وجود

... loading ...

وجود

پاک بھارت کشیدگی مشترکہ دوست ممالک کی نواز-مودی ملاقات کرانے کی کوششیں

منگل 18 اپریل 2017 پاک بھارت کشیدگی مشترکہ دوست ممالک کی نواز-مودی ملاقات کرانے کی کوششیں

ملاقات جون میں قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پرمتوقع ہے،دونوں ممالک اسی اجلاس میں تنظیم کے رکن بنیں گے پاکستان اور بھارت کے حکام نے اس ملاقات پر رضامندی کااظہار کردیااور دونوں ملکوں نے تنظیم کو اپنے اختلافات کو کم کرنے کی کوششوں کی بھی یقین دہانی کرادی ہے ،سفارتی ذرائع

پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بہیمانہ کارروائیوں کے خلاف پاکستان کے مسلسل احتجاج ،پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ جانے اور عالمی برادری کو مداخلت کی دعوت کے بعد اطلاعات کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کرنے اور ممکنہ جنگ کے خدشات کو ختم کرنے کیلئے پس پردہ کوششوں کا آغاز کردیاہے جس کی بنیاد پر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے جلد ملاقات کا امکان ہے ۔
سفارتی ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ جانے کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن کشیدگی کے انتہائی عروج پر پہنچ جانے کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات حیرت انگیز انداز میںمعمول پر آجانے کی تاریخ بھی کم پرانی نہیں ہے۔
سفارتی ذرائع کاکہناہے کہ 1998 میں بھارتی ایٹمی تجربے کے جواب میں پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات جس نہج پر پہنچ گئے تھے اس کے پیش نظر کیاکوئی یہ پیشگوئی کرسکتاتھا یا سوچ بھی سکتاتھا کہ اس کے چند مہینے بعد ہی اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آجائیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں آنے والے تنائو کے پس منظر میں ہرجانب سے جنگ کے خدشات کااظہار کیاجارہاتھا اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس صورتحال کے صرف 7 ماہ بعد دونوں ملکوں کے درمیان آگرہ میں سربراہ ملاقات ہوگی اور معاملات افہام وتفہیم کی سطح پر آجائیں گے۔اسی طرح اب بھی صورت حال اسی موڑ پر پہنچ گئی ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن یہ صورت حال زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہے گی ،کیونکہ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ دوستوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور حالات معمول پر لانے کیلئے پس پردہ نہ صرف یہ کہ کوششیں شروع کردی ہیں بلکہ ابتدائی مرحلے ہی میں انھیں ان کوششوں میں حیرت انگیز طورپر کامیابی بھی ہورہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے دوست ممالک کی ان کوششوںکی بنیاد پر عین ممکن ہے کہ اگلے چند ماہ کے اندر ہی پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے درمیان براہ راست ملاقات ہوجائے اور اس ملاقات میں دونوں ملک کشیدگی کم کرنے اور متنازع امور پر بات چیت کا از سرنو آغاز کرنے پر آمادہ ہوجائیں ، غیرملکی سفارتی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق (پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزار ت خارجہ کے حکام بھی جن کی تردید نہیں کرتے) شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کرنے اور ممکنہ جنگ کے خدشات کو ختم کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ،اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان جون میں قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر براہ راست ملاقات کا قوی امکان ہے۔
سفارتی ذرائع تو یہاں تک دعویٰ کررہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے حکام نے اس ملاقات پر رضامندی کااظہار بھی کردیاہے اور شنگھائی تعاون کونسل کو اس ملاقات کے حوالے سے یقین دہانی کرادی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم میں اس وقت روس ،چین اور وسط ایشیا کے ممالک شامل ہیں لیکن جون میں قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں ہونے والے تنظیم کے سربراہ اجلاس کے دوران پاکستان اوربھارت دونوں ہی کو تنظیم کی باقاعدہ رکنیت دے دی جائے گی،سفارتی ذرائع کے مطابق تنظیم کے تمام ممالک بھارت اور پاکستان پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات کم کریں اور کشیدگی ختم کریں تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے مجوزہ اجلاس میں پرامن انداز میں شرکت کرسکیں،اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں نے تنظیم کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو کم کرنے کی کوششیں کریں گے۔اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر حکام کاکہنا ہے کہ جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے پاکستان نے کبھی بھی اختلافات اور تنازعات کو افہام وتفہیم کے ساتھ باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنے سے نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کیاہے بلکہ پاکستان کی جانب سے بھارتی رہنمائوں کو مذاکرات کے ذریعے اختلافا ت طے کرنے کی پیشکش کی جاتی رہی ہے۔یہ بھارتی رہنما ہی ہیں جو کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مذاکرات سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں بلکہ طے شدہ مذاکرات منسوخ اورملتوی کرتے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کاکہناہے کہ جہاں تک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو دی جانے والی سزا کاتعلق ہے تو یہ کوئی اپنی نوعیت کا منفرد اور ایسا واقعہ نہیں ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی اور بہتری کی راہ میں رکاوٹ بن سکے ، ذرائع کاکہناہے کہ جہاں تک جاسوسوں کی گرفتاری اور ان کی سزائوں کاتعلق ہے تو امریکا ، روس ،برطانیہ اورجرمنی میں بھی ایک دوسرے ملکوں کیلئے جاسوسی کے الزام میں جاسوس گرفتار ہوتے رہے ہیں اور ان کو سزائیں بھی ہوئی ہیں لیکن ان گرفتاریوں اور سزائوں کی وجہ سے ان ملکوں کے باہمی تعلقات کبھی اس حد تک متاثر نہیں ہوئے کہ جنگ کی نوبت آجائے۔گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی اسی بات کااظہار کرچکے ہیں کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا دونو ں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے، ان کے اس بیان سے صاف ظاہرہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کاعمل بحال کرنے اور باہمی تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں اور حامی ہے۔اگرچہ بھارت میں مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد انتہاپسندی کو جس طرح فروغ دیاگیاہے اس کے پیش نظر کچھ عرصہ قبل تک مودی حکومت کیلئے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر لانا بظاہرناممکن نظر آرہاتھا لیکن اب بھارت کے اندر سے بھی تجربہ کار سیاستدانوں اور امور خارجہ اور دفاع کے ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کاماحول ختم کرکے حالات معمول پر لانے کی کوششوں کیلئے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اس لئے اب بھارتی وزیر اعظم اور وزارت خارجہ کے ماہرین ان آوازوں کے سہارے معاملات کو پہلے کی نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ آگے بڑھاسکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان مجوزہ متوقع ملاقات کے بارے میں سامنے آنے والی یہ امیدیں حقیقت کاروپ دھارتی ہیں یا نہیں۔اور اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں میں کس حد تک کمی ممکن ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث وجود جمعرات 09 اپریل 2026
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث

ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں! وجود جمعرات 09 اپریل 2026
ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں!

بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر