وجود

... loading ...

وجود

سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

اتوار 14 مئی 2017 سیمنٹ فیکٹریوں سے بجلی کے حصول کی توقع معدوم

نیپرا نے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے‘ ترقی یافتہ ممالک میں سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سیمنٹ کمپنیوں میں ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرکے اسے فاضل توانائی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کو رد کردیاہے،ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق اور بجلی کی طلب میں اضافے کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضائع ہونے والی توانائی کو جمع کرنے والے پراجیکٹس کے لیے ٹیرف کی منظوری کے حوالے سے از خود کارروائی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نیپرا نے ضائع ہوجانے والی بجلی جمع کرنے کے پراجیکٹس کے لیے نیا ٹیرف تیار کرنے کے حوالے سے اب مزید کوئی کارروائی نہ کرنے کابھی فیصلہ کیاہے۔نیپرا کے حکام کا کہناہے کہ سیمنٹ پلانٹس پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور خود سیمنٹ پلانٹس میں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت کی وجہ سے یہ ضائع ہوجانے والی توانائی ان فیکٹریوں کی توانائی کی ضروریات کم کرنے میںہی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔
اس سے قبل یہ توقع کی جارہی تھی کہ سیمنٹ انڈسٹری جو بجلی تیار کرنے کے شعبے میں آرہا ہے نہ صرف اپنے پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے اپنی ضرورت پوری کرے گا بلکہ نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کرے گا جس سے ملک میں بجلی کی طلب ورسد کے فرق کوکم کرنے میں مدد ملے گی۔سیمنٹ تیار کرنے والی صنعت سے تعلق رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ سیمنٹ تیار کرنے والی فیکٹریوں میں ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرنے کے پلانٹ سیمنٹ انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے سیمنٹ پلانٹ کی پروسیسنگ کی صورتحال کے مطابق ایک انتہائی موزوں تھرمو ڈائنامک نظام منتخب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ممالک اورجاپان میں 1970 ء کی دہائی سے سیمنٹ انڈسٹری میں ضائع ہوجانے والی اوسط اور کم تردرجے کی توانائی کو جمع کرکے بجلی تیارکرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔1990ء میں یہ ٹیکنالوجی چین پہنچی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد چین نے اس حوالے سے بنیادی اکیوئپمنٹ چین ہی میں ڈیزائن کرکے تیار کیے جانے لگے۔چین کے بعد اب پاکستان میں بھی سیمنٹ انڈسٹری میں کلنکر تیار کرنے والی پہلے سے موجود اور نئے لگائے جانے والے پلانٹس میں اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیاجارہاہے۔
نیپرا نے اس حوالے سے تجاویز کا ایک مسودہ تیار کرنے کے بعدنیپرا کے افسران کو سیمنٹ تیار کرنے والے کارخانوںمیں جاکر ان کارخانوں سے ضائع ہوجانے والی توانائی کو جمع کرکے اضافی توانائی یا بجلی کے طورپر نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے امکانات کاجائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔اتھارٹی نے نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لیا لیکن اس حوالے سے کیے گئے دعووں کے حق میں کوئی شواہد یاریکارڈ نہیں مل سکا۔نیپرا حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور اس حوالے سے دیگر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی رائے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کاجائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی کوجمع کرکے اسے نیشنل گرڈ میں شامل کئے جانے سے بجلی کی رسد میں بہت ہی معمولی سا اضافہ ہوسکتاہے۔جبکہ سیمنٹ فیکٹریوں کی اپنی توانائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور ان پلانٹ پر کام کے دوران ضائع ہونے والی توانائی خود ان کی توانائی کی ضرورت پوری نہیں کرسکتی بلکہ اس میں صرف کچھ کمی کرتی ہے۔ اس لیے سیمنٹ پلانٹس سے ضائع ہونے والی توانائی سے تیار کی جانے والی بجلی کے لیے ٹیرف کی تیاری کاکام بند کیاجاتاہے ۔
نیپرا کے اس فیصلے کے بعد سیمنٹ فیکٹریوں سے نیشنل گرڈ کو وافر بجلی مل جانے کے حوالے سے بعض حلقوں کے دعووں سے ہوا نکل گئی ہے اور یہ ثابت ہوگیاہے کہ اس طرح کے منصوبوںپر وقت ضائع کرنے کے بجائے ملک میں لگائے جانے والے بجلی تیار کرنے کے پلانٹس کی جلد از جلد تکمیل پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جاسکے اور بجلی کی طلب ورسد میں موجودہ فرق کو کم سے کم کرکے عوام کو بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے نجات دی جاسکے۔
اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف اور پانی وبجلی کے وزیر اور وزیر مملکت اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ بجلی کے کئی زیر تکمیل پلانٹس اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور ان کے آپریشنل ہوتے ہی یعنی ان سے بجلی کی پیداوار شروع ہوتے ہی لوگوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، اور وزیر اعظم نے تو گزشتہ دنوں لیہ میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ وعدہ بھی کیاہے کہ نئے پلانٹس سے عوام کو کم قیمت بجلی فراہم کی جائے گی اور اس طرح ان کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آجائے گی ، لیکن میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور ان کے وزرا جواپنے قول وفعل سے وزیر سے زیادہ مصاحب نظر آتے ہیں ،کی جانب سے کیے گئے کوئی وعدے گزشتہ 4 سال کے دوران سچ ثابت نہیں ہوئے تو ا ب ان پر اعتبار کس طرح کیاجاسکتاہے۔ عوام کو ان وعدوں پر اعتبار تو اسی وقت آئے گا جب واقعی ان کے گھر اندھیروں میں نہیں ڈوبیں گے اور انہیں بھری گرمی میں سائے کی تلاش میں پارکوں کا رخ کرنے پر مجبور نہیںہوناپڑے گا۔
عوام بہرحال اس انتظار میں ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں کب تک کامیاب ہوتے ہیں اور انہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کب نجات ملتی ہے ۔اب 2018ء بھی دور نہیں ہے اور وزیر اعظم خود ہی کہہ چکے ہیں کہ اگلے الیکشن سے قبل ان کااحتساب کرنے میں عوام حق بجانب ہوں گے۔اب دیکھنایہ ہے کہ وزیراعظم اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی کون سی کارکردگی لے کر عوام کے سامنے جانے کیمنصوبہ بندی کرتے ہیں یا عوام کو کون سانیا سبز باغ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر