وجود

... loading ...

وجود

سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

اتوار 14 مئی 2017 سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

نیپرا نے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے‘ ترقی یافتہ ممالک میں سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سیمنٹ کمپنیوں میں ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرکے اسے فاضل توانائی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کو رد کردیاہے،ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق اور بجلی کی طلب میں اضافے کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرنے والے پراجیکٹس کے لیے ٹیرف کی منظوری کے حوالے سے از خود کارروائی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نیپرا نے ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے اب مزید کوئی کارروائی نہ کرنے کابھی فیصلہ کیاہے۔نیپرا کے حکام کا کہناہے کہ سیمنٹ پلانٹس پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور خود سیمنٹ پلانٹس میں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت کی وجہ سے یہ ضائع ہوجانے والی توانائی ان فیکٹریوں کی توانائی کی ضروریات کم کرنے میںہی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔
اس سے قبل یہ توقع کی جارہی تھی کہ سیمنٹ انڈسٹری جو بجلی تیار کرنے کے شعبے میں آرہا ہے نہ صرف اپنے پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے اپنی ضرورت پوری کرے گا بلکہ نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کرے گا جس سے ملک میں بجلی کی طلب ورسد کے فرق کوکم کرنے میں مدد ملے گی۔سیمنٹ تیار کرنے والی صنعت سے تعلق رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ سیمنٹ تیار کرنے والی فیکٹریوں میں ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرنے کے پلانٹ سیمنٹ انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے سیمنٹ پلانٹ کی پروسیسنگ کی صورتحال کے مطابق ایک انتہائی موزوں تھرمو ڈائنامک نظام منتخب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ممالک اورجاپان میں 1970 ء کی دہائی سے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔1990ء میں یہ ٹیکنالوجی چین پہنچی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد چین نے اس حوالے سے بنیادی اکیوئپمنٹ چین ہی میں ڈیزائن کرکے تیار کیے جانے لگے۔چین کے بعد اب پاکستان میں بھی سیمنٹ انڈسٹری میں کلنکر تیار کرنے والی پہلے سے موجود اور نئے لگائے جانے والے پلانٹس میں اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیاجارہاہے۔
نیپرا نے اس حوالے سے تجاویز کا ایک مسودہ تیار کرنے کے بعدنیپرا کے افسران کو سیمنٹ تیار کرنے والے کارخانوںمیں جاکر ان کارخانوں سے ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرکے اضافی توانائی یا بجلی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کاجائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔اتھارٹی نے نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لیا لیکن اس حوالے سے کیے گئے دعووں کے حق میں کوئی شواہد یاریکارڈ نہیں مل سکا۔نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی کوجمع کرکے اسے نیشنل گرڈ میں شامل کئے جانے سے بجلی کی رسد میں بہت ہی معمولی سا اضافہ ہوسکتاہے۔جبکہ سیمنٹ فیکٹریوں کی اپنی توانائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور ان پلانٹ پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی خود ان کی توانائی کی ضرورت پوری نہیں کرسکتی بلکہ اس میں صرف کچھ کمی کرتی ہے۔ اس لیے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے تیار کی جانے والی بجلی کے لیے ٹیرف کی تیاری کاکام بند کیاجاتاہے ۔
نیپرا کے اس فیصلے کے بعد سیمنٹ فیکٹریوں سے نیشنل گرڈ کو وافر بجلی مل جانے کے حوالے سے بعض حلقوں کے دعووں سے ہوا نکل گئی ہے اور یہ ثابت ہوگیاہے کہ اس طرح کے منصوبوںپر وقت ضائع کرنے کے بجائے ملک میں لگائے جانے والے بجلی تیار کرنے کے پلانٹس کی جلد از جلد تکمیل پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جاسکے اور بجلی کی طلب ورسد میں موجودہ فرق کو کم سے کم کرکے عوام کو بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے نجات دی جاسکے۔
اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف اور پانی وبجلی کے وزیر اور وزیر مملکت اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ بجلی کے کئی زیر تکمیل پلانٹس اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور ان کے آپریشنل ہوتے ہی یعنی ان سے بجلی کی پیداوار شروع ہوتے ہی لوگوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، اور وزیر اعظم نے تو گزشتہ دنوں لیہ میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ وعدہ بھی کیاہے کہ نئے پلانٹس سے عوام کو کم قیمت بجلی فراہم کی جائے گی اور اس طرح ان کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آجائے گی ، لیکن میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور ان کے وزرا جواپنے قول وفعل سے وزیر سے زیادہ مصاحب نظر آتے ہیں ،کی جانب سے کیے گئے کوئی وعدے گزشتہ 4 سال کے دوران سچ ثابت نہیں ہوئے تو ا ب ان پر اعتبار کس طرح کیاجاسکتاہے۔ عوام کو ان وعدوں پر اعتبار تو اسی وقت آئے گا جب واقعی ان کے گھر اندھیروں میں نہیں ڈوبیں گے اور انہیں بھری گرمی میں سائے کی تلاش میں پارکوں کا رخ کرنے پر مجبور نہیںہوناپڑے گا۔
عوام بہرحال اس انتظار میں ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں کب تک کامیاب ہوتے ہیں اور انہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کب نجات ملتی ہے ۔اب 2018ء بھی دور نہیں ہے اور وزیر اعظم خود ہی کہہ چکے ہیں کہ اگلے الیکشن سے قبل ان کااحتساب کرنے میں عوام حق بجانب ہوں گے۔اب دیکھنایہ ہے کہ وزیراعظم اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی کون سی کارکردگی لے کر عوام کے سامنے جانے کیمنصوبہ بندی کرتے ہیں یا عوام کو کون سانیا سبز باغ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر