... loading ...

بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی ورنہ سڑکیں اور صنعتیں صوبے کو ترقی نہیں دے سکتیں،ناقدین بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی تخریبی سرگرمیوں کابنیادی سبب ،دوسرے صوبوں کے تعلیم یافتہ وسہولت یافتہ نوجوانوں کو دیکھ کر احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے سابق صدرآصف زرداری نے بلوچستان کے حالیہ دورے میں میں صنعتوں کے قیام،بے روزگاری کے خاتمے اور وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے قائم کرنے کے دعوے کیے
پاکستان پیپلز پارٹی کے روح رواں اور شریک چیئرمین آصف زرداری نے گزشتہ روز بلوچستان کادورہ کیا اور وہاں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسب عادت بڑے بلند بانگ دعوے کئے ،انھوں نے اس پسماندہ صوبے کے زبوں حال لوگوں کی غربت دور کرنے کیلئے اس صوبے میں پانی کی کمی دور کرنے کے کئی ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جو شاید وہ اپنی زندگی میں مکمل نہیں کرسکتے۔ مثال کے طورپر انھوںنے بلوچستان کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے یا خیال کاذکر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وسط ایشیا سے پانی لانے کیلئے نہروں کی کھدائی اور تیاری کیلئے سرمایہ کہاں سے آئے گا ؟یہ کام کتنے سال یاعشروں میں مکمل ہوسکے گا؟ اس دوران بلوچستان میں آبپاشی اور خاص طورپر پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کیا انتظام کیاجائے گا؟ اس طرح آصف زرداری کے ان وعدوں کو ایسے انتخابی وعدوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔
آصف زرداری نے بلوچستان کے لوگوں کوانٹر نیٹ پر بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کامشورہ دے کر ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک اچھا کام کیاہے جسے سراہا جانا چاہئے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آصف زرداری کے اس مشورے پر ایک فیصد لوگوں نے بھی عمل کرلیا اوربھارت میں مسلمانوں کی حالت زار اور مودی دور حکومت میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک کا مشاہدہ کرلیا تو یہ ایک فیصد نوجوان اس صوبے کے بے راہ رو اور گمراہ نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کا اہم ذریعے بن سکتے ہیں۔جس سے بلوچستان میں نہ صرف تخریب کاری میں مصروف نوجوان راہ راست اختیار کرسکتے ہیں بلکہ ہمارے دشمن بھارت کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کیلئے بلوچ نوجوانوں کی خدمات کاحصول مشکل ہوجائے گا۔
آصف زرداری نے اپنے دورہ بلوچستان کے دوران بہت سی باتیں کیں ،بلوچستان میں صنعتیں قائم کرنے اور ان میں بلوچ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے بھی وعدے کئے لیکن انھوں نے بلوچ نوجوانوں کی غربت اور بیروزگاری یا موزوں روزگار نہ ملنے کے بنیادی مسئلے یعنی بلوچ عوام کی ناخواندگی اوران کے بے ہنرہونے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی،جبکہ بلوچ نوجوانوں کی بیروزگاری اور بد حالی کی بنیادی وجہ تعلیم سے ان کی محرومی اور ان کابے ہنر ہونا ہے، اور جب تک بلوچستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں عام نہیں کیاجائے گا اور بلوچ نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے کے مراکز قائم کرکے بلوچ نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کی ترغیب نہیں دی جائے گی، صرف صنعتوں کے قیام سے ان کی غربت اوربیروزگاری کاخاتمہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ناخواندہ اور بے ہنر نوجوانوں کو کمتر درجے کی ملازمتیں ہی مل سکیں گی اور کمتر درجے کی ملازمتیں کرنے والے یہ نوجوان جب دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کواعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے اور بھاری تنخواہیں وصول کرتے دیکھیں گے تو وہ اپنی تعلیمی کم مائیگی کو نظر انداز کرکے احسا س محرومی کا شکار ہوں گے اور ان کی اسی احساس محرومی کو دشمن اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا ،جیسا کہ اب بھی ہورہا ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ اگر بلوچ عوام کی حالت کوبہتر بنانا ہے اور بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں تبدیلی لانے کیلئے جن اقدامات کا ذکر کیاتھا ان میں بلوچستان میں اسکولوں کی بحالی اور تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کاوعدہ سرفہرست تھا ۔حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ان ترجیحات اور وعدوں کی بنیاد پر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ اب بلوچستان کے عوام کو حصول تعلیم کے آسان ذرائع میسر آجائیں گے اور ان کے بچے آوارہ گردی کرنے کے بجائے اسکولوں کی رونق بنیں گے ،لیکن موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے 4سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی بلوچ عوام کو تعلیم کی سہولتیں بہم پہنچانے کی جانب ایک انچ بھی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی زبوں حالی یا اس شعبے سے حکومت کی عدم توجہی کاعالم یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کا ہر آٹھواں بچہ اب بھی اسکولوں میں داخلے سے محروم ہے اور خواندگی کی شرح اب بھی 39 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے ، اس حوالے سے یہ خیال رہے کہ خواندگی کی اس شرح میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن میں اکثریت کے پاس سیکنڈری اسکول کی بھی کوئی ڈگری نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی خواندہ تصور کرلیاگیاہے جو اپنا نام لکھنا اور دوسروں کے نام پتے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر ان لوگوں کو اس فہرست سے نکال دیاجائے اور صرف سیکنڈری اسکول سے فارغ ہونے والوں کو خواندہ تصور کرلیاجائے تو غالبا ً یہ شرح نصف بھی نہ رہے۔
حکومت کی جانب سے 2014-15 کے حوالے سے جو تعلیمی اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں 5سے 16 سال عمر تک کے کم وبیش2کروڑ 40لاکھ بچے اسکولوں کی تعلیم سے محروم ہیں۔جبکہ اس میںبلوچستان میں اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی شرح70 فیصدہے۔سندھ کی 56 فیصد اور پنجاب کی 44 فیصد ہے ،تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے اعتبار سے خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے آگے ہے اور وہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح پڑھالکھا پاکستان کی مہم کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والے صوبے پنجاب سے بھی کم یعنی 36 فیصد ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی سہولتوں سے محروم بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے ابھی تک اس صوبے کی اس اہم ضرورت پر کوئی توجہ نہیں دی ہے اور تعلیمی شعبے کوترقی دینے اور لوگوں کواپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ترغیب دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ، یہی نہیں بلکہ بلوچستان کی حکومت اس صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں طلبہ وطالبات کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے بلوچستان جانے والے اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو تحفظ دینے میں بھی ناکام رہی ہے جس کا اندازہ آئے روز بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والوں کے قتل کے واقعات سے لگایاجاسکتاہے ۔
بلوچستان کے عوام میں موجود احساس محرومی دور کرنے کی کوشش کرنے کے دعویدار بلوچستان کے حکمرانوں کی تعلیم کے شعبے سے یہ بے اعتنائی ظاہر کرتی ہے کہ ان حکمرانوں کو ترقی اور خوشحالی میں تعلیم کے اہم بلکہ بنیادی کردار کا احسا س نہیں ہے،جس صوبے کے 5سے16 سال عمر کے 18 لاکھ بچوں نے اسکول کا منہ ہی نہ دیکھا ہو انھیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسکول کیاہوتاہے اور یہاں بچے کیوں آتے ہیں،اور جس صوبے کے60 فیصد سے زیادہ افراد اپنا نام لکھنا اور پڑھنا بھی نہ جانتے ہوں اس صوبے کو ترقی دینے کے دعوے کس طرح پورے ہوسکتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے لیکن اس ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کے صوبے میں صرف 13 ہزار اسکول موجود ہیں جن میںڈھائی ہزار لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مخصوص ہیں اوربقیہ لڑکوں کیلئے ہیں ،اس طرح یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کیلئے صرف 13ہزار سرکاری اسکول پوری آبادی کی تعلیمی ضروریات کس طرح پوری کرسکتے ہیں ، خاص طورپر اس لئے بھی کہ بلوچستان کی آبادی گنجان نہیں ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے گائوں فاصلے فاصلے پر واقع ہیں اور اسکولوں کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات بچوں کو حصول تعلیم کیلئے ایک گائوں سے دوسرے گائوں یاقریبی شہروں میں جانا پڑتاہے ۔ظاہر ہے کہ چھوٹے بچے روزانہ اتنا فاصلہ طے نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کے والدین اپنے بچوں کواسکول میں داخل کرانے ہی سے گریز کرتے ہیں اور وہ گلی محلوں میں آوارہ گردی کرتے کرتے جب جوان ہوجاتے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتاہے تو ان کے دلوں میں حکومت اورملک کے خلاف باغیانہ خیالات پیداہونا لازمی امر ہے اور ان کے ان باغیانہ خیالات کی آبیاری کرکے ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے تخریب کاری کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم اور کسی ہنر سے آراستہ کرنے کے وسائل مہیا کرنے سے گریز کرکے خود ہمارے حکمراں ملک دشمنوں اور غیرملکی ایجنٹوں کواپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے نوجوانوں کی پوری پوری کھیپ مہیاکرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ہمارے سیاستدان و اور ارباب حکومت بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی طرف فوری طورپر توجہ دیں اور تعلیم کے شعبے کو اولیت دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ان کے گھروں کے قریب تر تعلیم کی سہولت مہیا کرنے کے انتظامات کریں۔ارباب حکومت کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جب تک وہ تعلیم کے شعبے کومضبوط نہیں بنائیں گے اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کیلئے انھیں تعلیم اور ہنر سے آراستہ نہیں کریں محض سڑکوں کی تعمیر سے ترقی کے فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے اور جب تک بلوچستان کے نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر سے آراستہ ہوکر اپنی روزی باعزت طریقے سے کمانے کے قابل نہیں بنادئے جاتے ،تخریب کاری اور انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ اربا ب حکومت اس جانب توجہ دیں گے اورپورے ملک اور خاص طورپر ملک کے سب سے زیادہ دولت مند لیکن پسماندہ صوبے بلوچستان میں تعلیم عام کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...