وجود

... loading ...

وجود

وزیر اعلیٰ پنجاب نئے کالجوں کے قیام سے گریزاں کیوں؟

پیر 29 مئی 2017 وزیر اعلیٰ پنجاب نئے کالجوں کے قیام سے گریزاں کیوں؟

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے برادر خورد بلکہ ٹیلنٹیڈ برادر نے پنجاب میں تعلیم عام کرنے کے عزم کااظہار کرتے ہوئے پڑھا لکھا پاکستان کا نعرہ بلند کیا تھا جس پر پاکستان کے دیگر تمام صوبوں کے عوام نے پنجاب کے عوام کی قسمت پر رشک کا اظہار کیا تھا اور یہ تصور کیاجارہاتھا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پورے پنجاب میں اسکولوں اور کالجوں کاجال بچھا دیں گے اور اب پنجاب کے کسی گاﺅں گوٹھ کے کسی غریب کا بچہ بھی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
جہاں تک پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا تعلق ہے تو لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے،یہ شہر قیام پاکستان سے قبل ہی علم وادب کامرکز ومحور تصور کیاجاتاتھا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی معیاری تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور کارخ کیاکرتے تھے ،کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں بیشمار کالج موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لاہور کو پنجاب میں کالجوں کے شہر کالقب مل گیاتھا۔لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالج موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ40 ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 ءکے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔خیال رہے کہ لاہور کے کالجوں میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے لاہور میں نئے کالجزکیو ں قائم نہیں کئے؟
لاہور میں 1982ءسے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجوں کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالج قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا کاروبار پھلتاپھولتا اور قائم و دائم رہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجوں کی انتظامیہ کے بااثر ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں نجی اسکول اور کالج چلانے والے کئی اداروں میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز اور ان کے بھانجوں، بھانجیوں اور کئی دوسرے قریبی رشتہ داروں کی شیئرز ہیں اور انہیں ا س کے عوض کچھ کیے بغیر ہر مہینے لاکھوں روپے منافع کے طورپر ادا کیے جاتے ہیں ۔ لاہور کے لوگوں کاکہناہے کہ جس طرح عام آدمی دودھ، اور پولٹری کے کام میں شہباز شریف اور نواز شریف کے مفادات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اسی طرح انہیں تعلیم کو تجارت بنانے کے حوالے سے شریف برداران کے کارناموں کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔لاہور کے باوثوق اطلاعات رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ تعلیمی شعبے کو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بنانے والی شریف فیملی اب نئے لوگوں کو اس شعبے میں قدم جمانے کا موقع نہیں دے رہی ہے اور اس شعبے پر شریف برادران کی اسی گرفت اور اس سے وابستہ ان کے مفادات کی وجہ ہی سے پنجاب میں تعلیم کاکاروبار کرنے والے نجی شعبے کی نگرانی کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی کوئی قاعدہ اور قانون اور اگر ایسا ہے بھی تو وہ یقیناً فائلوں کی حد تک ہی محدود ہے کیونکہ آج تک کسی نے ان پر نہ تو عملدرآمد ہوتے دیکھا ہے اورنہ کسی کو اس پر عملدرآمد کراتے ہوئے دیکھا ہے۔
لاہور شہر میں جو نجی کالج ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔
نجی کالجوں کی فیس اور اس کے عوض طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتیں
لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجوں کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہےں۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہاسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہاسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ) کے پرانے رہائشی مکان ہیں میں رہتے ہیں۔کالجوںمیں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔
کھیل کے میدان کا بیشتر نجی کالجوں میں کوئی تصور نہیں، زیادہ تر کالجوںکے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتے ہیں نہ کہ کھیلنے کے لیے لائبریری اور سائنس کے مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریکٹیکل کے چکر میں پڑے۔بعض کالجوں کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!
نجی کالجوں میں مستقل فیکلٹی کا فقدان
نجی کالجوں میں عام طورپرکوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجوں میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجوں میں سابقہ طلبہ اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔
اگر حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالج قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکول جن میں مطلوبہ سہولتیںمیسر تھیں، ان اسکولوںکو ہائیر سکینڈری اسکولوں کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے ان ہائیر سیکنڈری اسکولوں کواپنے مفادات کے منافی تصور کرتے ہوئے انتہائی غیر محسوس انداز میں کوئی وجہ بتائے بغیر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر واقعی پنجاب میں تعلیم عام کرنے اور غریبوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مخلص ہوتے تو وہ پنجاب میں موجود ان ہائیر سیکنڈری اسکولوں کو بند نہ ہونے دیتے۔ اگر ان میں کچھ خامیاں تھیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے اور اگر تعلیمی وسائل موجود نہیں تھے تو موجودہ وسائل کو لیپ ٹاپ تقسیم کر کے تصاویر شائع کرانے کے بجائے کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرتے۔ پنجاب میں تعلیم کے کاروبار سے موجودہ حکومت کی گہری وابستگی کا پتہ اس بات سے بھی چلتاہے کہ صوبائی حکومت ایسے کالج بھی نہ تو قائم کرتی ہے اور نہ ان کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو نفع، نقصان کے بغیر چلائے جائیں، یعنی طالب علموں سے صرف اتنی ہی فیس لی جائے جس سے عمارت کا کرایہ، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے ہوسکیں، یہ فیس پھر بھی نجی کالجوںکی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔ لیکن اس طرح کے کالجوں کے قیام سے نجی کالجوں کاکاروبار بری طرح متاثر ہونے کے اندیشے کے تحت ایسا نہیں کیاگیا اور اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا رویہ اختیار کیاجارہاہے۔یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالج قائم کرنے کے لیے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کے بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر‘ پر ضائع کر دیا جائے۔شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر