وجود

... loading ...

وجود

سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

اتوار 14 مئی 2017 سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

نیپرا نے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے‘ ترقی یافتہ ممالک میں سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سیمنٹ کمپنیوں میں ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرکے اسے فاضل توانائی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کو رد کردیاہے،ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق اور بجلی کی طلب میں اضافے کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرنے والے پراجیکٹس کے لیے ٹیرف کی منظوری کے حوالے سے از خود کارروائی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نیپرا نے ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے اب مزید کوئی کارروائی نہ کرنے کابھی فیصلہ کیاہے۔نیپرا کے حکام کا کہناہے کہ سیمنٹ پلانٹس پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور خود سیمنٹ پلانٹس میں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت کی وجہ سے یہ ضائع ہوجانے والی توانائی ان فیکٹریوں کی توانائی کی ضروریات کم کرنے میںہی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔
اس سے قبل یہ توقع کی جارہی تھی کہ سیمنٹ انڈسٹری جو بجلی تیار کرنے کے شعبے میں آرہا ہے نہ صرف اپنے پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے اپنی ضرورت پوری کرے گا بلکہ نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کرے گا جس سے ملک میں بجلی کی طلب ورسد کے فرق کوکم کرنے میں مدد ملے گی۔سیمنٹ تیار کرنے والی صنعت سے تعلق رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ سیمنٹ تیار کرنے والی فیکٹریوں میں ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرنے کے پلانٹ سیمنٹ انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے سیمنٹ پلانٹ کی پروسیسنگ کی صورتحال کے مطابق ایک انتہائی موزوں تھرمو ڈائنامک نظام منتخب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ممالک اورجاپان میں 1970 ء کی دہائی سے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔1990ء میں یہ ٹیکنالوجی چین پہنچی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد چین نے اس حوالے سے بنیادی اکیوئپمنٹ چین ہی میں ڈیزائن کرکے تیار کیے جانے لگے۔چین کے بعد اب پاکستان میں بھی سیمنٹ انڈسٹری میں کلنکر تیار کرنے والی پہلے سے موجود اور نئے لگائے جانے والے پلانٹس میں اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیاجارہاہے۔
نیپرا نے اس حوالے سے تجاویز کا ایک مسودہ تیار کرنے کے بعدنیپرا کے افسران کو سیمنٹ تیار کرنے والے کارخانوںمیں جاکر ان کارخانوں سے ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرکے اضافی توانائی یا بجلی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کاجائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔اتھارٹی نے نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لیا لیکن اس حوالے سے کیے گئے دعووں کے حق میں کوئی شواہد یاریکارڈ نہیں مل سکا۔نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی کوجمع کرکے اسے نیشنل گرڈ میں شامل کئے جانے سے بجلی کی رسد میں بہت ہی معمولی سا اضافہ ہوسکتاہے۔جبکہ سیمنٹ فیکٹریوں کی اپنی توانائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور ان پلانٹ پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی خود ان کی توانائی کی ضرورت پوری نہیں کرسکتی بلکہ اس میں صرف کچھ کمی کرتی ہے۔ اس لیے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے تیار کی جانے والی بجلی کے لیے ٹیرف کی تیاری کاکام بند کیاجاتاہے ۔
نیپرا کے اس فیصلے کے بعد سیمنٹ فیکٹریوں سے نیشنل گرڈ کو وافر بجلی مل جانے کے حوالے سے بعض حلقوں کے دعووں سے ہوا نکل گئی ہے اور یہ ثابت ہوگیاہے کہ اس طرح کے منصوبوںپر وقت ضائع کرنے کے بجائے ملک میں لگائے جانے والے بجلی تیار کرنے کے پلانٹس کی جلد از جلد تکمیل پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جاسکے اور بجلی کی طلب ورسد میں موجودہ فرق کو کم سے کم کرکے عوام کو بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے نجات دی جاسکے۔
اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف اور پانی وبجلی کے وزیر اور وزیر مملکت اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ بجلی کے کئی زیر تکمیل پلانٹس اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور ان کے آپریشنل ہوتے ہی یعنی ان سے بجلی کی پیداوار شروع ہوتے ہی لوگوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، اور وزیر اعظم نے تو گزشتہ دنوں لیہ میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ وعدہ بھی کیاہے کہ نئے پلانٹس سے عوام کو کم قیمت بجلی فراہم کی جائے گی اور اس طرح ان کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آجائے گی ، لیکن میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور ان کے وزرا جواپنے قول وفعل سے وزیر سے زیادہ مصاحب نظر آتے ہیں ،کی جانب سے کیے گئے کوئی وعدے گزشتہ 4 سال کے دوران سچ ثابت نہیں ہوئے تو ا ب ان پر اعتبار کس طرح کیاجاسکتاہے۔ عوام کو ان وعدوں پر اعتبار تو اسی وقت آئے گا جب واقعی ان کے گھر اندھیروں میں نہیں ڈوبیں گے اور انہیں بھری گرمی میں سائے کی تلاش میں پارکوں کا رخ کرنے پر مجبور نہیںہوناپڑے گا۔
عوام بہرحال اس انتظار میں ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں کب تک کامیاب ہوتے ہیں اور انہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کب نجات ملتی ہے ۔اب 2018ء بھی دور نہیں ہے اور وزیر اعظم خود ہی کہہ چکے ہیں کہ اگلے الیکشن سے قبل ان کااحتساب کرنے میں عوام حق بجانب ہوں گے۔اب دیکھنایہ ہے کہ وزیراعظم اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی کون سی کارکردگی لے کر عوام کے سامنے جانے کیمنصوبہ بندی کرتے ہیں یا عوام کو کون سانیا سبز باغ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر