وجود

... loading ...

وجود

ایمپریس مارکیٹ کا قدیم خوبصورت چہرہ بحال کرنے کی تیاریاں

جمعه 31 مارچ 2017 ایمپریس مارکیٹ کا قدیم خوبصورت چہرہ بحال کرنے کی تیاریاں


سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی 127سال قدیم ایمپریس مارکیٹ کا قدیم چہرہ بحال کرنے کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ جبکہ فی الوقت کراچی کی پہچان تصور کی جانے والی یہ مارکیٹ انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔اس مارکیٹ کے اندر خریداری کے لیے گھومنا پھرنا تو دور کی بات اس کے ارد گرد سے گزرنا بھی بعض اوقات محال نظر آتاہے۔اس وقت اس مارکیٹ کے ارد گرد آپ کو ابلتے ہوئے گٹرکا بہتا ہوا گندہ پانی، موٹر سائیکلوں ،کاروں، بسوں اور ویگنوں کی بے ہنگم قطاریں اور سڑک کے بڑے حصے پر پتھاریدار قابض نظر آئیں گے اور ان کے درمیان سے گزرنا آسان کام نہیںہوتا۔ برسہا برس سے جاری اس ناگفتہ صورتحال کے بعد اطلاعات کے مطابق اب سندھ کی حکومت نے اس مارکیٹ کا پرانا خوبصورت چہرہ بحال کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس مارکیٹ کی تزئین وآرائش کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔
ایمپریس مارکیٹ 1884ء سے1889ء کے دوران 5 سال کے طویل عرصے میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کو اس وقت کی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کے نام پر اس کوایمپریس مارکیٹ کانام دیاگیاتھا۔اس وقت مارکیٹ کا محل وقوع ایسا تھا کہ یہ مارکیٹ بہت دور سے نظر آتی تھی اور اس پر لگی گھڑی سے اس دور کے بعض لوگ اپنی گھڑیاں ملایاکرتے تھے۔اس مارکیٹ کی تعمیر کے لیے جگہ کاانتخاب اس دور کے حکمرانوں کی منتقم مزاجی اور مسلمانوں سے نفرت کا مظہر تھا کیونکہ اس مارکیٹ کی تعمیر کے لیے جو جگہ منتخب کی گئی وہ وہی جگہ تھی جہاں اس وقت کے برطانوی حکمرانوں نے 1857ء میں انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے برصغیر کے مسلمان فوجیوں کو پھانسی دے کر دفن کیاتھا۔
ایمپریس مارکیٹ کا سنگ بنیاد اس وقت کے بمبئی کے گورنر جیمز فرگوسن نے 1884ء میں رکھا تھا، اس مارکیٹ کی بنیاد ایک برطانوی ادارے الایٹ فیلڈنے مکمل کی تھی جبکہ عمارت کی تعمیر ایک مقامی ادارے کے مالکان محمد نیوان اور ڈلو کھیجو نے مکمل کی تھی۔
اس دور میں یہ مارکیٹ کراچی کے امرا کاشاپنگ مرکز ہوا کرتی تھی اور مارکیٹ کے قرب وجوار میں آباد مسیحی آبادی اور قریب واقع فوجی چھائونی میں رہنے والے اپنی روزمرہ ضرورت کی اشیا خریدنے کے لیے اسی مارکیٹ پر انحصار کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب یہ مارکیٹ انتہائی نظم وضبط کے ساتھ قائم تھی اور اس میں تجاوزات کا کوئی تصور نہ ہونے کی وجہ سے یہاں خریداری کے لیے آنے والوں کو کسی طرح کی کوئی دشواری پیش نہیںآتی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہی مارکیٹ کا چہرہ بگڑتاگیا اور اب اتنا مسخ ہوگیاہے کہ اسے شاپنگ کہنا بھی شاپنگ مرکز کے نام کی توہین معلوم ہوتی ہے، ماضی کایہ اہم شاپنگ مرکز اب گندگی اور غلاظت کے ڈھیروں میں دبتا چلاجارہاہے،تجاوزات نے اس کاحلیہ بگاڑ دیاہے اور اب یہاں خریداری کے لیے آنے والوں کو اپنی ضرورت کی اشیا تلاش کرنے کے لیے چلنے پھرنے میں بھی دشواری محسوس ہونے لگی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایمپریس مارکیٹ کا قدیم چہرہ بحال کرنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیاگیاہے اس کے تحت اس مارکیٹ کے سامنے پریڈی اسٹریٹ کورواں سال کے آخر تک صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کردیاجائے گا۔اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں سندھ حکومت نے جہانگیر پارک کی تزئین وآرائش کاکام شروع کردیا ہے جس کے بعد جہانگیر پار ک کے سامنے واقع ایڈلجی ڈنشا ڈسپنسری
کی عمارت کی تزئین وآرائش کی جائے گی اور اس ڈسپنسری کو حقیقی معنوں میں ڈسپنسری کی شکل دی جائے گی۔اس پروجیکٹ پر خرچ کااندازہ 95کروڑ60 لاکھ روپے لگایاگیاہے۔
اس پروجیکٹ کے ایک انجینئر نے بتایا کہ ایمپریس مارکیٹ کے گرد پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص علاقہ صدر دواخانہ سے لے کرزیب النسا اسٹریٹ کے سنگم سنگر چورنگی تک ہوگا ۔انجینئر کے مطابق پیدل چلنے والوں کے لیے یہ مخصوص علاقہ مجموعی طورپر500 میٹر رقبے پر محیط ہوگا۔اس منصوبے کے تحت پبلک بسوں کوایمپریس مارکیٹ میں پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور وہ رینبو مارکیٹ سے سیدھی لکی اسٹار کی طرف جائیں گی جہاں سے وہ اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوں گی۔اس کا دوسرا یعنی واپسی کا روٹ ڈاکٹر دائود پوتہ روڈ سے ایم اے جناح روڈ کاہوگا۔اس مقام پر پبلک بسیں پریڈی اسٹریٹ سے گزریں گی اس مقام پر بسوں کی آمدورفت کے لیے ٹریفک سگنل نصب کئے جائیں گے۔جبکہ بعد میں یہاں پبلک بسوں اور گاڑیو ں کے گزرنے کے لیے ایک انڈر پاس تعمیر کردیاجائے گا۔
اس پروجیکٹ کی تکمیل کی راہ میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ کراچی سے ملک کے مختلف شہروں کوجانے والی بسوں کے وہ غیر قانونی اڈے ہیں جن کی وجہ سے ایمپریس کی طرف آمدورفت مشکل بن گئی ہے،سندھ ایئر کنڈیشنڈ بس مالکان کی ایسوسی ایشن کامؤقف یہ ہے کہ تاج کمپلیکس ، ڈاکٹر دائود پوتہ روڈ سے رینبو سینٹر تک اورارد گرد کے علاقے میں انہوںنے جگہ حاصل کرکے اپنے اڈے قائم کیے ہیں کیونکہ اس علاقے سے مختلف شہروں کو جانے والے لوگوں کو آسانی ہوتی ہے۔ بسوں کے ان اڈوں کو کہیں اور منتقل کرنے کے حوالے سے حکومت سندھ کے متعلقہ ارباب اختیار کے ساتھ ان کی کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں، یہ تمام ملاقاتیں لاحاصل رہی ہیں اور حکومت سندھ انہیں کوئی متبادل اور مناسب
جگہ کی پیشکش کرنے میں ناکام رہی ہے۔جبکہ اس پروجیکٹ کے انجینئر محمد اظہار کامؤقف یہ ہے کہ بین الشہر جانے والی بسوں کے یہ اڈے فی الحال ان کے روٹ میں نہیں آتے اس لیے اس پروجیکٹ پر کام جاری رکھنے میں انہیں فی الوقت کسی طرح کی دشواری کاسامنا نہیں ہے۔
دوسری جانب رینبو سینٹر کے دکانداروں کی یونین کے صدر اور سندھ تاجر اتحاد کے رکن سلیم میمن کاکہناہے کہ ایمپریس مارکیٹ کے ارد گرد کے علاقے کو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرنے کامنصوبہ بہت پرانا ہے لیکن ابھی تک علاقے کے دکانداروں کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیاگیاہے۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہزاروں غیر قانونی دکانیں قائم ہیں اور ہاکر وں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے سندھ حکومت کو انہیں یہاں سے مستقل بنیادوں پر ہٹانا ہوگا لیکن چونکہ علاقہ پولیس اور دیگر سرکاری محکموں کے اہلکار ان لوگوں سے روزانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کرتے ہیں اس لیے ان کو ہٹانے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور گورنر تک کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیاجاتا ہے اور صرف دکھاوے کے لیے گھنٹے دو گھنٹے تک پتھارے ہٹاکر دوبارہ اپنی جگہ لگوادیے جاتے ہیں۔
حکومت سندھ کی جانب سے ایمپریس مارکیٹ کی خوبصورتی بحال کرنے کے لیے شروع کیے گئے اس پروجیکٹ کی جو تفصیلات معلوم ہوئی ہیں اس کے مطابق مینسفیلڈ اسٹریٹ کے مقابل میر کرم علی تالپور روڈ کو فوڈ اسٹریٹ کی شکل دی جائے گی جبکہ ڈاکٹر دائود پوتہ روڈ کے مقابل راجہ غضنفر علی روڈ کو’’ رات بازار‘‘ میں تبدیل کیاجائے گا جہاں لوگ رات کے وقت خریداری کرسکیں گے، اور یہاں آنے والوں کی آسانی کے لیے سرخ رنگ کی خصوصی بس نما ٹرام چلائی جائے گی ۔جبکہ درمیان میں ایک ٹریک ایمبولینسوں اور دیر ہنگامی نوعیت کی گاڑیوں کے لیے مخصوص ہوگا جس پر کسی اور گاڑی کی اجازت نہیں ہوگی۔ایمپریس مارکیٹ کی پشت پرایک پارکنگ پلازہ تعمیر کیاجائے گا جس میںبیک وقت600 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہوگی جبکہ اس پارکنگ پلازا کا دوسرا حصہ بعد میں تعمیر کیاجائے گا جس میں ایک ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہوگی۔لائنز ایریا میں پہلے سے تعمیر شدہ پارکنگ پلازہ اور ایم اے جناح روڈ پر واقع پارکنگ پلازا کو بھی استعمال کیاجائے گا۔
پروجیکٹ انجینئر کے دعوے کے مطابق پریڈی اسٹریٹ پر 10 فیصد کام مکمل کیاجاچکا ہے اور اس علاقے میں 18 انچ قطر کی سیوریج لائن ڈال دی گئی ہے ،جبکہ میر کرم علی تالپور روڈ پر بھی15 فیصد کام مکمل کیاجاچکا ہے اوراس علاقے میں پانی کی لائن ڈال دی گئی ہے۔راجہ غضنفر علی روڈ پر جہاں منصوبے کے مطابق رات بازار قائم کیاجائے گا پائپ لائنوں کی تبدیلی کاکام جاری ہے۔ایگزیکٹو انجینئر اظہار کے مطابق پانی اور سیوریج لائنوں کی تبدیلی سے علاقے میں پانی اورگندے پانی کی نکاسی کامسئلہ حل ہوجائے گا۔
سندھ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر نیاز سومرو نے بتایا کہ ایمپریس مارکیٹ کی تزئین وآرائش اس منصوبے میں شامل نہیں ہے بلکہ یہ کام دوسرے مرحلے میں کراچی کی قدیم عمارتوں کے تحفظ اوران کی تزئین وآرائش کے منصوبے کے تحت انجام دیاجائے گا۔
جہانگیر پارک کی تزئین وآرائش اس منصوبے میں شامل ہے اور حکام کے مطابق اس پارک کی بحالی کا 47 فیصد سے زیادہ کام مکمل کیاجاچکاہے پارک کے گرد چاردیواری کی تعمیرکاکام بھی 30 فیصد مکمل کیاجاچکاہے۔اس پارک کی تزئین وآرائش کے لیے تیار کیے گئے منصوبے کے مطابق اس پارک میں آنے والوں کی تفریح کے لیے یہاں نشستیں لگوائی جائیں گی اور بچوںکے کھیل کود کے لیے بھی پارک کا ایک حصہ وقف کردیاجائے گا۔جبکہ ایک حصہ فیملیز کے لیے مخصوص ہوگا اس میں ایک ڈائنوسار پارک بھی بنایاجائے گا ایک لائبریری ہوگی اور تھیٹر کے لیے بھی ایک حصہ وقف کیاجائے گا۔تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہوتاہے یا شہراور صوبے کے لیے بنائے گئے دیگر بہت سے منصوبوں کی طرح فنڈ کی کمی یا حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی درمیان میں ہی دم توڑ دیتاہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر