وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حکمت یارکی افغان افق پر واپسی کابل میں استقبالیہ جلسے نے دنیا کوحیران کردیا

اتوار 07 مئی 2017 حکمت یارکی افغان افق پر واپسی کابل میں استقبالیہ جلسے نے دنیا کوحیران کردیا

ایک سال قبل مفاہمتی عمل اسلام آباد سے ہوا،افغان سفیر۔ افغان مصالحتی عمل کی ایک بڑی کامیابی کا آغازپاکستان سے ہوناخو ش آئند ہے ،تجزیہ کار‘ حکمت یار پاکستان سے جتنے بھی نالاں ہوں کم از کم بھارت کا ساتھ نہیں دیں گے ،ان کابھارت سے متعلق خصوصا کشمیر پر موقف کافی سخت رہا ہے

افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور کافی عرصے سے زیر زمین رہنے والے جنگجو رہنماگلبدین حکمت یار نے گزشتہ دنوں کابل میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افغان طالبان کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے افغانستان کے موجودہ نظام پر عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا، گلبدین حکمت یار کے لیے منعقدہ تقریب میں تمام سیاسی قیادت نے شرکت کی۔کابل میں صدارتی محل میں وہ بڑی عزت اور احترام کے ساتھ داخل ہوئے،اس موقع پر انہیں دیکھ کر ایک تبصرہ نگار نے کہا کہ تقریبًا 70 سالہ حکمت یار ’کافی تازہ دم دکھائی دے رہے تھے۔ شایدوہ کسی اچھی جگہ روپوشی کے9سال گزار کر آئے ہیں۔‘ اگرچہ اس مدت کے دوران ان کے رشتہ دار اور تنظیمی اراکین اسلام آباد میں کافی عرصہ سے مقیم ہیں اورگلبدین حکمت یار اور افغان حکام کے درمیان مفاہمت کی بات چیت جس کے نتیجے میں انھیں انتہائی عزت واحترام کے ساتھ کابل کے صدارتی محل میں آنے کا موقع ملا یقیناً بات ان کے ان رشتہ داروں یا جماعت کے ساتھیوں ہی کے ذریعے شروع ہوئی ہوگی۔ لیکن حکمت یار خود کہاں رہے یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جہاں تک حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ ان کی حیثیت کسی آگ لگی پتلون جیسی ہے جسے اتار دیں تو انسان ننگا ہو جائے گا اور نہ اتاریں تو اس سے زیادہ نقصان اٹھائے گا۔ فی الحال کابل حکام نے بظاہر یہ پتلون پہنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گلبدین حکمت یار اتنا طویل عرصہ کہاں تھے کسی کو نہیں معلوم لیکن ان کی واپسی کا سلسلہ اسلام آباد سے شروع ہوا۔ اس کا اعلان پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر ذاخلوال نے ایک ٹویٹ میں کیا۔ ان کا حکمت یار کی کابل میںموجودگی کے بارے میں کہنا تھا کہ اس عمل کا آغاز ایک برس قبل اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ایک مختصر گفتگو سے ہوا تھا۔ یعنی افغان مصالحتی عمل کی ایک بڑی کامیابی کا آغاز یقینا پاکستان سے ہوا۔صدارتی محل میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے آغاز میں گلبدین حکمت یار نے روایت سے ہٹ کر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ معمول کے مطابق اپنے خطاب کا آغاز اپنے میزبانوں جیسا کہ افغان صدر اور دیگر اہم شخصیات کے نام لے کر نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ انہوں نے نہیں بتائی لیکن بظاہر لگتا ہے کہ افغان صدر کو مخاطب نہ کرکے انھوں نے پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ نظام سے وہ مطمئن نہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ افغان لویہ جرگہ میں افغانستان کے لیے ‘اصل اسلامی آئین’ پیش کریں گے۔
سوویت یونین کے خلاف جدوجہد میں حکمت یار کے پاکستان، سعودی عرب اور امریکا سے تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایک منظم گروپ ہونے کی وجہ سے حزب اسلامی کو ایک وقت میں سب سے زیادہ عسکری امداد دی جاتی تھی۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق کو ایک مرتبہ حکمت یار کو یہ دھمکی دینی پڑی تھی کہ انھیں بنانے والے وہ ہیں لہذا وہ انہیں گرا بھی سکتے ہیں۔ لیکن جب 90 کی دہائی میں اقتدار میں طاقت کے زور پر آنے کے باوجود حکمت یار کم از کم پشتونوں کے دل نہیں جیت سکے تو پاکستان نے منہ طالبان کی جانب موڑ لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تعلقات کی خرابی کے باعث انہیں ایران میں 6 سال تک پناہ لینی پڑی تھی۔ لیکن 2002 میں ایران کی جانب سے انہیں ملک سے نکالے جانے کے بعدوہ کہاں منتقل ہوئے یہ واضح نہیں ہوا لیکن یہ بات واضح ہے کہ انھوں نے پاکستان سے تعلق کبھی بھی مکمل طور پر نہیں توڑا تھا۔
عسکری طور پر تو حکمت یار کی کامیابیاں کوئی زیادہ قابل ذکر نہیں لیکن سیاسی طور پر ان کی جماعت کافی منظم رہی اور اپنی حمایت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کی بڑی مثال کابل میں جمعے کے ایک بڑے اجتماع سے ان کا خطاب ہے۔ ہزاروں افراد کی جلسے میں شرکت نے کئی تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ اس کی وجہ شاید طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کسی مضبوط افغان پارٹی کا سامنے نہ آنا ہے۔ کئی امریکی اب یہ غلطی تسلیم کرتے ہیں کہ شاید 2001 میں طالبان کے جانے کے بعد اْنہوں نے شخصیتوں یا جنگی سرداروں کے بجائے اگر سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کی ہوتی تو آج افغانستان میں جمہوریت کی حالت قدرے بہتر ہوتی۔
حزب اسلامی کافی ہوشیار ثابت ہوئی۔ جنگی میدان میں موجودگی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس نے سیاسی میدان میں اپنی فعالیت بھی برقرار رکھی۔ ان کی جماعت ایک ایسی افغان جماعت ہے جو نسلی بنیادوں پر قائم نہیں بلکہ اس میں تاجک بھی ہیں اور ازبک بھی۔ مذہبی طور پر بھی اس میں بامیان کے شیعہ بھی شامل ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے بقول ان کی جماعت کا تعلق ‘گراس روٹ’ سے ہے۔ حکمت یار کے انٹیلی جنس سربراہ وحدی اللہ صباون نے 2002 سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ خالد فاروقی اور عبدالہادی ارغندوال جیسے رہنماؤں نے اسے کابل میں مستحکم کیا اور بعد میں کابینہ کا حصہ بھی بنے۔
پاکستان کے لیے حکمت یار کی نموداری کیا معنی رکھتی ہے، اس حوالے سے صحافی سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ان کا دوبارہ افق پر آنا مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔ ‘پاکستان سے ان کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں اس سے قطع نظر حکمت یار کابھارت سے متعلق خصوصا کشمیر پر ماضی میں موقف کافی سخت ثابت ہوا ہے۔ وہ پاکستان سے جتنے بھی نالاں ہوں کم از کم بھارت کا ساتھ نہیں دیں گے۔لیکن خیال یہ ہے کہ اس نئے سیاسی منظرنامے میں بھارت بھی ان سے رابطے اور تعلق بنانے کی کوشش ضرور کرے گا۔ فی الحال پاکستان کی پوزیشن مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ گھر پر بھی احسان اللہ احسان جیسے بدھو واپس لوٹ رہے ہیں اور سرحد پار بھی۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہ ایسا کچھ طے ہوا ، امریکی صدر وجود - پیر 23 ستمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بہت لچکدار رویہ رکھتے ہیں لیکن ایرانی حکام سے ابھی ملاقات کا نہ ارادہ ہے اور نہ ایسا کچھ طے ہوا ہے ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی حکام سے ملاقات کے سوال پر انہوںنے کہا کہ کسی بھی بات کا امکان مکمل ختم نہیںہوتا لیکن ان کا ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ بہت لچکدار رویہ کے حامل شخص ہیں اگر ایرانی حکام چاہتے تو ان سے...

ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہ ایسا کچھ طے ہوا ، امریکی صدر

چین نے دو سیٹلائٹس کو زمین کے گردکو مدار میں بھیج دیا وجود - پیر 23 ستمبر 2019

چین نے بے دوئے ۔ 3 سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کے مزید دو سیٹلائٹس کو زمین کے گرد مدار میں بھیج دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو سیٹلائٹس کو صبح 5 بج کر 10 منٹ پر چین کے شی چھانگ لانچنگ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ زمین کے گرد مدار میں چھوڑا گیا۔ تین گھنٹوں کے سفر کے بعد یہ دو سیٹلائٹس مقررہ مدار میں پہنچ گئے ۔ یہ دونوں سیٹلائٹس بعد میں سسٹم میں شامل ہو کر مواصلاتی خدمات فراہم کریں گے ۔

چین نے دو سیٹلائٹس کو زمین کے گردکو مدار میں بھیج دیا

سری لنکن صدر کی ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم وجود - پیر 23 ستمبر 2019

سری لنکا کے صدر مائی تریپالا سری سینا نے کیتھولک گرجا گھر کے حکام کی جانب سے تحقیقات پر خدشات کا اظہار کیے جانے پر ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیتھولک گرجا گھر کے حکام نے گذشتہ تحقیقات پر خدشات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد صدر متھری پالا سری سینا نے ججوں پر مشتمل 5 رکنی پینل قائم کیا جسے 3 ماہ کے اندر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ۔واضح رہے کہ رواں سال ایسٹر کے موقع پر 21 اپریل کو سری لنکا میں 3 گرجا گھروں ،3 ہوٹلوں پر دھماک...

سری لنکن صدر کی ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم

بانی وکی لیکس کے ساتھ د ہشتگردوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا گیا ، کرسٹین وجود - پیر 23 ستمبر 2019

وکی لیکس کے ایڈیٹر ان چیف کرسٹین ہرافنسن نے الزام لگایا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ برطانیہ کے افسران دہشت گردوں سے بھی برا سلوک کر رہے ہیں اور انہیں عدالتی کارروائی کی تیاری کرنے سے روک رہے ہیں۔ہرافنسن نے کہا کہ جولین اسانج کو عدالت کی کارروائی سے متعلق تیاری کرنے کے لئے کوئی بھی سہولت مہیا نہیں کی جا رہی اور انہیں 24 گھنٹے صرف جیل میں ہی رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے برطانیا کے حکام پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جولین کو صرف کچھ دنوں پہلے عدالتی کارروائی کی تی...

بانی وکی لیکس کے ساتھ د ہشتگردوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا گیا ، کرسٹین

لمبی،صحت مند زندگی کا راز، مایوسی کی جگہ امید پیدا کرلیں،نئی تحقیق وجود - جمعه 30 اگست 2019

امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی میں کی گئی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان اگر لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو مایوسی کی جگہ امید کو اپنے اندر پیدا کرلیں۔درحقیقت مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں لمبی زندگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو 85 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ذہنی تناؤ کو زیادہ اچھے طریقے سے قابو کرلیتے ہیں، ان کی جسمانی صحت بھی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ایسے افراد زندگی کے مقصد کا تعین ب...

لمبی،صحت مند زندگی کا راز، مایوسی کی جگہ امید پیدا کرلیں،نئی تحقیق

پیرو میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھائے گئے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت وجود - جمعه 30 اگست 2019

جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں چیموز دیوتاؤں کے لیے بھینٹ چڑھائے جانے والے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت ہوگئیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پیرو کے دارالحکومت لیما کے ساحلی علاقے ہونیچوکو میں 227 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی عمریں 5 سے 14 برس تھیں۔آثار قدیمہ ماہرین کے مطابق دریافت کی گئی قبریں کم از کم 500 سال پرانی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس پیرو کے دو مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 200 بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔ماہرین نے بتایا تھا کہ جب کھدائی کی گئی تو بعض بچ...

پیرو میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھائے گئے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت

مقبول اینڈرائیڈ ایپ کیم اسکینر میں میل وئیر کی موجودگی کا انکشاف وجود - جمعه 30 اگست 2019

گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں استعمال ہونے والی ایک مقبول ایپ کیم اسکینر کو پلے اسٹور سے نکال دیا ہے۔یہ ایپ پی ڈی ایف دستاویزات اسکین کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اب میل وئیر پھیلا رہی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق2010 سے یہ ایپ موجود ہے اور اسے 10 کروڑ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور حالیہ دنوں میں اینٹی وائرس کمپنی کاس پیرسکے نے دریافت کیا تھا کہ اس پلیکشن نے اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں میل وئیر پھیلانا شروع کردیا ہے۔اس رپورٹ کے بعد گوگل نے پلے اسٹور سے کیم اسکینر کو نکال دیا ہے...

مقبول اینڈرائیڈ ایپ کیم اسکینر میں میل وئیر کی موجودگی کا انکشاف

اسرائیل نے ایرانی شہریوں کیلئے فارسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کردیے وجود - جمعه 30 اگست 2019

اسرائیل نے ایرانی شہریوں تک رسائی کے لیے فارسی زبان میں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کر دیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے فارسی زبان میں متعدد سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کھولنے کا انکشاف کیا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹیلی گرام پر فارسی زبان میں متعدد اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں، جس کے تحت ایرانی شہریوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ خود کے دشمن نہیں ہیں بلکہ جابرانہ ایرانی حکومت ان کی دشمن ہے۔اس حوالے سے اسرائیل کے عسکری ٹوئٹر اکاؤنٹ میں کہا گیا ک...

اسرائیل نے ایرانی شہریوں کیلئے فارسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کردیے

بریگزٹ معاملے پر ملکہ برطانیانے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی وجود - جمعه 30 اگست 2019

برطانیا کی ملکہ ایلزبتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جونسن کی درخواست پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکہ برطانیہ کی منظوری کے بعد ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پارلیمنٹ معطل کردی جائے گی اور 5 ہفتوں بعد ملکہ ایلزبتھ دوم 14 اکتوبر کو تقریر کریں گی۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن نے پارلیمنٹ سے متعلق کہا کہ معطلی کا فیصلہ ضروری تھا کیونکہ ان کی حکومت کو آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔اس ضمن میں بتایا...

بریگزٹ معاملے پر ملکہ برطانیانے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر وجود - جمعه 30 اگست 2019

چین اور ویٹی کن سٹی کے درمیان مفاہمت کو بڑھانے کی غرض سے ایک معاہدے کے تحت پوپ اور بیجنگ کی مشترکہ منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چینی کیتھولک پادری کا تقرر کردیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں ایک کروڑ 20 لاکھ کیتھولک افراد حکومت کے تحت چلنے والی ایسوسی ایشن اور ویٹی کن سٹی سے ہمدردی رکھنے والے انڈر گراؤنڈ چرچ میں تقسیم ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی سرپرستی میں ایسوسی ایشن پادری کا انتخاب حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کرتی تھی۔چین اور ویٹی کن کے درمیان طے پانے والی شرائط کے...

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر

آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر امریکا کو تشویش وجود - جمعه 30 اگست 2019

امریکی حکومت کے ایک مشاورتی بورڈ نے بھارتی ریاست آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن کے دوران ممکنہ زیادتیوں کے حوالے سے انہیں تحفظات ہیں،واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے آسام میں رہنے والوں سے کہا ہے کہ بھارتی شہریت کے حصول کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ سن1971سے قبل ان کے والدین یا ان سے بھی پہلے کی نسل اس ریاست میں رہائش پزیر تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بورڈ کے سربراہ ٹونی پیرکنز نے کہاکہ آسام میں شہریوں کی رجس...

آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر امریکا کو تشویش

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی