وجود

... loading ...

وجود

سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

اتوار 14 مئی 2017 سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

نیپرا نے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے‘ ترقی یافتہ ممالک میں سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سیمنٹ کمپنیوں میں ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرکے اسے فاضل توانائی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کو رد کردیاہے،ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق اور بجلی کی طلب میں اضافے کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرنے والے پراجیکٹس کے لیے ٹیرف کی منظوری کے حوالے سے از خود کارروائی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نیپرا نے ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے اب مزید کوئی کارروائی نہ کرنے کابھی فیصلہ کیاہے۔نیپرا کے حکام کا کہناہے کہ سیمنٹ پلانٹس پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور خود سیمنٹ پلانٹس میں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت کی وجہ سے یہ ضائع ہوجانے والی توانائی ان فیکٹریوں کی توانائی کی ضروریات کم کرنے میںہی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔
اس سے قبل یہ توقع کی جارہی تھی کہ سیمنٹ انڈسٹری جو بجلی تیار کرنے کے شعبے میں آرہا ہے نہ صرف اپنے پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے اپنی ضرورت پوری کرے گا بلکہ نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کرے گا جس سے ملک میں بجلی کی طلب ورسد کے فرق کوکم کرنے میں مدد ملے گی۔سیمنٹ تیار کرنے والی صنعت سے تعلق رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ سیمنٹ تیار کرنے والی فیکٹریوں میں ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرنے کے پلانٹ سیمنٹ انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے سیمنٹ پلانٹ کی پروسیسنگ کی صورتحال کے مطابق ایک انتہائی موزوں تھرمو ڈائنامک نظام منتخب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ممالک اورجاپان میں 1970 ء کی دہائی سے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔1990ء میں یہ ٹیکنالوجی چین پہنچی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد چین نے اس حوالے سے بنیادی اکیوئپمنٹ چین ہی میں ڈیزائن کرکے تیار کیے جانے لگے۔چین کے بعد اب پاکستان میں بھی سیمنٹ انڈسٹری میں کلنکر تیار کرنے والی پہلے سے موجود اور نئے لگائے جانے والے پلانٹس میں اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیاجارہاہے۔
نیپرا نے اس حوالے سے تجاویز کا ایک مسودہ تیار کرنے کے بعدنیپرا کے افسران کو سیمنٹ تیار کرنے والے کارخانوںمیں جاکر ان کارخانوں سے ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرکے اضافی توانائی یا بجلی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کاجائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔اتھارٹی نے نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لیا لیکن اس حوالے سے کیے گئے دعووں کے حق میں کوئی شواہد یاریکارڈ نہیں مل سکا۔نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی کوجمع کرکے اسے نیشنل گرڈ میں شامل کئے جانے سے بجلی کی رسد میں بہت ہی معمولی سا اضافہ ہوسکتاہے۔جبکہ سیمنٹ فیکٹریوں کی اپنی توانائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور ان پلانٹ پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی خود ان کی توانائی کی ضرورت پوری نہیں کرسکتی بلکہ اس میں صرف کچھ کمی کرتی ہے۔ اس لیے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے تیار کی جانے والی بجلی کے لیے ٹیرف کی تیاری کاکام بند کیاجاتاہے ۔
نیپرا کے اس فیصلے کے بعد سیمنٹ فیکٹریوں سے نیشنل گرڈ کو وافر بجلی مل جانے کے حوالے سے بعض حلقوں کے دعووں سے ہوا نکل گئی ہے اور یہ ثابت ہوگیاہے کہ اس طرح کے منصوبوںپر وقت ضائع کرنے کے بجائے ملک میں لگائے جانے والے بجلی تیار کرنے کے پلانٹس کی جلد از جلد تکمیل پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جاسکے اور بجلی کی طلب ورسد میں موجودہ فرق کو کم سے کم کرکے عوام کو بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے نجات دی جاسکے۔
اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف اور پانی وبجلی کے وزیر اور وزیر مملکت اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ بجلی کے کئی زیر تکمیل پلانٹس اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور ان کے آپریشنل ہوتے ہی یعنی ان سے بجلی کی پیداوار شروع ہوتے ہی لوگوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، اور وزیر اعظم نے تو گزشتہ دنوں لیہ میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ وعدہ بھی کیاہے کہ نئے پلانٹس سے عوام کو کم قیمت بجلی فراہم کی جائے گی اور اس طرح ان کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آجائے گی ، لیکن میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور ان کے وزرا جواپنے قول وفعل سے وزیر سے زیادہ مصاحب نظر آتے ہیں ،کی جانب سے کیے گئے کوئی وعدے گزشتہ 4 سال کے دوران سچ ثابت نہیں ہوئے تو ا ب ان پر اعتبار کس طرح کیاجاسکتاہے۔ عوام کو ان وعدوں پر اعتبار تو اسی وقت آئے گا جب واقعی ان کے گھر اندھیروں میں نہیں ڈوبیں گے اور انہیں بھری گرمی میں سائے کی تلاش میں پارکوں کا رخ کرنے پر مجبور نہیںہوناپڑے گا۔
عوام بہرحال اس انتظار میں ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں کب تک کامیاب ہوتے ہیں اور انہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کب نجات ملتی ہے ۔اب 2018ء بھی دور نہیں ہے اور وزیر اعظم خود ہی کہہ چکے ہیں کہ اگلے الیکشن سے قبل ان کااحتساب کرنے میں عوام حق بجانب ہوں گے۔اب دیکھنایہ ہے کہ وزیراعظم اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی کون سی کارکردگی لے کر عوام کے سامنے جانے کیمنصوبہ بندی کرتے ہیں یا عوام کو کون سانیا سبز باغ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر