وجود

... loading ...

وجود

برآمدات میں اضافے کے لیے بجٹ سیمینار‘تاجروں نے ٹیرف، سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی کے مسائل پیش کردیے

اتوار 21 مئی 2017 برآمدات میں اضافے کے لیے بجٹ سیمینار‘تاجروں نے ٹیرف، سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی کے مسائل پیش کردیے


وزارت تجارت نے ملک کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے کچھ سفارشات تیار کی ہیں، جن میں ٹیرف، سیلز ٹیکس کی واپسی اور کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجاویز شامل ہیں ۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے ریوینیو ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزارت تجارت کے زیر اہتمام ”برآمدات میں اضافے کابجٹ“ کے عنوان ایک سیمینار میں ان سفارشات پر غور کیاگیااور ان کو حتمی شکل دی گئی۔
سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے آغاز میں اس کی غرض وغایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد نجی شعبے کو پالیسی سازوں کے سامنے تجارت کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرنے کاموقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ وزارت تجارت اپنی پالیسیوں میں دیگر امور کے ساتھ برآمدی شعبے کو ترجیح دیتی ہے اور بیرون ملک دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلے میں پاکستانی برآمدکنندگان کو پیش آنے والی مشکلات اور مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود کراچی اور لاہور جاکر برآمد کنندگان سے برآمدات میں اضافے کے لیے مجوزہ بجٹ کے لیے تجاویز وصول کی ہیں جو وزارت خزانہ کو بھجوادی گئی ہیں تاکہ ان کی روشنی میں پالیسی سازی کی جاسکے۔
سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے شرکا کو بتایا کہ انہیں برآمد کنندگان سے جو سفارشات اور تجاویز ملی ہیں ان میں سے بیشتر کاتعلق ٹیرف،سیلز ٹیکس کی واپسی یعنی سیلز ٹیکس ریفنڈ اور کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ سے ہے ،انہوںنے بتایا کہ ان تجاویز کی روشنی میں انہوں نے خود ایف بی آر کے چیئرمین سے رابطہ کیا، انہیں برآمدکنندگان کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر ایف بی آر کے چیئرمین نے ان تجاویز پر غور کرکے اس پر مناسب کارروائی کرنے اوربرآمد کنندگان کی شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔اس موقع پرسیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے برآمدکنندگان کی جانب سے درج ذیل تجاویز پیش کیں۔
اول یہ کہ برآمدی شعبے کے زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طورپر ادا کیے جائیں اور ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کا ایک قابل عمل اور قابل قبول میکانزم تیار کیاجائے۔انہوں نے بتایا کہ برآمدکنندگان کو شکایت ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز بروقت نہ ہونے سے ان کاسرمایہ پھنس جاتاہے اور انہیں قرضوں پر سود کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں جس سے پاکستانی اشیا کی لاگت میں اضافہ ہوتاہے اور بیرونی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے جس کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔دوسرے یہ کہ حال ہی میں ریفنڈز کے حوالے سے ادائیگیاں صرف اس بہانے روک دی گئیں کہ اس میں پیکیجنگ میٹیریل پر بھی ریفنڈ کلیم کیاگیاتھا جو کہ وزیراعظم اور برآمدکنندگان کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے منافی ہے ،برآمدکنندگان کاکہناہے کہ اگر کسی کلیم میں ایسا ہوا ہے تو اس میں سے پیکیجنگ میٹیریل پر کلیم کی گئی رقم منہا کرکے فوری طورپر ادائیگیاں کی جائیں تاکہ برآمد کنندگان کو مالی سہولت مل سکے اورپیکیجنگ میٹیریل کے حوالے سے اعتراضات کا بعد میں علیحدہ سے تصفیہ کر لیا جائے۔
برآمدکنندگان کا کہناہے کہ فی الوقت صرف 5 برآمدی شعبوں کو ٹیکسوں کی مکمل چھوٹ حاصل ہے جس میں ٹیکسٹائل ،چمڑا اور اس کی مصنوعات، سرجیکل اشیا، اسپورٹس کا سامان، اور قالین شامل ہیں ، ان میں سے ٹیکسٹائل کے شعبے کی مجموعی برآمدات 9ہزار 362 ملین ڈالر کے مساوی، چمڑا اور اس کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 396 ملین ڈالر، سرجیکل اشیا کی مجموعی برآمدات 262 ملین ڈالر، کھیلوں کے سامان کی مجموعی برآمدات 234 ملین ڈالر اورکارپٹس یعنی قالین کی برآمدات 74 ملین ڈالر کے مساوی ہیں۔تاہم ان اشیا کے علاوہ جن چیزوں کی برآمدات سے ملک کوبھاری زرمبادلہ حاصل ہوتاہے اس میں چاول کی برآمدات سے مجموعی طورپر ایک ہزار 376 ملین ڈالر،مچھلی اور اس کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 240 ملین ڈالر ، پھلوں کی مجموعی برآمدات 356 ملین ڈالر ،گوشت اور گوشت سے تیار کردہ اشیا کی مجموعی برآمدات 212 ملین ڈالر ،کیمیکلز کی مجموعی برآمدات 294 ملین ڈالر، ادویات کی مجموعی برآمدات 588 ملین ڈالر، سیمنٹ کی مجموعی برآمدات 248 ملین ڈالر ،پلاسٹک میٹیریل کی مجموعی برآمدات 141 ملین ڈالر شامل ہے لیکن ان شعبوں کو حکومت کی جانب سے مکمل طورپر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ برآمدکنندگان کا کہنا کہ جن اشیا کی برآمدات میں اضافے کی گنجائش موجود ہے ان سب کو زیروریٹنگ کی فہرست میں شامل کیاجانا چاہیے۔
برآمدکنندگان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ زیرو ریٹنگ میں شامل پانچوں برآمدی شعبوںکی پیکیجنگ میٹیریل سمیت تمام اشیا پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دی جائے، سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا کے مطابق برآمد کنندگان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ درآمدی اشیا پر کسٹمز کی چھوٹ کی ایڈجسٹمنٹ ریفنڈ کے بجائے بیرون ملک سے رقم کی وصولی پرکی جائے،بصورت دیگر اس سے برآمدکنندگان کو مالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اشیا کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک طرف برآمدکنندگان برآمدی اشیا پر زیرو ریٹنگ کا دائرہ وسیع کرنے کامطالبہ کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب اطلاعات یہ ہےں کہ حکومت زیرو ریٹنگ کی سہولت مکمل طورپر ختم کرنے پر غور کررہی ہے۔سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے سیمینار کے دوران اعتراف کیا کہ اس حوالے سے کچھ خبریں شائع ہوئی ہیں جس کی وجہ سے برآمدات کے شعبے میں ہلچل اور بے چینی پائی جاتی ہے اور اس سے تجارتی ماحول متاثر ہورہاہے،سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈھاگا نے وزیر اعظم کے خصوصی معاون سے درخواست کی کہ وہ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی تردید کریں اور تمام برآمد کنندگان کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ایسا نہیں کیاجائے گا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برآمدکنندگا ن کو یقین دلایا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے 2017-18ءکے بجٹ میں ان کی تجاویز کو مد نظر رکھے گی لیکن انہوں نے زیرو ریٹنگ ختم نہ کیے جانے کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی کرانے سے گریز کیا جس کی وجہ سے برآمدی شعبے کی تشویش میں اضافہ ہواہے اور عام طورپر یہ خیال کیاجارہاہے کہ اس طرح کی کوئی تجویز ضرور حکومت کے زیر غور ہے جس کا اظہار اگلے مالی سال کے بجٹ میں کیاجائے گا جو پروگرام کے مطابق رمضان المبار ک سے صرف 2 دن قبل یعنی 26 مئی کو پیش کیاجائے گا۔
سیمینار کے دوران برآمدکنندگان نے تجاویز بھی پیش کیں جن میں بنیادی خام مال اورمشینری کی درآمد پر ڈیوٹی مکمل طورپر ختم کرنے اور تیار شدہ اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجویز کے علاوہ بعض اشیا کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے ،پیکیجنگ میٹیریل سمیت تمام پیداوار پر سیلز ٹیکس ختم کرنے،ای ڈی ایس 3سال کے لیے معطل کرنے ،جی آئی ڈی سی پر سے لیویز ختم کرنے،وزیر اعظم کے برآمدی پیکیج میں ٹیکسٹائل کی وہ تمام اشیا شامل کرنے جس کی پیکیج میں وضاحت نہیں ہے ،ایکسچینج ریٹ کے مطابق برآمدات کا ترغیباتی بونس ادا کرنے ،صنعتوں کی مالی مشکلات ختم کرنے کے لیے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کرنے اورپاکستان میں ای کامرس ادائیگی کا گیٹ وے کھولنے کے مطالبات یا تجاویز شامل تھیں۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر