وجود

... loading ...

وجود

ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟؟

اتوار 07 مئی 2017 ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟؟


دنیا میں شاید ہی کوئی فرد ایسا ملے جو امیر نہ بننا چاہتاہو، غربت اور کسمپرسی کی زندگی سے نجات کاخواہاں نہ ہو اور یہ نہ چاہتاہو کہ بجائے اس کے کہ وہ خود دوسرے کا دست نگر ہو، دوسرے اس کے دست نگر ہوں ،اس مقصد کے حصول کے لیے بعض ناعاقبت اندیش افراد غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزارخواہشات کے باوجود کامیابی ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتی ، امیر ہر ایک نہیں بن سکتا۔
عام طورپرخیال کیا جاتا ہے کہ ہر ایک کو دولت مند بننے یا زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے یکساں مواقع ملتے ہیں مگر کیا یہ خیال واقعی ٹھیک ہے؟یہ خیال بڑی حد تک درست ہے اور یقیناً ایسا ہوتا ہے مگر چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے دولت مند بننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی توکوئی بھی نہیں کرسکتا مگر 9 علامات کا جائزہ لیں توآپ کو یہ معلوم ہوسکتاہے کہ آپ میں امیربننے یا نہ بننے کی کتنی صلاحیت موجود ہے یا آپ ان صلاحیتوں سے کس حد تک محروم ہیں۔چند چیزوں یا عادتوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زندگی میں کامیابی ممکن ہے یا لگ بھگ ناممکن ہوگی۔
اب ذرا خود اپنا جائزہ لیں کہ کیا یہ عادتیں یا چیزیں آپ کے اندر بھی تو موجود نہیں؟
کمانے کی بجائے بچت پر بہت زیادہ زور
دولت بڑھانے کے لیے بچت بہت ضروری ہوتی ہے مگر اس پر اتنی زیادہ توجہ نہیں مرکوز کرنی چاہیے کہ کمانے کو نظرانداز کرنا شروع کردیا جائے۔ بچت کی عملی حکمت عملیوں کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر آپ کسی امیر فرد کی طرح سوچنا چاہتے ہیں تو ہاتھ میں موجود پیسوں کے خاتمے پر فکر مند ہونے کے بجائے اس امر پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ مزید روپے کیسے کما سکتے ہیں۔ بچت کی اسمارٹ عادات اور آمدنی کے کئی ذرائع مل کر لوگوں کو کروڑ پتی بنانے کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ ہونا
اپنی دولت میں اضافے یامزید روپے کمانے کے مؤثر طریقوں میں سے ان کی سرمایہ کاری کرنا ہے اور اسے جتنا جلد شروع کریں گے انتا ہی بہتر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اوسطاً ایک کروڑ پتی فرد اپنی آمدنی کا بیس فیصد حصہ سرمایہ کاری پر صرف کرتا ہے، ان کی دولت کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ ہر سال کتنا کماتے ہیں بلکہ کیسے بچت کرتے اور وقت کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، یہ معنی رکھتا ہے۔ آپ جتنی سرمایہ کاری کریں گے وہ بہتر ہے جس کے لیے مختلف ذرائع ہیں جیسے ریٹائرمنٹ کے لیے ،بچت کے لیے مختلف اکائونٹس میں سرمایہ کاری وغیرہ۔
لگی بندھی تنخواہ پر مطمئن
عام افراد مخصوص اوقات میں کام کرکے لگی بندھی تنخواہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ امیر افراد نتائج پر آمدنی کا انتخاب کرتے ہیں اور عام طور پر خود اپنے ملازم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام افراد کسی ایک ملازمت کو کرکے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور تنخواہ میں سالانہ بنیادوں پر اضافے پر ہی مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھ نہیں پاتے۔
چادر سے پائوں باہر نکالنا
اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو امیر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے، یہاں تک کہ اگر آپ کی آمدنی بڑھ جاتی ہے یا تنخواہ میں اچھا اضافہ ہوتا ہے تو یہ اپنے طرز زندگی کو پرتعیش بنانے کے لیے جواز نہیں۔ اکثر امیر افراد اس وقت تک مہنگی چیزوں کو نہیں خریدتے جب تک ان کی سرمایہ کاری کئی ذرائع سے زیادہ آمدنی فراہم نہیں کرنا شروع کردیتی۔
اپنے نہیں کسی اور کے خواب کی تعبیر کے لیے سرگرداں
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے کام سے محبت ہونا چاہیے، یعنی اپنے شوق یا خواب کے تعاقب کے لیے پرعزم ہونا چاہیے، بیشتر افراد کسی اور جیسے والدین وغیرہ کے خواب کا تعاقب کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق جب آپ کسی اور کے خواب یا مقاصد کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو بتدریج آپ اپنے منتخب کردہ پیشے سے خوش نہیں رہتے، آپ کی کارکردگی سے اس کا اظہار بھی ہونے لگتا ہے اور آپ مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ایک حد سے آگے نہ بڑھنا
اگر آپ دو لت مند ہونا چاہتے ہیں، کامیاب ہونا چاہتے ہیں یا زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو غیریقینی یا تکلیف جیسے احساسات کو استعمال کرنا چاہیے، امیر افراد غیریقینی صورتحال میں بھی مطمئن رہتے ہیں، ماہرین کے مطابق جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اطمینان متوسط طبقے کے ذہن میں بنیادی مقصد ہوتا ہے، بلند سوچ رکھنے والے جلد یہ سیکھ لیتے ہیں کہ امیر بننا آسان نہیں اور ایک حد تک محدود ہونا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
دولت کے استعمال کے لیے مقصد نہ ہونا
دولت ایسے ہی ہاتھ نہیں آتی، اس کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اگر آپ بتدریج دولت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کے ذہن میں واضح اور مخصوص مقصد ہونا چاہیے جہاں اسے صرف کیا جاسکے۔ اگر آپ کے ذہن میں مقصد واضح ہو تو توجہ مرکوز کرنے، دلیری، علم اور بہت کچھ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے، ماہرین کے مطابق بیشتر افراد کے زندگی میں آگے نہ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کیا کرنا یا کہاں بڑھنا ہے۔
خرچ پہلے بچت بعد میں
لوگ پیسے کما کر اسے یہاں وہاں خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں، جیسے گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، ٹیکسز اور دیگر، جبکہ آخر میں جو بچتا ہے (اگر بچے) تو اسے بچت کے زمرے میں ڈال دیاجاتا ہے۔ یہ اخراجات ضرور کریں کیونکہ وہ ضروری ہیں مگر پہلے خود کو رقم دیں یا یوں کہہ لیں کہ پہلے بچت کریں اور وہ بھی کم از کم آپ کی آمدنی کے 10 فیصد حصے کے برابر۔ اس طرح آپ کو کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کی تربیت بھی حاصل ہوگی۔
امیر بننا ناممکن لگتا ہے
اوسط درجے کے شخص کا خیال ہوتا ہے کہ صرف خوش قسمت افراد امیر بن پاتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ ملک میں آپ کے پاس امیر بننے کا ہر حق ہوتا ہے، مگر اس کے لیے آپ کے اندر عزم ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے خود سے سوال کریں کہ میں اپنے طبقے (نچلے یا متوسط) سے اوپر کیوں نہیں اٹھ سکتا، اس کے بعد کچھ بڑا سوچنا شروع کریں، اپنی توقعات بلند کریں گے تو کامیابی بھی قدم چومے گی۔
مذکورہ بالا علامات کا غور سے مطالعہ کریں اور اگر آپ واقعی امیر بننا چاہتے ہیں تو اپنی ان عادتوں کو ترک کرنے کی کوشش کریں جو امیر بننے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہوں اور اس کے ساتھ ان عادات کو اپنانے کی کوشش کریں جو آپ کو امیر بننے کی سیڑھی پر چڑھنے میں مدد دے سکتی ہوں، یا آپ کو امیر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہوں۔

تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

مضامین
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری وجود پیر 23 فروری 2026
مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

نا شکرے عوام وجود پیر 23 فروری 2026
نا شکرے عوام

زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر