وجود

... loading ...

وجود

وزیر خزانہ کادورہ امریکا پاکستان کے لیے معاشی پیکج حاصل کرنے میں ناکامی

هفته 29 اپریل 2017 وزیر خزانہ کادورہ امریکا پاکستان کے لیے معاشی پیکج حاصل کرنے میں ناکامی

واشنگٹن اب پاکستان کو کچھ دئے بغیراور کسی ترغیب کے بغیر اپنے ایجنڈے کے لیے کام کرنے پر مجبورکرنا چاہتا ہے ‘اسحاق ڈار کی امریکی رہنمائوں کیساتھ مذاکرات میں مرکزی نکتہ معاشی امداد کی بجائے جنوبی ایشیامیں امن تک محدود رکھا گیا

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کے امریکی مشیر مک ماسٹر سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ پاک امریکا تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اور نئی امریکی انتظامیہ نے ماضی کی طرح باہمی شراکت داری کے ساتھ کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، یہ شراکت داری باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہوگی۔اسحاق ڈار ان دنوں عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں گزشتہ5 روز کے دوران انھوں نے 40 کے قریب اجلاسوں میں شرکت کی اور عالمی بینک کے حکام کے علاوہ اعلیٰ امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔پاکستانی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی نمائندے کے طور پر امریکی حکام سے مذاکرات کئے اور مک ماسٹر سے ملاقات میں انھیں یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کسی بھی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا لیکن دیگر ممالک کو بھی پاکستان میں دہشت گردوں کی مداخلت روکنا ہوگی ۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ مک ماسٹر سے ملاقات میں شکیل آفریدی سمیت تمام معاملات پر کھل کر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور معاشی سفارتکاری کا ہے لیکن پاکستان قومی مفاد کے خلاف کوئی سودے بازی نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی ایک ملک پر انحصار کی پالیسی پر عمل نہیں کرتا اور یہ کہ چین کے علاوہ روس کے ساتھ بھی اس کے دوستانہ تعلقات ہیں تاہم امریکا دیرینہ دوست ہے اس لئے مستقبل میں بھی ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔
امریکا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسحاق ڈار نے امریکا میں مختلف تھنک ٹینکس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی دانشوروں اورماہرین معیشت کوبتایا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار دنیا بھر کے لئے مثالی ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2030 تک پاکستان کا شمار دنیا کے 20 ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر کی بڑی تجارتی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ پاکستان میں لیبر چین اوربھات سے بھی سستی ہے، انہوں نے یہ بھی کہاکہ نئے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے بعد دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان میں بڑھ گئی ہے۔اْنھوں نے ڈان لیک سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ ڈان لیک کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن غیر جانبدار تھا اس کی رپورٹ وزیر اعظم کو موصول ہوچکی ہے، جس پر من و عن عمل کیا جائے گا۔جنرل راحیل شریف کی مسلم اتحادی افواج کی سربراہی سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس اتحاد کی سربراہی پاک فوج کے سربراہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ لیکن، یہ بات مناسب نہ ہوتی اس لئے جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کیا گیا۔ مسلم ممالک کی افواج کا یہ اتحاد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قائم ہوا ہے اور دہشت گردی سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر تبصرے کی بجائے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاک امریکا رہنمائوں کے درمیان ان مذاکرات میں مرکزی نکتہ پاکستان کی معاشی امداد کی بحالی کی بجائے دہشت گردی اور جنوبی ایشیا میں امن تک محدود رکھا گیا تھا اس طرح یہ ظاہر ہوتاہے کہ امریکی حکام اب پاکستان کو کچھ دئے بغیراور کسی ترغیب کے بغیر اپنے ایجنڈے کے لیے کام کرنے پر مجبورکرنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کے سامنے فی الوقت کسی ترغیب کے بغیر ہی کام کرتے رہنے کی حامی بھرنے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں ۔ اس لئے یہ توقع کرنا کہ اسحاق ڈار کے اس دورے سے پاک امریکا تعلقات کی نوعیت اب ماضی سے مختلف ہوگی ،عبث ہوگا۔
امریکی تھنک ٹینک کے اجتماع سے گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ عالمی ادارے 2050 تک پاکستان کو ‘جی ٹوئنٹی’ میں دیکھتے ہیں لیکن ہم یہ ہدف 2030 تک حاصل کر لیں گے۔ پاکستان میں بجلی کا بحران 2018کے اختتام پر آئندہ کئی عشروں کیلیے ختم ہو جائے گا اور 15 سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو چکی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے اور اگلے 12 برسوں میں ملک دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں شامل ہو چکا ہوگا۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے معیشت، توانائی، انتہاپسندی اور تعلیم (سماجی ترقی) کی ‘فور ی پالیسی’ کو اپنی ترجیح بنایا تھا اور آج چاروں شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔امریکی تھنک ٹینک کے سامنے پاکستان کی کامیابیوں کی عکاسی کابنیادی مقصد یقینا امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیناتھا لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکی تھنک ٹینک کے ارکان نے پاکستان کی ترقی کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مطلوبہ اہمیت نہیں دی،شاید اس کا سبب یہ ہو کہ وزیر خزانہ ایک ایسے وقت واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان میں حکمران جماعت پر پاناما کیس پر عدالت کے فیصلے اور مزید تحقیقات کے ضمن میں دبائو کا سامنا ہے، پاناما کیس کی وجہ سے حکومت کے سر پر لٹکتی تلوار نے اس حکومت کے 2018تک قائم رہنے کے تصور کو دھندلا دیاہے، اور امریکی سرمایہ کار اس غیر یقینی صورت حال میں کسی بڑی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے کے بجائے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کے تحت پاناما کیس کے فیصلے یا ممکنہ قبل از انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہوں۔
واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک، ‘دی ہیریٹیج فائونڈیشن’ میں ’ پاکستان میں اقتصادی اصلاحات: سرمایہ کاری کی جستجو، ترقی کے امکانات اور سماجی تبدیلی‘ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو امریکا سمیت دنیا بھر سے آنے والے مندوبین سوال کیا کرتے تھے کہ کبھی قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی ہو سکے گی ؟ ، ہم نے بغیر بین الاقوامی برادری کے تعاون کے آپریشن ‘ضرب عضب’ اور ‘ردالفساد’ کے ذریعے فوجی کارروائی کی ”اور دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی”۔ ان آپریشنز میں، ان کے بقول، ”غیرمعمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں”۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگلے سال کے بجٹ میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ایک بلین ڈالر سالانہ کے حساب سے رقم مختص کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ موجودہ حکومت نے معیشت کی سمت درست کر دی ہے جس کے نتیجے میںفی کس آمدنی اور ملکی قومی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اس سال کے آخر پر بجٹ خسارے کی روایت ختم ہوجائے گی اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی اعشاریوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بہت پرکشش جگہ بنا دیا ہے پاک چین اقتصادی راہداری کے ممکنہ فوائد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے امریکی سرمایہ کا کو یقین دلایا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے سیحاصل ہونے والے بے شمار بہترین معیشت کے عکاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں 46 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس میں 8 ارب ڈالر بجلی کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ان کے بقول، سی پیک سے سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے عام آدمی مستفید ہوگا۔ اس ضمن میں وزیر اعظم پروگرام کے تحت افرادی قوت کو ہنرمند بنایا جا رہا ہے، تاکہ وہ ان موقعوں سے استفادہ کر سکیں۔وزیر خزانہ نے امریکا کوپاکستان کا بہترین شراکت دار قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی تھنک ٹینک کے دانشوروں اورماہرین معاشیات کے سامنے بلاشبہ پاکستان کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے،لیکن اس کے باوجود تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تیز ترمعاشی ترقی کی عکاسی کرنے کے باوجود وہ نہ تووہ امریکی حکام سے پاکستان کے لیے کسی اقتصادی امداد کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں اور نہ ہی امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کسی غیرمعمولی دلچسپی کااظہار کیاہے۔یہ صورت حال قابل غور ہے ، تاہم امید کی جاتی ہے کہ امریکا میںموجود پاکستانی سفیر اور تجارتی اتاشی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کی وزیر خزانہ سے براہ راست ملاقات کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ وزیر خزانہ امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے وعدوں کے ساتھ پاکستان واپس آئیں اور ان کے اس دورے کو وقت کازیاں قرار نہ دیاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود اتوار 15 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود اتوار 15 مارچ 2026
اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر