وجود

... loading ...

وجود

بریگزٹ: یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے برطانیہ کی پیش رفت

جمعه 31 مارچ 2017 بریگزٹ: یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے برطانیہ کی پیش رفت

برطانیہ کی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے بریگزٹ کا عمل شروع کرنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے تحت یہ آفیشل نوٹس یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو پہنچایا جائے گا۔دارالعوام میں وزیراعظم تھریسامے اپنے بیان میں ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ ‘یہ وقت ملک میں یکجہتی کا ہے۔ گزشتہ جون میں منعقدہ ریفرینڈم میںبرطانوی عوام کی اکثریت نے برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اب اس حوالے سے بریگزٹ کاعمل شروع کرنے کے لیے وزیراعظم تھریسا مے کی منظوری یعنی ان کے دستخط ہوجانے کے بعد اس حوالے سے وزیراعظم تھریسامے کا خط ڈونلڈ ٹسک کو یورپی یونین میں برطانوی سفیر سر ٹیم بورو کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔اس کے بعد وزیراعظم کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گی اور ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ وہ وعدہ کریں گی کہ مذاکرات کے دوران ‘برطانیہ کے ہر باسی کی نمائندگی کی جائے گی’ جن میں برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہیں جن کا مستقبل بریگزٹ کے بعد سے غیرواضح ہے۔وہ کہیں گی: ‘میرا مصمم عزم ہے کہ میں اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے لیے بہترین معاہدہ کروں۔ کیونکہ ہمیں اس سفر پر مواقع بھی پیش آئیں گے اور ہماری مشترکہ اقدار، مفادات اور مقاصد ہمیں ایک نقطے پر لے آئیں گے۔’ برطانوی وزیرِ اعظم یہ وعدہ کرچکی ہیں کہ وہ آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے بریگزٹ سے متعلق دو سالہ مذاکرات کا آغاز کریں گی جن میں یوپی یونین کے ساتھ نئے تعلقات کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کرسمس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ کا عمل مارچ کے اختتام تک شروع کرنا چاہتی ہیں لہٰذا وہ 25 مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔
برطانوی ایوان بالا میں 118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھوڑنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم تھریسا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
آرٹیکل 50 ہے کیا، اور اب آگے کیا ہو گا؟
آرٹیکل 50 بہت مختصر دستاویز ہے، لیکن محض پانچ پیراگراف پر مشتمل اس دستاویز میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کا کوئی رکن ملک اگر یونین چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے لازماً یورپی یونین کو آگاہ کر کے اس سلسلے میں مذاکرات شروع کرنا ہوں گے، اور یہ کہ اس عمل پر دو برس صرف ہوں گے۔
اس میں لکھا ہے کہ انخلا کے معاہدے کو یونین کی واضح اکثریت (72 فیصد) کے ساتھ منظور کرنا ہو گا، لیکن اس کے ساتھ اسے ارکانِ پارلیمان کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔مائیکل بارنیئر یورپی یونین کی جانب سے مذاکرات کے سربراہ ہوں گے۔
پانچویں پیراگراف میں یہ امکان اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک یورپی یونین چھوڑنے کے بعد دوبارہ اس میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے آرٹیکل 49 کے تحت دیکھا جائے گا۔یہ آرٹیکل لارڈ کیر آف کنلوکارڈ نے لکھا تھا جو کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے ذہن میں یہ تھا کہ اس کا استعمال کسی ممبر ملک میں فوجی انقلاب کی صورت میں ہوگا اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے برطانیہ کی علیحدگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اس پر اتنا وقت کیوں لگا؟
برطانیہ نے جون 2016 ء میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ حکومت پر منحصر تھا کہ وہ کب یورپی کونسل کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کرتی ہے۔وزیرِ اعظم تھریسامے نے گزشہ اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ مارچ کے اختتام تک ایسا کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہتیں۔
اگلے مراحل کیا ہیں؟
آگے پیش آنے والے واقعات کی ممکنہ ٹائم لائن یہ ہے،برطانیہ کی حکومت نے29 مارچ 2017ء کو آرٹیکل 50 متحرک کر دیا۔ اب مئی 2017: یورپی کمیشن مذاکرات کی گائیڈ لائن شائع کرے گا جس میں مستقبل میں یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدوں کے مستقبل کا بھی ذکر ہو گا۔اس حوالے سے اب مئی/جون 2017: مذاکرات کا آغاز،اس حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ23 اپریل اور 7 مئی کو فرانس میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں جبکہ 24 ستمبرکوجرمنی میں پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں،توقع کی جاتی کہ رواں سال موسم خزاںکے دوران برطانوی حکومت یورپی یونین چھوڑنے کے لیے قانون وضع کرے گی اور یورپی یونین کے تمام حالیہ قوانین کو برطانوی قوانین میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس کا نام ’دا گریٹ ری پیل بل‘ ہو گا۔ توقع ہے کہ اکتوبر 2018ء تک مذاکرات مکمل ہو جائیں گے۔اکتوبر 2018ء اور مارچ 2019ء کے درمیان،پارلیمان کے ایوان، یورپی کونسل اور یورپی پارلیمان معاہدے پر ووٹنگ کرائیں گی۔مارچ 2019: برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا (آرٹیکل 50 کے مذاکرات طول پکڑ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دیگر تمام 27 ارکان کی منظوری درکار ہو گی)
مذاکرات میں کیا شامل ہو گا؟
یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس میں تجارتی معاہدہ شامل ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے نمائندوں نے کہا ہے کہ انخلا اور تجارت کے معاہدے الگ الگ ہونے چاہئیں۔برطانیہ جلد ہی برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں اور یورپی یونین میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق کے بارے میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔دوسرے معاملات میں سرحدی سیکورٹی، یورپی حراستی وارنٹ، یورپی یونین کے ان اداروں کی منتقلی، جن کے ہیڈکوارٹر برطانیہ میں ہیں، برطانوی شہریوں کی پنشن وغیرہ شامل ہیں۔
مذاکرات میں کون شامل ہو گا؟
یورپی کمیشن نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جس کے سربراہ مائیکل بارنیئر ہوں گے۔ برطانیہ کی جانب سے وزیرِ اعظم مذاکرات کی سربراہی کریں گی۔ ان کا ساتھ ڈیوڈ ڈیوس دیں گے جو یورپی یونین سے علیحدگی کے محکمے کے سربراہ ہیں۔ ان تمام معاملات کے باوجودممکنہ طورپر ایک سوال یہ بھی اٹھتا نظر آتاہے کہ کیا برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے اپنا ارادہ بدل سکتا ہے؟ چونکہ اس سے قبل کبھی بھی آرٹیکل 50 پر عمل کی نوبت نہیں آئی تھی اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔ لیکن اس آرٹیکل کے مصنف لارڈ کیر کا خیال ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔انہوں نے نومبر 2016 ء میں بی بی سی کو بتایا تھا: ‘یہ ناقابلِ تنسیخ نہیں ہے۔ آپ اس عمل کے دوران ارادہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم اگر ایسا ہوا تو بہت سے ملک اس پر برہم ہوں گے کیوں کہ اس میں سب کا بہت وقت ضائع ہو گا۔’


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود اتوار 15 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود اتوار 15 مارچ 2026
اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر