وجود

... loading ...

وجود

صنعتی آلودگی ،گرمی میں شدت پانی کے عالمی ذخائر خاتمے کی جانب گامزن

اتوار 02 اپریل 2017 صنعتی آلودگی ،گرمی میں شدت پانی کے عالمی ذخائر خاتمے کی جانب گامزن


ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے ساتھ ہی دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور اس گرمی کی وجہ سے دنیا بھر میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔ گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں تیزی کی ان اطلاعات نے دنیا بھر کے ماہرین کو پریشان کردیا ہے ، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ماحول کی آلودگی میں اضافے کی وجہ سے پگھلنے والے بیشتر گلیشیئرز کا تعلق مغربی دنیا سے ہے ، اس لیے تیسری دنیا کے لوگوں پر آلودگی میں اضافے کا الزام بھی عاید نہیں کیا جاسکتا ۔ آلودگی میں اضافے کے بارے میں اب تک شائع اور مرتب ہونے والی تقریباً تمام رپورٹوں میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں آلودگی میں اضافے کا سب سے بڑا سبب امریکا ہے ، اور امریکا اپنی توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے جو حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے اورعالمی منڈی میں اپنے مال کی کھپت میں اضافے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کررہا ہے اس سے فضائی آلودگی اور کثافت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے ۔
عالمی یوم آب کے موقع پر مختلف ممالک اور خاص طورپر امریکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں ہونے والے سیمینارز میں ماہرین نے دنیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو گرمی کی شدت میں اضافے کا بنیادی سبب قرار دیااور تقریباً تمام ممالک میں ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر آلودگی میں کمی کرنے کے لیے امریکہ ،چین، روس اور جرمنی جیسے ممالک نے تعاون نہیں کیا تو دنیا میں مستقبل قریب میں پانی کے ذخائر ناپید ہونا شروع ہوجائیں گے اور مختلف ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے پر خوفناک جنگوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے سن 2005ء میں اپنی رپورٹ میں یہ واضح کردیا تھا کہ ان کے ماہرین نے انٹارکٹیکا میں تیزی سے برف پگھلنے کا مشاہدہ کیا ہے ۔ناسا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی سیاروں کے ذریعے مسلسل 3 عشروں تک یعنی گزشتہ 30 سال کے دوران انٹارکٹیکا کا جو مشاہدہ کیا گیا ہے اس سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ انٹارکٹیکا کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ان کے پگھلنے کی رفتار میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
کیلی فورنیا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری جو ماحولیاتی تحقیق کے کاموں میں کولوراڈو یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کرتی ہے ، انٹارکٹیکا کے بارے میں مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی رپورٹوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کررہی ہے ۔جیٹ پرپلژن یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم نے جولائی 1999ء سے جولائی 2005 ء تک انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار اور تیزی سے برف پگھلنے کی وجہ سے علاقے پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تجزیہ اور تحقیق کی ہے ،اس تجزیاتی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائوتھ پول میں 900 کلومیٹر تک کے علاقے میں برف تیزی سے پگھلنے کے شواہد سامنے آئے ہیں ۔جبکہ سائوتھ پول سے 500 کیلومیٹر اوپر کی جانب اور اس کے دہانے پر 2000 میٹر تک کے علاقے میں برف تیزی سے پگھل رہی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر ہوا میں گرمی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور ان علاقوں میں درجۂ حرارت منفی سے بڑھ کر ایک مرحلے میں 4 درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔اور اس کے بعد کم وبیش ایک ہفتے تک اس علاقے میں درجہ حرارت میں اتنی تیزی قائم رہی کہ برف تیزی سے پگھلنا شروع ہوگئی۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کے کوئی آثار نہیں تھے لیکن ماحول میں آلودگی میں تیزی کے ساتھ اضافے کے سبب اب انٹارکٹیکا میں برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے ۔اور اب مصنوعی سیارے سے موصول ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورے انٹارکٹیکا میں برف تیزی سے پگھل رہی ہے ۔
کولوراڈو یونیورسٹی کے کون ریڈ اسٹیفن کا کہنا ہے کہ امریکہ کی توانائی کے حصول کے لیے کوششیں ماحول میں گرمی میں اضافے کاسبب بن رہی ہیں لیکن امریکہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ ماحول میں آلودگی پیدا کرنے والے عمل ترک کرنے پر بھی تیارنہیں ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کا یہ عمل جاری رہتا ہے تو پھر دنیا کو ایک مہیب سیلاب کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔یہی نہیں بلکہ ماہرین کاکہنا ہے کہ اس طرح تیزی سے برف پگھلنے کاعمل اگر بلا تعطل جاری رہا تو دنیا کو پانی کے ہولناک بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ماحولیاتی آلودگی کے سبب دنیا کے بیشتر آبی ذخائر خشک ہورہے یہاں تک کہ سمندر بھی سکڑ تے جارہے ہیں ، جس کی وجہ سے دنیا میں زندگی کا وجود قائم رہنا مشکل ہوتا جارہا ہے ، پانی کے بحران کی صورت میں نہ صرف یہ کہ لوگ پینے کے پانی سے محروم ہوں گے بلکہ زراعت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا جس سے دنیا خوراک کی شدید قلت کا شکار ہوجائے گی اور پوری دنیا ہولناک قحط سے دوچار ہوسکتی ہے ، ماہرین نے اپنی رپورٹ میں پوری دنیا خاص طور پرامریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ایسے تمام پلانٹ بند کردے جو ماحول میں آلودگی کا سبب بن رہے ہیں یا ماحول کی آلودگی میں اضافہ کررہے ہیں کیونکہ تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورے یورپ اور مغربی دنیا میں امریکہ وہ واحد ملک ہے جو ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کے انتظامات کرنے سے گریز کررہا ہے اور ایسے پلانٹ نہ صرف یہ کہ بند نہیں کررہا جو ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ اس نے حال ہی میں ایسے مزید پلانٹ لگائے ہیں جن سے آلودگی میں مزید اضافہ ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوگیاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بڑے زور شور سے عالمی یوم آب منانے والے دنیا کے یہ بڑے ممالک خود اپنے ماہرین کی رائے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور دنیا کو آلودگی کے عفریت سے نجات دلانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
صبا حیات


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

انسانیت کا سوال وجود هفته 14 مارچ 2026
انسانیت کا سوال

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے وجود هفته 14 مارچ 2026
امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر