وجود

... loading ...

وجود

اترکھنڈ کا یوگی ۔۔۔یوپی کی اقلیتوں کے لیے عذاب بن گیا

اتوار 02 اپریل 2017 اترکھنڈ کا یوگی ۔۔۔یوپی کی اقلیتوں کے لیے عذاب بن گیا

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما یوگی ادتیہ ناتھ کو ریاست اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بنانے کے بعد سے ہی بھارت میں نچلی ذات کے ہندوئوں، عیسائیوں اور خاص طورپر مسلمانوں پر خوف کی فضا طاری ہوگئی ہے ۔یوپی کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ آخر یو پی کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔جبکہ یوگی ادتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنانے کافیصلہ ریاستی انتخابات سے بہت پہلے ہی کرلیاگیاتھا اور ان کے نام کا اعلان کرکے دراصل اس فیصلے کی توثیق کی گئی جس کا فیصلہ گزشتہ برس مارچ میں گورکھ ناتھ مندر میں ہونے والے ایک اجلاس میں، جہاں آر ایس ایس کے سرکردہ رہنما بھی موجود تھے، یوگی آدتیہ ناتھ کو یو پی کا وزیر اعلیٰ بنانے کا عہد کرکے کیاگیاتھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی جماعت کے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے متفقہ طور پر یوگی کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔دلی میں پارٹی رہنماؤں کی ایک طویل میٹنگ کے بعد اس کا اعلان پارٹی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کیاتھا۔
یوگی آدتیہ ناتھ شہر گورکھپور سے پانچویں بار رکن پارلیمان بنے ہیں۔ وہ گورکھ پور کے معروف مندر گورکھ ناتھ مٹھ کے مہنت یعنی مندر کے سربراہ ہیں۔لیکن سیاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی شناخت ایک فائر برانڈ ہندو رہنما کی رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے متعلق اپنے متنازع بیانات کے لیے مشہور ہیں جن کی ایک طویل فہرست ہے۔ وہ سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے نظریات سے کافی قریب مانے جاتے ہیں۔یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو یوا واہنی نامی ایک ملیشیا بھی ہے جسے انہوں نے خود قائم کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ملیشیا ‘ثقافتی تنظیم’ ہے جو ہندو مخالف، ملک مخالف اور ماؤنواز مخالف سرگرمیوں’ کو کنٹرول کرتی ہے۔
یوگی کا تعلق پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے گڑھوال کے ایک گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام اجے سنگھ بشٹ ہے لیکن یوگی آدتیہ ناتھ بننے کے پہلے کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو زیادہ کچھ نہیں معلوم ہے۔وہ وتی نندن بہوگنا یونیورسٹی سے سائنس کے گریجویٹ ہیں اور ان کے خاندان کے لوگ ٹرانسپورٹ بزنس میں ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست تشدد سے پر رہی ہے اور خود ان کے خلاف بھی قتل کرنے کی کوشش، فساد برپاکرنے، سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے، دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے، مزار کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کے تحت تین مقدمات درج ہیں۔
یوپی میں یوگی کی حکومت آتے ہی ذبح خانے بندکردیے گئے ،ہر قسم کے گوشت کی فراہمی بہت مشکل ہوگئی ہے جس سے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کئی دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیںجن میں مویشی پالنے والے ،گوشت کے تاجر ،ڈھابے اور ریستوران والے ،گوشت کی ڈشز پکانے والے خانساماں حضرات اور عوام شامل ہیں ۔ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما ہیں جن کی حکومت نے آتے ہی ا ذبح خانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا تھا جن کے پاس قانونی لائسنس نہیں ہیں۔اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ تقریباً سبھی قسم کے گوشت کی فراہمی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ملک کے ذرائع ابلاغ نے یہ خبر شہ سرخیوں میں شائع کی تھی کہ لکھنؤ میں کباب کے لیے معروف ہوٹل ‘ٹنڈے کبابی’ گوشت نہ ملنے کی وجہ سے وقتی طور پر بند ہو گیا۔دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا اور غازی آباد میں بھی حکام نے ایسی تمام دکانوں کو بند کر دیا ہے جن کے پاس لائسنس نہیں ہے۔ان افراد نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چکن، مٹن اور مچھلی کی ان دکانوں کے بند ہونے سے اس شعبے میں کام کرنے والے بہت سے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔
غازی آباد میں گوشت کی منڈی بند ہوچکی ہے جبکہ گوشت کی منڈی بند ہونے کی خبریں یو پی کے مختلف علاقوں سے مسلسل آرہی ہیں۔گوشت کی دکانیں اور منڈیاں بند ہونے سے بھارت میں کبابوں کی مشہور دکانیں بھی بند ہورہی لیکن اس کے ساتھ ہی اب چڑیا گھروں کے حکام کو بھی مشکلات اور پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہاہے جس کا اندازہ لکھنئومیں برطانوی خبررساں ادارے کی صحافی سمیر آتمن مشر کی اس رپورٹ سے لگایا جاسکتاہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ اس سے گوشت خور جانوروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ضلع اٹاوہ میں واقع ‘لائن سفاری’ کے شیروں کو کھانے کے لیے گوشت کی کمی ہے۔ شیروں کا پیٹ بھرنے کے لیے بھینسے کا گوشت دیا جاتا تھاتاہم گائے بھینس کے ذبح کرنے پر پابندی کے سبب اب انہیںزندہ رکھنے کے لیے بکرے کا گوشت دینا پڑرہا ہے۔
اٹاوہ سفاری پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر انیل کمار پٹیل کا کہنا ہے کہ ‘سفاری پارک میں آٹھ شیر ہیں جنہیں کھانے کے لیے عام طور پر بھینس کے بچوں کا گوشت دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن دو تین دن سے اس طرح کے گوشت کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے شیروں اور ان کے بچوں کو بکرے اور مرغ کا گوشت دیا جا رہا ہے۔پٹیل نے بتایا کہ یہ مسئلہ صرف اٹاوہ کا ہی نہیں ہے بلکہ لکھنؤ اور کانپور جیسے شہروں میں واقع چڑیاگھروں کے شیر بھی ایسے ہی مسائل سے دو چار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل سے نمٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔سفاری میں شیروں کے لیے گوشت سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار حاجی نظام کا کہنا ہے کہ مذبح خانے بند ہونے سے بھینس کا گوشت نہ مل پانے کی وجہ سے شیروں کے لیے ہر روز 50 کلو بکرے کا گوشت بھیجا جا رہا ہے جسے ہر روز مہیا کر پانا بہت مشکل ہو رہا ہے۔
حاجی نظام کے مطابق ‘اس سے ہمیں بہت خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن شیروں کو بھوکے مرنے سے بچانے کے لیے ہم بکرے کا گوشت فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا کتنے دن تک کر پائیں گے۔ ہماری اپیل ہے کہ ریاستی حکومت کم از کم ان شیروں کے لیے تو بھینس کا گوشت فراہم کرنے کی اجازت دے دے۔’اتر پردیش میں قصاب خانوں کے خلاف کارروائی سے گوشت کے کاروبار پر انحصار مسلمان ہی نہیں، بلکہ دلتوں کی روزی روٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔کیونکہ ذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت میں مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی بھی وابستہ ہے۔میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش پرکاش نے صحافی سے گفتگومیں بتایاکہ ‘ذبح خانے بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر دلتوں پر پڑے گا۔ چمڑے کا کام دلتوں کا آبائی کاروبار ہے، جو وہ صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بند ہونے سے بڑی تعداد میں دلتوں کی روزی روٹی ماری جائے گی۔’محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 75 قانونی مذبح خانوں میں سے 38 ریاست اترپردیش میں ہیں اور اس میں دلتوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

مضامین
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری وجود پیر 23 فروری 2026
مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

نا شکرے عوام وجود پیر 23 فروری 2026
نا شکرے عوام

زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر