وجود

... loading ...

وجود

حکمرانوں کے انوکھے کارنامے قرضے چکانے کے لیے نئے قرضے لینے کی تیاری

جمعرات 13 اپریل 2017 حکمرانوں کے انوکھے کارنامے قرضے چکانے کے لیے نئے قرضے لینے کی تیاری

پرویز مشرف دور میں یورو بانڈ کے قرض ادا کرنے کے لیے چین سے نیاقرض حاصل کرنے فیصلہ کرلیا گیا، ذرائع کا انکشاف‘ کم وبیش750 ملین ڈالر کا مختصر میعاد کا قرض لیا جاسکتا ہے،ملکی مالیاتی اداروں کی نسبت غیر ملکی بینکوں کے کمرشل قرضوں پر شرح سود کم ہوتاہے معاشی استحکام کاغبارہ ٹھس ہوگیا، ورلڈ بینک سے قرض کی قسطیں ختم ہوتے ہی زرمبادلہ کے ذخائر 19.5 ارب ڈالر سے 16.4 ارب ڈالر پر آگئے

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس پرویز مشرف دور میں لیاگیا یورو بانڈ کا قرض اداکرنے کے لیے رقم نہیں ہے جس کی وجہ سے اب پاکستان کویورو بانڈ کاقرض ادا کرنے کے لیے چین سے کم وبیش750 ملین ڈالر کا مختصر میعاد کا قرض لینا پڑسکتاہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کاکہناہے کہ غیر ملکی بینکوں کے کمرشل قرضوں پر شرح سود یامنافع قدرے کم ہوتاہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے وزارت خزانہ نے یورو بانڈ کا قرض ادا کرنے کے لیے ملکی مالیاتی اداروں سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے چین کادروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیاہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پرویز مشرف دور میں 10 سالہ مدت کے لیے6.875 فیصد شرح منافع پر یورو بانڈ جاری کئے گئے تھے، اب 24 مئی 2017 کو اس کی میعاد پوری ہورہی ہے جس پر اب یہ رقم واپس کرنا پڑے گی۔چین سے قرض حاصل کرنے کے فیصلے سے قبل وزارت خزانہ نے یورو بانڈ کے 750 ملین ڈالر واپس کرنے کے لیے اتنی ہی رقم ساورن بانڈ جاری کرنے کافیصلہ کیاتھا۔ جبکہ پاکستان کے 2016-17 کے غیر ملکی امداد کے اقتصادی منصوبے میں پہلے ہی ایک ارب ڈالر مالیت کے سکوک بانڈ اور 750 ملین ڈالر مالیت کے سکوک بانڈز کے اجرا کا منصوبہ شامل ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں بھی حکومت نے 5.5 فیصد شرح سود پرسکوک بانڈ ز جاری کرکے ایک ارب ڈالر جمع کئے تھے۔جبکہ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے مزید بین الاقوامی بانڈز کے اجر ا کے لیے مالیاتی مشیروں کی خدمات حاصل نہیں کی ہیں۔
اس صورتحال میں ماہرین کاکہناہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت چین سے یہ قرض حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جو کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران چین سے حاصل کیاجانے والا تیسرا بڑا قرض ہوگا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس سے قبل چین سے ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال کو بہتر بنانے اورغیرملکی زرمبادلے کے ذخائر کی حالت بہتر بنانے کے لیے چین کے بینکوں سے 1.3 بلین ڈالر حاصل کئے تھے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ بین الاقوامی بانڈز کے اجرا کے ذریعے قرض حاصل کرنے کے مقابلے میں غیر ملکی بینکوں سے قرض حاصل کرنا زیادہ آسان ہے اور اس میں زیادہ دشواریاں اور رکاوٹیں پیش نہیں آتیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ستمبر2015 میں بھی 500 ملین ڈالر مالیت کے یوروبانڈ کے اجرا کے لیے اسکروٹنی سے بچنے کے لیے غیر ملکی بینکوں سے کمرشل قرض حاصل کیاتھا۔ذرائع کاکہناہے کہ وزارت خزانہ نے اظہار دلچسپی کے اظہار کے اشتہار دے کر مقابلے کے ماحول میں کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کرنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ غیر ملکی کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کرلیاتھا ، وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق چین 3.3 فیصد شرح سود پر یہ قرض دے رہاہے۔یہ شرح سود اس 5.5 فیصد شرح سود سے بہت اچھا ہے جس پر پاکستان کی حکومت گزشتہ سال سکوک بانڈز کے اجرا کے ذریعے ایک ارب ڈالر کا قرض لے چکی ہے۔جبکہ پاکستان اس سے قبل غیر ملکی بینکوں سے کمرشل قرض کم وبیش 4.7 فیصد شرح سود پر حاصل کرتارہاہے۔تاہم اس فرق کاایک بڑا سبب یہ ہے کہ سکوک بانڈزکے ذریعے حاصل کئے جانے والے قرض 10 سال کے عرصے کے لیے تھے جبکہ یہ قرض ایک سے ڈیڑھ سال میں واجب الادا ہوجائیںگے جس میں ایکسچینج ریٹ میں کمی بیشی کا خطرہ موجود رہتاہے۔
پاکستان کی جانب سے غیر ملکی کمرشل قرضوں کا حصول 21ویں صدی کا نیا واقعہ ہے۔کیونکہ نہ تو
پرویز مشرف دور میں یہ طریقہ اختیار کیاگیا اور نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں قرض حاصل کرنے کا یہ آسان راستہ اختیار کیاگیاکیونکہ قرض کے حصول کایہ طریقہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دیگر طریقہ کار کے تحت حاصل کئے جانے والے غیر ملکی قرضوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ثابت ہوتے ہیں اور اس پر قومی خزانے سے نسبتاً زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے اقتدار ملنے کے بعد غیر ملکی کمرشل بینکوں سے مجموعی طورپر 3.3 ارب ڈالر مالیت کے قرض حاصل کئے ہیں۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت گزشتہ 3 سال کے دوران یورو اور سکوک بانڈز کے اجرا کے ذریعے بھی 4.5 ملین ڈالر کے قرض حاصل کرچکی ہے۔
پاکستان نے ماضی کے قرض چکانے کے لیے خزانے میں رقم نہ ہونے کے عذر کے تحت قرض حاصل کرنے کاسلسلہ شروع کیاتھا۔جبکہ غیر جانبدار ماہرین اقتصادیات اس کو قرضوں کاایک ایسا جال قرار دیتے ہیں جس سے چھٹکارا حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔حکومت کی جانب سے بے تحاشہ قرض لئے جانے کی وجہ سے اب ملک پر ان قرضوں پر سود کا بوجھ بڑھتا چلاجارہاہے۔
گزشتہ سال تک حکومت یہ دعویٰ کرتی نہیں تھکتی تھی کہ ملک کے پاس پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں۔لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے قرضوں کی فراہمی
کے پروگرام کے اختتام کے ساتھ ہی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی سکڑنا شروع ہوگئے جس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ حکومت نے زرمبادلے کے یہ ذخائر بھاری شرح سود پر حاصل کردہ قرض کے ذریعے پیدا کئے تھے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بھاری شرح سود پر حاصل کردہ قرضوں کے ذریعے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 19.5 ارب ڈالر تک پہنچا دئے گئے تھے لیکن قرض کی رقم کی آمد بند ہوتے ہی زرمبادلہ کے ذخائر 19.5 ارب ڈالر سے کم ہوکر 16.4 ارب ڈالر پر آگئے۔حکومت کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی اس کمی کا سبب برآمدات میں کمی ، بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیل زر کی رفتار میں کمی اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی بتائی جاتی ہے۔
ماہرین اقتصادیات کاکہناہے کہ غیر ملکی کمرشل قرضوں پر شرح سود میں کمی کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے قرض کی رقم پر ہر طرح کے ٹیکسوں کی چھوٹ کادیاجانا ہے۔اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ ماہ ہی وفاقی کابینہ نے غیر ملکی کمرشل بینکوں کے2.7 بلین ڈالر کے قرض پر حاصل کردہ سود یامنافع کی رقم پر 15 فیصد انکم ٹیکس معاف کرنے کی منظوری دی تھی۔قرض پر بینکوں کی جانب سے حاصل کردہ سود کی رقم پر 15 فیصد انکم ٹیکس کی چھوٹ دینے کامقصد عوام کے سامنے یہ ظاہرکرنا تھا کہ حکومت نے یہ قرض5 فیصد سے بھی کم شرح سود پر حاصل کیاہے جبکہ 15 فیصد کی شرح سے انکم ٹیکس معاف نہ کئے جانے کی صورت میں سود کی شرح5 فیصد سے کہیں زیادہ ہوتی۔اس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ نے ان قرضوں کی منظوری بھی دیدی تھی جو وزارت خزانہ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر اور کسی طرح کے مقابلے اور تقابل کے بغیر حاصل کئے تھے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور اور باعث تشویش ہے کہ پاکستان کے لئے چین کے قرضوں کی رقم چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے سرمایہ کاری کی شرح سے کہیں زیادہ تیزرفتاری سے بڑھ رہی ہے ۔جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان ستمبر سے فروری 2015-17 کے درمیان چین سے 2.1 ارب ڈالر کا قرض حاصل کرچکاہے جس میں سے 1.8 بلین ڈالر کا قرض مختصر میعاد کا کمرشل شرائط پر لیاگیا ،قرض اور ایک ارب ڈالر مالیت کا پراجیکٹ فنانسنگ کے لیے حاصل کردہ قرض شامل ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

مضامین
پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر