... loading ...

جمعرات کو 2 بج کر 10 منٹ سے 20 منٹ کے دوران کراچی اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 1200 پوائنٹس کاریکارڈ توڑاضافہ ہو ا سپریم کورٹ کے فیصلے سے بے یقینی کے اس ماحول کا کسی حد تک خاتمہ ہوگیا جس کے منفی اثرات اسٹاک ایکسچینج کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھے
20 اپریل کا دن پاکستان میں ایک تاریخی دن کے طورپر یاد رکھاجائے گا ،یہ وہ دن ہے جب پاکستان کے عوام کو ایک دفعہ پھر اپنی امنگوں اور خواہشات کے برعکس وہ عدالتی فیصلہ سننا پڑا ،جس سے ان کی توقعات اور امنگیں دم توڑ گئیں ، اور اس ملک کے قوانین پر عام آدمی کے اعتماد کو مزید ٹھیس لگی ۔تاہم اس فیصلے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ وزیر اعظم کی کرسی برقراررہنے کے سبب سرمایہ داروں کی بے یقینی کے خاتمے میں مدد ملی جسکے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو پاناما کیس کے فیصلے کے فوری بعد ملنے والی نئی زندگی کی جھلک دوسرے روز بھی دکھائی دی اور مسلسل دوسرے روز حصص مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا۔فیصلے کے دوسرے روز اسٹاک ایکس چینج کا بینچ مارک 100 انڈیکس 965 کے اضافے (2 فیصد) کے بعد 49 ہزار 708 پوائنٹس پر بند ہوا۔یاد رہے کہ20اپریل کو فیصلہ آنے کے فوری بعد کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بعض لوگ صرف دس منٹ میں لکھ پتی بن گئے کیونکہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 1200 پوائنٹس کاریکارڈ توڑاضافہ ہو اتھا۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز 100 انڈیکس میں 15کروڑ 90 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 18 ارب 19 کروڑ روپے رہی۔اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر 39 کروڑ 58 لاکھ سے زائد شیئرز کا کاروبار ہوا، جن کی مالیت 24 ارب 13 کروڑ رہی۔
عارف حبیب کارپوریشن کے تجزیہ کار احسن محنتی کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم سے متعلق پاناما کیس کا سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد ملک کسی حد تک سیاسی استحکام آگیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار ایک بار اسٹاک مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔‘
کاروباری ہفتے کے آخری روز کْل 398 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبارہ ہوا، جن میں 299 کی قدر میں اضافہ، 86 کے بھاؤ میں کمی اور 13 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کیمیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں سب سے زیادہ شیئرز کا لین دین ہوا، جن کے بعد ٹیکنالوجی، سیمنٹ اور کمرشل بینکس کے شعبے نمایاں رہے۔
قبل ازیں 20اپریل کا دن اس اعتبار سے بھی یادگار تھا کہ اس دن بھاری اکثریت سے برسراقتدار آنے والا ایک وزیر اعظم عدالت کے کٹہرے میں اس کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے 5 ججوں کے سامنے اسی کمرے میں کھڑا تھا جس کا کسی دور میں خود اس نے ہی افتتاح کیاتھا اور جب اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنا اکثریتی فیصلہ سنایا تو اگر چہ اسے سانس لینے کا موقع تو مل گیا لیکن نااہلی کی تلوار جسے عدالت عظمیٰ کے 3ججوں نے اپنے فیصلے کے ذریعے روک لیا ہے، اس کے سرپر لٹک رہی ہے اور اگر اگلے 2 ماہ کے دوران وہ اپنے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں تفتیشی افسران کو مکمل اور ناقابل تردید ثبوت دینے میں ناکام رہا تو پھر نااہلی سے اسے کوئی نہیں بچاسکے گا۔اس طرح یہ کہا جاسکتاہے کہ وزیر اعظم اور ان کے رفقا کو اپنے منہ پر لگی ہوئی کالک صاف کرنے کی تھوڑی سی مہلت مل گئی ہے ۔
اس حقیقت کے برعکس یہ دن ملک کا کاروباری طبقہ اس اعتبار سے ایک یادگار دن کے طورپر یاد رکھے گا کہ اس دن پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف 10 منٹ کے دوران یعنی جمعرات 20 اپریل کو دوپہر 2 بجکر 10 منٹ سے 2 بجکر 20 منٹ کے دوران کراچی اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں ایک دو نہیں بلکہ پورے1200 پوائنٹس کااضافہ ہو ا جو اپنی جگہ ایک مثال اور ایک ایسا ریکارڈ ہے جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے۔ 10 منٹ کے دوران انڈیکس میں 1200 پوائنٹس کے اس اضافے کے نتیجے میں اسٹاک کا کاروبار کرنے والے چند لوگوں نے شیئرز کے لین دین کے ذریعے لاکھوں روپے کمالئے۔
اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج کے ایک معروف کاروباری عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو شاہد حبیب نے کہا کہ فیصلہ آجانے کے بعد پاناما کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کاخاتمہ ہوگیاہے اورہمیں توقع ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب ملک کے اندر اور باہر کاروبار میں استحکام آئے گا تاہم انھوںنے خیال ظاہر کیا کہ اسٹاک ایکسچینج میں استحکام پیدا ہونے میں ایک دو دن لگیں گے۔
سوئیڈن کے ٹینڈر فونڈر کے پارٹنر اور پورٹ فولیو منیجر شمعون طارق کا کہنا تھا عدالت کی جانب سے نواز شریف کے معاملات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کی تشکیل اور وزیر اعظم برقراررہنے کی ہدایت کو کاروباری حلقے نے مثبت انداز میں لیا ہے اس لئے کاروبار میں تیزی اور استحکام دیکھنے میں آیا۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس دوران پاکستان مسلم لیگ ن کی پالیسیوں اور پھر عام انتخابات کے امکانات کی وجہ سے کچھ اتار چڑھائو دیکھنے میں آسکتے ہیں لیکن مجموعی طورپر صورت حال مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
رواں سال پاناما کیس کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج کے کاروبار پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2016 میں ایشیا کی بہترین پرفارمنگ مارکیٹ کا اعزاز حاصل کرنے اور 45 فیصد تک منافع دینے والی اسٹاک مارکیٹ رواں سال فنڈز منیجرز کے محتاط رویے کی وجہ سے تیزی سے انحطاط پذیر رہی اور 26 جنوری کے بعد سے مارکیٹ تیزی دیکھنے کو ترستی رہی۔ اگرچہ اس پوری صورت حال کا واحد سبب پاناما پیپرز کامقدمہ نہیں تھا بلکہ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کریک ڈائون، بروکرز کے دیوالیہ ہونے کی خبروں اور دیگر عوامل نے بھی اس میں بڑا کردار ادا کیا لیکن پاناما کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اس کاایک بڑا اور بنیادی سبب تھا۔تاہم اسٹاک مارکیٹ میں کام کرنے والے سرمایہ کار اب کسی حد تک مطمئن نظر آتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کے عروج کے دن ایک دفعہ واپس آنے والے ہیں ان کاکہناہے کہ اس کاایک سبب یہ ہے کہ پاکستان کم وبیش 9 سال بعد ایک مرتبہ پھر ایم ایس سی آئی کے ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس میں شامل ہونے جارہاہے ، جہاں سے 2008 میں اسٹا ک مارکیٹ کریش کرجانے کی وجہ سے اسے ہٹادیاگیاتھا،اس کے علاوہ غیر ملکیوں کی آمد کاسلسلہ شروع ہوچکاہے جس کی وجہ سے خیال کیاجاتاہے کہ اگلے ماہ سے اسٹاک مارکیٹ میں نئی سرمایہ کاری آنا شروع ہوجائے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کی صورت میں مارکیٹ میں تیزی پیدا ہونا ایک فطری عمل ہوگا۔تاہم اسٹاک مارکیٹ کے بڑے کاروباریوں کا خیال ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں سیمنٹ، بینکنگ ،اسٹیل اور روزمرہ استعمال کی اشیا تیار کرنے والی کمپنیوں کے شیئرز کی مانگ میں زیادہ اضافہ ہونے کی توقع ہے۔دوسرا ایک اور مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ترقی کی جانب گامزن ہے اور ملکی معیشت کی صورت حال سے اسٹاک ایکسچینج متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اس طرح معیشت کی بہتری کے اثرات اسٹاک ایکسچینج پر بھی پڑیں گے اور یہ اثرات انتہائی مثبت ہوں گے اس طرح یہ توقع کی جاسکتی کہ رواں سال کے آخری مہینوں کے دوران اسٹاک مارکیٹ بہتری کی جانب گامزن نظر آئے گی۔
اسٹاک مارکیٹ میں کام کرنے والے سرمایہ کار اب کسی حد تک مطمئن نظر آتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کے عروج کے دن ایک دفعہ واپس آنے والے ہیں، پاکستان کم وبیش 9 سال بعد ایک مرتبہ پھر ایم ایس سی آئی کے ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس میں شامل ہونے جارہاہے ، جہاں سے 2008 میں اسٹا ک مارکیٹ کریش کرجانے کی وجہ سے اسے ہٹادیاگیاتھا،اس کے علاوہ غیر ملکیوں کی آمد کاسلسلہ شروع ہوچکاہے، اگلے ماہ سے اسٹاک مارکیٹ میں نئی سرمایہ کاری آنا شروع ہوجائے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کی صورت میں مارکیٹ میں تیزی پیدا ہونا ایک فطری عمل ہوگا۔ توقع کی جارہی ہے کہ رواں سال کے آخری مہینوں کے دوران اسٹاک مارکیٹ بہتری کی جانب گامزن نظر آئے گی۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...