وجود

... loading ...

وجود

آئی جی سندھ پولیس کی عہدہ چھوڑنے کی رضاکارانہ پیشکش ،سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع ختم کرنے سے انکار

بدھ 24 مئی 2017 آئی جی سندھ پولیس کی عہدہ چھوڑنے کی رضاکارانہ پیشکش ،سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع ختم کرنے سے انکار

یوں دسمبر 2016ء سے شروع کی گئی کہانی کا ڈراپ سین تو نہیں ہوسکا لیکن اب معاملات منطقی انجام کی طر ف جارہے ہیں۔جو کھیل پی پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ نے انور مجید کے کہنے پرشروع کیاتھااس کو اب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ختم کررہے ہیں۔لیکن دودفعہ حکومت سندھ کو پسپا کرنے والے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بھرا میلہ چھوڑ کرجارہے ہیں۔پہلی مرتبہ 19دسمبر 2016ء کو حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کو 15روز کی جبری چھٹی پر بھیج دیا۔مگر 14 ویں روزعسکری حکام کی طرف سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایاگیاتو مجبور اً آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو بلالیاگیا۔اور پھر سندھ ہائی کورٹ نے بھی حکم امتناع جاری کردیا، تب یہ معاملہ دب گیاتھا،لیکن پچھلے دنوں جب حکومت سندھ نے آناً فاناً آئی جی سندھ پولیس کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے عبدالمجید دستی کو نیا عارضی آئی جی سندھ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،تب سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے حکومت سندھ کو آئی جی سندھ کو ہٹانے سے روک دیااور تاحال حکم امتناع برقرارہے ۔اسی اثناء میں وفاقی حکومت نے بھی آکر سندھ ہائی کورٹ میں ا پنا مؤقف پیش کیاکہ1993ء میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں میں یہ طے پایا تھاکہ چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت کرے گی کیونکہ دونوں عہدے وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں،اس لیے ان کی تقرری وفاق کرتاہے ۔
حکومت سندھ کو دونوں مرتبہ منہ کی کھانی پڑی ہے ۔اس صورت حال نے حکومت سندھ کو مشتعل کردیاہے اور حکومت سندھ نے آئی جی سندھ کے لیے مشکلات پیداکرنا شروع کردی ہیں۔کبھی ان کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں نہیں بلایاجاتا،کبھی ان کو وزیر اعلیٰ ہاؤ س میں امن وامان کے اجلاس سے دور رکھاجاتاہے ،کبھی ان سے رائے لیے بغیر افسروں کے تبادلے اور ترقیاں کی جاتی ہیں۔یہ کھیل ایک ایسی عوامی حکومت کھیل رہی ہے جو سارا دن عوام کی خدمت کاراگ الاپتی ہے اور اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسروںکی تعریفیں کرتے نہیںتھکتی ۔لیکن ایسی عوامی حکومت کو ایسا آئی جی نہیں چاہیے جو اچھی شہرت رکھنے والاہو،جو بجٹ کے 8 ارب روپے یہ کہہ کر واپس کرنے والا ہو کہ یہ رقم خرچ نہیں ہوئی تو اس کو واپس خزانہ میں جمع کیاجائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت سندھ توکٹھ پتلی ہے ، اصل ڈور تو آصف زرداری ، فریال تالپورا ور انور مجید کے ہاتھ میں ہے اور ان تینوں کو ناراض کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے، اور آئی جی سندھ پولیس ان تینوں سے پنگا لے چکے ہیں۔اب آئی جی سندھ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ واپس ہوجائیں، یا پھر وہ تینوں پیچھے ہٹ جائیں۔تینوں کا مؤقف ہے کہ پولیس کی بھرتیاں بلاول ہاؤ س سے بھیجی گئی فہرست کے تحت کی جائیں۔پولیس میں جو ٹھیکیدار چل رہے ہیں ان کو چلنے دیاجائے۔ان کو ہی بڑے بڑے ٹھیکے دیے جائیں اور ان ٹھیکوں میں میرٹ کا لفظ بھی استعمال نہ کیاجائے ۔جن پولیس افسران پر نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں،آئی جی سندھ پولیس ان کا دفاع کریں، ان کے خلاف مواد بھی نیب کو نہ دیں۔کرپٹ پولیس افسران کو اچھی پوسٹنگ دی جائے اور اگر وہ غلط کام کریں تو ان کو کچھ نہ کہاجائے ۔ظاہرہے آئی جی سندھ کے لیے یہ بات مشکل ہے، اس لیے وہ اپنے اصولوں پر اَڑ گئے ہیں۔جب حکومت سندھ کو دومرتبہ عدالتی محاذ پر شکست دے کر وہ اپنے عہدے پر برقرارہیںتو انہوں نے قریبی دوستوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کیاہے کہ اب عہدہ چھوڑنا ہی بہتر ہوگا۔کیونکہ اب ہر قدم پر حکومت ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ تب انہوں نے یہی بہتر سمجھاکہ سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی جائے کہ میرے حق میں جو حکم امتناع دیا ہوا ہے وہ ختم کیاجائے اور مجھے وفاقی حکومت میں جانے دیاجائے کیونکہ یہاں پر تو ہر قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیںا ور اس ماحول میں کام کرنا اچھا نہیں ہے، مگر سندھ ہائی کور ٹ نے یہ استدعا مستر دکرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو کام جاری رکھنے کا حکم دیاہے اور واضح ہدایات دی ہیں کہ پولیس افسران مشکل حالات میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔مشکلات سے گھبراکر افسران کو میدان چھوڑ کرنہیں جاناچاہیے ، یوں آئی جی سندھ کی درخواست کے باوجودد س روز تک کا حکم امتناع جاری کردیا۔اس طرح آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے لیے یہ عہدہ کمبل کی طرح ہوگیاہے کہ وہ کمبل کی جان چھوڑ رہے ہیں مگر کمبل ان کی جان نہیں چھوڑ رہا۔آئی جی سندھ نے جس روز سندھ ہائی کور ٹ میں حلف نامہ جمع کرایاکہ ان کے حق میں جو حکم امتناع جاری کیاہواہے وہ ختم کیاجائے اور ان کو وفاقی حکومت میں جانے دیاجائے ،لیکن جب ہائی کورٹ نے ان کی یہ استدعا مستر دکردی تو اس وقت انور مجید اور بلاول ہاؤس پہلے تو خوش ہوئے لیکن حکم امتناع برقرار رکھنے کے حکم کے بعد ان کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔
اب وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو نئی ذمہ داریا ں دینے اور نئے آئی جی سندھ پولیس کے لیے مختلف ناموں پر غور شروع کردیاہے ۔بتایا جاتاہے کہ وفاقی حکومت فی الحال سندھ ہائی کور ٹ کے حکم امتناع کے ختم ہونے کا انتظار کررہی ہے،اگر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع ختم کیا تو اس صورت میں اے ڈی خواجہ کو آئی جی ریلوے ،ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی موٹر وے ،ڈی جی آئی بی ،پرنسپل پولیس اکیڈمی سمیت مختلف عہدوں پر پوسٹنگ دینے پر غور کررہی ہے اور سندھ میں نئے آئی جی پولیس کے لیے ثناء اللہ عباسی ، مشتاق مہر اوربشیر میمن کے ناموں پر غور کررہی ہے کیونکہ حکومت سندھ نے پہلے جو نام بھیجے تھے ان کو مستردکردیاگیاہے ۔ ان میں غلام قادر تھیبو، عبدالمجید دستی اور خاد م حسین بھٹی شامل ہیں، خادم حسین بھٹی تو تین ماہ میں ریٹائر ہوجائیں گے ۔حکومت سندھ اب اندر سے پریشان ہے کہ اگر اے ڈی خواجہ کے ساتھ مل کر کام کیاجاتا تو بہتر تھا، ان کو قائل کیا جاسکتاتھا،لیکن اب اگر مشتاق مہر ،ثناء اللہ عباسی اور بشیر میمن میں سے کوئی ایک آئی جی آگیا تو حکومت سندھ کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوجائیں گی ۔یہی وجہ ہے کہ جس روز آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے تبادلے کے لیے حلف نامہ جمع کرایا، اس کے اگلے روز وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کے بہانے بلایااور ان کے ساتھ ملاقات بھی کی اوران کو اپنی مجبوریاں بھی بتائیں، مگر آئی جی سندھ نے کوئی ناراضگی نہیں دکھائی اور کہا کہ ان کے لیے پوسٹنگ اہمیت نہیں رکھتی ،اصل میں عزت ہی سب کچھ ہے ۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر