وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ریڈ لائن بس چلانے کا منصوبہ اعلانات تک محدود صوبائی حکومت کے بیشتر منصوبے رک گئے

جمعه 07 اپریل 2017 ریڈ لائن بس چلانے کا منصوبہ اعلانات تک محدود صوبائی حکومت کے بیشتر منصوبے رک گئے


کسی بھی شہر یا ملک کی ترقی کی پہلی سیڑھی سڑکیں ہوتی ہیں کیونکہ روڈ راستے ہوں گے توکاروبارہوگااور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ہوگی۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف میں ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے اور پنجاب کے چھوٹے بڑے شہر سڑکوں کے معاملے میں یورپی ممالک کی طرح نظر آتے ہیں، موٹروے کی بنیاد بھی نواز شریف نے ہی رکھی تھی۔گوادر سے پشاور اور وسطی ایشیا، کے علاوہ چین تک یہی موٹر وے ہی بن رہا ہے جس سے ملک کی ترقی کا آغاز ہو گا ۔پرویز مشرف کے دور میں جب نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال سٹی ناظم بنے تب کراچی میں انڈر پاس، اوور ہیڈ پل بنے ،اچھی سڑکیں تعمیر کی گئیں لیکن اس کے بعد ترقی کا یہ سفر رک گیا۔
اب مراد علی شاہ نے شاہراہ فیصل کی کھدائی کرکے نصف سڑک مکمل کرانے کے بعد کام بند کرا دیا ہے، یونیورسٹی روڈ کی کھدائی تو کی گئی ہے لیکن ا س کا کام مکمل بھی نہیں ہوا اور ٹھیکیدار غائب ہوگئے ۔ یہی حشر طارق روڈ کا ہوا ہے ۔ بس ہر طرف سڑکیں کھنڈرات کا منظرپیش کر رہی ہیں۔ بڑے بڑے دعویٰ کیے گئے ،اہم اعلان ہوئے مگر کراچی میں لیاری بائی پاس کا منصوبہ تا حال نامکمل ہے ۔ سرکلر ریلوے کا منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لیے ایک خواب بن کر رہ گیا ہے، گرین لائن بس چلیں مگر پھر خراب ہوئیں تو ان کو بند کرکے کھڑا کر دیا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ کراچی میں ٹاور سے صفورا چورنگی تک ریڈ لائن بس چلانے کا منصوبہ بنایا گیا مگر وہ بھی سرکاری کاغذات تک محدود رہا ،ریڈ لائن منصوبہ کچھ اس طرح ڈیزائن کیا جانا تھا کہ کراچی کے اہم علاقے ٹاور سے صفورا تک ایک ایسی سڑک بننی تھی جو زمین سے 20 فٹ اوپر ہوگی جس طرح سڑک اسلام آباد۔ راولپنڈی میں بنی ہے پورے راستے میں ستون (پلر) بنا کر اس پر سڑک بنائی جانی تھی ،صفورا سے نیپا، حسن اسکوائر، شاہراہ قائدین سے ٹاور تک 43 اسٹیشن بنائے جانے تھے ،400 سے زائد بس چلائی جانی تھیں اور روزانہ 4 لاکھ افراد سفر کرتے۔ اس مقصد کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضہ بھی لینا تھا تاکہ جس طرح راولپنڈی سے اسلام آباد کا سفر20 منٹ میں مکمل ہوتا ہے، اسی طرح کراچی کی دو انتہائوں پر واقع مقامات صفورا سے ٹاور تک کا سفر بھی30 منٹ کے اندر پورا ہوسکے ۔اس سے سرکاری اداروں اور اعلیٰ عدالتوں میں کام کرنے والے ملازمین دفاتر تک وقت پر پہنچیں اور واپس بھی سکون سے جاسکیں ۔ریڈ لائن منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک نے ڈیزائن رپورٹ طلب کرلی، اس منصوبہ پر 70 کروڑ روپے کی لاگت آنی تھی لیکن حکومت سندھ نے بروقت نہ تو 70 کروڑ روپے جاری کیے اور نہ ہی منصوبے کی ڈیزائن تیارہو سکا جس کے باعث ایشیائی ترقیاتی بینک بھی پیچھے ہٹ گیا اور سب سے بے وقوفی والا عمل یہ کیا گیا کہ یونیورسٹی روڈ کی کھدائی کرکے اس روڈ کی دوبارہ تعمیر کرائی جا رہی ہے ،جب ریڈ لائن منصوبے کے لیے پلر (ستون) بنائے جائیں گے تو اس وقت پھر اس نئی تعمیر شدہ سڑک کی کھدائی کرنا پڑے گی، پھر شہری نئے عذاب کا سامنا کریں گے ۔اگر حکومت سندھ ریڈ لائن منصوبے پر سنجیدہ ہے تو اس کا فرض ہے کہ جیسے ہی یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا آغاز کرے تو ریڈ لائن روٹ کے لیے بھی پلر نصب کرنا شروع کرے تاکہ بیک وقت دونوں منصوبوں پر کام مکمل ہوتا جائے اور شہریوں کو دہرے عذاب کا شکار نہ ہونا پڑے اور سڑکوں کی بار بار کھدائی نہ کی جائے، اس سے سڑکیں بھی مضبوط اور پائیدار بنیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کے لیے ابھی تک کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کا آغاز بھی نہیں کیا گیا،صرف اعلانات کرکے شہریوں کو نفسیاتی طورپر خوش کیا گیا۔ اس طرح کے منصوبے ٹاور سے براستہ قائد آباد گلشن حدید تک ، کلفٹن سے سرجانی ٹائون تک اورٹاور سے کورنگی تک بن جائیں، لیاری ایکسپریس وے منصوبہ مکمل کرلیا جائے تو کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے گا لیکن حکمرانوں کو کون سمجھائے۔ ریڈ لائن منصوبے کے بارے میں صوبائی وزیرٹرانسپورٹ سید ناصر حسین شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ ریڈ لائن منصوبہ حکومت سندھ نے تیار کیا ہے اور اس منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضہ بھی مانگا ہے اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے قرضے کی حامی بھی بھری ہے لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ وہ یہ منصوبہ آئندہ سال شروع کریں گے۔ وزیرموصوف نے یہ بات کرکے شہریوں کو ایک سال کے لیے انتظار کرنے کی نوید سنا دی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت سندھ اس منصوبے کا اعلان کرکے اس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اگر ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک سال بعد قرض دینے کے لیے کہا ہے تو کم از کم یہ تو کیا جاتا کہ ڈیزائننگ کے لیے 70 کروڑ روپے جاری کیے جاتے اور اس کا آغاز بھی کیا جاتا تو پھر شہری یہ سمجھتے کہ حکومت سندھ یہ منصوبہ مقررہ وقت پر شروع کرکے مقررہ وقت تک مکمل کرنا چاہتی ہے ۔لیکن حکومت سندھ نے تو جو منصوبے شروع کیے ہیں ان کو بھی نامکمل چھوڑ دیا ہے تو وہ ریڈلائن منصوبہ کیسے شروع کرتی۔
الیاس احمد


متعلقہ خبریں


انڈیا اور چین کا سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے پر اتفاق وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

چین اور انڈیا نے ہمالیہ کی سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے اور صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے پر اتفاق کیا ہے ۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران کی ملاقات ہوئی تھی جس دوران انہوں نے سرحد سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 15 جون کو لداخ میں سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ کے دوران 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے ۔نئی دہلی میں چین اورانڈیا کی ج...

انڈیا اور چین کا سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے پر اتفاق

ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے پر خارجہ پالیسی مختلف نہیں ہوگی'ماہرین وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

چار برس قبل اْس وقت کے امریکی صدارتی الیکشن کے نامزد ہونے والے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر منتخب ہو گئے تو ایران حکومت کے جوہری معاہدے کو ترک کر دیں گے اور ایک بہتر ڈیل کو عمل میں لائیں گے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف جو بائیڈن کے برعکس ایران کو مسلسل آنکھیں دکھاتے رہتے ہیں۔ ابھی جب کہ امریکی صدارتی انتخابات بہت نزدیک ہیں مبصرین اس امکان کو رد نہیں کر رہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو وہ تہران حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ یا دو طرفہ ...

ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے پر خارجہ پالیسی مختلف نہیں ہوگی'ماہرین

دنیا بھر سے ڈارک ویب کے 179 کارندے گرفتار وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

دنیا بھر میں ڈارک ویب سے منسلک ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کے دوران 179 کارندے گرفتار، 65 لاکھ ڈالر نقد، 500 کلوگرام منشیات اور 64 خطرناک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوروپول سائبر کرائم سینٹر اور برطانوی محکمہ انصاف کی یورپ میں ڈارک ویب کے کارندوں کے خلاف مشترکہ کارروائی امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر 5 ممالک میں کی گئیں۔کارروائی کے دوران سب سے زیادہ یعنی 119 کارندے امریکا سے پکڑے گئے ، جرمنی سے 42، پالینڈ میں 8، برطانیہ سے 4، 3 آسٹریا، کینیڈا سے ...

دنیا بھر سے ڈارک ویب کے 179 کارندے گرفتار

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بحرین میں ایک دوا کی خریداری کے لیے 400 سے زائد جعلی نسخے دینے پر تین افراد کو 5 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے جن میں سے دو ایشیائی شہری ہیں جنہیں سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی نیشنل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی نے میڈیکل اسٹورز کی معمول کی چیکنگ کے دوران محسوس کیا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی دوا حیران کن طور پر وافر مقدار میں موجود ہے ۔تحقیقات سے پتا چلا کہ اعصابی درد میں استعمال ہونے والی اس دوا کے نسخے چند ڈاکٹرز کی جانب سے مسلسل...

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

مسجد اقصی کے باہر گذشتہ روز ہزاروں افراد نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے ممالک کے خلاف شدید نعرے بازے کی اور انہیں خائن اور غدارقرار دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصی کے باہر مظاہرے کا اہتمام اسلامک ایکشن محاذ کی طرف سے کیا گیا ۔نماز ظہر کے بعد ہزاروں افراد نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا کر متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل کے سات...

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

خلیجی ریاست بحرین میں حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان اور صہیونی ریاست کیساتھ معاہدے کرنے کے خلاف عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے شرو ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق منامہ میں حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ منامہ میں ایک مظاہرہ کیاگیا جس میں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی شدید مذمت کی۔ادھر سماجی کارکنوں نے منامہ میں اسرائیل ۔ عرب دوستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی تفص...

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والا مجوزہ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں خوشی ہوگی کہ وہ چینی ایپلی کیشنز اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے مطابق تینوں ادارے مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گ...

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بھارت میں ہفتے کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک بیان میں کہاگیاکہ القاعدہ بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔ بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق ان گرفتاریوں کے لیے مختلف ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مارے گئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ گروہ بھارت میں متعدد اہم مقامات پر دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا، جب کہ ان حملوں کا ممکنہ مقصد عام افراد کو ہلاک...

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک میں بادشاہ کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے ''تھائی لینڈ عوام کا ہے '' کے نعرے کے ساتھ دارالحکومت میں مارچ کیا اور ملک میں بادشاہت کے وجود پر سوال اٹھا ئے ۔ گزشتہ دو ماہ سے بنکاک میں قریب روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری ہے ، جس میں نوجوان طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ 2014 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پرایوت چن اوچا مستعفی ہوں۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہی خاندان ملکی سیا...

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریبا نصف امریکی ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں پیو ریسرچ سینٹرکے رواں ماہ کیے گئے جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کی صورت میں 49 فی صد امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔ جب کہ 51 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین ضرور لیں گے ۔ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں ویکسین کے منفی اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔ویکسین سے متعلق تحفظات کی وجہ یہ ہے ک...

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا