وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

قومی بچت اسکیمیں سرمایہ کاری میں 11 فیصدکی ریکارڈ کمی

هفته 13 مئی 2017 قومی بچت اسکیمیں سرمایہ کاری میں 11 فیصدکی ریکارڈ کمی

تین سہ ماہی کے دوران سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی ،سرمایہ کاری کا رجحان جو گزشتہ برسوں میں تیزی کی جانب مائل تھا اچانک نیچے آگیا‘ سرمایہ کاری میں کمی کاایک بڑا سبب روز بروز بڑھتی ہوئی گرانی اور آمدنی پر طاری جمود اور پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ ہے،ماہرین اقتصادیات

اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں ریکارڈ 11 فیصد کمی ہوئی ہے ،ر پورٹ کے مطابق جون2016 ء سے مارچ 2017ء کے دوران قومی بچت اسکیموں میں مجموعی طورپر ایک کھرب 69 ارب 20 کروڑ روپے جمع کرائے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران ان اسکیموں میں جمع کرائی گئی رقم کی مجموعی مالیت ایک کھرب 90 ارب 40 کروڑ روپے تھی۔حکومت نے قومی بچت اسکیموں سے 9 ارب 77 کروڑ 30 لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی اور مجموعی طورپر سرمایہ کاری کا رجحان جو کہ گزشتہ برسوں کے دوران تیزی کی جانب مائل تھا اچانک نیچے آگیاہے۔رپورٹ کے مطابق قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی کاایک بڑا سبب بچتوں پر منافع کی شرح کم ہونابھی ہے جبکہ ماہرین اقتصادیات کا کہناہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری میں کمی کاایک بڑا سبب روز بروز بڑھتی ہوئی گرانی اور آمدنی پر طاری جمود اور پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ ہے ، جس کی وجہ سے اب لوگ اپنی رقم سالہاسال کے لیے معمولی منافع کے لیے منجمد کردینے کے بجائے یہ پراپرٹی کی خریدوفروخت میں لگانے پر ترجیح دیتے ہیں۔اس کے علاوہ میوچل فنڈز اور ایکویٹیز میں سرمایہ کاری بھی قومی بچت اسکیموں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے جہاں سے لوگ کسی محنت کے بغیر معقول منافع حاصل کرلیتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کاکہناہے کہ اگرچہ چند ماہ قبل قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں معمولی سا اضافہ کیاگیاتھا لیکن یہ اضافہ مارکیٹ میں بچتوں کے حوالے سے موجود دیگر متعدد پراڈکٹس کے مقابلے ہی میں نہیں بلکہ چند سال قبل ان اسکیموں پر دیے جانے والے منافع سے بھی بہت کم ہے۔
قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں اس کمی کے باوجود قومی بچت کے افسران کا دعویٰ یہی ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں آنے والی اس کمی کے باوجود ان اسکیموں میں جمع کرائی جانے والی رقم کی شرح حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے مقررہ اہداف کے مطابق ہیں اور قومی بچت کے اکائونٹس ،سرٹیفیکٹس اور بانڈز میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا ہدف پورا کیاجاچکاہے۔قومی بچت کے افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ خیال کرنا کہ بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی ہوئی درست نہیں ہے ، ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح بجٹ میں مقررہ اہداف کے عین مطابق ہیں۔ان افسران کاکہناہے کہ 2016-17 ء کے بجٹ میں قومی بچت اسکیموں کے تحت سرمایہ کاری کے لیے 228 ارب روپے کاہدف مقرر کیاگیاتھا اور گزشتہ9 ماہ کے دوران جمع کرائی گئی رقوم کی مالیت اس ہدف کے عین مطابق ہیں۔
افسران کاکہناہے کہ ہماری چھوٹی بچتوں کی اسکیم اور فکسڈ ڈپازٹ پر منافع کی شرح بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے منافع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اس لیے چھوٹی بچت کی اسکیموں میں سرمایہ کاری اب بھی بہت سے سرمایہ کاروںخاص طورپر پنشنرز ، بیوائوںاور اپنی رقوم کو لٹنے سے محفوظ رکھنے کے خواہاں لوگوں کے لیے دیگر ذرائع کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہے۔افسران کاکہناہے کہ بچت اسکیموں کی پراڈکٹ چھوٹی بچت کرنے والوں کے لیے بینکوں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو باقاعدہ آمدنی حاصل ہوتی رہتی ہے، جبکہ دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کی صورت میں سرمایہ ڈوب جانے کا خطرہ بھی موجود ہوتاہے۔ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو ایک مقررہ شرح سے گارنٹی شدہ منافع ملتارہتاہے جبکہ میوچل فنڈز اور اکیویٹیز وغیرہ جیسی اسکیموں میں ایسا نہیص ہوتا۔ان کاکہناہے کہ اس وقت بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو بینکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ منافع حاصل ہورہاہے۔ان افسران کاکہناہے کہ حکومت ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو بینکوں کے مقابلے میں سالانہ مجموعی طورپر کم وبیش 30 ارب روپے زیادہ ادا کررہی ہے۔ان کاکہناہے کہ قومی بچت اسکیموں میں رقم رکھنے والوں کو سالانہ 6.03 فیصد سے 9.36 فیصد تک کی شرح سے منافع ادا کیاجاتاہے جبکہ بینکوں سے ان کو 5.60 فیصد سے6.40 فیصد تک منافع دیاجاتاہے۔
تاہم مارکیٹ ذرائع کاخیال ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں معمولی سے اضافے کی صورت میں بھی ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتاہے اور اس طرح حکومت کو اپنے امور مملکت چلانے کیلئے بینکوں سے بھاری شرح سود اور مارک اپ پر زیادہ رقم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔جبکہ ایک دوسرے حلقے کاخیال ہے کہ بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافے سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھے گا اور اس طرح حکومت مزید زیر بار ہوگی۔ جبکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کی کوشش کرے جہاں اسے کم از کم شرح پر سود ادا کرنا پڑے خواہ یہ رقم قوی بچت اسکیموں کے ذریعے حاصل ہو بینکوں کے ذریعے حاصل ہو یا نئے بانڈز کے اجرا کے ذریعہ ہو تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوسکے۔
دوسری جانب ایک اور حلقے کاکہنا ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے ساتھ اس قومی بچت اداروں میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو پریشان کئے جانے کا رویہ ہے جس کی وجہ سے خود اپنی رقم پر منافع حاصل کرنے کے لیے لوگوں کوگھنٹوں قطار لگانا پڑتی ہے اور ان اداروں میں تعینات کوئی اہلکار ان سے سیدھے منہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیاجاتاہے جیسا کہ وہ اپنی رقم پر منافع لینے نہیں بلکہ خیرات لینے آئے ہوں، اس حلقے کاکہناہے کہ قومی بچت اداروں کی کارکردگی بینک کی طرح آسان اور سہل بنادی جائے تو بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح دیکھتے ہی دیکھتے دگنی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ اس طرح لوگ بینکوں میں رقم رکھنے کے بجائے قومی بچت اسکیموں میں رقوم جمع کرانے کو ہی ترجیح دینے لگیں گے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

رواں دور میں سفید بال ہونا عمومی بات ہے اور مرد و خواتین دونوں ہی اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں،کیونکہ سفید بال بڑھاپے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین صحت قبل از وقت سفید بال امراض قلب کا عندیہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی آف قاہرہ کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 545 مردوں میں سفید بالوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بالوں کی جتنی سفید رنگت زیادہ تھی اتنا ہی دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین نے مردوں کو وارننگ جاری کر تے...

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

اوریکل کی ملازمین کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے ملازمین کی سوچ کو بدل رکھ دیا ہے اور ملازمین عام منیجروں کے مقابلے میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے روبوٹس ساتھی ملازمین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ خوش ہیں، ایچ آر ٹیم کا کردار ملازمین کی بھرتی، ان کی تربیت اور ملازمین کو ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے بھی تبدیل ہوا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اوریکل اور فیوچر ورک پلیس نے کی جو کاروباری قائدین کی تیاری، ان کی ملازمتوں اور ملازمین کے دیگر...

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

امریکا میں گھر پرنظربند فلسطینی سائنسدان عبدالحلیم الاشقر کو اسرائیل کے حوالے کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ع،بدالحلیم الاشقر کی اہلیہ اسما ء مھنا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو امریکا میں گھر پرنظربند کیا گیا ہے ۔ ان کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ۔ خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت امریکا پروفیسر ڈاکٹر الاشقر کو امریکا کے حوالے کردے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے حوالے سے جاری تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں...

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار