وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ مقامی صنعتیں دم توڑنے لگیں، ہزاروں افراد کی بیروزگاری کاخطرہ

جمعه 26 مئی 2017 اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ مقامی صنعتیں دم توڑنے لگیں، ہزاروں افراد کی بیروزگاری کاخطرہ

تیار شدہ ، نیم تیار شدہ اور خام مال کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کی روک تھام میں حکومتی ناکامی کی وجہ سے ملکی صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بہت سی درمیانے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتیں جاں بہ لب ہوچکی ہیں اور ان کے مالکان اپنی صنعتوں کو بند کرنے پر سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں کی ایک سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ چین اور دیگر ممالک یہاں تک کہ بھارت سے اسمگل ہوکر پاکستان پہنچنے والی اشیا کامقابلہ کرنا پاکستانی صنعت کاروں کے لیے مشکل ہے کیونکہ چین اور بھارت سمیت دنیا کے دیگر بیشتر ممالک میں صنعت کاروں کو بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی اور ان کی قیمتوں میں سبسڈی کی فراہمی کا اصول رائج ہے جبکہ پاکستان میں صنعت کاروں کو نہ صرف یہ کہ ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے بلکہ پاکستان میں اشیائے صَرف کی گرانی کی وجہ سے افرادی قوت بھی چین اور بھارت کے مقابلے میں مہنگی ہے،ایسی صورت میںاسمگل شدہ اشیا کامقابلہ، جس پر کسی طرح کاکوئی ٹیکس نہیں ادا کرناپڑتا، پاکستانی صنعت کاروں کے لیے ناممکن ہے اور انہیں جلد یا بہ دیر اپنی صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہونا ہی پڑے گا جس کے نتیجے میں ان صنعتوں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کابیروزگار ہونا یقینی ہوگا جس سے ملک میں بیروزگاری، جو پہلے ہی بے قابوہوچکی ہے،اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
لاہور میں فٹبال، جوتوں، اسٹیشنری کی اشیا ، ٹیکسٹائل کی پیکیجنگ ، مختلف اقسام کے بیگز اور پی وی سی فلورنگز وغیرہ کا بنیادی خام مال فراہم کرنے والے تاجروں کاکہنا ہے کہ ملک کی صنعتوں کا پہیہ چلتے رہنے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت معیشت کے تمام شعبوں کی ڈاکومنٹیشن کو یقینی بنائے، جب تک ایسا نہیں کیا جائے گاخام، نیم خام مال اور تیار شدہ اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام ممکن نہیںہوگی اور اگر اسمگلنگ کا یہ کاروبار اسی طرح جاری رہا تو ملکی معیشت کا بیٹھ جانا یقینی ہوگا۔
صنعتکاروں کاکہناہے کہ اب یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ ہم اپنی صنعتوں کو سہارا دے کر اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں یا اس معاشرے کو صارفین کے معاشرے میں تبدیل کرکے اپنے نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک جانے پرمجبور کرنا ہے۔صنعت کاروں کاکہنا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے چھوٹے صنعتکاروںکیلیے حکومت کی بے اعتنائی اور صنعتکاروںکی پشت پناہی کے لیے کوئی مناسب اور مضبوط پالیسی نہ بنائے جانے کے سبب اب صنعت کار اپنی صنعتیں بند کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ صنعتکارروں کاکہناہے کہ نہ تو حکومت کی پالیسیاں ایسی ہیں جنہیں سرمایہ کار دوست کہاجاسکے اور نہ ہی حکومت کا رویہ ایسا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکے ، ایسی صورت میں کوئی ایسی صنعتوں میں سرمایہ کیوں لگائے گا جس میں سخت محنت کے باوجود نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آناہے،پھر سرمایہ کار ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرے گا جہاں سرمایہ کاری کرنا بھی آسان ہے اور اس پر منافع کی واپسی بھی فوری شروع ہوجاتی ہے اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی صورت میںٹیکسوں کے زیادہ چکر میں بھی نہیں پڑنا پڑتا۔
صنعت کاروں کاکہناہے کہ معیشت کی ترقی کادعویٰ کرنے والے حکمرانوں کو کیا یہ نظر نہیں آتا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستان سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور گزشتہ تین سال کے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ملکی برآمدات میں مجموعی طورپر 20 فیصد تک کمی ہوچکی ہے جبکہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ، جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کاتوازن مسلسل بگڑتا جارہاہے۔
صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتوں کی بدحالی کااندازہ اس طرح لگایا جارہاہے کہ رواں مالی سال کے دوران صنعتی ترقی کی شرح کااندازہ 5 فیصدسے کچھ زیادہ لگایاگیاہے جبکہ رواں سال کے بجٹ میں صنعتی ترقی کا ہدف 6.1 فیصد مقرر کیاگیاتھا۔
اعدادوشمار کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتوں میں توسیع کا ہدف رواں مالی سال کے بجٹ میں 5.9 فیصد مقرر کیاگیاتھا لیکن اب تک یہ حد 4.93 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے ،جبکہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں توسیع 8.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتوں کی بدحالی کا بڑا سبب معیشت کو دستاویزی بنانے سے گریز ہے ، معیشت کو دستاویزی نہ بنائے جانے کے سبب صنعتی شعبہ سکڑتاجارہاہے جبکہ آج کی دنیا میں پاکستان جیسا کوئی بھی تیزی سے ابھرتا ہوا صنعتی ملک صرف خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا کی برآمدات کے ذریعے اپنی درآمدی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ صنعت کاروں کاکہناہے کہ اگر ہماری ملکی معیشت کودستاویز ی بنادیاجائے اور ایسی پالیسی تیار کی جائے جس میں برآمدات پر قدغن لگائی جائے تو اس سے صنعتوں کے قیام میں بے پناہ اضافہ ہوسکتاہے اور ہمارے نوجوانوں کو ملازمتوں کے لیے بیرون ملک جانے یا غیر ملکی کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتیں بدحالی کا شکار ہیں اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کاسازگار ماحول دستیاب نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ابھی بھی حالات مکمل طورپر ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلے ہیں،پاکستان میں صنعتوں کی ترقی کی مضبوط بنیادیں موجود ہیں پاکستان میں صنعتوں کوچلانے کے لیے محنتی ،قابل اور ذہین افرادی قوت دستیاب ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں صنعتکاری کے شعبے کی پوری طرح بحالی ، نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کی کوششوں میں کامیابی کا انحصار حکومت کی پالیسیوں پر ہے ، اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اسے اس صورت حال میں آگے بڑھنا ہے۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ موجودہ صورت حال میں نئی صنعتوں کا قیام نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میںاضافے کا انحصار اس بات پر ہے کہ خود حکومت اور ارباب حکومت اس مقصد کے لیے ضروری ترغیبات اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ اگر حکومت سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدلی کرنے کو تیار ہے اور چھوٹی ،درمیانے درجے اور بڑی تمام قسم کی صنعتوں میں تیار ہونے والی تمام تر اشیا پر یکساں انداز اور شرح سے ٹیکس عاید کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا اور ٹیکسوں کے نفاذ اور چھوٹ کے لیے الگ الگ صنعتوں کے انتخاب کی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی ،اس کے ساتھ ہی حکومت کو دیگر ممالک سے تیار شدہ اور نیم تیارشدہ اشیا کی بڑے پیمانے پر برآمد اور ان اشیا کا بھاری ذخیرہ کرنے کی پالیسی پر قدغن لگانا ہوگی تاکہ ملکی صنعتوں کوتحفظ مل سکے اور وہ ترقی کرسکیں۔ملکی صنعت کاروں کے خسارے میں کمی ہوسکے اور خسارے کے خدشات سے انہیں نجات مل سکے۔
ایوان صنعت وتجارت لاہور کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی بڑی حد تک ذمہ داری خود تجارتی اداروں کی تنظیموں پر بھی عاید ہوتی ہے ،ان کاکہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تجارتی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیدار اور خاص طورپر ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان کے عہدیدار صنعتی اور تجارتی اداروں کے ارکان کے مسائل حل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے بلکہ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ اس پر بالکل ہی توجہ نہیں دیتے اوراس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے اکثر گریزاں رہتے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیم کے عہدوں پر ایسے لوگ فائز ہوچکے ہیں جو تاجر اور صنعت کار برادری کی نمائندگی کرنے کے بجائے حکمرانوں کی زبانیں بولنے لگے ہیں، تجارتی اور صنعتی برادری کے نمائندہ اداروں کے عہدیداروں کا یہ رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کاکہناہے کہ پاک چین اقتصادی کوریڈور پاکستان کی میعشت میں انقلاب برپا کرسکتا ہے لیکن حکومت مختلف علاقوں کو ملانے کے لیے جس حکمت عملی یا ترجیحات پر عمل پیرا نظر آتی ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس سے صر ف چینی سرمایہ کاروں ہی کو فائدہ پہنچے گا اور مقامی تاجر اس کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔ان کاکہناہے کہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ چین کے تجارتی اور صنعتی اداروں کو پاکستانی اداروں پر ترجیح دی جارہی ہے لیکن اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔
پاکستان کی تاجر اور صنعت کار برادری کے رہنما اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگر ملکی کمپنیوں کو سی پیک سے متعلق پراجیکٹس میں شریک کار بننے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی تو سی پیک پاکستان پر قرضوں اور اس کے سود کے بوجھ مین اضافے اور چینی کمپنیوں کی ترقی کا ذریعہ ثابت ہونے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ مقامی تاجروں اور صنعت کاروں کو اس پروجیکٹ میں شراکت کے برابر کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی صنعت کاروں اورتاجروں کو وہی ترغیبات اور ٹیکسوں میں چھوٹ کی وہی سہولت فراہم کی جائے، چینی سرمایہ کاروں کو جس کی پیشکش کی جارہی ہے یا چینی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو جو سہولتیں حاصل ہیں۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو یہ عظیم منصوبہ پاکستان کے عوام کی زندگی میں کوئی خوشگوار تبدیلی لانے کا ذریعہ ثابت ہونے کے بجائے ان کے مصائب ومشکلات میں اضافے کا سبب بن جائے گا ۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان