وجود

... loading ...

وجود

اترکھنڈ کا یوگی ۔۔۔یوپی کی اقلیتوں کے لیے عذاب بن گیا

اتوار 02 اپریل 2017 اترکھنڈ کا یوگی ۔۔۔یوپی کی اقلیتوں کے لیے عذاب بن گیا

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما یوگی ادتیہ ناتھ کو ریاست اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بنانے کے بعد سے ہی بھارت میں نچلی ذات کے ہندوئوں، عیسائیوں اور خاص طورپر مسلمانوں پر خوف کی فضا طاری ہوگئی ہے ۔یوپی کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ آخر یو پی کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔جبکہ یوگی ادتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنانے کافیصلہ ریاستی انتخابات سے بہت پہلے ہی کرلیاگیاتھا اور ان کے نام کا اعلان کرکے دراصل اس فیصلے کی توثیق کی گئی جس کا فیصلہ گزشتہ برس مارچ میں گورکھ ناتھ مندر میں ہونے والے ایک اجلاس میں، جہاں آر ایس ایس کے سرکردہ رہنما بھی موجود تھے، یوگی آدتیہ ناتھ کو یو پی کا وزیر اعلیٰ بنانے کا عہد کرکے کیاگیاتھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی جماعت کے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے متفقہ طور پر یوگی کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔دلی میں پارٹی رہنماؤں کی ایک طویل میٹنگ کے بعد اس کا اعلان پارٹی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کیاتھا۔
یوگی آدتیہ ناتھ شہر گورکھپور سے پانچویں بار رکن پارلیمان بنے ہیں۔ وہ گورکھ پور کے معروف مندر گورکھ ناتھ مٹھ کے مہنت یعنی مندر کے سربراہ ہیں۔لیکن سیاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی شناخت ایک فائر برانڈ ہندو رہنما کی رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے متعلق اپنے متنازع بیانات کے لیے مشہور ہیں جن کی ایک طویل فہرست ہے۔ وہ سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے نظریات سے کافی قریب مانے جاتے ہیں۔یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو یوا واہنی نامی ایک ملیشیا بھی ہے جسے انہوں نے خود قائم کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ملیشیا ‘ثقافتی تنظیم’ ہے جو ہندو مخالف، ملک مخالف اور ماؤنواز مخالف سرگرمیوں’ کو کنٹرول کرتی ہے۔
یوگی کا تعلق پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے گڑھوال کے ایک گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام اجے سنگھ بشٹ ہے لیکن یوگی آدتیہ ناتھ بننے کے پہلے کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو زیادہ کچھ نہیں معلوم ہے۔وہ وتی نندن بہوگنا یونیورسٹی سے سائنس کے گریجویٹ ہیں اور ان کے خاندان کے لوگ ٹرانسپورٹ بزنس میں ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست تشدد سے پر رہی ہے اور خود ان کے خلاف بھی قتل کرنے کی کوشش، فساد برپاکرنے، سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے، دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے، مزار کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کے تحت تین مقدمات درج ہیں۔
یوپی میں یوگی کی حکومت آتے ہی ذبح خانے بندکردیے گئے ،ہر قسم کے گوشت کی فراہمی بہت مشکل ہوگئی ہے جس سے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کئی دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیںجن میں مویشی پالنے والے ،گوشت کے تاجر ،ڈھابے اور ریستوران والے ،گوشت کی ڈشز پکانے والے خانساماں حضرات اور عوام شامل ہیں ۔ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما ہیں جن کی حکومت نے آتے ہی ا ذبح خانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا تھا جن کے پاس قانونی لائسنس نہیں ہیں۔اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ تقریباً سبھی قسم کے گوشت کی فراہمی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ملک کے ذرائع ابلاغ نے یہ خبر شہ سرخیوں میں شائع کی تھی کہ لکھنؤ میں کباب کے لیے معروف ہوٹل ‘ٹنڈے کبابی’ گوشت نہ ملنے کی وجہ سے وقتی طور پر بند ہو گیا۔دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا اور غازی آباد میں بھی حکام نے ایسی تمام دکانوں کو بند کر دیا ہے جن کے پاس لائسنس نہیں ہے۔ان افراد نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چکن، مٹن اور مچھلی کی ان دکانوں کے بند ہونے سے اس شعبے میں کام کرنے والے بہت سے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔
غازی آباد میں گوشت کی منڈی بند ہوچکی ہے جبکہ گوشت کی منڈی بند ہونے کی خبریں یو پی کے مختلف علاقوں سے مسلسل آرہی ہیں۔گوشت کی دکانیں اور منڈیاں بند ہونے سے بھارت میں کبابوں کی مشہور دکانیں بھی بند ہورہی لیکن اس کے ساتھ ہی اب چڑیا گھروں کے حکام کو بھی مشکلات اور پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہاہے جس کا اندازہ لکھنئومیں برطانوی خبررساں ادارے کی صحافی سمیر آتمن مشر کی اس رپورٹ سے لگایا جاسکتاہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ اس سے گوشت خور جانوروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ضلع اٹاوہ میں واقع ‘لائن سفاری’ کے شیروں کو کھانے کے لیے گوشت کی کمی ہے۔ شیروں کا پیٹ بھرنے کے لیے بھینسے کا گوشت دیا جاتا تھاتاہم گائے بھینس کے ذبح کرنے پر پابندی کے سبب اب انہیںزندہ رکھنے کے لیے بکرے کا گوشت دینا پڑرہا ہے۔
اٹاوہ سفاری پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر انیل کمار پٹیل کا کہنا ہے کہ ‘سفاری پارک میں آٹھ شیر ہیں جنہیں کھانے کے لیے عام طور پر بھینس کے بچوں کا گوشت دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن دو تین دن سے اس طرح کے گوشت کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے شیروں اور ان کے بچوں کو بکرے اور مرغ کا گوشت دیا جا رہا ہے۔پٹیل نے بتایا کہ یہ مسئلہ صرف اٹاوہ کا ہی نہیں ہے بلکہ لکھنؤ اور کانپور جیسے شہروں میں واقع چڑیاگھروں کے شیر بھی ایسے ہی مسائل سے دو چار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل سے نمٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔سفاری میں شیروں کے لیے گوشت سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار حاجی نظام کا کہنا ہے کہ مذبح خانے بند ہونے سے بھینس کا گوشت نہ مل پانے کی وجہ سے شیروں کے لیے ہر روز 50 کلو بکرے کا گوشت بھیجا جا رہا ہے جسے ہر روز مہیا کر پانا بہت مشکل ہو رہا ہے۔
حاجی نظام کے مطابق ‘اس سے ہمیں بہت خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن شیروں کو بھوکے مرنے سے بچانے کے لیے ہم بکرے کا گوشت فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا کتنے دن تک کر پائیں گے۔ ہماری اپیل ہے کہ ریاستی حکومت کم از کم ان شیروں کے لیے تو بھینس کا گوشت فراہم کرنے کی اجازت دے دے۔’اتر پردیش میں قصاب خانوں کے خلاف کارروائی سے گوشت کے کاروبار پر انحصار مسلمان ہی نہیں، بلکہ دلتوں کی روزی روٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔کیونکہ ذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت میں مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی بھی وابستہ ہے۔میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش پرکاش نے صحافی سے گفتگومیں بتایاکہ ‘ذبح خانے بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر دلتوں پر پڑے گا۔ چمڑے کا کام دلتوں کا آبائی کاروبار ہے، جو وہ صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بند ہونے سے بڑی تعداد میں دلتوں کی روزی روٹی ماری جائے گی۔’محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 75 قانونی مذبح خانوں میں سے 38 ریاست اترپردیش میں ہیں اور اس میں دلتوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر