وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

وزیر اعلیٰ پنجاب نئے کالجوں کے قیام سے گریزاں کیوں؟

پیر 29 مئی 2017 وزیر اعلیٰ پنجاب نئے کالجوں کے قیام سے گریزاں کیوں؟

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے برادر خورد بلکہ ٹیلنٹیڈ برادر نے پنجاب میں تعلیم عام کرنے کے عزم کااظہار کرتے ہوئے پڑھا لکھا پاکستان کا نعرہ بلند کیا تھا جس پر پاکستان کے دیگر تمام صوبوں کے عوام نے پنجاب کے عوام کی قسمت پر رشک کا اظہار کیا تھا اور یہ تصور کیاجارہاتھا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پورے پنجاب میں اسکولوں اور کالجوں کاجال بچھا دیں گے اور اب پنجاب کے کسی گاﺅں گوٹھ کے کسی غریب کا بچہ بھی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
جہاں تک پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا تعلق ہے تو لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے،یہ شہر قیام پاکستان سے قبل ہی علم وادب کامرکز ومحور تصور کیاجاتاتھا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی معیاری تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور کارخ کیاکرتے تھے ،کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں بیشمار کالج موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لاہور کو پنجاب میں کالجوں کے شہر کالقب مل گیاتھا۔لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالج موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ40 ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 ءکے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔خیال رہے کہ لاہور کے کالجوں میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے لاہور میں نئے کالجزکیو ں قائم نہیں کئے؟
لاہور میں 1982ءسے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجوں کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالج قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا کاروبار پھلتاپھولتا اور قائم و دائم رہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجوں کی انتظامیہ کے بااثر ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں نجی اسکول اور کالج چلانے والے کئی اداروں میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز اور ان کے بھانجوں، بھانجیوں اور کئی دوسرے قریبی رشتہ داروں کی شیئرز ہیں اور انہیں ا س کے عوض کچھ کیے بغیر ہر مہینے لاکھوں روپے منافع کے طورپر ادا کیے جاتے ہیں ۔ لاہور کے لوگوں کاکہناہے کہ جس طرح عام آدمی دودھ، اور پولٹری کے کام میں شہباز شریف اور نواز شریف کے مفادات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اسی طرح انہیں تعلیم کو تجارت بنانے کے حوالے سے شریف برداران کے کارناموں کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔لاہور کے باوثوق اطلاعات رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ تعلیمی شعبے کو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بنانے والی شریف فیملی اب نئے لوگوں کو اس شعبے میں قدم جمانے کا موقع نہیں دے رہی ہے اور اس شعبے پر شریف برادران کی اسی گرفت اور اس سے وابستہ ان کے مفادات کی وجہ ہی سے پنجاب میں تعلیم کاکاروبار کرنے والے نجی شعبے کی نگرانی کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی کوئی قاعدہ اور قانون اور اگر ایسا ہے بھی تو وہ یقیناً فائلوں کی حد تک ہی محدود ہے کیونکہ آج تک کسی نے ان پر نہ تو عملدرآمد ہوتے دیکھا ہے اورنہ کسی کو اس پر عملدرآمد کراتے ہوئے دیکھا ہے۔
لاہور شہر میں جو نجی کالج ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔
نجی کالجوں کی فیس اور اس کے عوض طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتیں
لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجوں کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہےں۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہاسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہاسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ) کے پرانے رہائشی مکان ہیں میں رہتے ہیں۔کالجوںمیں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔
کھیل کے میدان کا بیشتر نجی کالجوں میں کوئی تصور نہیں، زیادہ تر کالجوںکے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتے ہیں نہ کہ کھیلنے کے لیے لائبریری اور سائنس کے مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریکٹیکل کے چکر میں پڑے۔بعض کالجوں کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!
نجی کالجوں میں مستقل فیکلٹی کا فقدان
نجی کالجوں میں عام طورپرکوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجوں میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجوں میں سابقہ طلبہ اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔
اگر حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالج قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکول جن میں مطلوبہ سہولتیںمیسر تھیں، ان اسکولوںکو ہائیر سکینڈری اسکولوں کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے ان ہائیر سیکنڈری اسکولوں کواپنے مفادات کے منافی تصور کرتے ہوئے انتہائی غیر محسوس انداز میں کوئی وجہ بتائے بغیر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر واقعی پنجاب میں تعلیم عام کرنے اور غریبوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مخلص ہوتے تو وہ پنجاب میں موجود ان ہائیر سیکنڈری اسکولوں کو بند نہ ہونے دیتے۔ اگر ان میں کچھ خامیاں تھیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے اور اگر تعلیمی وسائل موجود نہیں تھے تو موجودہ وسائل کو لیپ ٹاپ تقسیم کر کے تصاویر شائع کرانے کے بجائے کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرتے۔ پنجاب میں تعلیم کے کاروبار سے موجودہ حکومت کی گہری وابستگی کا پتہ اس بات سے بھی چلتاہے کہ صوبائی حکومت ایسے کالج بھی نہ تو قائم کرتی ہے اور نہ ان کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو نفع، نقصان کے بغیر چلائے جائیں، یعنی طالب علموں سے صرف اتنی ہی فیس لی جائے جس سے عمارت کا کرایہ، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے ہوسکیں، یہ فیس پھر بھی نجی کالجوںکی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔ لیکن اس طرح کے کالجوں کے قیام سے نجی کالجوں کاکاروبار بری طرح متاثر ہونے کے اندیشے کے تحت ایسا نہیں کیاگیا اور اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا رویہ اختیار کیاجارہاہے۔یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالج قائم کرنے کے لیے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کے بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر‘ پر ضائع کر دیا جائے۔شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔


متعلقہ خبریں


عام انتخابات میں (ن) نے 89678ووٹ ،تحریک انصاف نے77231 ووٹ حاصل کیے تھے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ این اے 13 3سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار پرویز ملک نے 89678ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز احمد چوہدری77231 ووٹ لے کر دوسرے نمبر ،تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار مطلوب احمد 13235 ووٹ لے کر تیسرے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل نے 5554 ووٹ حاصل کیے تھے۔ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر انتخابی میدان میںموجود نہیں تھی۔

عام انتخابات میں (ن) نے 89678ووٹ ،تحریک انصاف نے77231 ووٹ حاصل کیے تھے

ضمنی انتخاب ،(ن) کی کامیابی سے زیادہ اسلم گل کی جانب سے غیر متوقع 32313ووٹ حاصل کرناموضوع بحث وجود - پیر 06 دسمبر 2021

حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی سے زیادہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل کی جانب سے غیر متوقع طور پر 32313ووٹ حاصل کرناموضوع بحث بنا ہوا ہے ،جبکہ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی کامیابی کا مارجن کم کرنے کیلئے تحریک انصاف کی جانب سے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے امیدوارکو ووٹ ڈلوائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ این اے133کے ضمنی انتخاب کے نتائج سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہیں اورسیاسی تجزیہ نگار اپنے اپنے زاویے سے اس پر اظہار خی...

ضمنی انتخاب ،(ن) کی کامیابی سے زیادہ اسلم گل کی جانب سے غیر متوقع  32313ووٹ حاصل کرناموضوع بحث

این اے133 ضمنی انتخاب ،مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی،پیپلزپارٹی کی غیر معمولی پیشرفت وجود - پیر 06 دسمبر 2021

صوبائی دارالحکومت کے حلقہ این اے 133میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں غیر سرکاری اورغیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک نے 46811جبکہ ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل نے32313ووٹ حاصل کئے ، کامیابی کی خوشی میں مسلم لیگ (ن) کے حامیوںنے بھرپور جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، کارکنان ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے اورنوٹ نچھاور کئے گئے جبکہ ...

این اے133 ضمنی انتخاب ،مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی،پیپلزپارٹی کی غیر معمولی پیشرفت

تحقیقاتی اداروں نے پریانتھا کے مکان کو سیل کردیا وجود - پیر 06 دسمبر 2021

تحقیقاتی اداروں نے سیالکوٹ میں متشدد ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے سری لنکن منیجر پریانتھا کا مکان سیل کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سری لنکن شہری پاکستان میں 10 سال سے زائد عرصے سے رہائش پزیر تھا، جس فیکٹری میں مارا گیا وہاں پر 8 سال سے کام کر رہا تھا۔اہل محکمہ نے پریانتھا سے متعلق رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوش اخلاق شخص تھا، کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ پریانتھا لوگوں سے زیادہ میل جول بھی نہیں رکھتا تھا۔پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے پریانتھا کے مکان کو سیل کردیا ہے۔

تحقیقاتی اداروں نے پریانتھا کے مکان کو سیل کردیا

لندن میں گورنر پنجاب چودھری سرور کی گاڑی کو جرمانہ وجود - پیر 06 دسمبر 2021

گورنرپنجاب چودھری سرور کی گاڑی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ لندن میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی گاڑی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی ٹکٹ جاری کی گئی،وہ سنٹرل لندن میں اپنے بیٹے کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ایک تقریب کیلئے شرکت کیلئے موجود تھے ۔گورنر سرور کی گاڑی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈبل یلو لائن پر پارک ہوئی ،ٹریفک وارڈن نے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی ٹکٹ جاری کرتے ہوئے اسے گاڑی کی فرنٹ اسکرین پر چسپاں کردیا۔تقریب می...

لندن میں گورنر پنجاب چودھری سرور کی گاڑی کو جرمانہ

بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوسکتے،شبلی فراز نے ہاتھ اُٹھا لیے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں مختلف پینلز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوسکتے،الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں صرف 200امیدوار آسکتے ہیں ،تحصیل ناظم کے انتخاب کیلئے مشین استعمال کی جاسکتی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مشینیں فراہم کی جائیں گی،الیکشن کمیشن نے ہمیں ای وی ایم فراہم کرنے کا کہا ہے،ای وی ایم میں نیشنل اورصوبائی ووٹنگ کیلئے 2ووٹنگ پیڈز ہیں اور ای وی ایم میں ...

بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر نہیں  ہوسکتے،شبلی فراز نے ہاتھ اُٹھا لیے

ویسٹ انڈیز کے اہم کھلاڑی انجری کے باعث دورہ پاکستان سے آؤٹ وجود - پیر 06 دسمبر 2021

ویسٹ انڈیز کے کپتان کیرون پولارڈ انجری کی وجہ سے دورہ پاکستان سے آؤٹ ہوگئے۔ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہمسٹرنگ انجری کا شکار ہونیوالے کپتان کیرون پولارڈ اب تک صحتیاب نہ ہوسکے جس کی وجہ سے وہ دورہ پاکستان سے باہر ہوگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پولارڈ کی جگہ نکولز پورن ٹی ٹوئنٹی اور شائی ہوپ ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کی قیادت کریں گے۔ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مطابق کیرون پولارڈ کے متبادل کے طور پر رومین پاؤل کو ٹی ٹوئنٹی اور ڈیون تھامس کو ون ڈے اسکواڈ میں شامل کرلیا گی...

ویسٹ انڈیز کے اہم کھلاڑی انجری کے باعث دورہ پاکستان سے آؤٹ

پاکستانی ورکرز کی بھرتی سے متعلق پاکستان اور سعودی عرب میں دو معاہدے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

سعودی عرب نے پاکستانی ورکرز کی بھرتی اور ہنر کی تصدیق کے پروگرام سے متعلق حکومت کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط کردیے۔معاہدوں پر دستخط کی تقریب وفاقی وزیر برائے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ شفقت محمود کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئی۔ یہ معاہدہ تنازعات کو حل کرنے اور کسی بھی خلاف ورزی پر ریکروٹمنٹ دفاتر، کمپنیوں یا ایجنسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے میں بھی مدد دے گا۔ہنر کی تصدیق کے معاہدے سے مملکت کو ہنرمند اور تصدیق شدہ پاکستانی افرادی قوت کی برآمد میں اضافہ ہوگا۔ ی...

پاکستانی ورکرز کی بھرتی سے متعلق پاکستان اور سعودی عرب میں دو معاہدے

ترکی کے مسلح ڈرونز کی فروخت میں غیرمعمولی اضافہ وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

ترکی کی دفاعی اور ہوابازی کی صنعتوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے قابل ذکر ترکی کے بیرقدار ٹی بی 2 ڈرونز ہیں جو یوکرائن، پولینڈ اور ہنگری کو بھی برآمد کیے جا رہے ہیں۔ جرمن ٹی وی پورٹ کے مطابق ترک ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ملک کی دفاعی اور ہوابازی کی صنعت کی تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس فورم کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے گیارہ ماہ میں ان شعبہ جات کی برآمدات میں گزشتہ برس کی نسبت چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس برس کے گیارہ ما...

ترکی کے مسلح ڈرونز کی فروخت میں غیرمعمولی اضافہ

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مزاح نگار، افسانہ نگار، مترجم، شاعر، نقاد، معلم، برطانوی ہندوستان کے ماہر نشریات اور پاکستان کے سفارت کار پطرس بخاری کی63ویں برسی آج ( اتوار)5دسمبر کو منائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ادبی حلقوں میں تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں پطرس بخاری کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔پطرس بخاری جن کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام پطرس بخاری سے مشہور ہوئے۔ ان کی معروف تصنیف میں پطرس کے مضامین بے حد مقبول ہے ،ا...

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

حکومتی امیدوار کے بغیر این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان آج لگے گا وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان آج (اتوار) 5دسمبرکو لگے گا،پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میںحکمران جماعت تحریک انصاف اپنے نامزد امیدوارجمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پہلے ہی مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے جس کے بعد اب مسلم لیگ(ن) او رپیپلز پارٹی میں ون ٹو ون مقابلہ ہوگا ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست این اے133پر ضمنی انتخاب کی...

حکومتی امیدوار کے بغیر این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان آج  لگے گا

تحریک انصاف کے کارکنوں،ووٹرز کو 133 کے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہنے کی ہدایت وجود - اتوار 05 دسمبر 2021

پاکستان تحریک انصاف نے این اے 133کے مقابلے میں شامل نہ ہونے پر اپنے کارکنوںاورووٹرز کو این اے133کے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہنے کی ہدایت کر رکھی ہے ۔ تحریک انصاف کی جانب سے کہاگیاہے کہ ہمارے امیدوار کو تکنیکی غلطی کی وجہ سے مقابلے سے باہر رکھاگیا ۔ تحریک انصاف نے کسی دوسری جماعت یا آزادامیدوارکو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے کارکنان اور ووٹرزاین اے 133کے ضمنی انتخاب سے قطعی لا تعلق رہیں اور ووٹ کا حق استعمال نہ کریں۔

تحریک انصاف کے کارکنوں،ووٹرز کو 133 کے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہنے کی ہدایت

مضامین
sarwarدوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
sarwarدوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام