... loading ...

دنیا میں شاید ہی کوئی فرد ایسا ملے جو امیر نہ بننا چاہتاہو، غربت اور کسمپرسی کی زندگی سے نجات کاخواہاں نہ ہو اور یہ نہ چاہتاہو کہ بجائے اس کے کہ وہ خود دوسرے کا دست نگر ہو، دوسرے اس کے دست نگر ہوں ،اس مقصد کے حصول کے لیے بعض ناعاقبت اندیش افراد غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزارخواہشات کے باوجود کامیابی ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتی ، امیر ہر ایک نہیں بن سکتا۔
عام طورپرخیال کیا جاتا ہے کہ ہر ایک کو دولت مند بننے یا زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے یکساں مواقع ملتے ہیں مگر کیا یہ خیال واقعی ٹھیک ہے؟یہ خیال بڑی حد تک درست ہے اور یقیناً ایسا ہوتا ہے مگر چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے دولت مند بننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی توکوئی بھی نہیں کرسکتا مگر 9 علامات کا جائزہ لیں توآپ کو یہ معلوم ہوسکتاہے کہ آپ میں امیربننے یا نہ بننے کی کتنی صلاحیت موجود ہے یا آپ ان صلاحیتوں سے کس حد تک محروم ہیں۔چند چیزوں یا عادتوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زندگی میں کامیابی ممکن ہے یا لگ بھگ ناممکن ہوگی۔
اب ذرا خود اپنا جائزہ لیں کہ کیا یہ عادتیں یا چیزیں آپ کے اندر بھی تو موجود نہیں؟
کمانے کی بجائے بچت پر بہت زیادہ زور
دولت بڑھانے کے لیے بچت بہت ضروری ہوتی ہے مگر اس پر اتنی زیادہ توجہ نہیں مرکوز کرنی چاہیے کہ کمانے کو نظرانداز کرنا شروع کردیا جائے۔ بچت کی عملی حکمت عملیوں کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر آپ کسی امیر فرد کی طرح سوچنا چاہتے ہیں تو ہاتھ میں موجود پیسوں کے خاتمے پر فکر مند ہونے کے بجائے اس امر پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ مزید روپے کیسے کما سکتے ہیں۔ بچت کی اسمارٹ عادات اور آمدنی کے کئی ذرائع مل کر لوگوں کو کروڑ پتی بنانے کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ ہونا
اپنی دولت میں اضافے یامزید روپے کمانے کے مؤثر طریقوں میں سے ان کی سرمایہ کاری کرنا ہے اور اسے جتنا جلد شروع کریں گے انتا ہی بہتر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اوسطاً ایک کروڑ پتی فرد اپنی آمدنی کا بیس فیصد حصہ سرمایہ کاری پر صرف کرتا ہے، ان کی دولت کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ ہر سال کتنا کماتے ہیں بلکہ کیسے بچت کرتے اور وقت کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، یہ معنی رکھتا ہے۔ آپ جتنی سرمایہ کاری کریں گے وہ بہتر ہے جس کے لیے مختلف ذرائع ہیں جیسے ریٹائرمنٹ کے لیے ،بچت کے لیے مختلف اکائونٹس میں سرمایہ کاری وغیرہ۔
لگی بندھی تنخواہ پر مطمئن
عام افراد مخصوص اوقات میں کام کرکے لگی بندھی تنخواہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ امیر افراد نتائج پر آمدنی کا انتخاب کرتے ہیں اور عام طور پر خود اپنے ملازم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام افراد کسی ایک ملازمت کو کرکے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور تنخواہ میں سالانہ بنیادوں پر اضافے پر ہی مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھ نہیں پاتے۔
چادر سے پائوں باہر نکالنا
اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو امیر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے، یہاں تک کہ اگر آپ کی آمدنی بڑھ جاتی ہے یا تنخواہ میں اچھا اضافہ ہوتا ہے تو یہ اپنے طرز زندگی کو پرتعیش بنانے کے لیے جواز نہیں۔ اکثر امیر افراد اس وقت تک مہنگی چیزوں کو نہیں خریدتے جب تک ان کی سرمایہ کاری کئی ذرائع سے زیادہ آمدنی فراہم نہیں کرنا شروع کردیتی۔
اپنے نہیں کسی اور کے خواب کی تعبیر کے لیے سرگرداں
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے کام سے محبت ہونا چاہیے، یعنی اپنے شوق یا خواب کے تعاقب کے لیے پرعزم ہونا چاہیے، بیشتر افراد کسی اور جیسے والدین وغیرہ کے خواب کا تعاقب کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق جب آپ کسی اور کے خواب یا مقاصد کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو بتدریج آپ اپنے منتخب کردہ پیشے سے خوش نہیں رہتے، آپ کی کارکردگی سے اس کا اظہار بھی ہونے لگتا ہے اور آپ مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ایک حد سے آگے نہ بڑھنا
اگر آپ دو لت مند ہونا چاہتے ہیں، کامیاب ہونا چاہتے ہیں یا زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو غیریقینی یا تکلیف جیسے احساسات کو استعمال کرنا چاہیے، امیر افراد غیریقینی صورتحال میں بھی مطمئن رہتے ہیں، ماہرین کے مطابق جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اطمینان متوسط طبقے کے ذہن میں بنیادی مقصد ہوتا ہے، بلند سوچ رکھنے والے جلد یہ سیکھ لیتے ہیں کہ امیر بننا آسان نہیں اور ایک حد تک محدود ہونا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
دولت کے استعمال کے لیے مقصد نہ ہونا
دولت ایسے ہی ہاتھ نہیں آتی، اس کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اگر آپ بتدریج دولت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کے ذہن میں واضح اور مخصوص مقصد ہونا چاہیے جہاں اسے صرف کیا جاسکے۔ اگر آپ کے ذہن میں مقصد واضح ہو تو توجہ مرکوز کرنے، دلیری، علم اور بہت کچھ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے، ماہرین کے مطابق بیشتر افراد کے زندگی میں آگے نہ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کیا کرنا یا کہاں بڑھنا ہے۔
خرچ پہلے بچت بعد میں
لوگ پیسے کما کر اسے یہاں وہاں خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں، جیسے گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، ٹیکسز اور دیگر، جبکہ آخر میں جو بچتا ہے (اگر بچے) تو اسے بچت کے زمرے میں ڈال دیاجاتا ہے۔ یہ اخراجات ضرور کریں کیونکہ وہ ضروری ہیں مگر پہلے خود کو رقم دیں یا یوں کہہ لیں کہ پہلے بچت کریں اور وہ بھی کم از کم آپ کی آمدنی کے 10 فیصد حصے کے برابر۔ اس طرح آپ کو کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کی تربیت بھی حاصل ہوگی۔
امیر بننا ناممکن لگتا ہے
اوسط درجے کے شخص کا خیال ہوتا ہے کہ صرف خوش قسمت افراد امیر بن پاتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ ملک میں آپ کے پاس امیر بننے کا ہر حق ہوتا ہے، مگر اس کے لیے آپ کے اندر عزم ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے خود سے سوال کریں کہ میں اپنے طبقے (نچلے یا متوسط) سے اوپر کیوں نہیں اٹھ سکتا، اس کے بعد کچھ بڑا سوچنا شروع کریں، اپنی توقعات بلند کریں گے تو کامیابی بھی قدم چومے گی۔
مذکورہ بالا علامات کا غور سے مطالعہ کریں اور اگر آپ واقعی امیر بننا چاہتے ہیں تو اپنی ان عادتوں کو ترک کرنے کی کوشش کریں جو امیر بننے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہوں اور اس کے ساتھ ان عادات کو اپنانے کی کوشش کریں جو آپ کو امیر بننے کی سیڑھی پر چڑھنے میں مدد دے سکتی ہوں، یا آپ کو امیر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہوں۔
تہمینہ حیات نقوی
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...