وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ مقامی صنعتیں دم توڑنے لگیں، ہزاروں افراد کی بیروزگاری کاخطرہ

جمعه 26 مئی 2017 اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ مقامی صنعتیں دم توڑنے لگیں، ہزاروں افراد کی بیروزگاری کاخطرہ

تیار شدہ ، نیم تیار شدہ اور خام مال کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کی روک تھام میں حکومتی ناکامی کی وجہ سے ملکی صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بہت سی درمیانے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتیں جاں بہ لب ہوچکی ہیں اور ان کے مالکان اپنی صنعتوں کو بند کرنے پر سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں کی ایک سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ چین اور دیگر ممالک یہاں تک کہ بھارت سے اسمگل ہوکر پاکستان پہنچنے والی اشیا کامقابلہ کرنا پاکستانی صنعت کاروں کے لیے مشکل ہے کیونکہ چین اور بھارت سمیت دنیا کے دیگر بیشتر ممالک میں صنعت کاروں کو بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی اور ان کی قیمتوں میں سبسڈی کی فراہمی کا اصول رائج ہے جبکہ پاکستان میں صنعت کاروں کو نہ صرف یہ کہ ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے بلکہ پاکستان میں اشیائے صَرف کی گرانی کی وجہ سے افرادی قوت بھی چین اور بھارت کے مقابلے میں مہنگی ہے،ایسی صورت میںاسمگل شدہ اشیا کامقابلہ، جس پر کسی طرح کاکوئی ٹیکس نہیں ادا کرناپڑتا، پاکستانی صنعت کاروں کے لیے ناممکن ہے اور انہیں جلد یا بہ دیر اپنی صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہونا ہی پڑے گا جس کے نتیجے میں ان صنعتوں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کابیروزگار ہونا یقینی ہوگا جس سے ملک میں بیروزگاری، جو پہلے ہی بے قابوہوچکی ہے،اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
لاہور میں فٹبال، جوتوں، اسٹیشنری کی اشیا ، ٹیکسٹائل کی پیکیجنگ ، مختلف اقسام کے بیگز اور پی وی سی فلورنگز وغیرہ کا بنیادی خام مال فراہم کرنے والے تاجروں کاکہنا ہے کہ ملک کی صنعتوں کا پہیہ چلتے رہنے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت معیشت کے تمام شعبوں کی ڈاکومنٹیشن کو یقینی بنائے، جب تک ایسا نہیں کیا جائے گاخام، نیم خام مال اور تیار شدہ اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام ممکن نہیںہوگی اور اگر اسمگلنگ کا یہ کاروبار اسی طرح جاری رہا تو ملکی معیشت کا بیٹھ جانا یقینی ہوگا۔
صنعتکاروں کاکہناہے کہ اب یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ ہم اپنی صنعتوں کو سہارا دے کر اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں یا اس معاشرے کو صارفین کے معاشرے میں تبدیل کرکے اپنے نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک جانے پرمجبور کرنا ہے۔صنعت کاروں کاکہنا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے چھوٹے صنعتکاروںکیلیے حکومت کی بے اعتنائی اور صنعتکاروںکی پشت پناہی کے لیے کوئی مناسب اور مضبوط پالیسی نہ بنائے جانے کے سبب اب صنعت کار اپنی صنعتیں بند کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ صنعتکارروں کاکہناہے کہ نہ تو حکومت کی پالیسیاں ایسی ہیں جنہیں سرمایہ کار دوست کہاجاسکے اور نہ ہی حکومت کا رویہ ایسا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکے ، ایسی صورت میں کوئی ایسی صنعتوں میں سرمایہ کیوں لگائے گا جس میں سخت محنت کے باوجود نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آناہے،پھر سرمایہ کار ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرے گا جہاں سرمایہ کاری کرنا بھی آسان ہے اور اس پر منافع کی واپسی بھی فوری شروع ہوجاتی ہے اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی صورت میںٹیکسوں کے زیادہ چکر میں بھی نہیں پڑنا پڑتا۔
صنعت کاروں کاکہناہے کہ معیشت کی ترقی کادعویٰ کرنے والے حکمرانوں کو کیا یہ نظر نہیں آتا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستان سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور گزشتہ تین سال کے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ملکی برآمدات میں مجموعی طورپر 20 فیصد تک کمی ہوچکی ہے جبکہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ، جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کاتوازن مسلسل بگڑتا جارہاہے۔
صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتوں کی بدحالی کااندازہ اس طرح لگایا جارہاہے کہ رواں مالی سال کے دوران صنعتی ترقی کی شرح کااندازہ 5 فیصدسے کچھ زیادہ لگایاگیاہے جبکہ رواں سال کے بجٹ میں صنعتی ترقی کا ہدف 6.1 فیصد مقرر کیاگیاتھا۔
اعدادوشمار کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتوں میں توسیع کا ہدف رواں مالی سال کے بجٹ میں 5.9 فیصد مقرر کیاگیاتھا لیکن اب تک یہ حد 4.93 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے ،جبکہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں توسیع 8.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتوں کی بدحالی کا بڑا سبب معیشت کو دستاویزی بنانے سے گریز ہے ، معیشت کو دستاویزی نہ بنائے جانے کے سبب صنعتی شعبہ سکڑتاجارہاہے جبکہ آج کی دنیا میں پاکستان جیسا کوئی بھی تیزی سے ابھرتا ہوا صنعتی ملک صرف خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا کی برآمدات کے ذریعے اپنی درآمدی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ صنعت کاروں کاکہناہے کہ اگر ہماری ملکی معیشت کودستاویز ی بنادیاجائے اور ایسی پالیسی تیار کی جائے جس میں برآمدات پر قدغن لگائی جائے تو اس سے صنعتوں کے قیام میں بے پناہ اضافہ ہوسکتاہے اور ہمارے نوجوانوں کو ملازمتوں کے لیے بیرون ملک جانے یا غیر ملکی کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتیں بدحالی کا شکار ہیں اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کاسازگار ماحول دستیاب نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ابھی بھی حالات مکمل طورپر ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلے ہیں،پاکستان میں صنعتوں کی ترقی کی مضبوط بنیادیں موجود ہیں پاکستان میں صنعتوں کوچلانے کے لیے محنتی ،قابل اور ذہین افرادی قوت دستیاب ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں صنعتکاری کے شعبے کی پوری طرح بحالی ، نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کی کوششوں میں کامیابی کا انحصار حکومت کی پالیسیوں پر ہے ، اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اسے اس صورت حال میں آگے بڑھنا ہے۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ موجودہ صورت حال میں نئی صنعتوں کا قیام نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میںاضافے کا انحصار اس بات پر ہے کہ خود حکومت اور ارباب حکومت اس مقصد کے لیے ضروری ترغیبات اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ اگر حکومت سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدلی کرنے کو تیار ہے اور چھوٹی ،درمیانے درجے اور بڑی تمام قسم کی صنعتوں میں تیار ہونے والی تمام تر اشیا پر یکساں انداز اور شرح سے ٹیکس عاید کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا اور ٹیکسوں کے نفاذ اور چھوٹ کے لیے الگ الگ صنعتوں کے انتخاب کی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی ،اس کے ساتھ ہی حکومت کو دیگر ممالک سے تیار شدہ اور نیم تیارشدہ اشیا کی بڑے پیمانے پر برآمد اور ان اشیا کا بھاری ذخیرہ کرنے کی پالیسی پر قدغن لگانا ہوگی تاکہ ملکی صنعتوں کوتحفظ مل سکے اور وہ ترقی کرسکیں۔ملکی صنعت کاروں کے خسارے میں کمی ہوسکے اور خسارے کے خدشات سے انہیں نجات مل سکے۔
ایوان صنعت وتجارت لاہور کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی بڑی حد تک ذمہ داری خود تجارتی اداروں کی تنظیموں پر بھی عاید ہوتی ہے ،ان کاکہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تجارتی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیدار اور خاص طورپر ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان کے عہدیدار صنعتی اور تجارتی اداروں کے ارکان کے مسائل حل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے بلکہ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ اس پر بالکل ہی توجہ نہیں دیتے اوراس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے اکثر گریزاں رہتے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیم کے عہدوں پر ایسے لوگ فائز ہوچکے ہیں جو تاجر اور صنعت کار برادری کی نمائندگی کرنے کے بجائے حکمرانوں کی زبانیں بولنے لگے ہیں، تجارتی اور صنعتی برادری کے نمائندہ اداروں کے عہدیداروں کا یہ رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کاکہناہے کہ پاک چین اقتصادی کوریڈور پاکستان کی میعشت میں انقلاب برپا کرسکتا ہے لیکن حکومت مختلف علاقوں کو ملانے کے لیے جس حکمت عملی یا ترجیحات پر عمل پیرا نظر آتی ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس سے صر ف چینی سرمایہ کاروں ہی کو فائدہ پہنچے گا اور مقامی تاجر اس کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔ان کاکہناہے کہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ چین کے تجارتی اور صنعتی اداروں کو پاکستانی اداروں پر ترجیح دی جارہی ہے لیکن اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔
پاکستان کی تاجر اور صنعت کار برادری کے رہنما اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگر ملکی کمپنیوں کو سی پیک سے متعلق پراجیکٹس میں شریک کار بننے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی تو سی پیک پاکستان پر قرضوں اور اس کے سود کے بوجھ مین اضافے اور چینی کمپنیوں کی ترقی کا ذریعہ ثابت ہونے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ مقامی تاجروں اور صنعت کاروں کو اس پروجیکٹ میں شراکت کے برابر کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی صنعت کاروں اورتاجروں کو وہی ترغیبات اور ٹیکسوں میں چھوٹ کی وہی سہولت فراہم کی جائے، چینی سرمایہ کاروں کو جس کی پیشکش کی جارہی ہے یا چینی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو جو سہولتیں حاصل ہیں۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو یہ عظیم منصوبہ پاکستان کے عوام کی زندگی میں کوئی خوشگوار تبدیلی لانے کا ذریعہ ثابت ہونے کے بجائے ان کے مصائب ومشکلات میں اضافے کا سبب بن جائے گا ۔


متعلقہ خبریں


عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا وجود - هفته 22 جون 2019

سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا باقاعدہ رکن بن گیا۔ ایف اے ٹی ایف انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی فنڈنگ کابین الاقوامی گروپ ہے جس میں عرب ممالک میں سے سعودی عرب کو پہلی مرتبہ رکنیت ملی ہے۔ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب کی شمولیت کا اعلان اورلانڈو میں ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس میں کیا گیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب 2015ء سے ایف اے ٹی ایف کا مبصر رکن چلا آ رہا تھا اور اب یہ باقاعدہ ایف اے ٹی ایف گروپ کا رکن بن گیا ہے۔

عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے دی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے۔ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس لینے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 150 ایرانی ہلاک ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں تھا اور میں نہیں سمجھتا تھا یہ مناسب ت...

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار وجود - هفته 22 جون 2019

شمالی انگلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے 1995 سے 2002 کے درمیان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 44 افراد کو گرفتار کرلیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مغربی یارک شائر کی پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کرکلیز، بریڈ فورڈ اور لیڈز سمیت دیگر علاقوں سے 3 خواتین سمیت 39 افراد گرفتار کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ دیگر 5 افراد کو اس ہی کیس کی تحقیقات کے لیے گزشتہ سال کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ کرکلیز کے ڈیوز بری اور بیٹلے کے علاقوں میں 4 خواتین...

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز وجود - هفته 22 جون 2019

بٹ کوائنز جیسی ڈیجیٹل کوائنز (کرپٹو کرنسی) کو منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی عمل کیلئے استعمال کیے جانے سے روکنے کیلئے منی لانڈرنگ کے عالمی نگراں ادارے نے اقدامات کا آغاز کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سال قبل منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے قائم ہونے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے رکن ممالک کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر نظر رکھی جائے تاکہ ڈیجیٹل کوائنز کو کیش کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اقدام عالمی قانو...

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں سعودی عرب اور کیوبا کو تیسرا درجہ دیا گیا، اس کے علاوہ چین، شمالی کوریا، روس اور ونزویلا بھی اِسی نچلی ترین سطح میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کو دوسری سطح پر رکھا گیا۔یہ درجہ ان ملکوں کے لیے مخصوص ہے جو کم سے کم معیار پر پورے نہیں اُترتے تاہم، وہ معیاری سطح کی جانب قدم بڑھانے کے حوالے سے قابل قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر افغانستان، بنگلہ دیش، برما، ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ...

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت وجود - هفته 22 جون 2019

چین نے کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تمام اراکین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کیلئے رکنیت کیلئے یکساں اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔چینی عہدیدار کے دیے گئے بیان کے مطابق چین نیاب تک کازغستان میں اختتام پذیر ہونے والے منصوبہ بندی اجلاس میں بھارت کی درخواست پر غور کیا گیا۔چینی ترجمان کے حوالے سے بھارتی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت کی نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کا معاملہ کازغستان کے دارلحکومت نور سلطان میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔رپورٹ میں...

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ وجود - بدھ 19 جون 2019

ماورائے عدالت قتل پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو قانوناً ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد پر عالمی سطح پر آزادانہ تفتیش ضروری ہے، قتل کی سعودی عرب میں ہونیوالی تحقیقات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے انفرادی طور پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی ا...

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی وجود - منگل 18 جون 2019

مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی قاہرہ کے مشرقی علاقے مدین النصر میں سپرد خاک کردیا گیا، تدفین کے وقت سابق صدر کا خاندان موجود تھا۔اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی موت کو مکمل طور پر قتل قرار دیا ہے۔ مصر میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرہ عدالت میں اچانک حرکت ِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے، ان کی عمر 67 سال تھی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج ...

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ وجود - منگل 18 جون 2019

ایک عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں ایٹم بموں کی تعداد کی تفصیلات بیان کیں، اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ہیں جس کے بعد صہیونی ریاست کے ایٹم بموں کی تعداد 80 سے 90 تک جا پہنچی۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کے پاس جوہری اور ہائیڈروجن بموں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ان ایٹم بموں کو جنگی طیاروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے ...

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ وجود - منگل 18 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، اس طرح ہر تیسرا شخص اس سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں یونیسیف اورعالمی ادارہ صحت کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام کی رپورٹ2000-2017 کے مطابق عالمی ادارہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں عدم مساوات کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر اقدامات کررہا ہے تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں 4.2 ارب افراد نکاسی آب کی سہولی...

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت