... loading ...

واشنگٹن اب پاکستان کو کچھ دئے بغیراور کسی ترغیب کے بغیر اپنے ایجنڈے کے لیے کام کرنے پر مجبورکرنا چاہتا ہے ‘اسحاق ڈار کی امریکی رہنمائوں کیساتھ مذاکرات میں مرکزی نکتہ معاشی امداد کی بجائے جنوبی ایشیامیں امن تک محدود رکھا گیا
پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کے امریکی مشیر مک ماسٹر سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ پاک امریکا تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اور نئی امریکی انتظامیہ نے ماضی کی طرح باہمی شراکت داری کے ساتھ کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، یہ شراکت داری باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہوگی۔اسحاق ڈار ان دنوں عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں گزشتہ5 روز کے دوران انھوں نے 40 کے قریب اجلاسوں میں شرکت کی اور عالمی بینک کے حکام کے علاوہ اعلیٰ امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔پاکستانی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی نمائندے کے طور پر امریکی حکام سے مذاکرات کئے اور مک ماسٹر سے ملاقات میں انھیں یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کسی بھی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا لیکن دیگر ممالک کو بھی پاکستان میں دہشت گردوں کی مداخلت روکنا ہوگی ۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ مک ماسٹر سے ملاقات میں شکیل آفریدی سمیت تمام معاملات پر کھل کر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور معاشی سفارتکاری کا ہے لیکن پاکستان قومی مفاد کے خلاف کوئی سودے بازی نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی ایک ملک پر انحصار کی پالیسی پر عمل نہیں کرتا اور یہ کہ چین کے علاوہ روس کے ساتھ بھی اس کے دوستانہ تعلقات ہیں تاہم امریکا دیرینہ دوست ہے اس لئے مستقبل میں بھی ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔
امریکا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسحاق ڈار نے امریکا میں مختلف تھنک ٹینکس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی دانشوروں اورماہرین معیشت کوبتایا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار دنیا بھر کے لئے مثالی ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2030 تک پاکستان کا شمار دنیا کے 20 ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر کی بڑی تجارتی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ پاکستان میں لیبر چین اوربھات سے بھی سستی ہے، انہوں نے یہ بھی کہاکہ نئے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے بعد دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان میں بڑھ گئی ہے۔اْنھوں نے ڈان لیک سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ ڈان لیک کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن غیر جانبدار تھا اس کی رپورٹ وزیر اعظم کو موصول ہوچکی ہے، جس پر من و عن عمل کیا جائے گا۔جنرل راحیل شریف کی مسلم اتحادی افواج کی سربراہی سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس اتحاد کی سربراہی پاک فوج کے سربراہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ لیکن، یہ بات مناسب نہ ہوتی اس لئے جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کیا گیا۔ مسلم ممالک کی افواج کا یہ اتحاد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قائم ہوا ہے اور دہشت گردی سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر تبصرے کی بجائے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاک امریکا رہنمائوں کے درمیان ان مذاکرات میں مرکزی نکتہ پاکستان کی معاشی امداد کی بحالی کی بجائے دہشت گردی اور جنوبی ایشیا میں امن تک محدود رکھا گیا تھا اس طرح یہ ظاہر ہوتاہے کہ امریکی حکام اب پاکستان کو کچھ دئے بغیراور کسی ترغیب کے بغیر اپنے ایجنڈے کے لیے کام کرنے پر مجبورکرنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کے سامنے فی الوقت کسی ترغیب کے بغیر ہی کام کرتے رہنے کی حامی بھرنے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں ۔ اس لئے یہ توقع کرنا کہ اسحاق ڈار کے اس دورے سے پاک امریکا تعلقات کی نوعیت اب ماضی سے مختلف ہوگی ،عبث ہوگا۔
امریکی تھنک ٹینک کے اجتماع سے گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ عالمی ادارے 2050 تک پاکستان کو ‘جی ٹوئنٹی’ میں دیکھتے ہیں لیکن ہم یہ ہدف 2030 تک حاصل کر لیں گے۔ پاکستان میں بجلی کا بحران 2018کے اختتام پر آئندہ کئی عشروں کیلیے ختم ہو جائے گا اور 15 سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو چکی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے اور اگلے 12 برسوں میں ملک دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں شامل ہو چکا ہوگا۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے معیشت، توانائی، انتہاپسندی اور تعلیم (سماجی ترقی) کی ‘فور ی پالیسی’ کو اپنی ترجیح بنایا تھا اور آج چاروں شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔امریکی تھنک ٹینک کے سامنے پاکستان کی کامیابیوں کی عکاسی کابنیادی مقصد یقینا امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیناتھا لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکی تھنک ٹینک کے ارکان نے پاکستان کی ترقی کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مطلوبہ اہمیت نہیں دی،شاید اس کا سبب یہ ہو کہ وزیر خزانہ ایک ایسے وقت واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان میں حکمران جماعت پر پاناما کیس پر عدالت کے فیصلے اور مزید تحقیقات کے ضمن میں دبائو کا سامنا ہے، پاناما کیس کی وجہ سے حکومت کے سر پر لٹکتی تلوار نے اس حکومت کے 2018تک قائم رہنے کے تصور کو دھندلا دیاہے، اور امریکی سرمایہ کار اس غیر یقینی صورت حال میں کسی بڑی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے کے بجائے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کے تحت پاناما کیس کے فیصلے یا ممکنہ قبل از انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہوں۔
واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک، ‘دی ہیریٹیج فائونڈیشن’ میں ’ پاکستان میں اقتصادی اصلاحات: سرمایہ کاری کی جستجو، ترقی کے امکانات اور سماجی تبدیلی‘ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو امریکا سمیت دنیا بھر سے آنے والے مندوبین سوال کیا کرتے تھے کہ کبھی قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی ہو سکے گی ؟ ، ہم نے بغیر بین الاقوامی برادری کے تعاون کے آپریشن ‘ضرب عضب’ اور ‘ردالفساد’ کے ذریعے فوجی کارروائی کی ”اور دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی”۔ ان آپریشنز میں، ان کے بقول، ”غیرمعمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں”۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگلے سال کے بجٹ میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ایک بلین ڈالر سالانہ کے حساب سے رقم مختص کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ موجودہ حکومت نے معیشت کی سمت درست کر دی ہے جس کے نتیجے میںفی کس آمدنی اور ملکی قومی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اس سال کے آخر پر بجٹ خسارے کی روایت ختم ہوجائے گی اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی اعشاریوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بہت پرکشش جگہ بنا دیا ہے پاک چین اقتصادی راہداری کے ممکنہ فوائد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے امریکی سرمایہ کا کو یقین دلایا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے سیحاصل ہونے والے بے شمار بہترین معیشت کے عکاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں 46 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس میں 8 ارب ڈالر بجلی کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ان کے بقول، سی پیک سے سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے عام آدمی مستفید ہوگا۔ اس ضمن میں وزیر اعظم پروگرام کے تحت افرادی قوت کو ہنرمند بنایا جا رہا ہے، تاکہ وہ ان موقعوں سے استفادہ کر سکیں۔وزیر خزانہ نے امریکا کوپاکستان کا بہترین شراکت دار قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی تھنک ٹینک کے دانشوروں اورماہرین معاشیات کے سامنے بلاشبہ پاکستان کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے،لیکن اس کے باوجود تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تیز ترمعاشی ترقی کی عکاسی کرنے کے باوجود وہ نہ تووہ امریکی حکام سے پاکستان کے لیے کسی اقتصادی امداد کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں اور نہ ہی امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کسی غیرمعمولی دلچسپی کااظہار کیاہے۔یہ صورت حال قابل غور ہے ، تاہم امید کی جاتی ہے کہ امریکا میںموجود پاکستانی سفیر اور تجارتی اتاشی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کی وزیر خزانہ سے براہ راست ملاقات کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ وزیر خزانہ امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے وعدوں کے ساتھ پاکستان واپس آئیں اور ان کے اس دورے کو وقت کازیاں قرار نہ دیاجاسکے۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...