وجود

... loading ...

وجود

صوبائی وزیر داخلہ کا خودساختہ ’سیکورٹی تھریٹ ‘ کا واویلا

هفته 03 جون 2017 صوبائی وزیر داخلہ کا خودساختہ ’سیکورٹی تھریٹ ‘ کا واویلا


سندھ میں پتہ نہیں کیسے کیسے تجربے کیے جاتے ہیں ،ہر تجربہ سندھ میں ہی آزمایا جاتا ہے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کی مثال ہے کہ گریڈ 20 کے پولیس افسر نے آئی جی سندھ پولیس کا چارج سنبھالا اور اگلے ہفتے گریڈ 21 کا پروموشن حاصل کیا۔ یہاں گریڈ 21 کا چیف سیکریٹری جبکہ گریڈ 22 کا چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات بورڈ ہیں، یہاں آئے دن کوئی نہ کوئی تجربہ کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی تجربہ سندھ میں وزیر داخلہ رکھ کر کیا جاتا ہے۔ سندھ میں خیر سے اس وقت جو وزیر داخلہ ہیں وہ بے مثال ہیں ،فریال تالپر کہیں جاتی ہیں تو جی حضوری میں ان کا پرس اٹھانے پر شرمندگی کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں ،آصف زرداری اسپتال آتے ہیں تو ان کو گلے لگا کر ملنے یا گر مجوشی سے ہاتھ ملانے کے بجائے ان کو پائوں پڑ کر ملنے میں شرمندگی کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں۔ پورے ملک میں سخت ترین گرمی ہے اور وہ بوھری برادری کی مسجد میں جاتے ہیں تو گرم شال اوڑھ کر دورہ کرتے ہیں اورخود کو کچھ الگ محسوس کراتے ہیں۔ وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے منفرد ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں وہی کچھ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جو فریال تالپر کہتی ہیں یا پھر آصف علی زرداری کی منشا ہوتی ہے۔ انہوں نے کوئی قابل ذکر فیصلہ یا اقدام نہیں اٹھایا۔ حال ہی میں سہیل انور سیال نے دوبارہ محکمہ داخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی سندھ پولیس سے انوکھا مطالبہ کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں ان کو سیکورٹی تھریٹ ہے اس لیے ان کو پولیس ہیڈ آفس میں دفتر دیا جائے اور ان کو بلٹ پروف گاڑی دی جائے۔ مگر سندھ پولیس نے ان کی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ان کو نہ تو پولیس ہیڈ آفس میں کوئی دفتر دیا اور نہ ہی ان کو بلٹ پروف گاڑی دی ہے۔ بیچارے تابعدار وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو پتہ ہی نہیں ہے کہ تھریٹ (دھمکی) کے لیے باقاعدہ سرکاری ادارے الرٹ جاری کرتے ہیں ،تین بڑی خفیہ ایجنسیاں، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی کے علاوہ ایف آئی اے، وفاقی وزارت داخلہ یاان کے ماتحت ادارے اور صوبائی سطح پر اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ڈسٹرکٹ پولیس سیکورٹی تھریٹ جاری کرتی ہیں تو اس پر صوبائی محکمہ داخلہ اس ادارے کا نام لے کر سیکورٹی الرٹ جاری کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ جن کے لیے سیکورٹی الرٹ جاری ہوا ہے، ان کی سیکورٹی سخت کی جائے ۔ لیکن اس معاملے میں مذکورہ بالا کسی بھی ادارے نے کوئی سیکورٹی الرٹ جاری نہیں کیا ،اس صورتحال میں محکمہ داخلہ نے بھی کوئی سیکورٹی الرٹ جاری نہیں کیا بلکہ انہوں نے وزیر داخلہ کو سمجھایا ہے کہ اس طرح کی بات کرکے وہ جگ ہنسائی کا سبب نہ بنیں کیونکہ یہ تھریٹ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی ۔اورانہیں بتایا کہ وزیر داخلہ کی اہمیت وزیراعلیٰ کے بعد ہوتی ہے، وزیر داخلہ کو سیکورٹی تھریٹ کے بعد وزیراعلیٰ کو بھی تھریٹ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ایسی بات نہ کریں جس کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے ۔وزیر داخلہ کو سندھ پولیس نے سیکورٹی تھریٹ کے لیے بتا دیا ہے اور بلٹ پروف کی گاڑی کے لیے انہیں بتایا گیا ہے کہ جو انہیں پہلے بلٹ پروف گاڑی دی گئی تھی اب وہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کو دی جاچکی ہے چونکہ سی ٹی ڈی کا براہ راست نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری ہے ،کئی نامی گرامی دہشت گرد یا تو مارے جاچکے ہیں یا پھر سلاخوں کے پیچھے ہیں ،اس لیے ان کو بلٹ پروف گاڑی دینا لازمی ہے ۔دوسری بلٹ پروف گاڑی پہلے سے ہی آئی جی سندھ پولیس کو ملی ہوئی ہے اس لیے اگر وزیر داخلہ کو بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت ہے تو پھر وہ حکومت سندھ سے کہیں کہ ان کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کی جائے ،حکومت سندھ کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں بھی ہیں اور فنڈز بھی دستیاب ہیں ،اس جواب کے بعد وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور وہ شرم کے مارے اب دونوں ایشوز پر بات کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ وزیر داخلہ کی حیثیت میں انہوں نے غلط بیانی کی کہ ان کو حملوں کا خطرہ ہے حالانکہ یہ بات ایک فیصد بھی سچ نہیں ہے۔ جیسے انہوں نے بات کی ہے ایسے ہی انہوں نے حقائق سامنے آنے پر خاموشی اختیار کی ہے ،اگر مہذب ممالک میں ایسا ہوتا تو ایسے وزیر کو غلط بیانی کرنے پر معافی مانگ کر عہدے سے استعفیٰ دینا پڑتا مگر سندھ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ وزیر داخلہ کی ضدکے باعث وزیراعلیٰ ہائوس نے جلد بازی میں جو حکم جاری کیا تھا کہ کوئی ایس ایس پی، ڈی سی، ڈی آئی جی اور کمشنر اپنا ہیڈ کوارٹر چھوڑے گا تو اس کے لیے چیف سیکریٹری سے پیشگی اجازت لے گا۔ جب چیف سیکریٹری نے خود کو تنازع سے الگ رکھنے کا مؤقف اختیار کیا تو مجبوراً حکومت سندھ کو یہ حکم واپس لینا پڑا۔ اور پولیس افسران کو کہا گیا کہ وہ ہیڈ کوارٹر چھوڑنے سے قبل آئی جی سندھ پولیس سے پیشگی اجازت لیں یوں وزیراعلیٰ ہائوس کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ کی اوٹ پٹانگ باتوں سے اب حکومت سندھ بھی پریشان ہوگئی ہے مگر کیا کیا جائے؟ وہ تو آصف زرداری اور فریال تالپر کا لاڈلا ہے ،ان کو کچھ کہنے کا مقصد آصف زرداری اور فریال تالپر کو ناراض کرنا ہے۔ اب وزیر داخلہ سہیل انور سیال حیدر آباد میں جاکر فرماتے ہیں کہ میں وزیراعلیٰ کا امید وار نہیں ہوں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وہ تو 2001 ء میں یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن ہارچکے ہیں اور وہ یونین کونسل کے چیئرمین نہیں بن سکتے تو وہ کس طرح وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر