وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں ہندوؤں کے مقدس دریا گنگا کو آلودگی سے بچانے کی تدبیریں

پیر 10 اپریل 2017 بھارت میں ہندوؤں کے مقدس دریا گنگا کو آلودگی سے بچانے کی تدبیریں

بھارت کی عدالت نے دریائے گنگا کو انسان کی حیثیت دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کان کنی کے نئے لائسنسوں پر4 ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے نئی دہلی کی ہوا اتنی گندی ہے کہ جیگوار گاڑی بنانے والی کمپنی کے سی ای او نے حال ہی میں کہا کہ ان کی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں دہلی کی ہوا سے صاف ہوتا ہے۔

ہندوؤں کے نزدیک دریائے گنگا کو مقدس حیثیت حاصل ہے،ہندوؤں کے اسی مذہبی جذبے اور اس دریا کے ساتھ بھارتی ہندوؤں کے قلبی اور مذہبی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے بھارت کی ایک عدالت نے گزشتہ دنوں دریائے گنگا کو قانونی طور پر ‘شخص’ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کو اتنا ہی اہم اورضروری قرار دیا ہے جتنا کسی انسان کی جان کوتحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس دریا کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بھارت کی عدالت نے دریائے گنگا کو انسان تصور کرتے ہوئے انسان کے مساوی قانونی حقوق دینے اور ان قوانین کے تحت اس کاتحفظ کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے ریاست کے انسدادِ آلودگی کے ادارے کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ایسے ہوٹلوں، کارخانوں یا آشرموں کو بند کر دے جو دریا میں فضلہ بہاتے ہیں۔عدالت کے اس حکم سے صرف ہری دوار اور رشکیش کے علاقے میں 700 ہوٹل متاثر ہوں گے۔
بھارتی تحقیق کار شیام کرشنم کمارکا کہنا ہے کہ یہ حکم ہندوؤں کے لیے اس مقدس دریا کو بڑھتی ہوئی آلودگی سے پاک رکھنے میں کس قدر معاون ثابت ہو گا۔
گنگابھارت کے تقریباً 50 کروڑ لوگوں کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے بچانے کے لیے شمالی بھارت کی ریاست اترکھنڈ کی عدالت نے کئی فیصلے دیے ہیں۔سب سے پہلے تو عدالت نے گنگا اور جمنا دونوں کو قانونی طور پر شخص قرار دیا۔ اس کے بعد یہ رتبہ گنگوتری اور یامونوتری گلیشیئروں کو بھی دے دیا گیا۔ دریائے گنگا اور جمنا علی الترتیب انہی گلیشیئروں سے نکلتے ہیں۔ اس کے بعد دریاؤں، ندی نالوں، جھیلوں، ہوا، چراگاہوں، سبزہ زاروں، جنگلوں، چشموں اور آبشاروں کو بھی یہی حیثیت دے دی گئی۔عام لوگوں کاخیال ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے دریائے گنگا کی آلودگی سے نمٹنے میں مدد ملے گی ،تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ ان حکم ناموں کا مقصد فطرت کو وسائل سمجھنے کی بجائے ایک ایسا وجود سمجھنا ہے جس کے اپنے بنیادی حقوق ہیں۔
بھارت میں دوسری ایسی غیر انسانی اشیا جنہیں قانونی طور پر شخصیت مانا جاتا ہے، ان میں مندر، دیوتا، کمپنیاں اور ٹرسٹ شامل ہیں۔اس سے قبل قانونی طور پر فطرت کو ایسی چیز سمجھا جاتا تھا جس کے کوئی قانونی حقوق نہیں ہوتے لیکن ماحولیاتی قانونی صرف ان سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے۔ لیکن اب یہ نقطہ نظر تبدیل ہو رہا ہے اوربھارت اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ماحولیاتی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کے حقوق تسلیم کیے جائیں۔
اس سلسلے میںایکواڈور کی مثال ہمارے سامنے ہے ،ایکواڈورکے نئے آئین میں یہ بات لازمی تسلیم کی گئی ہے کہ فطرت کو قائم و برقرار رہنے اور تجدید کا حق حاصل ہے۔ نیوزی لینڈ میں حال ہی میں ماؤری نسل کے لوگوں نے 140 سالہ قانونی جدوجہد کے بعد وہانگانوئی دریا کو شخصی درجہ دلوایا ہے۔
دریائے گنگا کو قانونی طورپر ایک انسان کی حیثیت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جانب سے براہِ راست مقدمے دائر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ماحول کے تحفظ کے سلسلے میں بے حد اہم قدم ہے۔مثال کے طور پر گنگا کو آلودہ کرنے سے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اس طرح خود دریا کو نقصان پہنچانا ہی دریا کی ‘زندگی کے حق’ کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے اور دریا میں آلودگی میں اضافے کاسبب بننے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے اس کو اسی طرح سزا دلائی جاسکتی ہے جس طرح کسی انسان کی زندگی کو نقصان پہنچانے اور اس کی زندگی میں زہر گھولنے والوں کو سزا دی جاسکتی ہے۔
بھارت کی عدالت نے دریائے گنگا کو انسان کی حیثیت دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کان کنی کے نئے لائسنسوں پر4 ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے،عدالت نے بھارت کے پہاڑی علاقوں میں ماحولیات کو کان کنی سے پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ تاہم اتر کھنڈ کی حکومت عدالت کے اس فیصلے پر خوش اور مطمئن نہیں ہے اور اترکھنڈ کی حکومت اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تاہم اب عدالت میں یہ ثابت کرنا ضروری نہیں رہا کہ آلودگی سے انسانوں پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔عدالت کے ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت گنگا کی آلودگی پر سختی سے نظر رکھے گی، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کا کیا ردِ عمل سامنے آتا ہے۔تاہم عدالت کے اس فیصلے کے بعض حصے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ مثلاً دریا کی زندگی کے حق کا کیا مطلب ہے؟ اگر اس کا مطلب آزادی سے بہنا ہے تو پھر ان ڈیموں کا کیا بنے گا جو گنگا پر جگہ جگہ بنے ہوئے ہیں؟فیصلے کا نفاذ ایک اور معاملہ ہے۔ یہ بات بھی دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ فیصلہ صرف اترکھنڈ تک محدود رہے گا یا اس کا اطلاق دوسری ریاستوں پر بھی کیا جائے گا؟
دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کی طرح آلودگی میں اضافہ بھارت کے لیے ایک گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے ،جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آلودگی کی وجہ سے زیادہ تر افراد کے پھیپھڑوں کی حالت خراب ہے۔تاہم حکومت اور خود شہریوں کی اکثریت اس کی پرواہ نہیں کرتی لیکن کچھ ہیں جو زہریلی ہوا سے محفوظ رہنے کی تدابیر کر رہے ہیں۔
بھارتی دارالحکومت میںآلودہ ہوا سے محفوظ رہنے کے لیے ماسک متعارف کرانے والی کمپنی ’ووگ ماسک‘ کے مالک جے دھر گپتا کہتے ہیں ’نئی دہلی میں ہی نہیں پورے ملک میں آلودگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آلودہ ہوا میں موجود ذرات پھیپھڑوں کے راستے ہمارے خون میں پہنچ جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کی سنگین بیماریاں جنم لیتی ہیں۔‘جے دھر گپتا کا کہنا ہے عام طور پر لوگوں میں اب بیداری بڑھی ہے، انہیں زہریلی ہوا کے خطرے کا احساس تو ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کس قسم کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ ’آپ اکثر لوگوں کو سرجیکل ماسک پہن کر گھومتے ہوئِے دیکھیں گے لیکن اس ماسک کا کام بالکل مختلف ہے وہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہوا کو صاف کرنے کے لیے نہیں۔‘نئی دہلی کی ہوا اتنی گندی ہے کہ جیگوار گاڑی بنانے والی کمپنی کے سی ای او نے حال ہی میں کہا کہ ان کی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں دارالحکومت کی ہوا سے صاف ہوتا ہے۔آلودگی پر نگاہ رکھنے والے ادارے سی ایس ای کے مطابق نئی دہلی میں ہر سال زہریلی ہوا سے 10 سے 30 ہزار کے درمیان اموات ہوتی ہیں جبکہ شہر کے 44 لاکھ بچوں میں سے تقریباً نصف کے پھیپھڑے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو چکے ہیں۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت وجود - اتوار 08 نومبر 2026

حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، صدر اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ اسرائیلی ا...

نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر