وجود

... loading ...

وجود

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان کراچی کی مایوس کن کارکردگی ،دیہی نوجوان بازی لے گئے

منگل 30 مئی 2017 فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان کراچی کی مایوس کن کارکردگی ،دیہی نوجوان بازی لے گئے

فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں ہرسال مختلف وفاقی وزارتوں اور اداروں کے 300سے زائد نوجوانوں کو مقابلے کے امتحان میںشرکت کا موقع دیا جاتا ہے جس سے ملک بھر کے نوجوانوں کی ذہانت کا بھی اندازا لگایا جاتا ہے کہ کس علاقے میں نوجوان ذہنی طور پر آگے ہیں اور کس علاقے کے نوجوان ذہانت میں پیچھے چلے گئے ہیں۔پاکستان بننے سے پہلے سندھ میں 90فیصد مسلمان امیدوارکامیاب ہوجاتے تھے اور نوکریوں میں بھی زیادہ تر مسلمان تھے ۔پھرسندھ کے مسلم سیاستدانوں نے اپنے کوٹے سے 10سے 15فیصد نوکریاں یوپی،سی پی کے مسلمانوں کو دیں ،یوں انگریزوں کی حکومت کے دور سے کوٹہ سسٹم رائج رہا،پھر پاکستان بنا تو بھی کوٹہ سسٹم نافذ رہا۔ذوالفقار بھٹو کے دور میں 1973کے آئین میں کوٹہ سسٹم کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ۔60فیصد دیہی علاقوں کو اور 40فیصد شہری علاقوں کو ملازمتیں اور تعلیمی اداروں میں داخلے ملے ۔کوٹہ سسٹم 20برس کے لیے نافذ کیا گیا اور پھر اس کو بڑھا یا گیا اور تاحال کوٹہ سسٹم کی مدت میں توسیع کا سلسلہ برقرار ہے ۔
شہری علاقوں کا مطالبہ ہے کہ اب کوٹہ سسٹم ختم ہونا چاہیے ،اور دیہی علاقوں کا مؤقف ہے کہ جب تک دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات شہری علاقوں کے برابر نہیں ہوتیں تب تک کوٹہ سسٹم کو برقراررکھا جائے ۔یہی تنازع تاحال جاری ہے ۔
ایم کیو ایم اور دیگر شہری علاقوں کی جماعتیں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی حمایتی ہیںجبکہ پی پی پی اور قوم پرست جماعتیں کوٹہ سسٹم برقراررکھنے کی حامی ہیں ۔یوں کسی نے بھی اس تنازع کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ۔مگر حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحان نے صورتحال ہی بدل دی ہے جس میں شہری علاقوں کے نوجوانوں کی مایوس کن کارکردگی سامنے آئی ہے ۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت سی ایس ایس (سینٹرل سپیریر سروسز) کے امتحان میں پنجاب کے 146،سندھ کے 29،خیبرپختونخوا کے 18،بلوچستان کے 4،آزاد کشمیر کے 4جبکہ گلگت بلتستان کا ایک نوجوان کامیاب ہوا۔سندھ کے 29امیدواروں میں سے 25دیہی علاقوں کے اور 4امیدوارشہری علاقے سے کامیاب ہوئے ہیں ۔دیہی علاقوں کے 25میں سے 23سندھی بولنے والے ،ایک پنجابی اور ایک بلوچی زبان بولنے والا نوجوان کامیاب ٹھہرا جبکہ شہری علاقوں کے 4امیدوار اردوبولنے والے کامیاب ہوئے ۔ اس طرح صوبے بھر کے کامیاب امیدواروں کے حوالے سے تعلیمی اداروںکاجائزہ لیا جائے تو حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے ۔سندھ بھر کے 29کامیاب امیدواروں نے جن تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ،ان میں سے سندھ یونیورسٹی کے 5،آئی بی اے سکھر کے 5،کراچی یونیورسٹی کے 4،مہران یونیورسٹی جامشوروکے 3،شاہ لطیف یونیورسٹی خیر پور کے 2،زیبسٹ کراچی کا ایک ،لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشوروکا ایک اور پرنسٹن یونیورسٹی کراچی کا ایک امیدوار شامل ہے ۔این ای ڈی یونیورسٹی کراچی ،ڈائو میڈیکل یونیورسٹی کراچی اور آئی بی اے کراچی کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔اس طرح مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مرتبہ سی ایس ایس کے امتحانات میں سندھ کے شہری علاقوں کراچی ،حیدرآباداور سکھر کے امیدواروں کی کارکردگی مایوس کن رہی اور جو امیدواردیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔اب شنید یہ ہے کہ اگر کوٹہ سسٹم ختم کردیا جائے تو پھر مقابلے کا رجحان بڑھے گا ۔ ان نتائج کے آنے کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نے اس ایشو پر زبان نہیں کھولی ہے ،اس کا سبب کیا ہے ؟وہ تو ان جماعتوں کو بھی پتہ ہوگا ۔لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ اسمبلی میں کوٹہ سسٹم پر بحث کی جائے اور اس کو برقراررکھنے یا ختم کرنے کا ابھی فیصلہ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے تنازع باقی نہ رہے ۔دوسری طرف اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ صوبے بھر کے تمام اضلاع میںجہاں میڈیکل ،انجینئرنگ اور جنرل یونیورسٹیزقائم کی جائیں ان علاقوں میں وہی سہولیات دی جائیں جو کسی بھی شہری علاقے کی یونیورسٹیز میںہوتی ہیں اور یوں کوٹہ سسٹم کا مسئلہ حل کیا جائے کیونکہ یہ ایشو شہری اوردیہی علاقوں میں نفرت کا سبب بنا ہوا ہے ۔جب شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں تعلیمی سہولیات اور مواقع ہونگے تو صورتحال مقابلے والی ہوگی اور پھر اس میں جو کامیاب ہوگا اس کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گااور جو ناکام ہوگا وہ کوئی بھی الزام نہیں لگاسکے گا۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر