وجود

... loading ...

وجود

مجوزہ بجٹ:بینکنگ سیکٹرنے مراعات مانگ لیں

هفته 08 اپریل 2017 مجوزہ بجٹ:بینکنگ سیکٹرنے مراعات مانگ لیں

nاگلے مالی سال کیلئے بینکنگ سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح 5فیصدکم کرنے کا مطالبہ، نقدرقم کے علاوہ دیگر بینکنگ لین دین پر ایڈوانس ٹیکس کے موجودہ طریقہ کار کی بھی مخالفتn بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو آئی ٹی او2001 کی دفعہ III(4) کے خاتمے اورپاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 ) میں ترمیم کی سفارشات کردیں

وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں اطلاعات کے مطابق اب آخری مراحل میں ہیں اور اس ماہ کے آخر تک نئی ٹیکس تجاویز کو حتمی شکل دے کر وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے پیش کردیاجائے گا جس کے بعد کابینہ کی کمیٹی حکومت کے پاس موجود ماہرین اقتصادیات کے ساتھ مل کر ان تجاویز پر غور کے بعد ان میں ترامیم و تبدیلیوں کی تجاویز دے گی جس کے بعد اسے حتمی شکل دے کر اگلے ماہ کے آخر تک عوام کے سامنے پیش کردیاجائے گا۔بجٹ کی تیاری کے اس مرحلے میں ملک کے بڑے ٹیکس دہندگان اپنے اپنے طورپر کچھ سہولتیں حاصل کرنے اورٹیکسوں کی بھاری شرح کی وجہ سے اپنے اپنے شعبوں کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کی ترقی میں پیش آنے والی دشواریوں میں کمی کرنے کیلئے وزارت خزانہ کو اپنی اپنی تجاویز پیش کررہے ہیں۔ دوسرے شعبوں کی طرح ملک کے بینکاری کے شعبے نے بھی وزارت خزانہ کو اپنی تجاویز ارسال کی ہیں جن میں وزارت خزانہ سے درخواست کی گئی ہے کہ بینکنگ سیکٹر پر ٹیکس کی شرح بھی کارپوریٹ اداروں کی طرز پر مقرر کی جائے اوراگلے مالی سال کیلئے بینکنگ سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح 30 فیصد کردی جائے ۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجی جانے والی اپنی تجاویز میں لکھا ہے کہ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کے کاروبار پر ٹیکسوں کی شرح جو کہ 2014 میں34 سے35 فیصد تک تھی کم کرکے 30 فیصد کردی تھی لیکن بینکنگ سیکٹر کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا،اور بینکوں کو 35 فیصد کی یکساں شرح سے ٹیکسوں کی ادائیگی پر مجبور ہونا پڑ رہاہے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو جو سفارشات روانہ کی ہیں ان میں کہاگیاہے کہ آئی ٹی او2001 کی دفعہ III(4) کو ختم کردیاجائے اور پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 ) میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ اس دفعہ میں درج یہ الفاظ کہ بینکنگ چینل کے ذریعے رقم بیرون ملک سے پاکستان بھیجنے والے تمام افراد اس رقم پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے کو ختم کردیاجائے ۔
بینک ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )کی اس دفعہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض تاجر اور کاروباری افراد غیر اعلان شدہ یعنی ظاہر نہ کی جانے والی رقم غیر قانونی ذریعے سے باہر بھیج کر اسے بینکنگ چینل کے ذریعے ملک میں لاسکتے ہیں اس طرح انھیں اس رقم پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا اورصرف3-4 فیصد کی معمولی شرح پر ٹیکس ادا کرکے ان کاکالادھن سفید ہوجاتاہے ۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی تجویز میں دعویٰ کیاہے کہ اس تجویز پر عمل کی صورت میں پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )کو غلط استعمال کرتے ہوئے کالے دھن کو سفید کرنے کاسلسلہ روکاجاسکتاہے اوراس طرح قومی خزانے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکتاہے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجی جانے والی سفارشات میں نقدرقوم کے علاوہ دیگر بینکنگ لین دین پر ایڈوانس ٹیکس کے موجودہ طریقہ کار کی بھی مخالفت کی گئی ہے ، اس حوالے سے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کاموقف یہ ہے کہ دفعہ 236P کے تحت کم وسیلہ اور غریب گروپ جن میں طلبہ ، بیوائیں،پنشنرز اور دیگر معمر افرادکو ان کی جمع شدہ رقم پر بہت کم منافع ملتاہے اوروہ قابل ٹیکس آمدنی کے زمرے میں نہیں آتے لیکن ان کی جمع شدہ رقم نکالنے پر ان سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیاجاتاہے اور وہ اس کٹوتی شدہ رقم کی واپسی کاکلیم بھی نہیں کرسکتے جو کہ انتہائی نامناسب ہے لہٰذا یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ اس سے ملک میں بچتوں پر منفی اثر پڑتاہے اور قومی خزانے میں رقم جمع ہونے کے بجائے اس میں کمی ہوجاتی ہے، پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی تجویز میں کہاگیاہے کہ دفعہ 236P کو یاتوختم کردیاجائے یا پھر اس میں کم وسیلہ اور غریب گروپ کو استثنیٰ دیاجائے اوررقم کی لین دین /منتقلی کی حد بڑھا کر ایک لاکھ کردی جائے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کے حکام کے ساتھ اپنی پہلے ہونے والی بات چیت یامذاکرات کاحوالہ دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی دفعہ 165 اور165A جو کہ عمومی قوانین کا حصہ ہیں کو معیشت کے تحفظ کے خصوصی قوانین جن میں پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )،اسٹیٹ بینک پاکستان ایکٹ، بینکنگ کمپنیز آرڈی ننس اور اسٹیٹ بینک کے ریگولیشنز شامل ہیںکے تحت ختم نہیں کیاجاسکتا۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی سفارشات میں یہ موقف اختیار کیاہے کہ بینکنگ اور اس حوالے سے دوسرے قوانین کابنیادی مقصد ملک کے بینکاری نظام پر لوگوں کا اعتماد برقرار رکھناہے اس لئے بینک کے کھاتیداروں کے ناموں اور ان کی تفصیلات کو بار بار افشا کئے جانے کا طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔پی بی اے کی سفارشات میں بینکوں کی جانب سے دفعہ 165B جو کہ 2016-17 کے فنانس بل کے ذریعہ متعارف کرائی گئی تھی اور بینکاری کے معاملات اورلین دین کوخفیہ رکھنے کے حوالے سے پیرا کے دیگر قوانین میں بھی مناسب ترمیم کرنے کابھی مطالبہ کیاگیاہے۔
اسلامی بینکاری کے حوالے سے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی سفارشات میںساتویں شیڈول میںایک نیا ذیلی اصول یا قانون رول(3 ) کا اضافہ کرنے کا مطالبہ کیاہے جس میں خاص طور پر مشارکہ، مضاربہ، مرابحا،(بشمول کموڈٹی مرابحا) مساوما، اجارہ، استثنیٰ اورسلام کے علاوہ شریعت پر مبنی لین دین کے دیگر تمام اصول شامل ہوں۔
سفارشات میں یہ بھی کہاگیاہے کہ مائیکرو فنانس بینکوں میں ڈپازٹ کی ترغیب دینے کیلئے بلامنافع کا م کرنے والے اداروں کو دی جانے والی چھوٹ کا اطلاق مائیکرو فنانس بینک کے منافع اور شیڈولڈ بینکوں سے لئے جانے والے قرضوں پر بھی کیاجاناچاہئے۔اس کے علاوہ تمام پراویڈنٹ فنڈز /گریجویٹی وغیرہ کی رقم بھی شیڈولڈ بینکوں کی طرح مائیکروفنانس بینکوں میںجمع کرانے کی اجازت دی جانی چاہئے اورمائیکروفنانس بینکوں کو بھی شیڈولڈ بینکوں کی طرح اسٹیٹ بینک کی جانب سے ریگولیٹ کیاجانا چاہئے تاکہ ان پر عوام کا اعتماد مستحکم ہوسکے۔

جمال احمد


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر