... loading ...

وزارت تجارت نے ملک کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے کچھ سفارشات تیار کی ہیں، جن میں ٹیرف، سیلز ٹیکس کی واپسی اور کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجاویز شامل ہیں ۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے ریوینیو ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزارت تجارت کے زیر اہتمام ”برآمدات میں اضافے کابجٹ“ کے عنوان ایک سیمینار میں ان سفارشات پر غور کیاگیااور ان کو حتمی شکل دی گئی۔
سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے آغاز میں اس کی غرض وغایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد نجی شعبے کو پالیسی سازوں کے سامنے تجارت کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرنے کاموقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ وزارت تجارت اپنی پالیسیوں میں دیگر امور کے ساتھ برآمدی شعبے کو ترجیح دیتی ہے اور بیرون ملک دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلے میں پاکستانی برآمدکنندگان کو پیش آنے والی مشکلات اور مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود کراچی اور لاہور جاکر برآمد کنندگان سے برآمدات میں اضافے کے لیے مجوزہ بجٹ کے لیے تجاویز وصول کی ہیں جو وزارت خزانہ کو بھجوادی گئی ہیں تاکہ ان کی روشنی میں پالیسی سازی کی جاسکے۔
سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے شرکا کو بتایا کہ انہیں برآمد کنندگان سے جو سفارشات اور تجاویز ملی ہیں ان میں سے بیشتر کاتعلق ٹیرف،سیلز ٹیکس کی واپسی یعنی سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ سے ہے ،انہوںنے بتایا کہ ان تجاویز کی روشنی میں انہوں نے خود ایف بی آر کے چیئرمین سے رابطہ کیا، انہیں برآمدکنندگان کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر ایف بی آر کے چیئرمین نے ان تجاویز پر غور کرکے اس پر مناسب کارروائی کرنے اوربرآمد کنندگان کی شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔اس موقع پرسیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے برآمدکنندگان کی جانب سے درج ذیل تجاویز پیش کیں۔
اول یہ کہ برآمدی شعبے کے زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طورپر ادا کیے جائیں اور ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کا ایک قابل عمل اور قابل قبول میکانزم تیار کیاجائے۔انہوں نے بتایا کہ برآمدکنندگان کو شکایت ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز بروقت نہ ہونے سے ان کاسرمایہ پھنس جاتاہے اور انہیں قرضوں پر سود کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں جس سے پاکستانی اشیا کی لاگت میں اضافہ ہوتاہے اور بیرونی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے جس کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔دوسرے یہ کہ حال ہی میں ریفنڈز کے حوالے سے ادائیگیاں صرف اس بہانے روک دی گئیں کہ اس میں پیکیجنگ میٹیریل پر بھی ریفنڈ کلیم کیاگیاتھا جو کہ وزیراعظم اور برآمدکنندگان کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے منافی ہے ،برآمدکنندگان کاکہناہے کہ اگر کسی کلیم میں ایسا ہوا ہے تو اس میں سے پیکیجنگ میٹیریل پر کلیم کی گئی رقم منہا کرکے فوری طورپر ادائیگیاں کی جائیں تاکہ برآمد کنندگان کو مالی سہولت مل سکے اورپیکیجنگ میٹیریل کے حوالے سے اعتراضات کا بعد میں علیحدہ سے تصفیہ کر لیا جائے۔
برآمدکنندگان کا کہناہے کہ فی الوقت صرف 5 برآمدی شعبوں کو ٹیکسوں کی مکمل چھوٹ حاصل ہے جس میں ٹیکسٹائل ،چمڑا اور اس کی مصنوعات، سرجیکل اشیا، اسپورٹس کا سامان، اور قالین شامل ہیں ، ان میں سے ٹیکسٹائل کے شعبے کی مجموعی برآمدات 9ہزار 362 ملین ڈالر کے مساوی، چمڑا اور اس کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 396 ملین ڈالر، سرجیکل اشیا کی مجموعی برآمدات 262 ملین ڈالر، کھیلوں کے سامان کی مجموعی برآمدات 234 ملین ڈالر اورکارپٹس یعنی قالین کی برآمدات 74 ملین ڈالر کے مساوی ہیں۔تاہم ان اشیا کے علاوہ جن چیزوں کی برآمدات سے ملک کوبھاری زرمبادلہ حاصل ہوتاہے اس میں چاول کی برآمدات سے مجموعی طورپر ایک ہزار 376 ملین ڈالر،مچھلی اور اس کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 240 ملین ڈالر ، پھلوں کی مجموعی برآمدات 356 ملین ڈالر ،گوشت اور گوشت سے تیار کردہ اشیا کی مجموعی برآمدات 212 ملین ڈالر ،کیمیکلز کی مجموعی برآمدات 294 ملین ڈالر، ادویات کی مجموعی برآمدات 588 ملین ڈالر، سیمنٹ کی مجموعی برآمدات 248 ملین ڈالر ،پلاسٹک میٹیریل کی مجموعی برآمدات 141 ملین ڈالر شامل ہے لیکن ان شعبوں کو حکومت کی جانب سے مکمل طورپر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ برآمدکنندگان کا کہنا کہ جن اشیا کی برآمدات میں اضافے کی گنجائش موجود ہے ان سب کو زیروریٹنگ کی فہرست میں شامل کیاجانا چاہیے۔
برآمدکنندگان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ زیرو ریٹنگ میں شامل پانچوں برآمدی شعبوںکی پیکیجنگ میٹیریل سمیت تمام اشیا پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دی جائے، سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا کے مطابق برآمد کنندگان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ درآمدی اشیا پر کسٹمز کی چھوٹ کی ایڈجسٹمنٹ ریفنڈ کے بجائے بیرون ملک سے رقم کی وصولی پرکی جائے،بصورت دیگر اس سے برآمدکنندگان کو مالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اشیا کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک طرف برآمدکنندگان برآمدی اشیا پر زیرو ریٹنگ کا دائرہ وسیع کرنے کامطالبہ کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب اطلاعات یہ ہےں کہ حکومت زیرو ریٹنگ کی سہولت مکمل طورپر ختم کرنے پر غور کررہی ہے۔سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے دوران اعتراف کیا کہ اس حوالے سے کچھ خبریں شائع ہوئی ہیں جس کی وجہ سے برآمدات کے شعبے میں ہلچل اور بے چینی پائی جاتی ہے اور اس سے تجارتی ماحول متاثر ہورہاہے،سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے وزیر اعظم کے خصوصی معاون سے درخواست کی کہ وہ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی تردید کریں اور تمام برآمد کنندگان کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ایسا نہیں کیاجائے گا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برآمدکنندگا ن کو یقین دلایا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے 2017-18ءکے بجٹ میں ان کی تجاویز کو مد نظر رکھے گی لیکن انہوں نے زیرو ریٹنگ ختم نہ کیے جانے کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی کرانے سے گریز کیا جس کی وجہ سے برآمدی شعبے کی تشویش میں اضافہ ہواہے اور عام طورپر یہ خیال کیاجارہاہے کہ اس طرح کی کوئی تجویز ضرور حکومت کے زیر غور ہے جس کا اظہار اگلے مالی سال کے بجٹ میں کیاجائے گا جو پروگرام کے مطابق رمضان المبار ک سے صرف 2 دن قبل یعنی 26 مئی کو پیش کیاجائے گا۔
سیمینار کے دوران برآمدکنندگان نے تجاویز بھی پیش کیں جن میں بنیادی خام مال اورمشینری کی درآمد پر ڈیوٹی مکمل طورپر ختم کرنے اور تیار شدہ اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجویز کے علاوہ بعض اشیا کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے ،پیکیجنگ میٹیریل سمیت تمام پیداوار پر سیلز ٹیکس ختم کرنے،ای ڈی ایس 3سال کے لیے معطل کرنے ،جی آئی ڈی سی پر سے لیویز ختم کرنے،وزیر اعظم کے برآمدی پیکیج میں ٹیکسٹائل کی وہ تمام اشیا شامل کرنے جس کی پیکیج میں وضاحت نہیں ہے ،ایکسچینج ریٹ کے مطابق برآمدات کا ترغیباتی بونس ادا کرنے ،صنعتوں کی مالی مشکلات ختم کرنے کے لیے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کرنے اورپاکستان میں ای کامرس ادائیگی کا گیٹ وے کھولنے کے مطالبات یا تجاویز شامل تھیں۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...