وجود

... loading ...

وجود

ڈیڑھ ارب روپے کا گھپلا ٹریکٹر اسکینڈل میں ڈیل ہوگی یا سزا ۔۔۔؟؟

بدھ 17 مئی 2017 ڈیڑھ ارب روپے کا گھپلا ٹریکٹر اسکینڈل میں ڈیل ہوگی یا سزا ۔۔۔؟؟

جن ٹریکٹر کی فراہمی کے نام پر سرکاری خزانے سے سبسڈی وصول کی گئی وہ کبھی پاکستان میں درآمد ہی نہیں ہوئے، شہزاد ریاض نے ایک شتکار کو بھی ٹریکٹر فراہم نہیں کیا،کراچی کے بینک کی ایک ہی شاخ سے سارے پے آرڈربنوائے گئے

حکومت کی جانب سے شفافیت اور سرکاری فنڈز کے منصفانہ استعمال کے تمام تر دعووں کے باوجود مختلف محکموں میں اربوں روپے کی لوٹ مار کاسلسلہ جاری ہے ، ایک طرف زراعت کا شعبہ زبوں حالی اور کاشتکار کسمپرسی کا شکار ہیں اور دوسری جانب محکمہ زراعت کی اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے حکمرانوں کے چہیتے حکمراں اس محکمہ کے فنڈز کی لوٹ مار میں مصروف ہیں اور نہ صرف اپنی جیبیں بھررہے ہیں بلکہ اپنے منظور نظر نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کو بھی خوب نواز رہے ہیں ،اس کاانکشاف محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے سندھ کے محکمہ زراعت کے صرف ایک شعبے میں ایک ارب45 کروڑ روپے کے گھپلے اورناجائز ادائیگیوں کا پردہ چاک کیا۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی کے ذرائع کے مطابق اس گھپلے میں سرکاری افسران اورایک نجی کمپنی کے ارباب اختیار ملوث ہیں جن کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو کم وبیش ڈیڑھ ارب روپے کانقصان پہنچایا گیا۔
محکمہ انسداد رشوت ستانی نے محکمہ زراعت میں ہونے والے گھپلوں کا سراغ لگانے کے بعد اب سندھ کے محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران اور ایک نجی کمپنی شہزاد ٹریڈ لنکس کے چیف ایگزیکٹو افسر شہزاد ریاض کے خلاف ٹریکٹرز کے نام پر جھوٹے کلیم پر سبسڈی وصول کرکے قومی خزانے کو ایک ارب 40 کروڑ روپے کانقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے اورملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
محکمہ انسداد رشوت ستانی کے ذرائع کے مطابق محکمے کو 7 مارچ 2017 کوسندھ کے محکمہ زراعت کی ٹریکٹر سبسڈی اسکیم میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی تھیں ، ان شکایات کی روشنی میں محکمے نے جب تفتیش شروع کی اور اس حوالے سے مختلف دفاتر سے تفصیلات جمع کرنا شروع کیںتو محکمہ میں ٹریکٹر اسکیم کے تحت گھپلوں کے راز کھلنا شروع ہوگئے جس کے بعد محکمہ انسداد رشوت ستانی کے حکام نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنا شروع کئے اور ملزمان کے بینک سے تفصیلات حاصل کرنے کیلئے عدالت سے اجازت حاصل کی ،اس کے علاوہ محکمہ انسداد رشوت ستانی نے ٹریکٹر کی درآمد سے متعلق بل آف انٹری وغیرہ کی تفصیلات جمع کیں ،اس سے یہ ثابت ہوا کہ ملزمان نے جن ٹریکٹر کی فراہمی کے نام پر سرکاری خزانے سے سبسڈی وصول کی ہے وہ کبھی پاکستان میں درآمد ہی نہیں کئے گئے ۔
محکمہ انسداد رشوت ستانی کے ذرائع کاکہنا ہے کہ محکمہ زراعت سندھ کے افسران کے خلاف تفتیش کے دوران انھیں نجی کمپنی شہزاد ٹریڈ لنکس کے چیف ایگزیکٹو افسر شہزاد ریاض تک پہنچنے میں مدد ملی، رپورٹ کے مطابق شہزاد ریاض بیلاروس ٹریکٹر کمپنی کے ایجنٹ کے طورپر کام کرتاہے اورمحکمہ زراعت کی جانب سے کی گئی2009-2012 کی اسکیم کے تحت مبینہ قرعہ اندازی میں رعایتی قیمت پر ٹریکٹر حاصل کرنے کے حقدار قرار دیے گئے کاشتکاروں کو رعایتی قیمت پر ٹریکٹر فراہم کرکے محکمہ زراعت سے فی ٹریکٹر 3 لاکھ روپے سبسڈی وصول کرتاہے۔
تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کے مطابق نجی کمپنی شہزاد ٹریڈ لنکس کے چیف ایگزیکٹو افسر شہزاد ریاض نے محکمہ زراعت سے 5 ہزار 780 ٹریکٹر کاشتکاروں کورعایتی قیمت پر فراہم کرنے کا دعویٰ کرکے حکومت سندھ سے مجموعی طورپر ایک ارب 45 کروڑ روپے وصول کئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہزاد ریاض نے کسی کاشتکار کو ایک بھی ٹریکٹر فراہم نہیں کیا۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس اسکیم کی شرائط کے مطابق ٹریکٹر فراہم کرنے والی فرم یا ادارے کو کاشتکار سے بینک کے پے آرڈر کے تحت رقم وصول کرنے اورا س کی بنیاد پر حکومت سے سبسڈی حاصل کرنے کا اختیار دیا گیاہے، لیکن تفتیش کے دوران ملنے والے ریکارڈ میں دکھایاگیاہے کہ ملزم نے کاشتکاروں سے نقد رقم وصول کرکے ان کے نام ٹریکٹر کے انوائس جاری کئے اور ان کی بنیاد پر حکومت سے سبسڈی کی رقم وصول کرتارہا۔
محکمہ انسداد رشوت ستانی کے حکام نے جب حقیقت معلوم کرنے کیلئے متعلقہ کاشتکاروں سے رابطہ کیا جن کے نام پر ملزم شہزاد ریاض سبسڈی وصول کرچکا تھا تو ان سب نے کوئی ٹریکٹر حاصل کرنا تو کجا اس کیلئے درخواست دینے سے بھی انکار کیا اورکہاکہ انھوں نے تو کبھی ٹریکٹر کیلئے درخواست ہیں نہیں دی،تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزم شہزاد ریاض نے جن کاشتکاروں کو ٹریکٹر فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ان کی اکثریت کے پے آرڈر کراچی ہی کے ایک بینک کی ایک ہی شاخ سے بنوائے گئے جہاں متعلقہ بینک افسران کے ساتھ مبینہ طورپر ملزم شہزاد ریاض کے تعلقات ہیں۔ جبکہ بیشتر معاملات میں تو نقد رقم وصول کرنے کادعویٰ کیاگیا تھا۔
اس حوالے سے وفاقی محکمہ صنعت اور زراعت کے حکام کاموقف یہ ہے کہ یہ ایک صوبائی محکمے کامعاملہ ہے اور اس کا وفاق سے کوئی تعلق نہیں اس لئے وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔تاہم اس حوالے سے محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے تفتیش کاسلسلہ جاری ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ انسداد رشوت ستانی کے حکام اس معاملے کو آخری حد تک پہنچاکر سرکاری خزانے کو کم وبیش ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچانے والوں کو سزا دلوانے اوران سے خورد برد کی گئی رقم نکلوانے میں کامیاب ہوں گے یا یہ معاملہ بھی اوپر سے آنے والے دبائو اور سفارشوں کی بنیادپر فائلوں میں دبادیاجائے گا اور ملزم سرکاری خزانے کی لوٹ مار کیلئے آزاد گھومتے رہیں گے جیسے حال ہی میں کئی کیسز میں ہوا اور کتنے ہی کرپٹ افسران تاحال اپنی نشستوں پر براجمان ہیں ؟؟


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

حملہ اور ابہام وجود جمعرات 30 اپریل 2026
حملہ اور ابہام

مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات وجود جمعرات 30 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات

آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر