وجود

... loading ...

وجود

برآمدات میں اضافے کے لیے بجٹ سیمینار‘تاجروں نے ٹیرف، سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی کے مسائل پیش کردیے

اتوار 21 مئی 2017 برآمدات میں اضافے کے لیے بجٹ سیمینار‘تاجروں نے ٹیرف، سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی کے مسائل پیش کردیے


وزارت تجارت نے ملک کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے کچھ سفارشات تیار کی ہیں، جن میں ٹیرف، سیلز ٹیکس کی واپسی اور کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجاویز شامل ہیں ۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے ریوینیو ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزارت تجارت کے زیر اہتمام ”برآمدات میں اضافے کابجٹ“ کے عنوان ایک سیمینار میں ان سفارشات پر غور کیاگیااور ان کو حتمی شکل دی گئی۔
سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے آغاز میں اس کی غرض وغایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد نجی شعبے کو پالیسی سازوں کے سامنے تجارت کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرنے کاموقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ وزارت تجارت اپنی پالیسیوں میں دیگر امور کے ساتھ برآمدی شعبے کو ترجیح دیتی ہے اور بیرون ملک دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلے میں پاکستانی برآمدکنندگان کو پیش آنے والی مشکلات اور مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود کراچی اور لاہور جاکر برآمد کنندگان سے برآمدات میں اضافے کے لیے مجوزہ بجٹ کے لیے تجاویز وصول کی ہیں جو وزارت خزانہ کو بھجوادی گئی ہیں تاکہ ان کی روشنی میں پالیسی سازی کی جاسکے۔
سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے شرکا کو بتایا کہ انہیں برآمد کنندگان سے جو سفارشات اور تجاویز ملی ہیں ان میں سے بیشتر کاتعلق ٹیرف،سیلز ٹیکس کی واپسی یعنی سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ سے ہے ،انہوںنے بتایا کہ ان تجاویز کی روشنی میں انہوں نے خود ایف بی آر کے چیئرمین سے رابطہ کیا، انہیں برآمدکنندگان کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر ایف بی آر کے چیئرمین نے ان تجاویز پر غور کرکے اس پر مناسب کارروائی کرنے اوربرآمد کنندگان کی شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔اس موقع پرسیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے برآمدکنندگان کی جانب سے درج ذیل تجاویز پیش کیں۔
اول یہ کہ برآمدی شعبے کے زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طورپر ادا کیے جائیں اور ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کا ایک قابل عمل اور قابل قبول میکانزم تیار کیاجائے۔انہوں نے بتایا کہ برآمدکنندگان کو شکایت ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز بروقت نہ ہونے سے ان کاسرمایہ پھنس جاتاہے اور انہیں قرضوں پر سود کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں جس سے پاکستانی اشیا کی لاگت میں اضافہ ہوتاہے اور بیرونی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے جس کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔دوسرے یہ کہ حال ہی میں ریفنڈز کے حوالے سے ادائیگیاں صرف اس بہانے روک دی گئیں کہ اس میں پیکیجنگ میٹیریل پر بھی ریفنڈ کلیم کیاگیاتھا جو کہ وزیراعظم اور برآمدکنندگان کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے منافی ہے ،برآمدکنندگان کاکہناہے کہ اگر کسی کلیم میں ایسا ہوا ہے تو اس میں سے پیکیجنگ میٹیریل پر کلیم کی گئی رقم منہا کرکے فوری طورپر ادائیگیاں کی جائیں تاکہ برآمد کنندگان کو مالی سہولت مل سکے اورپیکیجنگ میٹیریل کے حوالے سے اعتراضات کا بعد میں علیحدہ سے تصفیہ کر لیا جائے۔
برآمدکنندگان کا کہناہے کہ فی الوقت صرف 5 برآمدی شعبوں کو ٹیکسوں کی مکمل چھوٹ حاصل ہے جس میں ٹیکسٹائل ،چمڑا اور اس کی مصنوعات، سرجیکل اشیا، اسپورٹس کا سامان، اور قالین شامل ہیں ، ان میں سے ٹیکسٹائل کے شعبے کی مجموعی برآمدات 9ہزار 362 ملین ڈالر کے مساوی، چمڑا اور اس کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 396 ملین ڈالر، سرجیکل اشیا کی مجموعی برآمدات 262 ملین ڈالر، کھیلوں کے سامان کی مجموعی برآمدات 234 ملین ڈالر اورکارپٹس یعنی قالین کی برآمدات 74 ملین ڈالر کے مساوی ہیں۔تاہم ان اشیا کے علاوہ جن چیزوں کی برآمدات سے ملک کوبھاری زرمبادلہ حاصل ہوتاہے اس میں چاول کی برآمدات سے مجموعی طورپر ایک ہزار 376 ملین ڈالر،مچھلی اور اس کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 240 ملین ڈالر ، پھلوں کی مجموعی برآمدات 356 ملین ڈالر ،گوشت اور گوشت سے تیار کردہ اشیا کی مجموعی برآمدات 212 ملین ڈالر ،کیمیکلز کی مجموعی برآمدات 294 ملین ڈالر، ادویات کی مجموعی برآمدات 588 ملین ڈالر، سیمنٹ کی مجموعی برآمدات 248 ملین ڈالر ،پلاسٹک میٹیریل کی مجموعی برآمدات 141 ملین ڈالر شامل ہے لیکن ان شعبوں کو حکومت کی جانب سے مکمل طورپر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ برآمدکنندگان کا کہنا کہ جن اشیا کی برآمدات میں اضافے کی گنجائش موجود ہے ان سب کو زیروریٹنگ کی فہرست میں شامل کیاجانا چاہیے۔
برآمدکنندگان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ زیرو ریٹنگ میں شامل پانچوں برآمدی شعبوںکی پیکیجنگ میٹیریل سمیت تمام اشیا پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دی جائے، سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا کے مطابق برآمد کنندگان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ درآمدی اشیا پر کسٹمز کی چھوٹ کی ایڈجسٹمنٹ ریفنڈ کے بجائے بیرون ملک سے رقم کی وصولی پرکی جائے،بصورت دیگر اس سے برآمدکنندگان کو مالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اشیا کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک طرف برآمدکنندگان برآمدی اشیا پر زیرو ریٹنگ کا دائرہ وسیع کرنے کامطالبہ کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب اطلاعات یہ ہےں کہ حکومت زیرو ریٹنگ کی سہولت مکمل طورپر ختم کرنے پر غور کررہی ہے۔سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے دوران اعتراف کیا کہ اس حوالے سے کچھ خبریں شائع ہوئی ہیں جس کی وجہ سے برآمدات کے شعبے میں ہلچل اور بے چینی پائی جاتی ہے اور اس سے تجارتی ماحول متاثر ہورہاہے،سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے وزیر اعظم کے خصوصی معاون سے درخواست کی کہ وہ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی تردید کریں اور تمام برآمد کنندگان کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ایسا نہیں کیاجائے گا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برآمدکنندگا ن کو یقین دلایا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے 2017-18ءکے بجٹ میں ان کی تجاویز کو مد نظر رکھے گی لیکن انہوں نے زیرو ریٹنگ ختم نہ کیے جانے کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی کرانے سے گریز کیا جس کی وجہ سے برآمدی شعبے کی تشویش میں اضافہ ہواہے اور عام طورپر یہ خیال کیاجارہاہے کہ اس طرح کی کوئی تجویز ضرور حکومت کے زیر غور ہے جس کا اظہار اگلے مالی سال کے بجٹ میں کیاجائے گا جو پروگرام کے مطابق رمضان المبار ک سے صرف 2 دن قبل یعنی 26 مئی کو پیش کیاجائے گا۔
سیمینار کے دوران برآمدکنندگان نے تجاویز بھی پیش کیں جن میں بنیادی خام مال اورمشینری کی درآمد پر ڈیوٹی مکمل طورپر ختم کرنے اور تیار شدہ اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجویز کے علاوہ بعض اشیا کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے ،پیکیجنگ میٹیریل سمیت تمام پیداوار پر سیلز ٹیکس ختم کرنے،ای ڈی ایس 3سال کے لیے معطل کرنے ،جی آئی ڈی سی پر سے لیویز ختم کرنے،وزیر اعظم کے برآمدی پیکیج میں ٹیکسٹائل کی وہ تمام اشیا شامل کرنے جس کی پیکیج میں وضاحت نہیں ہے ،ایکسچینج ریٹ کے مطابق برآمدات کا ترغیباتی بونس ادا کرنے ،صنعتوں کی مالی مشکلات ختم کرنے کے لیے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کرنے اورپاکستان میں ای کامرس ادائیگی کا گیٹ وے کھولنے کے مطالبات یا تجاویز شامل تھیں۔


متعلقہ خبریں


کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

مضامین
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر