... loading ...

تعلیم ہر قوم کا زیور ہے لیکن جب زیور ہی نقلی ہو تو پھرسوچیے، قوم کا کیا حشر ہوگا؟ یوں تو کراچی میں مہنگے اور جدید تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن سرکاری تعلیمی ادارے اب تو خیر سے ناپید ہوچکے ہیں اور پھر محکمہ تعلیم کراچی کا جو حشر نشر ہوا ہے اس کا ذکر کیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اس اہم ترین مسئلے پر سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں؟ یہ ایک المیہ ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی میں اس وقت 42 ہزار ملازمین محکمہ اسکول ایجوکیشن میں کام کررہے ہیں جس میں سے31 ہزار ملازمین جعلی ہیں، جرأت کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ افسر نے جب اس کی چھان بین کی تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اس افسر نے تین ماہ تک تمام ملازمین کے کوائف کو چیک کیا تو اس کے سامنے ہوش اُڑادینے والے انکشافات آتے گئے، ہزاروں ملازمین کی ڈگریاں مشکوک ہیں، سینکڑوں ملازمین کے ملازمت ملنے کے (اپوائنٹمنٹ) آرڈر جعلی ہیں، سینکڑوں ملازمین کے ایک ضلع سے دوسرے ضلع (انٹر ڈسٹرکٹ) تبادلے جعلی ہیں، سینکڑوں ملازمین کے پروموشن جعلی ہیں اورہزاروں ملازمین گھر بیٹھے یا بیرون ممالک بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔ جب اتنے بڑے شہر میں تعلیم کا یہ حال ہوگا تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ یہ سب کیسے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کس نے کیا؟ مقاصد کیا تھے؟ ان سب سوالوں کے جوابات ڈھونڈے جانے چاہییں۔ ایم اے جلیل سے لے کر قاضی خالد تک جتنے بھی صوبائی وزیر رہے ،ان کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا، ان کو بھرتیوں کے لیے نائن زیرو سے فہرست ملتی تھی اور وہ اس کے مطابق بھرتیاں کرتے تھے اور کوئی چھان بین بھی نہیں کرتے تھے ۔پھر جب پی پی پی کی حکومت آئی تو وہ لیاری اور ملیر کے لوگوں کی اسی طرح کی بھرتیاں کرتی ،اور رہی سہی کسر سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی سابق سیکریٹری محکمہ تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے پوری کردی، انہوں نے دل کھول کر اس طرح کی بھرتیاں کرائیں۔ یوں کراچی میں محکمہ تعلیم یا اسکول ایجوکیشن کا بیڑا غرق کردیاگیا۔
ہم اپنے قارئین کو پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ اس وقت کراچی میں صرف 83 سرکاری اسکول چل رہے ہیں۔ 600 اسکول گود میں دیے گئے ہیں جہاں زیادہ تر دوسرے کاروبار ہورہے ہیں، اور 2650 سرکاری اسکول ڈی نیشنلائز کے نام پر فروخت کردیے گئے ہیں۔ اس پوری صورتحال پر کسی بھی سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیم نے کوئی آواز نہیں اٹھائی، اب جعلی ملازمین کے خلاف بھی کوئی آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔کراچی میں جب تعلیمی ادارے ہی باقی نہیں رہے تو پھر ان 42 ہزار ملازمین کا کیا کام رہ جاتا ہے؟ اس کا سب کو پتہ ہے کہ ہر کوئی مفت میں تنخواہ وصول کررہا ہے۔ یوں ہر کوئی ایک دوسرے کے مفاد کا تحفظ کررہا ہے اور ہر ایک کو اپنے حصے کا مال مل رہا ہے تو پھر وہ کیوں آواز اٹھائے گا؟ اس پورے معاملے کی تحقیقات کرنے والے افسرکو فوری طور پر گھر بھیج دیا گیا، اور ان کو مختلف مقدمات میں الجھادیا گیا اور یوں یہ قصہ ایک طرح سے ختم کردیا گیا۔ اب اگر کوئی آواز اٹھاتا ہے کہ کراچی میں سرکاری اسکول کیوں ختم کردیے گئے ہیں؟ تو پھر ان ملازمین کا کیا بنے گا جو گھر بیٹھے یا بیرون ممالک بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں؟ اس طرح سیاسی جماعتیں بھی خاموش ہیں کیوںکہ ان کے حامیوں کو بغیر محنت کے تنخواہ مل رہی ہے اور وہ ملازمین اب دوسرے روزگار اور کاروبار کررہے ہیں؟ بس یہی وہ مجبوریاں ہیں جس کے باعث کراچی میں سرکاری تعلیمی اداروں کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب کراچی میں نجی تعلیمی اداروں کا جال بچھادیا گیا ہے، جگہ جگہ تعلیمی ادارے کھول دیے گئے ہیں اور جس مافیا نے کراچی کے تعلیمی ادارے فروخت کیے یا گود دے دیے، ان کے پیچھے بھی نجی اسکول مافیا تھی۔ اب غریب لوگ کہاں جائیں؟ سرکاری اسکولوں میں تو ان کے بچے تعلیم حاصل کرلیتے تھے لیکن نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس طرح کراچی کے متوسط طبقہ اور غریب عوام کے لیے تعلیمی دروازے بند کردیے گئے ہیں اور اس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھی کردار ہے اور وہ خاموش بھی اس لیے ہیں کہ کہیں ووٹر ان سے ناراض نہ ہوجائیں؟ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف سینکڑوں سرکاری اسکول فروخت کرکے بند کردیے گئے ہیں تو دوسری جانب ان اسکولوں کے ملازمین کو تنخواہیں دے کر ان کے منہ بند کردیے گئے ہیں باقی رہی عوام تو عوام کا کیا ہے؟ وہ تو کسی بھی سیاسی، مذہبی پارٹی کے خوبصورت نعرے کے پیچھے لگ کر یہ معاملہ بھول جائیں گے۔
معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...
آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...
منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...
حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...
اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...
عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...
نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...
توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...
صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...
لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...