وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں ہندوؤں کے مقدس دریا گنگا کو آلودگی سے بچانے کی تدبیریں

پیر 10 اپریل 2017 بھارت میں ہندوؤں کے مقدس دریا گنگا کو آلودگی سے بچانے کی تدبیریں

بھارت کی عدالت نے دریائے گنگا کو انسان کی حیثیت دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کان کنی کے نئے لائسنسوں پر4 ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے نئی دہلی کی ہوا اتنی گندی ہے کہ جیگوار گاڑی بنانے والی کمپنی کے سی ای او نے حال ہی میں کہا کہ ان کی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں دہلی کی ہوا سے صاف ہوتا ہے۔

ہندوؤں کے نزدیک دریائے گنگا کو مقدس حیثیت حاصل ہے،ہندوؤں کے اسی مذہبی جذبے اور اس دریا کے ساتھ بھارتی ہندوؤں کے قلبی اور مذہبی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے بھارت کی ایک عدالت نے گزشتہ دنوں دریائے گنگا کو قانونی طور پر ‘شخص’ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کو اتنا ہی اہم اورضروری قرار دیا ہے جتنا کسی انسان کی جان کوتحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس دریا کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بھارت کی عدالت نے دریائے گنگا کو انسان تصور کرتے ہوئے انسان کے مساوی قانونی حقوق دینے اور ان قوانین کے تحت اس کاتحفظ کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے ریاست کے انسدادِ آلودگی کے ادارے کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ایسے ہوٹلوں، کارخانوں یا آشرموں کو بند کر دے جو دریا میں فضلہ بہاتے ہیں۔عدالت کے اس حکم سے صرف ہری دوار اور رشکیش کے علاقے میں 700 ہوٹل متاثر ہوں گے۔
بھارتی تحقیق کار شیام کرشنم کمارکا کہنا ہے کہ یہ حکم ہندوؤں کے لیے اس مقدس دریا کو بڑھتی ہوئی آلودگی سے پاک رکھنے میں کس قدر معاون ثابت ہو گا۔
گنگابھارت کے تقریباً 50 کروڑ لوگوں کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے بچانے کے لیے شمالی بھارت کی ریاست اترکھنڈ کی عدالت نے کئی فیصلے دیے ہیں۔سب سے پہلے تو عدالت نے گنگا اور جمنا دونوں کو قانونی طور پر شخص قرار دیا۔ اس کے بعد یہ رتبہ گنگوتری اور یامونوتری گلیشیئروں کو بھی دے دیا گیا۔ دریائے گنگا اور جمنا علی الترتیب انہی گلیشیئروں سے نکلتے ہیں۔ اس کے بعد دریاؤں، ندی نالوں، جھیلوں، ہوا، چراگاہوں، سبزہ زاروں، جنگلوں، چشموں اور آبشاروں کو بھی یہی حیثیت دے دی گئی۔عام لوگوں کاخیال ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے دریائے گنگا کی آلودگی سے نمٹنے میں مدد ملے گی ،تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ ان حکم ناموں کا مقصد فطرت کو وسائل سمجھنے کی بجائے ایک ایسا وجود سمجھنا ہے جس کے اپنے بنیادی حقوق ہیں۔
بھارت میں دوسری ایسی غیر انسانی اشیا جنہیں قانونی طور پر شخصیت مانا جاتا ہے، ان میں مندر، دیوتا، کمپنیاں اور ٹرسٹ شامل ہیں۔اس سے قبل قانونی طور پر فطرت کو ایسی چیز سمجھا جاتا تھا جس کے کوئی قانونی حقوق نہیں ہوتے لیکن ماحولیاتی قانونی صرف ان سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے۔ لیکن اب یہ نقطہ نظر تبدیل ہو رہا ہے اوربھارت اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ماحولیاتی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کے حقوق تسلیم کیے جائیں۔
اس سلسلے میںایکواڈور کی مثال ہمارے سامنے ہے ،ایکواڈورکے نئے آئین میں یہ بات لازمی تسلیم کی گئی ہے کہ فطرت کو قائم و برقرار رہنے اور تجدید کا حق حاصل ہے۔ نیوزی لینڈ میں حال ہی میں ماؤری نسل کے لوگوں نے 140 سالہ قانونی جدوجہد کے بعد وہانگانوئی دریا کو شخصی درجہ دلوایا ہے۔
دریائے گنگا کو قانونی طورپر ایک انسان کی حیثیت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جانب سے براہِ راست مقدمے دائر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ماحول کے تحفظ کے سلسلے میں بے حد اہم قدم ہے۔مثال کے طور پر گنگا کو آلودہ کرنے سے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اس طرح خود دریا کو نقصان پہنچانا ہی دریا کی ‘زندگی کے حق’ کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے اور دریا میں آلودگی میں اضافے کاسبب بننے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے اس کو اسی طرح سزا دلائی جاسکتی ہے جس طرح کسی انسان کی زندگی کو نقصان پہنچانے اور اس کی زندگی میں زہر گھولنے والوں کو سزا دی جاسکتی ہے۔
بھارت کی عدالت نے دریائے گنگا کو انسان کی حیثیت دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کان کنی کے نئے لائسنسوں پر4 ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے،عدالت نے بھارت کے پہاڑی علاقوں میں ماحولیات کو کان کنی سے پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ تاہم اتر کھنڈ کی حکومت عدالت کے اس فیصلے پر خوش اور مطمئن نہیں ہے اور اترکھنڈ کی حکومت اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تاہم اب عدالت میں یہ ثابت کرنا ضروری نہیں رہا کہ آلودگی سے انسانوں پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔عدالت کے ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت گنگا کی آلودگی پر سختی سے نظر رکھے گی، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کا کیا ردِ عمل سامنے آتا ہے۔تاہم عدالت کے اس فیصلے کے بعض حصے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ مثلاً دریا کی زندگی کے حق کا کیا مطلب ہے؟ اگر اس کا مطلب آزادی سے بہنا ہے تو پھر ان ڈیموں کا کیا بنے گا جو گنگا پر جگہ جگہ بنے ہوئے ہیں؟فیصلے کا نفاذ ایک اور معاملہ ہے۔ یہ بات بھی دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ فیصلہ صرف اترکھنڈ تک محدود رہے گا یا اس کا اطلاق دوسری ریاستوں پر بھی کیا جائے گا؟
دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کی طرح آلودگی میں اضافہ بھارت کے لیے ایک گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے ،جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آلودگی کی وجہ سے زیادہ تر افراد کے پھیپھڑوں کی حالت خراب ہے۔تاہم حکومت اور خود شہریوں کی اکثریت اس کی پرواہ نہیں کرتی لیکن کچھ ہیں جو زہریلی ہوا سے محفوظ رہنے کی تدابیر کر رہے ہیں۔
بھارتی دارالحکومت میںآلودہ ہوا سے محفوظ رہنے کے لیے ماسک متعارف کرانے والی کمپنی ’ووگ ماسک‘ کے مالک جے دھر گپتا کہتے ہیں ’نئی دہلی میں ہی نہیں پورے ملک میں آلودگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آلودہ ہوا میں موجود ذرات پھیپھڑوں کے راستے ہمارے خون میں پہنچ جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کی سنگین بیماریاں جنم لیتی ہیں۔‘جے دھر گپتا کا کہنا ہے عام طور پر لوگوں میں اب بیداری بڑھی ہے، انہیں زہریلی ہوا کے خطرے کا احساس تو ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کس قسم کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ ’آپ اکثر لوگوں کو سرجیکل ماسک پہن کر گھومتے ہوئِے دیکھیں گے لیکن اس ماسک کا کام بالکل مختلف ہے وہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہوا کو صاف کرنے کے لیے نہیں۔‘نئی دہلی کی ہوا اتنی گندی ہے کہ جیگوار گاڑی بنانے والی کمپنی کے سی ای او نے حال ہی میں کہا کہ ان کی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں دارالحکومت کی ہوا سے صاف ہوتا ہے۔آلودگی پر نگاہ رکھنے والے ادارے سی ایس ای کے مطابق نئی دہلی میں ہر سال زہریلی ہوا سے 10 سے 30 ہزار کے درمیان اموات ہوتی ہیں جبکہ شہر کے 44 لاکھ بچوں میں سے تقریباً نصف کے پھیپھڑے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو چکے ہیں۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر