... loading ...

nاگلے مالی سال کیلئے بینکنگ سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح 5فیصدکم کرنے کا مطالبہ، نقدرقم کے علاوہ دیگر بینکنگ لین دین پر ایڈوانس ٹیکس کے موجودہ طریقہ کار کی بھی مخالفتn بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو آئی ٹی او2001 کی دفعہ III(4) کے خاتمے اورپاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 ) میں ترمیم کی سفارشات کردیں
وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں اطلاعات کے مطابق اب آخری مراحل میں ہیں اور اس ماہ کے آخر تک نئی ٹیکس تجاویز کو حتمی شکل دے کر وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے پیش کردیاجائے گا جس کے بعد کابینہ کی کمیٹی حکومت کے پاس موجود ماہرین اقتصادیات کے ساتھ مل کر ان تجاویز پر غور کے بعد ان میں ترامیم و تبدیلیوں کی تجاویز دے گی جس کے بعد اسے حتمی شکل دے کر اگلے ماہ کے آخر تک عوام کے سامنے پیش کردیاجائے گا۔بجٹ کی تیاری کے اس مرحلے میں ملک کے بڑے ٹیکس دہندگان اپنے اپنے طورپر کچھ سہولتیں حاصل کرنے اورٹیکسوں کی بھاری شرح کی وجہ سے اپنے اپنے شعبوں کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کی ترقی میں پیش آنے والی دشواریوں میں کمی کرنے کیلئے وزارت خزانہ کو اپنی اپنی تجاویز پیش کررہے ہیں۔ دوسرے شعبوں کی طرح ملک کے بینکاری کے شعبے نے بھی وزارت خزانہ کو اپنی تجاویز ارسال کی ہیں جن میں وزارت خزانہ سے درخواست کی گئی ہے کہ بینکنگ سیکٹر پر ٹیکس کی شرح بھی کارپوریٹ اداروں کی طرز پر مقرر کی جائے اوراگلے مالی سال کیلئے بینکنگ سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح 30 فیصد کردی جائے ۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجی جانے والی اپنی تجاویز میں لکھا ہے کہ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کے کاروبار پر ٹیکسوں کی شرح جو کہ 2014 میں34 سے35 فیصد تک تھی کم کرکے 30 فیصد کردی تھی لیکن بینکنگ سیکٹر کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا،اور بینکوں کو 35 فیصد کی یکساں شرح سے ٹیکسوں کی ادائیگی پر مجبور ہونا پڑ رہاہے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو جو سفارشات روانہ کی ہیں ان میں کہاگیاہے کہ آئی ٹی او2001 کی دفعہ III(4) کو ختم کردیاجائے اور پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 ) میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ اس دفعہ میں درج یہ الفاظ کہ بینکنگ چینل کے ذریعے رقم بیرون ملک سے پاکستان بھیجنے والے تمام افراد اس رقم پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے کو ختم کردیاجائے ۔
بینک ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )کی اس دفعہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض تاجر اور کاروباری افراد غیر اعلان شدہ یعنی ظاہر نہ کی جانے والی رقم غیر قانونی ذریعے سے باہر بھیج کر اسے بینکنگ چینل کے ذریعے ملک میں لاسکتے ہیں اس طرح انھیں اس رقم پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا اورصرف3-4 فیصد کی معمولی شرح پر ٹیکس ادا کرکے ان کاکالادھن سفید ہوجاتاہے ۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی تجویز میں دعویٰ کیاہے کہ اس تجویز پر عمل کی صورت میں پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )کو غلط استعمال کرتے ہوئے کالے دھن کو سفید کرنے کاسلسلہ روکاجاسکتاہے اوراس طرح قومی خزانے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکتاہے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجی جانے والی سفارشات میں نقدرقوم کے علاوہ دیگر بینکنگ لین دین پر ایڈوانس ٹیکس کے موجودہ طریقہ کار کی بھی مخالفت کی گئی ہے ، اس حوالے سے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کاموقف یہ ہے کہ دفعہ 236P کے تحت کم وسیلہ اور غریب گروپ جن میں طلبہ ، بیوائیں،پنشنرز اور دیگر معمر افرادکو ان کی جمع شدہ رقم پر بہت کم منافع ملتاہے اوروہ قابل ٹیکس آمدنی کے زمرے میں نہیں آتے لیکن ان کی جمع شدہ رقم نکالنے پر ان سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیاجاتاہے اور وہ اس کٹوتی شدہ رقم کی واپسی کاکلیم بھی نہیں کرسکتے جو کہ انتہائی نامناسب ہے لہٰذا یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ اس سے ملک میں بچتوں پر منفی اثر پڑتاہے اور قومی خزانے میں رقم جمع ہونے کے بجائے اس میں کمی ہوجاتی ہے، پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی تجویز میں کہاگیاہے کہ دفعہ 236P کو یاتوختم کردیاجائے یا پھر اس میں کم وسیلہ اور غریب گروپ کو استثنیٰ دیاجائے اوررقم کی لین دین /منتقلی کی حد بڑھا کر ایک لاکھ کردی جائے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کے حکام کے ساتھ اپنی پہلے ہونے والی بات چیت یامذاکرات کاحوالہ دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی دفعہ 165 اور165A جو کہ عمومی قوانین کا حصہ ہیں کو معیشت کے تحفظ کے خصوصی قوانین جن میں پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )،اسٹیٹ بینک پاکستان ایکٹ، بینکنگ کمپنیز آرڈی ننس اور اسٹیٹ بینک کے ریگولیشنز شامل ہیںکے تحت ختم نہیں کیاجاسکتا۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی سفارشات میں یہ موقف اختیار کیاہے کہ بینکنگ اور اس حوالے سے دوسرے قوانین کابنیادی مقصد ملک کے بینکاری نظام پر لوگوں کا اعتماد برقرار رکھناہے اس لئے بینک کے کھاتیداروں کے ناموں اور ان کی تفصیلات کو بار بار افشا کئے جانے کا طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔پی بی اے کی سفارشات میں بینکوں کی جانب سے دفعہ 165B جو کہ 2016-17 کے فنانس بل کے ذریعہ متعارف کرائی گئی تھی اور بینکاری کے معاملات اورلین دین کوخفیہ رکھنے کے حوالے سے پیرا کے دیگر قوانین میں بھی مناسب ترمیم کرنے کابھی مطالبہ کیاگیاہے۔
اسلامی بینکاری کے حوالے سے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی سفارشات میںساتویں شیڈول میںایک نیا ذیلی اصول یا قانون رول(3 ) کا اضافہ کرنے کا مطالبہ کیاہے جس میں خاص طور پر مشارکہ، مضاربہ، مرابحا،(بشمول کموڈٹی مرابحا) مساوما، اجارہ، استثنیٰ اورسلام کے علاوہ شریعت پر مبنی لین دین کے دیگر تمام اصول شامل ہوں۔
سفارشات میں یہ بھی کہاگیاہے کہ مائیکرو فنانس بینکوں میں ڈپازٹ کی ترغیب دینے کیلئے بلامنافع کا م کرنے والے اداروں کو دی جانے والی چھوٹ کا اطلاق مائیکرو فنانس بینک کے منافع اور شیڈولڈ بینکوں سے لئے جانے والے قرضوں پر بھی کیاجاناچاہئے۔اس کے علاوہ تمام پراویڈنٹ فنڈز /گریجویٹی وغیرہ کی رقم بھی شیڈولڈ بینکوں کی طرح مائیکروفنانس بینکوں میںجمع کرانے کی اجازت دی جانی چاہئے اورمائیکروفنانس بینکوں کو بھی شیڈولڈ بینکوں کی طرح اسٹیٹ بینک کی جانب سے ریگولیٹ کیاجانا چاہئے تاکہ ان پر عوام کا اعتماد مستحکم ہوسکے۔
جمال احمد
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...