... loading ...

”ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کی ناقص کارکردگی کے دو اہم اسباب ہیں۔ اول، ادارے کی بد انتظامی، دوسرے پالیسی میں خامیاں یانقائص ‘ٹی ڈی آر اوکی سروے رپورٹ کے مطابق ملک کی 72 فیصد تجارتی تنظیموں نے ادارے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کااظہار کیا ہے
حکومت نے تجارتی تنازعات طے کرنے کے لیے 2014ءمیں ”ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ (ٹی ڈی آر او)کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا ،اس ادارے کے قیام کے بعد تاجر برادری کو یہ امید بندھی تھی کہ اب ان کے تنازعات تیزی سے طے ہوسکیں گے اور انہیں اس طرح اپنی تجارتی سرگرمیوں پر توجہ دینے کا زیادہ وقت مل سکے گا، اس امید کی بنیاد پر یہ ادارہ قائم ہونے کے بعداس ادارے میں 92.42 ملین ڈالر مالیت کے تنازعات پر مبنی 274 شکایات اس ادارے کے سامنے پیش کی گئیں،لیکن اس ادارے کی ناقص کارکردگی یا سست روی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران یہ ادارہ اب تک 274 میں سے صرف 12 شکایات پر فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوسکاہے۔
”ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کی اس ناقص کارکردگی کے دو بڑے اسباب ہیں۔ اول، ادارے کی بد انتظامی، دوسرے پالیسی میں خامیاں یانقائص۔اس کی وجہ سے ایک اچھے مقصد کے تحت قائم کیاجانے والا یہ ادارہ عضو معطل یا ادارہ برائے ادارہ بن کر رہ گیاہے اور اس کے قیام سے تاجر برادری نے اس سے جو توقعات قائم کی تھیں وہ سب خاک میں مل چکی ہیں۔
عدالتوں سے باہر تجارتی تنازعات کا تصفیہ کرانے میں ثالثی، مصالحت کار کا کردار، مذاکرات اور باہمی ملاقاتوں کے طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں،مصالحت کاری یا ثالثی عام طورپر اس وقت کی جاتی ہے جب دونوں فریق اس پر تیار ہوں،اور مصالحت کار کے کردار اور فیصلے کو تسلیم کرنے کا عندیہ ظاہرکرے کیونکہ جب تک دونوں فریق مصالحت کا ر پر متفق نہیں ہوتے مصالحت اور ثالثی کاعمل آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔
تاجر اپنے اختلافات طے کرنے کے لیے مصالحت کاری کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور 50 فیصد تجارتی تنظیمیں مصالحت کاری میں کردار ادا کرتی ہیں اور اس کی وجہ سے صرف 4 فیصد ایسے مسائل رہ جاتے ہیں جو مصالحت کاری یا ثالثی کے ذریعے حل نہیں ہوپاتے اور نتیجہ مقدمہ بازی تک پہنچتاہے۔تاجر برادری کی جانب سے ملنے والی اطلاعات سے ظاہرہوتاہے کہ تجارتی تنازعات طے کرانے کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے ’ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کے پاس تنازعات طے کرانے کے لیے مصالحت کاری اور ثالثی کا طریقہ کار ہی موجود رہ جاتاہے ۔لیکن اعدادوشمار اور گزشتہ 3 سال کے دوران اس ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے ملنے والے مندرجہ بالا اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ یہ ادارہ اپنا یہ کردار اداکرنے میں کامیاب نہیں رہاہے ۔
اس ادارے کے ایک افسر نے ادارے کی ناکامی کے تین بڑے اسباب بتائے ہیں ،اول یہ کہ تجارتی تنازعات طے کرانے کے قانون کی عدم موجودگی جو کہ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اور ادارے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے،افسرکا کہناہے کہ تجارتی تنازعات حل کرانے کے لیے قانون کامسودہ تیار کرکے محکمہ قانون کو بھجوا یاجاچکاہے لیکن اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکاتھا اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ اب قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں اسے منظوری کے لیے پیش کیاجائے گا اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرسکے گا۔اس ادارے کے سامنے دوسرا بڑا مسئلہ عملے کی کمی ہے ادارے کے ذرائع کے مطابق اس ادارے کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے ،جس کی وجہ سے افسران اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت کام کرتے ہیںاس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ادارے کے لیے 12 افسران کی خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کیاگیاتھا لیکن 3 سال گزرجانے کے باوجود اب تک اس ادارے کے پاس صرف4 افسران کی خدمات حاصل ہیں۔گزشتہ 2 سال سے اس ادارے کاکوئی سربراہ نہیں ہے اس طرح 2سال سے اس کاکام ایڈہاک بنیادوں پر ہی چلایا جارہا ہے۔
’ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہے لیکن ملک کے دو بڑے کاروباری شہروں کراچی اور لاہور میں اس ادارے کاکوئی علاقائی یا رابطہ دفتر بھی نہیں ہے۔جس کی وجہ سے تجارتی حلقوں کو اپنے تنازعات پیش کرنے اور ان پر پیش رفت کی صورتحال معلوم کرنے میں دشواری پیش آتی ہے اور تنازعات کے تصفیے کے لیے ملاقاتوں کے لیے بھی اسلام آباد کے چکر لگانا پڑتے ہیں جن پر وقت بھی صرف ہوتاہے اور رقم بھی ضائع ہوتی ہے۔
تجارت سے متعلق عالمی بینک کی 2016ءکی رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹ پر عملدرآمد کے رولز کی منظوری کے لیے کم وبیش46 مراحل سے گزرنا پڑتاہے اور اس پورے عمل میں کم وبیش 993 دن لگ جاتے ہیں اس کے علاوہ ان تمام مراحل کو طے کرنے پرکلیم کی مالیت کے23 فیصد کے مساوی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔کنٹریکٹ کے مراحل کو آسان کرنے کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے 189 ممالک میں 151 ویں نمبر پر ہوتاہے۔
وزارت تجارت کی جانب سے کرائی گئی ایک اسٹڈی رپورٹ میں بھی یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ تجارتی تنازعات کے تصفئے میں تاخیر ہے۔’ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کے سامنے اب تک تصفیے کے لیے پیش کیے جانے والے تنازعات کا جائزہ لیاجائے تو یہ ظاہرہوتاہے کہ ان میں سے50 تنازعات کاتعلق ٹیکسٹائل کے شعبے سے ،30 کا تعلق اشیائے خوردنی سے ، 30 کاتعلق چاول سے،25 کا تعلق چمڑے سے ،30 کا میٹل یعنی دھاتوں اور معدنیات سے،28 کا تعلق مشینری سے ،20 کا تعلق سرجیکل آلات سے ،21 کا تعلق کھیلوں کی اشیا سے،10 کا ادویات سے اور 35کا تعلق دیگر متعلقہ شعبوں سے ہے۔
’ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کو ملنے والی شکایات کی سب سے زیادہ تعداد چین کے حوالے سے ہے جن کی تعداد39 ہے دوسرے نمبر امریکہ ہے جس کے بارے میں شکایات کی تعداد 18 ، اٹلی کے خلاف 17 ایران کے خلاف 14 ،کینیڈا کے بارے میں 13 ،اسپین کے بارے میں 12 ،روس کے بارے میں 12 ،پرتگال اورسوڈان کے بارے میں 11-11 اور سوئٹزرلینڈ اور ماریشس کے بارے میں 10-10 اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں 9 شکایتیں شامل ہیں۔
’ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کی سروے رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شکایات کاتعلق مال کے معیار اور قیمت کی ادائیگی کے معاملات سے ہے۔ملک کی 72 فیصد تجارتی تنظیموں نے تجارتی تنازعات کے تصفیے کے موجودہ میکانزم پر عدم اطمینان کااظہار کیا ہے،تجارتی تنظیموں کاکہنا ہے کہ بیرون ملک تجارتی اتاشیوں اور متعلقہ اداروں کے حکام کی جانب سے عدم توجہی اور ٹال مٹول کی پالیسی کی وجہ سے تنازعات طے ہونے میں مشکلات پیداہوتی ہیں اور سالہاسال تک تنازعات کاتصفیہ نہیں ہوپاتا۔
’ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیشن آرگنائزیشن“ کا کہنا ہے کہ تجارتی تنازعات کی شکایت درج کرانے کے لیے درخواست کاپروفارما اس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے جسے پرُ کرکے متعلقہ دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ آن لائن جمع کرایا جاسکتاہے یہ شکایت موصول ہونے کے بعد ادارہ شکایت کے حوالے سے اپنی تفتیش کاکام شروع کرتاہے جس کے بعد مصالحت کرانے یا ثالثی کی پیش کش کی جاتی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کمرشیل عدالتوں کی سست روی اور ان کے ذریعے کئے جانے والے فیصلوں کی وجہ سے اب تاجروں کا اعتماد ان عدالتوں سے بھی اٹھ چکاہے جس کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ ’ٹی ڈی اے پی کو پاکستانی تاجروں کے خلاف 310 شکایات جبکہ غیر ملکی تاجروں کے خلاف 108 شکایات موصول ہوئیں لیکن ان میں سے صرف 141 نے کمرشیل عدالتوں کادروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیاان میں 113 خارج کردئے گئے جبکہ کمرشل عدالتوں نے2015 ءکے دوران صرف 12 مقدمات کافیصلہ کیا اور28 مقدمات ابھی تک زیر سماعت ہیں۔
کراچی اور لاہور کی کمرشل عدالتوں کا سرسری جائزہ لیاجائے تو ظاہرہوتاہے کہ دونوں شہروں میں قائم کمرشل عدالتوں کاحال ایک جیسا ہی ہے اور ان عدالتوں میں کسی بھی مقدمے کافیصلہ ہونے میں 5 سے 10 سال کاعرصہ لگ جاتاہے۔
پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...
سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...
9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...
اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...
کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...
فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...
ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...
26 ستمبر 2024 کے بعد جب ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی تھی نیویارک منتخب میئر نے یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ پر پیٹرول ڈال دیا ہے،اسرائیلی وزارتِ خارجہ نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اقتدار سنبھالتے ہی سابق میٔر ایرک ایڈمز کے تمام وہ ایگز...
معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر...
ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ ...
82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدن...
سربمہر املاک میں 19 ہوٹل اور الیکٹرانکس کی 13 دکانیں شامل ہیں،ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی فٹ پاتھ پر کرسیاں رکھنے والے ہوٹل سیل کیے ،تجاوزات کے خلاف مہم ساؤتھ میں جاری ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں 32 دکانیں اور ہوٹل سربمہر کر دیے گئے ہیں...