... loading ...
برطانیہ کی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے بریگزٹ کا عمل شروع کرنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے تحت یہ آفیشل نوٹس یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو پہنچایا جائے گا۔دارالعوام میں وزیراعظم تھریسامے اپنے بیان میں ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ ‘یہ وقت ملک میں یکجہتی کا ہے۔ گزشتہ جون میں منعقدہ ریفرینڈم میںبرطانوی عوام کی اکثریت نے برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اب اس حوالے سے بریگزٹ کاعمل شروع کرنے کے لیے وزیراعظم تھریسا مے کی منظوری یعنی ان کے دستخط ہوجانے کے بعد اس حوالے سے وزیراعظم تھریسامے کا خط ڈونلڈ ٹسک کو یورپی یونین میں برطانوی سفیر سر ٹیم بورو کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔اس کے بعد وزیراعظم کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گی اور ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ وہ وعدہ کریں گی کہ مذاکرات کے دوران ‘برطانیہ کے ہر باسی کی نمائندگی کی جائے گی’ جن میں برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہیں جن کا مستقبل بریگزٹ کے بعد سے غیرواضح ہے۔وہ کہیں گی: ‘میرا مصمم عزم ہے کہ میں اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے لیے بہترین معاہدہ کروں۔ کیونکہ ہمیں اس سفر پر مواقع بھی پیش آئیں گے اور ہماری مشترکہ اقدار، مفادات اور مقاصد ہمیں ایک نقطے پر لے آئیں گے۔’ برطانوی وزیرِ اعظم یہ وعدہ کرچکی ہیں کہ وہ آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے بریگزٹ سے متعلق دو سالہ مذاکرات کا آغاز کریں گی جن میں یوپی یونین کے ساتھ نئے تعلقات کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کرسمس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ کا عمل مارچ کے اختتام تک شروع کرنا چاہتی ہیں لہٰذا وہ 25 مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔
برطانوی ایوان بالا میں 118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھوڑنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم تھریسا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
آرٹیکل 50 ہے کیا، اور اب آگے کیا ہو گا؟
آرٹیکل 50 بہت مختصر دستاویز ہے، لیکن محض پانچ پیراگراف پر مشتمل اس دستاویز میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کا کوئی رکن ملک اگر یونین چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے لازماً یورپی یونین کو آگاہ کر کے اس سلسلے میں مذاکرات شروع کرنا ہوں گے، اور یہ کہ اس عمل پر دو برس صرف ہوں گے۔
اس میں لکھا ہے کہ انخلا کے معاہدے کو یونین کی واضح اکثریت (72 فیصد) کے ساتھ منظور کرنا ہو گا، لیکن اس کے ساتھ اسے ارکانِ پارلیمان کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔مائیکل بارنیئر یورپی یونین کی جانب سے مذاکرات کے سربراہ ہوں گے۔
پانچویں پیراگراف میں یہ امکان اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک یورپی یونین چھوڑنے کے بعد دوبارہ اس میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے آرٹیکل 49 کے تحت دیکھا جائے گا۔یہ آرٹیکل لارڈ کیر آف کنلوکارڈ نے لکھا تھا جو کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے ذہن میں یہ تھا کہ اس کا استعمال کسی ممبر ملک میں فوجی انقلاب کی صورت میں ہوگا اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے برطانیہ کی علیحدگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اس پر اتنا وقت کیوں لگا؟
برطانیہ نے جون 2016 ء میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ حکومت پر منحصر تھا کہ وہ کب یورپی کونسل کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کرتی ہے۔وزیرِ اعظم تھریسامے نے گزشہ اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ مارچ کے اختتام تک ایسا کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہتیں۔
اگلے مراحل کیا ہیں؟
آگے پیش آنے والے واقعات کی ممکنہ ٹائم لائن یہ ہے،برطانیہ کی حکومت نے29 مارچ 2017ء کو آرٹیکل 50 متحرک کر دیا۔ اب مئی 2017: یورپی کمیشن مذاکرات کی گائیڈ لائن شائع کرے گا جس میں مستقبل میں یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدوں کے مستقبل کا بھی ذکر ہو گا۔اس حوالے سے اب مئی/جون 2017: مذاکرات کا آغاز،اس حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ23 اپریل اور 7 مئی کو فرانس میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں جبکہ 24 ستمبرکوجرمنی میں پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں،توقع کی جاتی کہ رواں سال موسم خزاںکے دوران برطانوی حکومت یورپی یونین چھوڑنے کے لیے قانون وضع کرے گی اور یورپی یونین کے تمام حالیہ قوانین کو برطانوی قوانین میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس کا نام ’دا گریٹ ری پیل بل‘ ہو گا۔ توقع ہے کہ اکتوبر 2018ء تک مذاکرات مکمل ہو جائیں گے۔اکتوبر 2018ء اور مارچ 2019ء کے درمیان،پارلیمان کے ایوان، یورپی کونسل اور یورپی پارلیمان معاہدے پر ووٹنگ کرائیں گی۔مارچ 2019: برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا (آرٹیکل 50 کے مذاکرات طول پکڑ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دیگر تمام 27 ارکان کی منظوری درکار ہو گی)
مذاکرات میں کیا شامل ہو گا؟
یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس میں تجارتی معاہدہ شامل ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے نمائندوں نے کہا ہے کہ انخلا اور تجارت کے معاہدے الگ الگ ہونے چاہئیں۔برطانیہ جلد ہی برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں اور یورپی یونین میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق کے بارے میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔دوسرے معاملات میں سرحدی سیکورٹی، یورپی حراستی وارنٹ، یورپی یونین کے ان اداروں کی منتقلی، جن کے ہیڈکوارٹر برطانیہ میں ہیں، برطانوی شہریوں کی پنشن وغیرہ شامل ہیں۔
مذاکرات میں کون شامل ہو گا؟
یورپی کمیشن نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جس کے سربراہ مائیکل بارنیئر ہوں گے۔ برطانیہ کی جانب سے وزیرِ اعظم مذاکرات کی سربراہی کریں گی۔ ان کا ساتھ ڈیوڈ ڈیوس دیں گے جو یورپی یونین سے علیحدگی کے محکمے کے سربراہ ہیں۔ ان تمام معاملات کے باوجودممکنہ طورپر ایک سوال یہ بھی اٹھتا نظر آتاہے کہ کیا برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے اپنا ارادہ بدل سکتا ہے؟ چونکہ اس سے قبل کبھی بھی آرٹیکل 50 پر عمل کی نوبت نہیں آئی تھی اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔ لیکن اس آرٹیکل کے مصنف لارڈ کیر کا خیال ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔انہوں نے نومبر 2016 ء میں بی بی سی کو بتایا تھا: ‘یہ ناقابلِ تنسیخ نہیں ہے۔ آپ اس عمل کے دوران ارادہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم اگر ایسا ہوا تو بہت سے ملک اس پر برہم ہوں گے کیوں کہ اس میں سب کا بہت وقت ضائع ہو گا۔’
ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...
دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...
پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...
عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...