وجود

... loading ...

وجود

ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟؟

اتوار 07 مئی 2017 ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟؟


دنیا میں شاید ہی کوئی فرد ایسا ملے جو امیر نہ بننا چاہتاہو، غربت اور کسمپرسی کی زندگی سے نجات کاخواہاں نہ ہو اور یہ نہ چاہتاہو کہ بجائے اس کے کہ وہ خود دوسرے کا دست نگر ہو، دوسرے اس کے دست نگر ہوں ،اس مقصد کے حصول کے لیے بعض ناعاقبت اندیش افراد غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزارخواہشات کے باوجود کامیابی ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتی ، امیر ہر ایک نہیں بن سکتا۔
عام طورپرخیال کیا جاتا ہے کہ ہر ایک کو دولت مند بننے یا زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے یکساں مواقع ملتے ہیں مگر کیا یہ خیال واقعی ٹھیک ہے؟یہ خیال بڑی حد تک درست ہے اور یقیناً ایسا ہوتا ہے مگر چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے دولت مند بننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی توکوئی بھی نہیں کرسکتا مگر 9 علامات کا جائزہ لیں توآپ کو یہ معلوم ہوسکتاہے کہ آپ میں امیربننے یا نہ بننے کی کتنی صلاحیت موجود ہے یا آپ ان صلاحیتوں سے کس حد تک محروم ہیں۔چند چیزوں یا عادتوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زندگی میں کامیابی ممکن ہے یا لگ بھگ ناممکن ہوگی۔
اب ذرا خود اپنا جائزہ لیں کہ کیا یہ عادتیں یا چیزیں آپ کے اندر بھی تو موجود نہیں؟
کمانے کی بجائے بچت پر بہت زیادہ زور
دولت بڑھانے کے لیے بچت بہت ضروری ہوتی ہے مگر اس پر اتنی زیادہ توجہ نہیں مرکوز کرنی چاہیے کہ کمانے کو نظرانداز کرنا شروع کردیا جائے۔ بچت کی عملی حکمت عملیوں کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر آپ کسی امیر فرد کی طرح سوچنا چاہتے ہیں تو ہاتھ میں موجود پیسوں کے خاتمے پر فکر مند ہونے کے بجائے اس امر پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ مزید روپے کیسے کما سکتے ہیں۔ بچت کی اسمارٹ عادات اور آمدنی کے کئی ذرائع مل کر لوگوں کو کروڑ پتی بنانے کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ ہونا
اپنی دولت میں اضافے یامزید روپے کمانے کے مؤثر طریقوں میں سے ان کی سرمایہ کاری کرنا ہے اور اسے جتنا جلد شروع کریں گے انتا ہی بہتر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اوسطاً ایک کروڑ پتی فرد اپنی آمدنی کا بیس فیصد حصہ سرمایہ کاری پر صرف کرتا ہے، ان کی دولت کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ ہر سال کتنا کماتے ہیں بلکہ کیسے بچت کرتے اور وقت کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، یہ معنی رکھتا ہے۔ آپ جتنی سرمایہ کاری کریں گے وہ بہتر ہے جس کے لیے مختلف ذرائع ہیں جیسے ریٹائرمنٹ کے لیے ،بچت کے لیے مختلف اکائونٹس میں سرمایہ کاری وغیرہ۔
لگی بندھی تنخواہ پر مطمئن
عام افراد مخصوص اوقات میں کام کرکے لگی بندھی تنخواہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ امیر افراد نتائج پر آمدنی کا انتخاب کرتے ہیں اور عام طور پر خود اپنے ملازم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام افراد کسی ایک ملازمت کو کرکے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور تنخواہ میں سالانہ بنیادوں پر اضافے پر ہی مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھ نہیں پاتے۔
چادر سے پائوں باہر نکالنا
اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو امیر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے، یہاں تک کہ اگر آپ کی آمدنی بڑھ جاتی ہے یا تنخواہ میں اچھا اضافہ ہوتا ہے تو یہ اپنے طرز زندگی کو پرتعیش بنانے کے لیے جواز نہیں۔ اکثر امیر افراد اس وقت تک مہنگی چیزوں کو نہیں خریدتے جب تک ان کی سرمایہ کاری کئی ذرائع سے زیادہ آمدنی فراہم نہیں کرنا شروع کردیتی۔
اپنے نہیں کسی اور کے خواب کی تعبیر کے لیے سرگرداں
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے کام سے محبت ہونا چاہیے، یعنی اپنے شوق یا خواب کے تعاقب کے لیے پرعزم ہونا چاہیے، بیشتر افراد کسی اور جیسے والدین وغیرہ کے خواب کا تعاقب کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق جب آپ کسی اور کے خواب یا مقاصد کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو بتدریج آپ اپنے منتخب کردہ پیشے سے خوش نہیں رہتے، آپ کی کارکردگی سے اس کا اظہار بھی ہونے لگتا ہے اور آپ مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ایک حد سے آگے نہ بڑھنا
اگر آپ دو لت مند ہونا چاہتے ہیں، کامیاب ہونا چاہتے ہیں یا زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو غیریقینی یا تکلیف جیسے احساسات کو استعمال کرنا چاہیے، امیر افراد غیریقینی صورتحال میں بھی مطمئن رہتے ہیں، ماہرین کے مطابق جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اطمینان متوسط طبقے کے ذہن میں بنیادی مقصد ہوتا ہے، بلند سوچ رکھنے والے جلد یہ سیکھ لیتے ہیں کہ امیر بننا آسان نہیں اور ایک حد تک محدود ہونا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
دولت کے استعمال کے لیے مقصد نہ ہونا
دولت ایسے ہی ہاتھ نہیں آتی، اس کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اگر آپ بتدریج دولت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کے ذہن میں واضح اور مخصوص مقصد ہونا چاہیے جہاں اسے صرف کیا جاسکے۔ اگر آپ کے ذہن میں مقصد واضح ہو تو توجہ مرکوز کرنے، دلیری، علم اور بہت کچھ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے، ماہرین کے مطابق بیشتر افراد کے زندگی میں آگے نہ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کیا کرنا یا کہاں بڑھنا ہے۔
خرچ پہلے بچت بعد میں
لوگ پیسے کما کر اسے یہاں وہاں خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں، جیسے گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، ٹیکسز اور دیگر، جبکہ آخر میں جو بچتا ہے (اگر بچے) تو اسے بچت کے زمرے میں ڈال دیاجاتا ہے۔ یہ اخراجات ضرور کریں کیونکہ وہ ضروری ہیں مگر پہلے خود کو رقم دیں یا یوں کہہ لیں کہ پہلے بچت کریں اور وہ بھی کم از کم آپ کی آمدنی کے 10 فیصد حصے کے برابر۔ اس طرح آپ کو کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کی تربیت بھی حاصل ہوگی۔
امیر بننا ناممکن لگتا ہے
اوسط درجے کے شخص کا خیال ہوتا ہے کہ صرف خوش قسمت افراد امیر بن پاتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ ملک میں آپ کے پاس امیر بننے کا ہر حق ہوتا ہے، مگر اس کے لیے آپ کے اندر عزم ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے خود سے سوال کریں کہ میں اپنے طبقے (نچلے یا متوسط) سے اوپر کیوں نہیں اٹھ سکتا، اس کے بعد کچھ بڑا سوچنا شروع کریں، اپنی توقعات بلند کریں گے تو کامیابی بھی قدم چومے گی۔
مذکورہ بالا علامات کا غور سے مطالعہ کریں اور اگر آپ واقعی امیر بننا چاہتے ہیں تو اپنی ان عادتوں کو ترک کرنے کی کوشش کریں جو امیر بننے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہوں اور اس کے ساتھ ان عادات کو اپنانے کی کوشش کریں جو آپ کو امیر بننے کی سیڑھی پر چڑھنے میں مدد دے سکتی ہوں، یا آپ کو امیر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہوں۔

تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر