وجود

... loading ...

وجود

پاک بھارت کشیدگی مشترکہ دوست ممالک کی نواز-مودی ملاقات کرانے کی کوششیں

منگل 18 اپریل 2017 پاک بھارت کشیدگی مشترکہ دوست ممالک کی نواز-مودی ملاقات کرانے کی کوششیں

ملاقات جون میں قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پرمتوقع ہے،دونوں ممالک اسی اجلاس میں تنظیم کے رکن بنیں گے پاکستان اور بھارت کے حکام نے اس ملاقات پر رضامندی کااظہار کردیااور دونوں ملکوں نے تنظیم کو اپنے اختلافات کو کم کرنے کی کوششوں کی بھی یقین دہانی کرادی ہے ،سفارتی ذرائع

پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بہیمانہ کارروائیوں کے خلاف پاکستان کے مسلسل احتجاج ،پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ جانے اور عالمی برادری کو مداخلت کی دعوت کے بعد اطلاعات کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کرنے اور ممکنہ جنگ کے خدشات کو ختم کرنے کیلئے پس پردہ کوششوں کا آغاز کردیاہے جس کی بنیاد پر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے جلد ملاقات کا امکان ہے ۔
سفارتی ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ جانے کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن کشیدگی کے انتہائی عروج پر پہنچ جانے کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات حیرت انگیز انداز میںمعمول پر آجانے کی تاریخ بھی کم پرانی نہیں ہے۔
سفارتی ذرائع کاکہناہے کہ 1998 میں بھارتی ایٹمی تجربے کے جواب میں پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات جس نہج پر پہنچ گئے تھے اس کے پیش نظر کیاکوئی یہ پیشگوئی کرسکتاتھا یا سوچ بھی سکتاتھا کہ اس کے چند مہینے بعد ہی اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آجائیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں آنے والے تنائو کے پس منظر میں ہرجانب سے جنگ کے خدشات کااظہار کیاجارہاتھا اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس صورتحال کے صرف 7 ماہ بعد دونوں ملکوں کے درمیان آگرہ میں سربراہ ملاقات ہوگی اور معاملات افہام وتفہیم کی سطح پر آجائیں گے۔اسی طرح اب بھی صورت حال اسی موڑ پر پہنچ گئی ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن یہ صورت حال زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہے گی ،کیونکہ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ دوستوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور حالات معمول پر لانے کیلئے پس پردہ نہ صرف یہ کہ کوششیں شروع کردی ہیں بلکہ ابتدائی مرحلے ہی میں انھیں ان کوششوں میں حیرت انگیز طورپر کامیابی بھی ہورہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے دوست ممالک کی ان کوششوںکی بنیاد پر عین ممکن ہے کہ اگلے چند ماہ کے اندر ہی پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے درمیان براہ راست ملاقات ہوجائے اور اس ملاقات میں دونوں ملک کشیدگی کم کرنے اور متنازع امور پر بات چیت کا از سرنو آغاز کرنے پر آمادہ ہوجائیں ، غیرملکی سفارتی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق (پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزار ت خارجہ کے حکام بھی جن کی تردید نہیں کرتے) شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کرنے اور ممکنہ جنگ کے خدشات کو ختم کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ،اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان جون میں قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر براہ راست ملاقات کا قوی امکان ہے۔
سفارتی ذرائع تو یہاں تک دعویٰ کررہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے حکام نے اس ملاقات پر رضامندی کااظہار بھی کردیاہے اور شنگھائی تعاون کونسل کو اس ملاقات کے حوالے سے یقین دہانی کرادی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم میں اس وقت روس ،چین اور وسط ایشیا کے ممالک شامل ہیں لیکن جون میں قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں ہونے والے تنظیم کے سربراہ اجلاس کے دوران پاکستان اوربھارت دونوں ہی کو تنظیم کی باقاعدہ رکنیت دے دی جائے گی،سفارتی ذرائع کے مطابق تنظیم کے تمام ممالک بھارت اور پاکستان پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات کم کریں اور کشیدگی ختم کریں تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے مجوزہ اجلاس میں پرامن انداز میں شرکت کرسکیں،اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں نے تنظیم کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو کم کرنے کی کوششیں کریں گے۔اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر حکام کاکہنا ہے کہ جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے پاکستان نے کبھی بھی اختلافات اور تنازعات کو افہام وتفہیم کے ساتھ باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنے سے نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کیاہے بلکہ پاکستان کی جانب سے بھارتی رہنمائوں کو مذاکرات کے ذریعے اختلافا ت طے کرنے کی پیشکش کی جاتی رہی ہے۔یہ بھارتی رہنما ہی ہیں جو کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مذاکرات سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں بلکہ طے شدہ مذاکرات منسوخ اورملتوی کرتے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کاکہناہے کہ جہاں تک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو دی جانے والی سزا کاتعلق ہے تو یہ کوئی اپنی نوعیت کا منفرد اور ایسا واقعہ نہیں ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی اور بہتری کی راہ میں رکاوٹ بن سکے ، ذرائع کاکہناہے کہ جہاں تک جاسوسوں کی گرفتاری اور ان کی سزائوں کاتعلق ہے تو امریکا ، روس ،برطانیہ اورجرمنی میں بھی ایک دوسرے ملکوں کیلئے جاسوسی کے الزام میں جاسوس گرفتار ہوتے رہے ہیں اور ان کو سزائیں بھی ہوئی ہیں لیکن ان گرفتاریوں اور سزائوں کی وجہ سے ان ملکوں کے باہمی تعلقات کبھی اس حد تک متاثر نہیں ہوئے کہ جنگ کی نوبت آجائے۔گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی اسی بات کااظہار کرچکے ہیں کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا دونو ں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے، ان کے اس بیان سے صاف ظاہرہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کاعمل بحال کرنے اور باہمی تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں اور حامی ہے۔اگرچہ بھارت میں مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد انتہاپسندی کو جس طرح فروغ دیاگیاہے اس کے پیش نظر کچھ عرصہ قبل تک مودی حکومت کیلئے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر لانا بظاہرناممکن نظر آرہاتھا لیکن اب بھارت کے اندر سے بھی تجربہ کار سیاستدانوں اور امور خارجہ اور دفاع کے ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کاماحول ختم کرکے حالات معمول پر لانے کی کوششوں کیلئے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اس لئے اب بھارتی وزیر اعظم اور وزارت خارجہ کے ماہرین ان آوازوں کے سہارے معاملات کو پہلے کی نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ آگے بڑھاسکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان مجوزہ متوقع ملاقات کے بارے میں سامنے آنے والی یہ امیدیں حقیقت کاروپ دھارتی ہیں یا نہیں۔اور اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں میں کس حد تک کمی ممکن ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

مضامین
ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر