وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ مقامی صنعتیں دم توڑنے لگیں، ہزاروں افراد کی بیروزگاری کاخطرہ

جمعه 26 مئی 2017 اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ مقامی صنعتیں دم توڑنے لگیں، ہزاروں افراد کی بیروزگاری کاخطرہ

تیار شدہ ، نیم تیار شدہ اور خام مال کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کی روک تھام میں حکومتی ناکامی کی وجہ سے ملکی صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بہت سی درمیانے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتیں جاں بہ لب ہوچکی ہیں اور ان کے مالکان اپنی صنعتوں کو بند کرنے پر سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں کی ایک سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ چین اور دیگر ممالک یہاں تک کہ بھارت سے اسمگل ہوکر پاکستان پہنچنے والی اشیا کامقابلہ کرنا پاکستانی صنعت کاروں کے لیے مشکل ہے کیونکہ چین اور بھارت سمیت دنیا کے دیگر بیشتر ممالک میں صنعت کاروں کو بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی اور ان کی قیمتوں میں سبسڈی کی فراہمی کا اصول رائج ہے جبکہ پاکستان میں صنعت کاروں کو نہ صرف یہ کہ ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے بلکہ پاکستان میں اشیائے صَرف کی گرانی کی وجہ سے افرادی قوت بھی چین اور بھارت کے مقابلے میں مہنگی ہے،ایسی صورت میںاسمگل شدہ اشیا کامقابلہ، جس پر کسی طرح کاکوئی ٹیکس نہیں ادا کرناپڑتا، پاکستانی صنعت کاروں کے لیے ناممکن ہے اور انہیں جلد یا بہ دیر اپنی صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہونا ہی پڑے گا جس کے نتیجے میں ان صنعتوں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کابیروزگار ہونا یقینی ہوگا جس سے ملک میں بیروزگاری، جو پہلے ہی بے قابوہوچکی ہے،اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
لاہور میں فٹبال، جوتوں، اسٹیشنری کی اشیا ، ٹیکسٹائل کی پیکیجنگ ، مختلف اقسام کے بیگز اور پی وی سی فلورنگز وغیرہ کا بنیادی خام مال فراہم کرنے والے تاجروں کاکہنا ہے کہ ملک کی صنعتوں کا پہیہ چلتے رہنے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت معیشت کے تمام شعبوں کی ڈاکومنٹیشن کو یقینی بنائے، جب تک ایسا نہیں کیا جائے گاخام، نیم خام مال اور تیار شدہ اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام ممکن نہیںہوگی اور اگر اسمگلنگ کا یہ کاروبار اسی طرح جاری رہا تو ملکی معیشت کا بیٹھ جانا یقینی ہوگا۔
صنعتکاروں کاکہناہے کہ اب یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ ہم اپنی صنعتوں کو سہارا دے کر اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں یا اس معاشرے کو صارفین کے معاشرے میں تبدیل کرکے اپنے نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک جانے پرمجبور کرنا ہے۔صنعت کاروں کاکہنا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے چھوٹے صنعتکاروںکیلیے حکومت کی بے اعتنائی اور صنعتکاروںکی پشت پناہی کے لیے کوئی مناسب اور مضبوط پالیسی نہ بنائے جانے کے سبب اب صنعت کار اپنی صنعتیں بند کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ صنعتکارروں کاکہناہے کہ نہ تو حکومت کی پالیسیاں ایسی ہیں جنہیں سرمایہ کار دوست کہاجاسکے اور نہ ہی حکومت کا رویہ ایسا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکے ، ایسی صورت میں کوئی ایسی صنعتوں میں سرمایہ کیوں لگائے گا جس میں سخت محنت کے باوجود نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آناہے،پھر سرمایہ کار ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرے گا جہاں سرمایہ کاری کرنا بھی آسان ہے اور اس پر منافع کی واپسی بھی فوری شروع ہوجاتی ہے اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی صورت میںٹیکسوں کے زیادہ چکر میں بھی نہیں پڑنا پڑتا۔
صنعت کاروں کاکہناہے کہ معیشت کی ترقی کادعویٰ کرنے والے حکمرانوں کو کیا یہ نظر نہیں آتا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستان سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور گزشتہ تین سال کے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ملکی برآمدات میں مجموعی طورپر 20 فیصد تک کمی ہوچکی ہے جبکہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ، جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کاتوازن مسلسل بگڑتا جارہاہے۔
صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتوں کی بدحالی کااندازہ اس طرح لگایا جارہاہے کہ رواں مالی سال کے دوران صنعتی ترقی کی شرح کااندازہ 5 فیصدسے کچھ زیادہ لگایاگیاہے جبکہ رواں سال کے بجٹ میں صنعتی ترقی کا ہدف 6.1 فیصد مقرر کیاگیاتھا۔
اعدادوشمار کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتوں میں توسیع کا ہدف رواں مالی سال کے بجٹ میں 5.9 فیصد مقرر کیاگیاتھا لیکن اب تک یہ حد 4.93 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے ،جبکہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں توسیع 8.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتوں کی بدحالی کا بڑا سبب معیشت کو دستاویزی بنانے سے گریز ہے ، معیشت کو دستاویزی نہ بنائے جانے کے سبب صنعتی شعبہ سکڑتاجارہاہے جبکہ آج کی دنیا میں پاکستان جیسا کوئی بھی تیزی سے ابھرتا ہوا صنعتی ملک صرف خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا کی برآمدات کے ذریعے اپنی درآمدی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ صنعت کاروں کاکہناہے کہ اگر ہماری ملکی معیشت کودستاویز ی بنادیاجائے اور ایسی پالیسی تیار کی جائے جس میں برآمدات پر قدغن لگائی جائے تو اس سے صنعتوں کے قیام میں بے پناہ اضافہ ہوسکتاہے اور ہمارے نوجوانوں کو ملازمتوں کے لیے بیرون ملک جانے یا غیر ملکی کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ ملک میں صنعتیں بدحالی کا شکار ہیں اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کاسازگار ماحول دستیاب نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ابھی بھی حالات مکمل طورپر ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلے ہیں،پاکستان میں صنعتوں کی ترقی کی مضبوط بنیادیں موجود ہیں پاکستان میں صنعتوں کوچلانے کے لیے محنتی ،قابل اور ذہین افرادی قوت دستیاب ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں صنعتکاری کے شعبے کی پوری طرح بحالی ، نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کی کوششوں میں کامیابی کا انحصار حکومت کی پالیسیوں پر ہے ، اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اسے اس صورت حال میں آگے بڑھنا ہے۔صنعت کاروں کاکہناہے کہ موجودہ صورت حال میں نئی صنعتوں کا قیام نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میںاضافے کا انحصار اس بات پر ہے کہ خود حکومت اور ارباب حکومت اس مقصد کے لیے ضروری ترغیبات اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ اگر حکومت سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدلی کرنے کو تیار ہے اور چھوٹی ،درمیانے درجے اور بڑی تمام قسم کی صنعتوں میں تیار ہونے والی تمام تر اشیا پر یکساں انداز اور شرح سے ٹیکس عاید کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا اور ٹیکسوں کے نفاذ اور چھوٹ کے لیے الگ الگ صنعتوں کے انتخاب کی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی ،اس کے ساتھ ہی حکومت کو دیگر ممالک سے تیار شدہ اور نیم تیارشدہ اشیا کی بڑے پیمانے پر برآمد اور ان اشیا کا بھاری ذخیرہ کرنے کی پالیسی پر قدغن لگانا ہوگی تاکہ ملکی صنعتوں کوتحفظ مل سکے اور وہ ترقی کرسکیں۔ملکی صنعت کاروں کے خسارے میں کمی ہوسکے اور خسارے کے خدشات سے انہیں نجات مل سکے۔
ایوان صنعت وتجارت لاہور کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی بڑی حد تک ذمہ داری خود تجارتی اداروں کی تنظیموں پر بھی عاید ہوتی ہے ،ان کاکہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تجارتی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیدار اور خاص طورپر ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان کے عہدیدار صنعتی اور تجارتی اداروں کے ارکان کے مسائل حل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے بلکہ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ اس پر بالکل ہی توجہ نہیں دیتے اوراس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے اکثر گریزاں رہتے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیم کے عہدوں پر ایسے لوگ فائز ہوچکے ہیں جو تاجر اور صنعت کار برادری کی نمائندگی کرنے کے بجائے حکمرانوں کی زبانیں بولنے لگے ہیں، تجارتی اور صنعتی برادری کے نمائندہ اداروں کے عہدیداروں کا یہ رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کاکہناہے کہ پاک چین اقتصادی کوریڈور پاکستان کی میعشت میں انقلاب برپا کرسکتا ہے لیکن حکومت مختلف علاقوں کو ملانے کے لیے جس حکمت عملی یا ترجیحات پر عمل پیرا نظر آتی ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس سے صر ف چینی سرمایہ کاروں ہی کو فائدہ پہنچے گا اور مقامی تاجر اس کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔ان کاکہناہے کہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ چین کے تجارتی اور صنعتی اداروں کو پاکستانی اداروں پر ترجیح دی جارہی ہے لیکن اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔
پاکستان کی تاجر اور صنعت کار برادری کے رہنما اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگر ملکی کمپنیوں کو سی پیک سے متعلق پراجیکٹس میں شریک کار بننے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی تو سی پیک پاکستان پر قرضوں اور اس کے سود کے بوجھ مین اضافے اور چینی کمپنیوں کی ترقی کا ذریعہ ثابت ہونے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ مقامی تاجروں اور صنعت کاروں کو اس پروجیکٹ میں شراکت کے برابر کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی صنعت کاروں اورتاجروں کو وہی ترغیبات اور ٹیکسوں میں چھوٹ کی وہی سہولت فراہم کی جائے، چینی سرمایہ کاروں کو جس کی پیشکش کی جارہی ہے یا چینی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو جو سہولتیں حاصل ہیں۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو یہ عظیم منصوبہ پاکستان کے عوام کی زندگی میں کوئی خوشگوار تبدیلی لانے کا ذریعہ ثابت ہونے کے بجائے ان کے مصائب ومشکلات میں اضافے کا سبب بن جائے گا ۔


متعلقہ خبریں


مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار وجود - اتوار 31 مئی 2020

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول سے 8 کلو میٹر اندر تک چین نے اپنا کیمپ قائم کر دیا ہے۔ جبکہ چین نے واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ جگہ بھارت کی نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت اور میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔بھارت کی فوج کے دو ٹینکر پہلے ہی پہنچ چکے ہیں تاہم چینی فوج کے قریب جانے کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث طے شدہ دوروں کے...

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت اور 37 ممالک نے کورونا وائرس وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کی اور کہا کہ پیٹنٹ قوانین اس اہم ترین اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے اس اقدام کو زیادہ زیادہ تر تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے پذیرائی ملی۔ترقی پذیر اور چند چھوٹے ممالک کو خدشہ ہے کہ امیر ممالک کو ویکسین کی تلاش میں وسائل صرف کر رہے ہیں، کامیابی کے بعد اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں گے۔کوسٹا ر...

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت میں لاک ڈاؤن کے دوران بھوک و افلاس کا عالم دیکھ کر انسانیت شرما گئی، کوئی ننگے پیر سیکڑوں میل پیدل سفر کرکے گھر پہنچا تو کسی کو بھوک نے مردار کھانے پر مجبور کر دیا۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق چلچلاتی دھوپ، تپتی زمین اور ننگے پیر میلوں کا سفر، ایسے میں عورتوں اور بچوں کا بھی ساتھ ہو تو غربت کا کیا عالم ہوگا، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار او...

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ بنانا لیا، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منصوبہ بندی کرلی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بارہا عالمی برادری کو بھارتی عزائم بارے کئی مرتبہ خبردار کر چکے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کرنے اور اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مکروہ منصوبہ بندی کر لی ہے، یہ سب ...

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ،دوول کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق چائنا پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے بھارت کی بْنیادیں ہلا دیں،بھارت اقوامِ عالم میں تنہا ہو گیا،پہلے پلوامہ ڈرامے میں اپنے 40سپاہی مروائے ۔رپورٹ کے مطابق بالاکوٹ میں ہزیمت اْٹھانا پڑی،بھارتی ائیر فورس کی ناکامی سے بھارتی خواب چکنا چور ہو گئے ،کشمیر پالیسی بْری طرح ناکام،چائنہ نے بھارتی ملٹری کو بے نقاب ک...

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین وجود - هفته 30 مئی 2020

چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون...

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی وجود - هفته 30 مئی 2020

لداخ میں غیر قانونی تعمیرات پربھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ، چین نے کشمیر کے علاقے اکسائے چن پر بھی فوجی قوت بڑھا دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے ، چین لداخ میں متنازع سڑک پر پل کی تعمیر روکنا چاہتا ہے ، چین نے ائیرپورٹ پر ملٹری قوت میں اضافہ کر لیا۔لداخ میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا، گولوان وادی کے تین پوائنٹس اور پینگانگ جھیل پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے ہیں۔واضح رہے کہ لداخ کے علاقے میں بھارت اور چین تنازع شروع ہوئے ایک...

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 30 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو کمپنیاں بچوں کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنے کے لیے خطرناک اور جان لیوا ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے بتایاکہ یہ حیرانی کی بات نہیں کہ سگریٹ نوشی شروع کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر اٹھارہ برس سے بھی کم ہوتی ہے ۔ اس ادارے نے مزید بتایا کہ تیرہ سے پندرہ برس تک کی عمر کے درمیان چوالیس ملین بچے اس وقت سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ اتوار اکتیس مئی کو منا...

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 30 مئی 2020

ذیابیطس کا ہر دس میں سے ایک مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں ہسپتال جانے کے سات دن بعد ہی اپنی زندگی کی بازی ہار سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف ایک تازہ سائنسی مطالعے کے نتائج میں کیا گیا ہے ، جو جمعے کے روز ایک جریدے میں شائع ہوئے ۔ اس مطالعے کے دوران ذیابیطس کے تیرہ سو مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ پچھتر برس سے زائد عمر کے مریضوں میں پچپن برس سے کم عمر کے مریضوں کے مقابلے میں شرح اموات چودہ فیصد زیادہ رہی۔ دل، بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے امراض میں مب...

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں نئے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چین میں اسی وائرس کے باعث اموات سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں مزید 175 افراد ہلاک ہو گئے اور یوں ایسی اموات کی مجموعی تعداد 4,706 ہو گئی۔ بھارت میں نئے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 165,799 ہو گئی ہے ۔ مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے ۔ دوسری جانب چین میں جمعے کو کووڈ انیس کا کوئی ایک بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس بیماری کے باعث کوئی موت ہوئی۔ چین میں متاثرین کی تعداد 82,995 ...

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

ملائیشیا کی سیاسی جماعت یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو انہی کی پارٹی سے نکال دیا گیا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد نے اپنی ہی جماعت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور وہ 18 مئی کو ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے ۔ملائیشیا کی یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاتیر محمد کی پارٹی رکنیت کو فوری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے ۔عرب میڈیا کا بتانا ہیکہ پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد کو ان کی اپن...

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا