وجود

... loading ...

وجود

عوام دوست بجٹ کی قیاس آرائیاں ۔۔آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا !!

منگل 16 مئی 2017 عوام دوست بجٹ کی قیاس آرائیاں ۔۔آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا !!

اگلے سال کے بجٹ میں ٹیکسوں میں کمی کیے جانے کاامکان ہے،سگریٹ بھی سستی ہوجائے گی،ریونیو سے متعلق امور پر وزیر اعظم کے خصوصی کا دعویٰ، نواز شریف کی حکومت ڈانواںڈول ہے اور کسی بھی وقت اس کی رخصتی کابگل بج سکتاہے اور نئے انتخابات کی بساط بچھ سکتی ہے اس لیے ایسی کوشش ممکن ہے،ناقدین

نئے بجٹ کے اعلان میں اب بمشکل 10 دن رہ گئے ہیں لیکن بجٹ کے بارے میں قیاس آرائیوں کاسلسلہ جاری ہے ، عام طورپر یہ خیال کیاجارہاہے کہ چونکہ نواز شریف کی حکومت ڈانواںڈول ہے اور کسی بھی وقت اس کی رخصتی کابگل بج سکتاہے اور نئے انتخابات کی بساط بچھ سکتی ہے اس لیے نئے سال کا بجٹ روایتی بجٹ کے برعکس نسبتا ً عوام دوست بنانے کی کوشش کی گئی ہوگی اور اس بجٹ کے نتیجے میں عوام کو بہت زیادہ زیر بار نہیں ہونا پڑے گا۔یہ بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ اگلے سال کے بجٹ میں بعض ٹیکسوں کی شرح میں کمی کردی جائے گی جبکہ بعض اشیاپر سیلز ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کیے جانے کی توقعات ظاہر کی جارہی ہیں ،ایک طرف یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف ریونیو سے متعلق امور پر وزیر اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان نے ایک مقامی انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ حیرت انگیز انکشاف کیاہے کہ اگلے سال کے بجٹ میں سگریٹ پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی کیے جانے کاامکان ہے۔
ہارون اختر خان کایہ انکشاف حیرت انگیز اس اعتبار سے ہے کہ حکومت ہمیشہ سگریٹ اور اس جیسی دوسری اشیا پر بھاری ٹیکس عاید کرتی رہی ہے اور خاص طورپر سگریٹ پر ٹیکسوں میں اضافے کے بارے میں حکومت کاایک ہی مؤقف ہے کہ چونکہ سگریٹ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اس لیے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اس پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس عاید کیاجانا ضروری ہے ،کیونکہ سگریٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نتیجے میں اس کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور عام آدمی سگریٹ نوشی ترک کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔گزشتہ سال بجٹ سے قبل نیشنل ہیلتھ سروسز سے متعلق امور کی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے سگریٹ اور تمباکو کی دیگر اشیا پر عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگانے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی تھی،سائرہ افضل تارڑ نے اس دور میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ سگریٹ پر وصول ہونے والے ٹیکس کے 2 فیصد مساوی رقم تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والے امراض کے علاج کے لیے وزیر اعظم کے قومی صحت پروگرام کو فراہم کی جانی چاہیے۔سائرہ افضل کا استدلال تھا کہ سگریٹ اور تمباکو سے تیار ہونے والی اشیا پر ٹیکسوں میں اضافے سے قومی خزانے کی آمدنی میں کم وبیش 40 ارب روپے کااضافہ ممکن ہے ۔ان کا کہناتھا کہ تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافہ قومی خزانے کی آمدنی میں اضافہ اور تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی کا واحد ذریعہ ہے، ان کاکہناتھا کہ تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے سے سگریٹ نوشی میں کمی ہوگی جس سے سگریٹ نوشی کی وجہ سے پیداہونے والے امراض پر آنے والے اخراجات میں کمی ہوگی اور بھاری ٹیکسوں کے نتیجے میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔سائرہ افضل کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم کے نتیجے میں گزشتہ سال کے بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکسوں میں اضافہ کردیاگیا لیکن اس اضافے کے بعد بھی حکومت کی آمدنی میں کوئی خاص اضافہ ممکن نہیںہوا۔
ریونیو سے متعلق امور پر وزیر اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ سگریٹ کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج ہے اور غیر قانونی سگریٹ کی صنعت سے قومی خزانے کا سالانہ کم وبیش 40 ارب روپے کا نقصان ہورہاہے۔ان کاکہنا تھا کہ سگریٹ پر ٹیکسوں کے ذریعے حکومت کو ساڑھے 3 کھرب روپے کی آمدنی ہوتی ہے لیکن ٹیکس چوری کی شرح ٹیکس وصولی کی شرح سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔
ملک میں ٹیکس چوری کے رجحان کا ذکر کرتے ہارون اخترخان کاکہناتھا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ سالانہ 6 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والا ڈاکٹر اپنی آمدنی صرف 6 لاکھ ظاہر کرتاہے اور 35کروڑ سالانہ کمانے والے ہسپتال اپنی آمدنی صرف 35 لاکھ سالانہ ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس چوری کو ملک کی سب سے بڑی لعنت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر ٹیکس چوری پر قابو پالیاجائے تو پاکستان کا شمار دنیا کے امیر ترین ملکوں میں ہونے لگے گا۔
ہارون اختر نے خیال ظاہر کیاہے کہ اگر ٹیکس چوری پر قابو پالیاجائے تواگلے سال کے بجٹ کو عوام کے لیے خوشنما بنانے کے لیے حکومت جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے9فیصد بلکہ اس سے بھی کم کرسکتی ہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوںنے دعویٰ کیا کہ اگر ٹیکس چور باز نہیں آئے تو حکومت ٹیکس چوروں کاجینا دوبھر کردے گی ۔حکومت ٹیکس نہ دینے والوں پروِد ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ کردے گی تاکہ وہ ٹیکس نیٹ میں آجانے میں ہی عافیت سمجھنے پر مجبور ہوجائیں۔
ہارون اختر نے واضح طورپر یہ خیال ظاہر کیا کہ نئے سال کے بجٹ میں کسی طرح کاکوئی نیا ٹیکس لگانے کی کوئی تجویز نہیں ہے،تاہم حکومت اگلے عام انتخابات تک یعنی 2018 ء تک ٹیکس دینے والوں کی تعداد 15 لاکھ کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوششیں اور اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ حکومت آف شور کمپنیوں کے مالکان کو اپنے اثاثے وطن لانے کی ترغیب دینے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بھی غور کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینا کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ انڈونیشیا اور بھارت میں آف شور کمپنیوں کے مالکان کے لیے اس طرح کی اسکیموں کا اعلان کیاجاچکاہے۔ہارون اختر نے یہ بھی بتایا کی عدلیہ کے ججوں اور مسلح افواج کے ارکان کو ٹیکسوں میں چھوٹ کی سہولت حاصل رہے گی کیونکہ یہ لوگ ملک کے لیے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔
پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی کے حوالے سے ہارون اختر کاکہناتھا کہ برآمدات میں کمی بین الاقوامی سطح پر کساد بازاری کی وجہ سے ہوئی ہے اور یہ صورت حال صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ چین اور بھارت کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ پوری دنیامیں کساد بازاری کے باوجود پاکستان نے اپنی کرنسی کی قیمت میں کمی نہیں کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسی کی نمایاں کامیابی ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر