وجود

... loading ...

وجود

سولجر بازار اسکول انہدام اسکینڈل  فضل اللہ پیچوہو نے تاریخی ورثے کو فروخت کیاتھا ،معاملہ گلے پڑگیا

جمعرات 13 اپریل 2017 سولجر بازار اسکول انہدام اسکینڈل  فضل اللہ پیچوہو نے تاریخی ورثے کو فروخت کیاتھا ،معاملہ گلے پڑگیا

فریال تالپور کے فرنٹ مین اورنئے وزیر قانون ضیا لنجار ،انکے کزن ایس ایس پی سانگھڑفرخ لنجار و دیگر اسکول کی زمین ہتھیانے میں شامل ہیں،ذرائع آئی جی کی جانب سے مقررتحقیقاتی افسران آفتاب پٹھان اور ثنا ء اللہ عباسی سندھ حکومت کیلیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں،معاملے کو دبانے کی کوششیں ناکام چار پانچ ارب روپے کی زمین کوڑیوں کے داموں خریدی گئی تھی، اب اگر یہ زمین کا ٹکڑا ان کو نہ ملا تو ان کے کروڑوں روپے بھی ڈوب جائیں گے

سابق سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچو ہو نے اپنے دور میں کراچی کے 2 ہزار سے زائد سرکاری اسکول فروخت کر دیے تھے۔ ان کی کہانیاں اب کھلتی جا رہی ہیں۔انہوں نے بدمست ہاتھی کی طرح محکمہ تعلیم میں ایسے ایسے فیصلے کیے اور اس صوبے کو اتنا پیچھے دھکیلا کہ شاید 50 برس بھی گزر جائیں تو ان کے گند کو صاف نہیں کیا جاسکتا۔ فضل اللہ پیچو ہو نے سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے ہاتھوں نیشنلائزڈکیے گئے اسکولوں کو ڈی نیشنلائز کر دیا۔ حد یہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو نے 500 اسکول نیشنلائز کیے تھے ،فضل اللہ پیچوہو نے 2 ہزار اسکول ڈی نیشنلائز کر دیے اور کراچی میں اب صرف 85 اسکول سرکاری تحویل میں بچ گئے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ کام اس ہوشیاری اور مہارت کے ساتھ کیا کہ کسی کو کانوں کان پتہ بھی چلنے نہ دیا، کھربوں روپے اس کھیل میں بٹورے گئے اور سب کو اپنا حصہ دیا گیا، اب کوئی بھی سیاسی ،مذہبی و سماجی تنظیم اس میگا اسکینڈل پر بات کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں ۔ پھر آصف علی زرداری کی منظوری سے انہیں محکمہ صحت میں سیکریٹری لگا دیا گیا۔
اب ایک حیرت انگیز کہانی سامنے آگئی ہے، سولجر بازار میں 9 اپریل اتوار کے روز کچھ بااثر افراد آئے، پولیس کو بھی ساتھ لائے اور 1928 کا بنا ہوا اسکول مسمار کر دیا۔ جب میڈیا کو علم ہوا تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا، پولیس اور حکومت سندھ نے نوٹس لیا۔ تحقیقات شروع ہوئیں تو دل دہلادینے والے انکشافات سامنے آگئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ فضل اللہ پیچوہو نے چارپانچ ارب روپے کی عمارت فریال تالپور کے فرنٹ مین ضیاء الحسن لنجار کو فروخت کر دی جس نے یہ عمارت ایس ایس پی سانگھڑ فرخ لنجار کو دی کہ وہ پولیس کی مدد سے اس عمارت کو فروخت کرے اور ایس ایس پی فرخ لنجار نے فریال تالپور اور ضیاء الحسن لنجار کا رعب دبدبہ استعمال کرکے اپنے بھائی عدنان لنجار کے ذریعے پولیس کی گاڑیاں لے جاکر تاریخی ورثہ قرار دی گئی اس عمارت کو مسمار کر دیا۔ حالانکہ رواں سال ہی 19 جنوری 2017 کو محکمہ ثقافت نے اس عمارت کو تاریخی ورثہ قرار دیا تھا۔ مگر ان بد مست ہاتھیوں کو کون روکے؟ 10 اپریل کو آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے ایس ایس پی سانگھڑ فرخ لنجار کا نام آنے پر ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس آفتاب پٹھان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ۔ آفتاب پٹھان اچھی شہرت کے حوالے سے مشہور ہیں، جب وہ ڈی آئی جی لاڑکانہ تھے تو انہوں نے ایس ایس پی لاڑکانہ کامران نواز کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ دی کہ وہ ڈاکوئوں کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ان کو اسلحہ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے پھر جب سپریم کورٹ نے آفتاب پٹھان کو پولیس میں بھرتیوں کی تحقیقات کے لیے کہا تو اس وقت کے آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی نے ان کو لالچ بھی دی اور دھمکی بھی ۔۔۔ اور پھر ان کی خدمات وفاق کے بھی حوالے کیں لیکن آفتاب پٹھان نے ان بھریتوں کو جعلی قرار دیا اور ان بھرتیوں میں بھاری رشوت لیے جانے کا بھی انکشاف کر دیاتھا۔
اب آفتاب پٹھان نے تاریخی ورثہ قرار دی گئی عمارت کو مسمار کیے جانے کی تحقیقات شروع کر دی ہے ۔ یوں فریال تالپور اور ضیاء الحسن کو کپکپی لگی کہ معاملہ خراب ہوسکتا ہے، فوری طور پر ضیاء الحسن لنجار کو 10 اپریل کو سندھ کابینہ میں شامل کرکے ان کو محکمہ قانون دے دیا گیا تاکہ وہ اپنے قریبی رشتہ دار ایس ایس پی فرخ لنجار کو تحفظ دے سکیں۔ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن عبدالعزیز عقیلی نے آئی جی سندھ پولیس کے ساتھ مل کر ہمت کی اور ایف آئی آر درج کرالی۔ جس پر سندھ پولیس نے فوری طور پر عدنان لنجار اور ان کے ساتھیوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔ اب ایک مرتبہ پھر فریال تالپور اور ضیاء الحسن لنجار کو خوف نے گھیر لیا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس گرفتاریاں کرائیں گے تو اصل کہانی سامنے آجائے گی۔ اب حکومت سندھ کے ذریعے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے
کہ وہ اس معاملے کو دبالیں اور بات آگے نہ جانے دیں۔ ایس ایس پی فرخ لنجار کو چھ ماہ قبل آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے سانگھڑ سے ہٹایا تو سب سے زیادہ ناراض فریال تالپور،انور مجید، ضیاء الحسن لنجار ہوئے اور جب آئی جی سندھ پولیس نے سمیع اللہ سومرو کو ایس ایس پی سانگھڑ لگادیا تو حکمرانوں کو برداشت نہ ہوا اور بلآخر فرخ لنجار کو ہی چار ماہ بعددوبارہ ایس ایس پی سانگھڑ مقرر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پیر اور منگل کے روز فریال تالپور، ضیاء الحسن لنجار، فضل اللہ پیچوہو نے سرتوڑ کوشش کی کہ یہ کیس آگے نہ بڑھنے دیا جائے لیکن ان کی یہ کوشش رائیگاں گئی کیونکہ آئی جی سندھ نے ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی ختم کرنے سے قطعی انکار کردیا۔ آفتاب پٹھان نے واضح کر دیا ہے کہ چاہے کوئی بھی روکے وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر رپورٹ دیں گے اور تمام کرداروں کو بے نقاب کریں گے۔ اوپر سے دبائو آنے کے بعد اتوار اور پیر کے روز وزیراعلیٰ سندھ پہلے سرگرم تھے مگر منگل کے روز وزیراعلیٰ بھی پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے معاملہ سے ہاتھ اٹھالیا ۔
اس وقت عوام اور میڈیا نمائندے مشتعل ہیں اور اسکول کے بچوں میں نیا جوش و جذبہ ہے، وہ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اور یہ معاملات اب حکمرانوں کو چین سے سونے نہیں دے رہے کیونکہ چار پانچ ارب روپے کی زمین کوڑیوں کے داموں خریدی گئی تھی، اب اگر یہ زمین کا ٹکڑا ان کو نہ ملا تو ان کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے اور ان کے کروڑوں روپے بھی ڈوب جائیں گے گیند ایک مرتبہ پھر آئی جی سندھ کی کورٹ میں ہے۔بعد ازاں آئی جی نے تحقیقات کیلیے ایس پی آپریشن 1کو سونپ دی ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی سربراہ سی ٹی ڈی ثنا ء اللہ عباسی کمیٹی کو سپروائز کریں گے ۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر