اس کے لیے صدر ٹرمپ کو خطوط لکھے تھے اور اس کی اہمیت اجاگر کی تھی۔
امریکا نے توانائی کے لیے کوئلے کے بجائے دوسرے متبادل ذرائع پر توجہ مرکوز کی ہے اور اس کے اثرات اب دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔برطانیہ نے 2025 ء تک بجلی کے لیے کوئلے سے نجات حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ امریکا اور برطانیہ میں شمشی توانائی کے مقابلے میں کوئلے کی صنعت میں روزگار کے مواقع کم ہو کر نصف رہ گئے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک کئی دہائیوں سے توانائی کے بڑے ذریعے کے طور پر کوئلے پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اس سے ان ممالک میں فضائی آلودگی بری طرح متاثر ہوگی لیکن عوام میں اس سے ناراضگی پیدا ہونے کے امکان بھی کم ہیں۔ امریکی ماہرین نے دعویٰ کیاہے کہ امریکا کے پیرس معاہدے سے نکلنے کے باوجود بھی امریکا میں کاربن کے اخراج میں گراوٹ کی توقع ہے۔ امریکا میں توانائی کا اب زیادہ دار و مدار کوئلے کے بجائے گیس پر ہے اس لیے کاربن میں کمی ہونا لازمی ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال سے صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اس معاہدے سے امریکا کو نکال لیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پیرس ماحولیاتی معاہدہ 2015سے نکلنے کے اعلان کی دنیا بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریز کے ترجمان نے کہا کہ’یہ بڑی مایوس کن بات ہے،’ جب کہ یورپی یونین نے اسے ’دنیا کا افسوس ناک دن‘ قرار دیا ہے۔تاہم رپبلکن پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے کہا کہ امریکی کوئلے کی صنعت نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ امریکا کو سزا دیتا ہے اور اس سے لاکھوں امریکی بیروزگار ہو جائیں گے۔سابق امریکی صدر براک اوباما، جنہوں نے پیرس معاہدے کی منظوری دی تھی، نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ’مستقبل کو مسترد کر رہی ہے۔‘ ڈزنی کی چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک نے وائٹ ہاؤس کی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ایلون مسک نے کہا: ’ماحولیاتی تبدیلی واقعی رونما ہو رہی ہے۔ پیرس سے الگ ہونا نہ امریکا کے لیے اچھا ہے نہ دنیا کے لیے۔‘
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا سنہ 2015ء میں پیرس میں ماحولیات سے متعلق طے پانے والا عالمی معاہدہ ختم کر رہا ہے۔وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاہدے سے نکل رہا ہے کیوں کہ اس میں شامل شرائط کی وجہ سے اس پر اقتصادی بوجھ پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں واشنگٹن کی جانب سے کیے جانے والے یہ ایک ایسے معاہدے کی مثال ہے جس میں دوسرے ممالک کا فائدہ ہے اور وہ امریکا کے لیے ’منصفانہ‘ شرائط کے ساتھ دوبارہ معاہدے کا حصہ بننے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
اس فیصلے پر کس نے کیا کہا؟
یورپی رہنمائوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے سے متعلق بین الاقوامی معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کے اعلان پر برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔یورپ میں امریکا کے تین بڑے اتحادی ملکوں جرمنی، فرانس اور اٹلی کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان میں امریکی فیصلے پر ’’افسوس‘‘ کا اظہار کیا ہے۔کینیڈا کی ماحولیات کی وزیر کیتھرین میکینا کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو ٹرمپ کے اس فیصلے سے ’بہت مایوسی‘ ہوئی ہے۔فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان میں اس معاہدے سے متعلق امریکا سے دوبارہ کسی قسم کے مذاکرات کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔یورپی یونین کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق امور کے کمشنر میگوئیل ایریاس کنیتے نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ امریکی فیصلے نے ’’ہمیں کمزور کرنے کے بجائے ہمارا عزم مزید مستحکم کیا ہے۔‘‘کمشنرکنیتے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خلا نئی اور پرعزم قیادت پر کرے گی۔ ان کے بقول یورپ اور دنیا بھر میں موجود اس کے اتحادی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
پیرس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز وہائٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدہ امریکی مفادات کے خلاف ہے جس میں امریکی معیشت کو بے جا طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ معاہدے پر از سرِ نو مذاکرات شروع کریں تاکہ ان کے بقول ایک ایسا سمجھوتہ کیا جاسکے جو امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے بہتر ہو۔یورپی پارلیمنٹ کے صدر انتونیو تجانی نے امریکا کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف خود امریکا بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔یورپی پارلیمان میں لبرل ارکان کے گروپ کے قائد گائے ورہوفسٹڈ نے گلوبل وارمنگ کے باعث امریکا کی ریاست ہوائی میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح سے متعلق ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
امریکا گرین ہائوس گیسوں کا اخراج کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جس نے پیرس معاہدے کے تحت 2025ء تک ان گیسوں کے اخراج میں 2005ء کی سطح کے مطابق 26 سے 28 فی صد تک کمی لانے پر اتفاق کیا تھا۔گرین ہائوس گیسوں کا اخراج کرنے والے سب سے بڑے ملک چین کی حکومت نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ امریکی فیصلے کے نتیجے میں دنیا کے بڑے ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوگا۔چین کے وزیرِاعظم لی کیچوانگ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کی کوششیں اور پیرس معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔ ماحولیات کی تبدیلی سے موسمی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔پیرس معاہدے کے تحت امریکا اور دیگر 187 ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی درجہ حرات میں اضافے کو2 ڈگری سے نیچے رکھیں۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اس معاہدے سے امریکا کو نکال لیں گے تاکہ کوئلے اور تیل کی صنعت کو فائدہ پہنچے۔مخالفین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نکلنا امریکی صدر کا ایک عالمی چیلنج کا سامنا کرنے سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔پیرس معاہدے کے تحت امریکا اور دیگر 187 ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی درجہ حرات میں اضافے کو دو ڈگری سے نیچے رکھیں اور مزید کوششیں کر کے اس کو 1.5 ڈگری تک محدود کیا جائے۔ادھر چین اور یورپی یونین کے رہنما پیرس ماحولیاتی معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان میں اس مؤقف کے ساتھ اتفاق کرنے والے ہیں کہ یہ ’پہلے سے کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔‘

تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا وجود - هفته 08 جون 2019

لندن میں ہم جنس پرست خواتین کو مردوں کے ایک گروہ نے مار مار کر لہو لہان کردیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ کیمڈن ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک چلتی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو بوسہ نہ دینے پر تشدد کا نشانا بنایا گیا، 28 سالہ متاثرہ خاتون گیمونیٹ کا کہنا تھاکہ وہ رات گئے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بس میں سوار تھیں کہ اس دوران مردوں کے ایک جتھے نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور بوسہ لینے کی کوشش کی۔گیمونیٹ نے بتایا کہ بوسہ دینے سے انکار پر اسے اور اس کی دوست کو سرِعام مارا پیٹا گیا ...

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش وجود - هفته 08 جون 2019

جرمنی میں دو ایسے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو ئی جو انتہائی مہلک زہر رائسین سے حملے کے لیے ایک بم تیار کرنا چاہتے تھے۔ ملزمان میں سے ایک تیونس کا شہری ہے اور دوسری اس کی جرمن بیوی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ڈسلڈورف شہر کی انتہائی سخت سکیورٹی والی ایک اعلیٰ صوبائی عدالت میں شروع ہوئی۔ان دونوں ملزمان کو پندرہ پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔مقدمے کی سماعت کے آغاز پر استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ 30سالہ تیونسی نژاد ملزم س...

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت وجود - هفته 08 جون 2019

عالمی ادارہ صحت نے جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں مناسب پیش رفت نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ افراد دنیا بھر میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی لپیٹ میں آتے ہیں،دنیا کی مجموعی آبادی میں اوسطاً پچیس فیصد افراد کو کوئی نہ کوئی ایسی بیماری لاحق ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق صحت کے عالمی ادارے نے ہفتے کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ ایسی بیماریوں میں افزائش کی وجہ ڈیٹنگ ایپس کا زیادہ استعمال ہے۔ یہ...

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ وجود - جمعه 07 جون 2019

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے کہاہے کہ جرمنی میں 2018ء کے دوران پندرہ ہزار بچوں کو جنسی استحصال کا نشانابنایا گیا۔ اس سلسلے میں بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بہتر طور پر آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ 2017ء کے مقابلے میں یہ تعداد چھ فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پندرہ ہزار کا مطلب ہے کہ اوسطاً چالیس وا...

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات وجود - جمعرات 06 جون 2019

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں زہرآلود فضا سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں کیا گیا۔یہ رپورٹ مرکز برائے سائنس اور ماحول (سی ایس ای) نے تیار کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے پانی مہیا کرنے کے 86 فی صد ادارے خطرناک حد تک آلودہ ہیں۔اس نے ملک کی قابل تجدید توانائی کے لیے پیش رفت کو بھی مایوس کن قرار دیا ہے۔بھارت اپنے شہروں میں آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں ...

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد وجود - جمعه 24 مئی 2019

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی، الزامات ثابت ہونے کی صورت میں جولین اسانج کو 175برس قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جولین اسانج نے خفیہ ذرائع کے نام غیر قانونی طور پر شائع کیے اور خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی۔حاصل کی گئی معلومات افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق تھیں۔

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم وجود - جمعه 24 مئی 2019

افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔ لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اْن...

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے  رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ وجود - جمعرات 23 مئی 2019

پوری دنیا میں سمندروں کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض کے مستقل برفانی ذخائرکا پگھلاؤ ہے اوراس صدی کے اختتام تک کروڑوں افراد نقل مکانی پرمجبورہوسکتے ہیں۔ امریکا میں ماہرین نے نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کی پروسیڈنگزمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے مقابلے میں اب گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی رفتار6 گنا بڑھ چکی ہے۔ 1980 کے عشرے میں گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی شرح بھی کئی گنا بڑھی ہے یعنی اس وقت سالانہ 40 ارب ٹن برف پانی میں گھل رہی تھی اور ...

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

اسرائیلی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مسجد اقصی کے محافظ کو مسجد سے باہر نکلتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان فراس الدبس نے بتایا کہ صہیونی پولیس نے قبلہ اول کے محافظ علی احمد کو باب الاسباط سے باہر آتے ہوئے ...

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا عارضی پابندیاں ختم کردے تو شمالی کوریا اپنا ایک جوہری پلانٹ مکمل طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہماری شہری معیشت اور ہمارے لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے والی پابندیاں ختم کرے تو ہم...

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا