... loading ...
ہم سندھ کی تعلیم کی تباہی میں مختلف کرداروں کے بارے میں پہلے ہی لکھتے آرہے ہیں مگر ان سب میں فضل اللہ پیچوہو کا زیادہ سنگین کردار رہا ہے۔ وہ پورس کے ہاتھی کی طرح محکمہ تعلیم میں مطلق العنان بنے بیٹھے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضل اللہ پیچوہو کے دور میں ایسے نت نئے کارنامے سرانجام دیے گئے کہ جس کا ذکر کرنے کے لیے ایک کتاب چاہیے۔ کیونکہ وہ روزانہ ایسے کام کر رہے تھے جس سے قومی خزانے کو بھلے اربوںر وپے کا نقصان ہولیکن اپنے گروپ کو فائدہ ملتا رہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ کی تعلیم روزانہ پیچھے ہوتی چلی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے 14 ہزار نئی بھرتیاں کیں اور جب 2013 ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کرائی تو ان بھرتیوں کو جعلی قرار دے دیا،اس وقت سیکرٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو تھے تاہم اس وقت کے اسپیشل سیکریٹری شفیق مہر نے جس طرح ایمانداری سے تحقیقات کی اس کی مثال بہت کم ہی ملتی ہے اور سب نے واہ واہ کر دی کہ فضل اللہ پیچوہونے کس قدر شاندار کام کیا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ آگے چل کر نیب نے پیر مظہر الحق کو کلین چٹ دے کر خود کو متنازع بنالیا اور افسران اب بھگت رہے ہیں کہ کس طرح وہ جان چھڑائیں؟ فضل اللہ پیچوہو دو اہم افسران سید ذاکر حسین اور ریحان بلوچ بطور فرنٹ مین رکھے تھے اور ان ہی کے ذریعہ ’’معاملات‘‘ طے کرتے تھے۔ پیر مظہر کی بھرتیاں تو جعلی تھیں جس میں لگ بھگ 8 ارب روپے لیے گئے تھے مگر جب فضل اللہ پیچو ہو نے بھرتیاں کیں تو کمال مہارت دکھائی۔ انہوں نے سب سے پہلے اکائونٹنٹ جنرل (اے جی ) سندھ کے افسران کو ساتھ ملایا اور 4553 بھرتیاں کر ڈالیں سب سے پہلے انہوں نے 95 سے لے کر 2002ء تک امیدواروں کو ملازمت کے لیٹر بنوا کر دیے پھر ان کو 2013 ء میں تنخواہیں دلانے کا حکم دیا۔ کوئی یہ ان سے پوچھے کہ جب ملازمت 1995 ء سے 2002 ء تک حاصل کی تو پھر ڈیوٹی کہاں کی؟ تنخواہ کیوں نہ وصول کی؟ اور 2013 ء میں ان کو پہلی تنخواہ کس بنیاد اور کس قانون کے تحت دی گئی؟ اور ان 4553 افراد کی انٹری بھی مشکوک رکھی گئی۔ جب متعلقہ افسران نے اس پر اعتراض اٹھایا کہ یہ سراسر جعلسازی ہے اور کل جب آئوٹ ہوگی تو اعتراضات اٹھیں گے تو کون جواب دے گا؟ اگر ان 4553 افراد کو پرانی تاریخوں میں ملازمت کے آرڈر اور 2013ء میں تنخواہ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو ان ملازمین سے کہا جائے کہ وہ عدالتوں میں جائیں جب عدالتیں پوچھیں کہ ان کو تنخواہ کیوں نہیں دی گئی تو پھر عدالتوں سے کہا جائے کہ یہ کچھ سیاسی حکومتوں کی انتقامی کارروائی تھی اور کچھ سرکاری افسران کی نا اہلی تھی جس کے باعث ان کو تنخواہ نہ مل سکی۔ تب عدالتیں ان ملازمین کے حق میں فیصلہ دیں گی یوں ان کو تنخواہ بھی مل جائے گی اور معاملہ بھی قانونی طریقے سے حل کر دیا جائے گا ۔ مگر فضل اللہ پیچوہو کے سرپر پیسہ کمانے کا جنون تھا ،ان کو یہ تجویز خراب لگی اور نتیجہ میں انہوں نے اے جی سندھ کے افسران کے ساتھ مل کر اربوں روپے کا فراڈ کیا اور ان 4553 افراد کو 1995ء سے 2013ء تک تنخواہیں دلائیں، ان نئے ملازمین سے یہ طے پایا کہ جو پرانی تنخواہیں ملیں گی وہ انہیں نہیں دی جائیں گی ان کو صرف 2013 ء کے بعد تنخواہ مل سکے گی اس طرح ایک ایک ملازم کی 25 سے 40 لاکھ روپے تنخواہ لے کر تقریباً 20 ارب روپے کما لیے گئے اور جن افسران نے اس طریقہ پر اعتراض اٹھایا ان کو شدید انتقام کا نشانہ بنایا گیا، ان کے تبادلے کرائے گئے ان کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کرائے گئے، ان کی تنخواہیں بند کرادی گئیں۔ اس کارروائی کا مقصد دیگر افسران کو یہ دکھانا تھا کہ فضل اللہ پیچوہو کا جو بھی حکم نہیں مانے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے وہ حکم قانونی ہو یا غیر قانونی، افسران کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس پر جوں کا توں عمل کریں ۔ خیر سے مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور اے جی سندھ کے افسران نے مل بیٹھ کر ان 4553 نئے ملازمین کی سروس بُکس تیار کیں،ِ ان کی جعلی طریقے سے پوسٹنگ بھی کی گئی اور جو افسران اس وقت پوسٹنگ پر رہے ان کو بلا کر دستخط کرائے گئے اور پھر اب ان کو ریگولر بھی کر دیا گیا ہے اور ان کو تنخواہیں بھی مل رہی ہیں لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس اقدام پر زبان کھولے ،جو افسران متاثر ہوئے ہیں انہوں نے پورا ریکارڈ جمع کرکے درخواستیں نیب، محکمہ اینٹی کرپشن، چیف سیکریٹری، وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو دے دی ہیں مگر اس کا تاحال کچھ بھی نہیں بنا۔ کیونکہ نیب تو پہلے ہی عملی طور پر ثابت کر چکا ہے کہ وہ بڑے چوروں کا یار ہے اور چھوٹے چوروں کا سخت دشمن ہے بلکہ شنید یہ ہے کہ نیب، محکمہ اینٹی کرپشن اور وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم نے وہی درخواستیں فضل اللہ پیچوہو کو فراہم کر دی ہیں جس سے فضل اللہ پیچوہو مزید اشتعال میں ہیں اور وہ ان افسران کو مزید پریشان کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا ہے۔ اس طرح تقریباً 20 ارب روپے کا کھیل کھیل کر قصہ پارینہ بنا دیا گیا لیکن جن افسران نے ضمیر کے مطابق آواز اٹھائی وہ آج بھی پریشان ہیں اور فضل اللہ پیچوہو سکون سے تبادلہ کروا کر محکمہ صحت میں چلے گئے۔
الیاس احمد
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...