... loading ...

نمود ونمائش کی ایک دوڑ شروع ہوگئی ہے جس سے معاشرے میں رشوت ،چوربازاری اور دیگر وائٹ کالر جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانی والی رقوم کی وجہ سے ایک مصنوعی متوسط طبقہ بھی تیزی سے ابھر کر سامنے آیا
پاکستان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران اشیائے تعیش کی بے پناہ تشہیر نے اس پورے معاشرے کے تاروپود کو ہلاکر رکھ دیاہے،اور اس کی وجہ سے نمود ونمائش کی ایک دوڑ شروع ہوگئی ہے ،اس لاحاصل دوڑ نے جہاں معاشرے میں رشوت ،چوربازاری اور دیگر وائٹ کالر جرائم کی شرح میں اضافہ کیاہے وہیں اس کی وجہ سے اب نوجوان جلد از جلد امیر بننے کی آرزو میں جرائم پیشہ گروہوں کے ہتھے چڑھ کر رہزنی اور ڈکیتی کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور قتل جیسی وارداتوں میں ملوث ہورہے ہیں۔دوسری طرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانی والی رقوم کی وجہ سے ہمارے ملک میں ایک مصنوعی متوسط طبقہ بھی تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران ان کی شرح میں اضافہ ہواہے۔
اشیائے تعیش کی بے پناہ تشہیرسے جہاں ہمارے معاشرے میں جرائم اور ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہواہے وہیں اس ملک میں بچتوں کی کمی کا بڑا سبب بھی اشیائے تعیش کی بلاضرورت خریداری کے رجحان کو قرار دیاجاتاہے۔اشیائے تعیش کی نت نئے طریقوں سے تشہیر کی وجہ سے اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ گھر میں روزمرہ ضرورت کی الیکٹرانک اشیا کی موجودگی کے باوجود کسی بھی نئے برانڈ کا اشتہار آتے ہی اس کی خریداری کی جستجو شروع کردی جاتی ہے اور گھرمیں موجود اسی نوعیت کاسامان بیکار نظر آنے لگتاہے، اس صورت حال میں سب سے زیادہ وہ تنخواہ دار طبقہ متاثر ہورہاہے جو ایسے سرکاری یانجی اداروں میں ملازمت کرتا ہے جہاں ناجائز آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ، اس صورت حال سے دوچار ملازمت پیشہ طبقہ قرض حاصل کرکے یہ اشیا خرید کر اپنے گھر والوں کومطمئن کرنے اور پھر اپنا پیٹ کا ٹ کر قرض ادا کرتے رہنے پر مجبور ہوتاہے جس کی وجہ سے آڑے وقتوں کے لیے تھوڑی بہت بچت کی خواہش بھی دم توڑ دیتی ہے۔
اسٹیٹ بینک پاکستان نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ملک میں اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی طلب، اعلیٰ تعلیم کے حصول کی کوششوں میں اضافے اور صحت کی بہتر سہولتوں سے استفادہ کرنے کی سعی میں اضافے کی شرح کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیاہے کہ ملک میں متوسط طبقے کی شرح میں اضافہ ہورہاہے، تاہم بینک کے ارباب اختیار نے یہ دعویٰ کرنے سے قبل ملک میں اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی طلب کی اصل وجہ اور اس کی وجہ سے ملک کی معیشت ،خاص طورپر بچتوںپر پڑنے والے منفی اثرات پر غور کرنے کی غالباً زحمت ہی گوارا نہیں کی۔اسٹیٹ بینک کے ارباب اختیار نے حکومت کو خوش کرنے اور اپنی مہارت کا اظہار کرنے کے لیے ملک میں اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی طلب کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کردیاہے کہ اس اضافے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ملک کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے اورحکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔اسٹیٹ بینک پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہاہے کہ گزشتہ برسوں
کے دوران ملک میں موبائل فون اور دیگر الیکٹرونک اشیا کی کھپت کے علاوہ بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہواہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہواہے،اسٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2017 ء میں صارفین کے اعتماد کے انڈیکس میں 174.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا جو کہ جنوری 2016ء کے مقابلہ میں 17 پوائنٹس زیادہ تھا۔
اسٹیٹ بینک کے حکام کا کہناہے کہ یوں تو لوگوں کی معاشی حالت کا جائزہ لینے کے اور بھی کئی طریقے ہیں لیکن اشیائے صرف کی طلب کی شرح سے ان کااندازہ زیادہ آسانی سے لگایاجاسکتا ہے ۔دوسری جانب سیاسی ماہر معاشیات اکبر ایس زیدی کاکہناہے کہ گزشتہ کم وبیش 20 سال کے دوران ملک میں متوسط طبقے میں جوا ضافہ دیکھنے میں آیاہے اس کاایک بڑا اور بنیادی سبب بیرون ملک ملازم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی وہ رقوم اور زرمبادلہ ہے جس نے اس ملک میں ان کے اہل خانہ کی زندگی تبدیل کرکے رکھ دی ہے،تاہم اس کو حکومت کی کسی معاشی پالیسی کانتیجہ قرار نہیں دیاجاسکتا اور اسے کوئی مستقل ذریعہ قرار دے کر اس کی بنیاد پر کوئی پالیسی تیار نہیں کی جاسکتی۔ یعنی کسی بھی اقتصادی یا معاشی منصوبہ بندی کی بنیا د اس آمدنی پر نہیں رکھی جاسکتی ،کیونکہ یہ آمدنی انتہائی ناپائیدار ہوتی ہے اور اس کا اندازہ خلیج کے ملکوں میں پیداہونے والی حالیہ اقتصادی مشکلات سے لگایاجاسکتاہے جس کی بنیاد پر سعودی عرب سمیت مختلف خلیجی ممالک کفایت شعاری کی راہ اپنانے پر مجبور ہونے کے علاوہ اپنے ترقیاتی منصوبوں پر کام بند کرکے غیر ملکی ملازمین کو واپس بھیجنے پر مجبور ہورہے ہیں، یہاں تک کہ سعودی عرب اور کئی دوسرے خلیجی ممالک کے تجارتی ادارے تو اپنے ملازمین کو واجبات ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ان کو وطن واپس لانے کا انتظام بھی ان لوگوں کی متعلقہ حکومتوں کو کرنا پڑ رہاہے۔اس صورت حال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ملازمتوں کے مواقع کم یاختم ہوجانے کی صورت میں جب وہاں ملازمت کرکے بھاری زرمبادلہ وطن بھجوانے والے یہ پاکستانی وطن واپس آئیں گے تو ملک میں ملازمتوں کے مواقع پر کتنا دبائو پڑے گا اور بیرون ملک سے بھیجی گئی رقوم کی بنیاد پر متوسط طبقے میں شامل ہوجانے والے کتنے فیصد افراد اپنی یہ حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
اسٹیٹ بینک کے ارباب اختیار کو صورت حال کا صرف روشن پہلو دکھا کر حکومت کو خوش کرنے اور عوام کو اصل صورت حال سے بے خبر رکھنے کی کوششوں کے بجائے صورتحال کے تمام پہلو عوام کے سامنے رکھنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام اور حکومت دونوں ہی آنے والے متوقع برے وقتوں کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کرسکیں ،اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کو صارف کامعاشرہ بنانے کی کوششوں کی بیخ کنی کی جائے اور الیکٹرونکس کی اشیا خاص طورپر ایئرکنڈیشنرز، ریفریجریٹرز اور اسی طرح کی دیگر اشیاکی تشہیر پر مناسب کنٹرول کیاجائے،اس طرح کی اشیا تیار کرنے والوں کو تشہیر پر ضائع ہونے والی رقم کی مناسبت سے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے پر مجبورکیاجائے اور بچتوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ آگہی مہم چلائی جائے تاکہ نچلی سطح سے بچتوں کی اہمیت کو محسوس کیاجائے اور لوگ عالمی معیار کے مطابق یعنی اپنی آمدنی کاکم از کم 10 فیصد حصہ بچانے کی کوشش کریں۔ بچتوں میں اضافے کی صورت میں ایک طرف حکومت کو ترقیاتی کاموں کے لیے ملک کے اندر ہی سے سرمایہ دستیاب ہوسکے گا اور دوسری طرف بچت کرنے والے گھرانوں کو انتہائی ضرورت اور ناگہانی صورت حال میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...
امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...
کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی ح...
843 دکان داروں کو فی کس 5 لاکھ، 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ پلازہ پر کام جلد شروع کیا جائے،متاثرہ تاجروں کیلئے مالی امداد کیلئے 600 ملین مختص سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی فورس لانچ ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو گئی پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عمران رہائی فورس کے منصوبے کو مسترد کر دیا،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟ تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار ہوُگئی، وزیر اعلیٰ خیبر ...
زرداری،شہباز ،وزیرداخلہ ودیگر کا دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کو خراج تحسین حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے،صدر،وزیراعظم صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ محسن نقوی ودیگر نے خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر ...
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...
برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...
جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...