وجود

... loading ...

وجود

امریکا کو ساڑھے 3ہزار سے زیادہ اشیا ڈیوٹی ادا کیے بغیر برآمد کرنا ممکن ہے

پیر 22 مئی 2017 امریکا کو ساڑھے 3ہزار سے زیادہ اشیا ڈیوٹی ادا کیے بغیر برآمد کرنا ممکن ہے


پاکستان میں امریکا کے تجارتی اتاشی جیمز فلوکر نے گزشتہ روزایوان صنعت وتجارت خیبر پختونخوا کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ پاکستان امریکا کو ساڑھے 3ہزار سے زیادہ اشیا ڈیوٹی ادا کیے بغیر برآمد کرسکتاہے۔جیمز فلوکر نے خیبر پختونخوا کے تاجروں اورصنعت کاروں کو امریکی مارکیٹ میں پاکستانی اشیا کی طلب پیدا کرنے اور ان کو اسی طرح کی اشیا تیار اور برآمد کرنے والے دیگر ممالک کے مقابلے نسبتاً کم قیمت اور زیادہ قابل قبول بنانے کے طریقے بھی بتائے۔جیمز فلوکر کا خیبر پختونخوا کا یہ دورہ پاکستانی صنعت کاروں اور تاجروں کو امریکا میں بڑھتے ہوئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دینے اور اس حوالے سے ان کی مدد کرنے کی امریکی کوششوں کاحصہ تھا۔
جیمز فلوکر نے خیبر پختونخوا کے تاجروں اور صنعت کاروں کو یاد دلایا کہ 2012ءمیں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کاحجم 5 ارب ڈالر کے مساوی تھا اور پاکستان سے دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ اشیا امریکا برآمد کی جاتی تھیں۔یعنی پاکستان امریکا کو اشیا برآمد کرنے والےسب سے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل تھا۔جیمز فلوکر نے ایوان صنعت وتجارت خیبر پختونخوا کے ارکان کو بتایا کہ امریکا کا شمار دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور تجارتی سرزمین کے طورپر ہوتاہے، امریکی تجارت اور معیشت دنیا کے دیگر کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ بڑی اور کھلی ہوئی ہے یعنی دنیا کے ہر ملک کو امریکی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے۔جس کاثبوت یہ ہے کہ امریکا پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو کم وبیش ساڑھے 3 ہزار اشیا بغیر ڈیوٹی برآمد کرنے کی اجازت دیتاہے، ان اشیا میں جیولری،پاکستان میں تیار کردہ مختلف اقسام کی اشیا، مختلف اقسام کے قالین، زرعی اشیا ،معدنیات اور ماربل شامل ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ امریکا یہ بات اچھی طرح سمجھتااور محسوس کرتاہے کہ مستقبل کے پاک امریکا تعلقات کا بڑی حد تک انحصار تجارت وسرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی پر ہوگا۔
جیمز فلوکر نے بتایا کہ امریکا کی کمرشل سروس دراصل امریکی حکومت کا تجارت کے فروغ کا دفتر ہے جو امریکی برآمدکنندگان کو پورے امریکا اور دنیا کے کم وبیش 70 ممالک میں موجود اپنے 100 سے زیادہ دفاتر کے نیٹ ورک کے ذریعے امریکی برآمدکنندگان اوربین الاقوامی خریداروں کے درمیان رابطے کی خدمات انجام دیتاہے، انہوں نے بتایا کہ کراچی ،اسلام آباد اور لاہور میں بھی امریکا کے تجارتی دفاتر قائم ہیں جہاں سے پاکستان برآمد اوردرآمد کنندگان کی مناسب رہنمائی کی جاتی ہے۔یہ دفاتر پاکستانی خریداروں کو امریکی اشیا کے بارے میں معلومات بہم پہنچانے ،تجارتی پارٹنرز سے رابطے کرانے ،سپلائیرز سے ملاقاتیں کرانے اورتجارتی شراکت داری کے قیام کیلئے متعلقہ سرمایہ کاروں ،تاجروں اور صنعت کاروں کی دوبدو ملاقاتیں کرانے،تجارتی شو میں شرکت میں مدد دینے، جہاں پاکستانی تاجروں، صنعت کاروںا ورسرمایہ کاروں کی ہزاروں امریکی کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتیں اور رابطے ہوجاتے ہیں، کے سلسلے میں سروسز فراہم کرتا ہے۔ جون2013 ءمیں امریکی حکومت نے پاکستانی تاجروں کے ایک وفد کو نیویارک سٹی میں ایک بین الاقوامی فرنچائز نمائش میں شرکت کرنے کاموقع فراہم کیاتھا جس کے مفید نتائج برآمد ہوئے تھے اور اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان کئی اہم تجارتی معاہدے طے پائے تھے ۔
ایوان صنعت وتجارت خیبر پختونخوا کے صدر نے اس موقع پر امریکی تجارتی اتاشی کاشکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی اور خیبر پختونخوا میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔جس سے صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیداہوں گے جو صوبے میں خوشحالی کا ذریعے ثابت ہوں گے۔
جہاں تک پاک امریکا تجارت کاتعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اورزیادہ سے زیادہ اشیا امریکا برآمد کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں امریکی صارف پاکستانی اشیا کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال کم وبیش 20 فیصد امریکی صارفین نے پاکستان کی تیار کردہ یا پاکستان میں پیدا ہونے والی اشیا کی خریداری کو ترجیح دی۔اس کے علاوہ پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں بھی امریکا اب تک سرفہرست رہاہے۔
پاکستانی تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروںکو امریکا کے لیے برآمدات بڑھانے میں مدد دینے کے حوالے سے جیمز فلوکر کا یہ دورہ یا کوششیں امریکا کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد دینے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے جبکہ امریکا پاکستان کو گومل زام ڈیم اور ستپارہ ڈیموں سے سیراب ہونے والی 2 لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی پر زراعت کو وسعت دینے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو آپس میں ملانے اوران کے رابطوں اور تجاری نقل وحمل میں آسانی فراہم کرنے کے لیے ایک ہزار کیلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیرکے علاوہ پنجاب میں ڈیری فارمز کو جدید بنانے اورچھوٹے اوردرمیانے درجے کے تاجروں کی مدد کے لیے ایکویٹی فنڈز کے اجرا میں بھی مدد دے رہاہے۔
جیمز فلوکر نے خیبر پختونخوا کے تاجروں اور صنعت کاروں کو یقین دلایا ہے کہ اسلام آباد ،لاہور اور کراچی میں موجود امریکی حکومت کے تجارتی دفاتر ان کو ڈیوٹی ادا کیے بغیر امریکا برآمد کی جانے والی اشیا کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے اور ان اشیا کی برآمد میں مدد دینے کو ہمہ وقت تیار ہے اور اس حوالے سے ان دفاتر سے آن لائن رابطہ بھی کیاجاسکتاہے۔
امریکا کی جانب سے پاکستانی تاجروں کو زیادہ سے زیادہ اشیا امریکا برآمد کرنے کی ترغیب دینے کے حوالے سے امریکی تجارتی اتاشی کی ان کوششوں کا بنیادی مقصد پاکستان میں امریکی اشیا کی کھپت کے امکانات تلاش کرنا اور پاکستان کو امریکی اشیا کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان میں عوامی سطح پر امریکا کی تیار کردہ اشیا کی کھپت میں بتدریج کمی آئی ہے جس کی بڑی وجہ دیگر ممالک کے مقابلے میں امریکا کی تیار کردہ اشیا کی قیمت زیادہ ہونا اور پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں میں عدم ٹھہراؤ بھی ہے ۔کم وبیش یہی صورت حال صنعتی شعبے میں رہی ہے کیونکہ امریکی مشینری اوردیگر صنعتی اشیا دیگر ممالک جن میں جاپان، کوریا اور چین شامل ہیں زیادہ مہنگی ہیں اور ان کی بعد از فروخت سروس بھی بروقت دستیاب نہیں ہوتی ۔اب جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں امریکی تجارتی دفاتر بھی زیادہ فعال نظر آرہے ہیں اور وہ پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے مدد گار کے طورپر سامنے آکر پاکستان میں امریکی اشیا کی کھپت میں اضافے کی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آرہے ہیں۔تاہم وجہ جو بھی ہو پاکستانی برآمدکنندگان کو امریکی منڈیوں میں پیداہونے والی گنجائش سے فائدہ اٹھانے اور زیادہ سے زیادہ روایتی اور غیر روایتی اشیا امریکا برآمد کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔


متعلقہ خبریں


سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

مضامین
نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر