وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان کی ترقی :انتخابی نعرے یاکچھ حقیقت بھی۔۔۔!!

اتوار 09 اپریل 2017 بلوچستان کی ترقی :انتخابی نعرے یاکچھ حقیقت بھی۔۔۔!!

بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی ورنہ سڑکیں اور صنعتیں صوبے کو ترقی نہیں دے سکتیں،ناقدین بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی تخریبی سرگرمیوں کابنیادی سبب ،دوسرے صوبوں کے تعلیم یافتہ وسہولت یافتہ نوجوانوں کو دیکھ کر احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے سابق صدرآصف زرداری نے بلوچستان کے حالیہ دورے میں میں صنعتوں کے قیام،بے روزگاری کے خاتمے اور وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے قائم کرنے کے دعوے کیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے روح رواں اور شریک چیئرمین آصف زرداری نے گزشتہ روز بلوچستان کادورہ کیا اور وہاں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسب عادت بڑے بلند بانگ دعوے کئے ،انھوں نے اس پسماندہ صوبے کے زبوں حال لوگوں کی غربت دور کرنے کیلئے اس صوبے میں پانی کی کمی دور کرنے کے کئی ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جو شاید وہ اپنی زندگی میں مکمل نہیں کرسکتے۔ مثال کے طورپر انھوںنے بلوچستان کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے یا خیال کاذکر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وسط ایشیا سے پانی لانے کیلئے نہروں کی کھدائی اور تیاری کیلئے سرمایہ کہاں سے آئے گا ؟یہ کام کتنے سال یاعشروں میں مکمل ہوسکے گا؟ اس دوران بلوچستان میں آبپاشی اور خاص طورپر پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کیا انتظام کیاجائے گا؟ اس طرح آصف زرداری کے ان وعدوں کو ایسے انتخابی وعدوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔
آصف زرداری نے بلوچستان کے لوگوں کوانٹر نیٹ پر بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کامشورہ دے کر ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک اچھا کام کیاہے جسے سراہا جانا چاہئے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آصف زرداری کے اس مشورے پر ایک فیصد لوگوں نے بھی عمل کرلیا اوربھارت میں مسلمانوں کی حالت زار اور مودی دور حکومت میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک کا مشاہدہ کرلیا تو یہ ایک فیصد نوجوان اس صوبے کے بے راہ رو اور گمراہ نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کا اہم ذریعے بن سکتے ہیں۔جس سے بلوچستان میں نہ صرف تخریب کاری میں مصروف نوجوان راہ راست اختیار کرسکتے ہیں بلکہ ہمارے دشمن بھارت کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کیلئے بلوچ نوجوانوں کی خدمات کاحصول مشکل ہوجائے گا۔
آصف زرداری نے اپنے دورہ بلوچستان کے دوران بہت سی باتیں کیں ،بلوچستان میں صنعتیں قائم کرنے اور ان میں بلوچ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے بھی وعدے کئے لیکن انھوں نے بلوچ نوجوانوں کی غربت اور بیروزگاری یا موزوں روزگار نہ ملنے کے بنیادی مسئلے یعنی بلوچ عوام کی ناخواندگی اوران کے بے ہنرہونے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی،جبکہ بلوچ نوجوانوں کی بیروزگاری اور بد حالی کی بنیادی وجہ تعلیم سے ان کی محرومی اور ان کابے ہنر ہونا ہے، اور جب تک بلوچستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں عام نہیں کیاجائے گا اور بلوچ نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے کے مراکز قائم کرکے بلوچ نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کی ترغیب نہیں دی جائے گی، صرف صنعتوں کے قیام سے ان کی غربت اوربیروزگاری کاخاتمہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ناخواندہ اور بے ہنر نوجوانوں کو کمتر درجے کی ملازمتیں ہی مل سکیں گی اور کمتر درجے کی ملازمتیں کرنے والے یہ نوجوان جب دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کواعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے اور بھاری تنخواہیں وصول کرتے دیکھیں گے تو وہ اپنی تعلیمی کم مائیگی کو نظر انداز کرکے احسا س محرومی کا شکار ہوں گے اور ان کی اسی احساس محرومی کو دشمن اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا ،جیسا کہ اب بھی ہورہا ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ اگر بلوچ عوام کی حالت کوبہتر بنانا ہے اور بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں تبدیلی لانے کیلئے جن اقدامات کا ذکر کیاتھا ان میں بلوچستان میں اسکولوں کی بحالی اور تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کاوعدہ سرفہرست تھا ۔حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ان ترجیحات اور وعدوں کی بنیاد پر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ اب بلوچستان کے عوام کو حصول تعلیم کے آسان ذرائع میسر آجائیں گے اور ان کے بچے آوارہ گردی کرنے کے بجائے اسکولوں کی رونق بنیں گے ،لیکن موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے 4سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی بلوچ عوام کو تعلیم کی سہولتیں بہم پہنچانے کی جانب ایک انچ بھی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی زبوں حالی یا اس شعبے سے حکومت کی عدم توجہی کاعالم یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کا ہر آٹھواں بچہ اب بھی اسکولوں میں داخلے سے محروم ہے اور خواندگی کی شرح اب بھی 39 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے ، اس حوالے سے یہ خیال رہے کہ خواندگی کی اس شرح میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن میں اکثریت کے پاس سیکنڈری اسکول کی بھی کوئی ڈگری نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی خواندہ تصور کرلیاگیاہے جو اپنا نام لکھنا اور دوسروں کے نام پتے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر ان لوگوں کو اس فہرست سے نکال دیاجائے اور صرف سیکنڈری اسکول سے فارغ ہونے والوں کو خواندہ تصور کرلیاجائے تو غالبا ً یہ شرح نصف بھی نہ رہے۔
حکومت کی جانب سے 2014-15 کے حوالے سے جو تعلیمی اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں 5سے 16 سال عمر تک کے کم وبیش2کروڑ 40لاکھ بچے اسکولوں کی تعلیم سے محروم ہیں۔جبکہ اس میںبلوچستان میں اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی شرح70 فیصدہے۔سندھ کی 56 فیصد اور پنجاب کی 44 فیصد ہے ،تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے اعتبار سے خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے آگے ہے اور وہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح پڑھالکھا پاکستان کی مہم کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والے صوبے پنجاب سے بھی کم یعنی 36 فیصد ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی سہولتوں سے محروم بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے ابھی تک اس صوبے کی اس اہم ضرورت پر کوئی توجہ نہیں دی ہے اور تعلیمی شعبے کوترقی دینے اور لوگوں کواپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ترغیب دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ، یہی نہیں بلکہ بلوچستان کی حکومت اس صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں طلبہ وطالبات کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے بلوچستان جانے والے اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو تحفظ دینے میں بھی ناکام رہی ہے جس کا اندازہ آئے روز بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والوں کے قتل کے واقعات سے لگایاجاسکتاہے ۔
بلوچستان کے عوام میں موجود احساس محرومی دور کرنے کی کوشش کرنے کے دعویدار بلوچستان کے حکمرانوں کی تعلیم کے شعبے سے یہ بے اعتنائی ظاہر کرتی ہے کہ ان حکمرانوں کو ترقی اور خوشحالی میں تعلیم کے اہم بلکہ بنیادی کردار کا احسا س نہیں ہے،جس صوبے کے 5سے16 سال عمر کے 18 لاکھ بچوں نے اسکول کا منہ ہی نہ دیکھا ہو انھیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسکول کیاہوتاہے اور یہاں بچے کیوں آتے ہیں،اور جس صوبے کے60 فیصد سے زیادہ افراد اپنا نام لکھنا اور پڑھنا بھی نہ جانتے ہوں اس صوبے کو ترقی دینے کے دعوے کس طرح پورے ہوسکتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے لیکن اس ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کے صوبے میں صرف 13 ہزار اسکول موجود ہیں جن میںڈھائی ہزار لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مخصوص ہیں اوربقیہ لڑکوں کیلئے ہیں ،اس طرح یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کیلئے صرف 13ہزار سرکاری اسکول پوری آبادی کی تعلیمی ضروریات کس طرح پوری کرسکتے ہیں ، خاص طورپر اس لئے بھی کہ بلوچستان کی آبادی گنجان نہیں ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے گائوں فاصلے فاصلے پر واقع ہیں اور اسکولوں کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات بچوں کو حصول تعلیم کیلئے ایک گائوں سے دوسرے گائوں یاقریبی شہروں میں جانا پڑتاہے ۔ظاہر ہے کہ چھوٹے بچے روزانہ اتنا فاصلہ طے نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کے والدین اپنے بچوں کواسکول میں داخل کرانے ہی سے گریز کرتے ہیں اور وہ گلی محلوں میں آوارہ گردی کرتے کرتے جب جوان ہوجاتے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتاہے تو ان کے دلوں میں حکومت اورملک کے خلاف باغیانہ خیالات پیداہونا لازمی امر ہے اور ان کے ان باغیانہ خیالات کی آبیاری کرکے ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے تخریب کاری کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم اور کسی ہنر سے آراستہ کرنے کے وسائل مہیا کرنے سے گریز کرکے خود ہمارے حکمراں ملک دشمنوں اور غیرملکی ایجنٹوں کواپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے نوجوانوں کی پوری پوری کھیپ مہیاکرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ہمارے سیاستدان و اور ارباب حکومت بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی طرف فوری طورپر توجہ دیں اور تعلیم کے شعبے کو اولیت دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ان کے گھروں کے قریب تر تعلیم کی سہولت مہیا کرنے کے انتظامات کریں۔ارباب حکومت کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جب تک وہ تعلیم کے شعبے کومضبوط نہیں بنائیں گے اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کیلئے انھیں تعلیم اور ہنر سے آراستہ نہیں کریں محض سڑکوں کی تعمیر سے ترقی کے فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے اور جب تک بلوچستان کے نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر سے آراستہ ہوکر اپنی روزی باعزت طریقے سے کمانے کے قابل نہیں بنادئے جاتے ،تخریب کاری اور انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ اربا ب حکومت اس جانب توجہ دیں گے اورپورے ملک اور خاص طورپر ملک کے سب سے زیادہ دولت مند لیکن پسماندہ صوبے بلوچستان میں تعلیم عام کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر