وجود

... loading ...

وجود

بریگزٹ: یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے برطانیہ کی پیش رفت

جمعه 31 مارچ 2017 بریگزٹ: یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے برطانیہ کی پیش رفت

برطانیہ کی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے بریگزٹ کا عمل شروع کرنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے تحت یہ آفیشل نوٹس یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو پہنچایا جائے گا۔دارالعوام میں وزیراعظم تھریسامے اپنے بیان میں ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ ‘یہ وقت ملک میں یکجہتی کا ہے۔ گزشتہ جون میں منعقدہ ریفرینڈم میںبرطانوی عوام کی اکثریت نے برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اب اس حوالے سے بریگزٹ کاعمل شروع کرنے کے لیے وزیراعظم تھریسا مے کی منظوری یعنی ان کے دستخط ہوجانے کے بعد اس حوالے سے وزیراعظم تھریسامے کا خط ڈونلڈ ٹسک کو یورپی یونین میں برطانوی سفیر سر ٹیم بورو کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔اس کے بعد وزیراعظم کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گی اور ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ وہ وعدہ کریں گی کہ مذاکرات کے دوران ‘برطانیہ کے ہر باسی کی نمائندگی کی جائے گی’ جن میں برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہیں جن کا مستقبل بریگزٹ کے بعد سے غیرواضح ہے۔وہ کہیں گی: ‘میرا مصمم عزم ہے کہ میں اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے لیے بہترین معاہدہ کروں۔ کیونکہ ہمیں اس سفر پر مواقع بھی پیش آئیں گے اور ہماری مشترکہ اقدار، مفادات اور مقاصد ہمیں ایک نقطے پر لے آئیں گے۔’ برطانوی وزیرِ اعظم یہ وعدہ کرچکی ہیں کہ وہ آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے بریگزٹ سے متعلق دو سالہ مذاکرات کا آغاز کریں گی جن میں یوپی یونین کے ساتھ نئے تعلقات کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کرسمس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ کا عمل مارچ کے اختتام تک شروع کرنا چاہتی ہیں لہٰذا وہ 25 مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔
برطانوی ایوان بالا میں 118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھوڑنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم تھریسا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
آرٹیکل 50 ہے کیا، اور اب آگے کیا ہو گا؟
آرٹیکل 50 بہت مختصر دستاویز ہے، لیکن محض پانچ پیراگراف پر مشتمل اس دستاویز میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کا کوئی رکن ملک اگر یونین چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے لازماً یورپی یونین کو آگاہ کر کے اس سلسلے میں مذاکرات شروع کرنا ہوں گے، اور یہ کہ اس عمل پر دو برس صرف ہوں گے۔
اس میں لکھا ہے کہ انخلا کے معاہدے کو یونین کی واضح اکثریت (72 فیصد) کے ساتھ منظور کرنا ہو گا، لیکن اس کے ساتھ اسے ارکانِ پارلیمان کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔مائیکل بارنیئر یورپی یونین کی جانب سے مذاکرات کے سربراہ ہوں گے۔
پانچویں پیراگراف میں یہ امکان اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک یورپی یونین چھوڑنے کے بعد دوبارہ اس میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے آرٹیکل 49 کے تحت دیکھا جائے گا۔یہ آرٹیکل لارڈ کیر آف کنلوکارڈ نے لکھا تھا جو کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے ذہن میں یہ تھا کہ اس کا استعمال کسی ممبر ملک میں فوجی انقلاب کی صورت میں ہوگا اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے برطانیہ کی علیحدگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اس پر اتنا وقت کیوں لگا؟
برطانیہ نے جون 2016 ء میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ حکومت پر منحصر تھا کہ وہ کب یورپی کونسل کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کرتی ہے۔وزیرِ اعظم تھریسامے نے گزشہ اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ مارچ کے اختتام تک ایسا کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہتیں۔
اگلے مراحل کیا ہیں؟
آگے پیش آنے والے واقعات کی ممکنہ ٹائم لائن یہ ہے،برطانیہ کی حکومت نے29 مارچ 2017ء کو آرٹیکل 50 متحرک کر دیا۔ اب مئی 2017: یورپی کمیشن مذاکرات کی گائیڈ لائن شائع کرے گا جس میں مستقبل میں یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدوں کے مستقبل کا بھی ذکر ہو گا۔اس حوالے سے اب مئی/جون 2017: مذاکرات کا آغاز،اس حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ23 اپریل اور 7 مئی کو فرانس میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں جبکہ 24 ستمبرکوجرمنی میں پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں،توقع کی جاتی کہ رواں سال موسم خزاںکے دوران برطانوی حکومت یورپی یونین چھوڑنے کے لیے قانون وضع کرے گی اور یورپی یونین کے تمام حالیہ قوانین کو برطانوی قوانین میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس کا نام ’دا گریٹ ری پیل بل‘ ہو گا۔ توقع ہے کہ اکتوبر 2018ء تک مذاکرات مکمل ہو جائیں گے۔اکتوبر 2018ء اور مارچ 2019ء کے درمیان،پارلیمان کے ایوان، یورپی کونسل اور یورپی پارلیمان معاہدے پر ووٹنگ کرائیں گی۔مارچ 2019: برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا (آرٹیکل 50 کے مذاکرات طول پکڑ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دیگر تمام 27 ارکان کی منظوری درکار ہو گی)
مذاکرات میں کیا شامل ہو گا؟
یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس میں تجارتی معاہدہ شامل ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے نمائندوں نے کہا ہے کہ انخلا اور تجارت کے معاہدے الگ الگ ہونے چاہئیں۔برطانیہ جلد ہی برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں اور یورپی یونین میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق کے بارے میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔دوسرے معاملات میں سرحدی سیکورٹی، یورپی حراستی وارنٹ، یورپی یونین کے ان اداروں کی منتقلی، جن کے ہیڈکوارٹر برطانیہ میں ہیں، برطانوی شہریوں کی پنشن وغیرہ شامل ہیں۔
مذاکرات میں کون شامل ہو گا؟
یورپی کمیشن نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جس کے سربراہ مائیکل بارنیئر ہوں گے۔ برطانیہ کی جانب سے وزیرِ اعظم مذاکرات کی سربراہی کریں گی۔ ان کا ساتھ ڈیوڈ ڈیوس دیں گے جو یورپی یونین سے علیحدگی کے محکمے کے سربراہ ہیں۔ ان تمام معاملات کے باوجودممکنہ طورپر ایک سوال یہ بھی اٹھتا نظر آتاہے کہ کیا برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے اپنا ارادہ بدل سکتا ہے؟ چونکہ اس سے قبل کبھی بھی آرٹیکل 50 پر عمل کی نوبت نہیں آئی تھی اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔ لیکن اس آرٹیکل کے مصنف لارڈ کیر کا خیال ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔انہوں نے نومبر 2016 ء میں بی بی سی کو بتایا تھا: ‘یہ ناقابلِ تنسیخ نہیں ہے۔ آپ اس عمل کے دوران ارادہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم اگر ایسا ہوا تو بہت سے ملک اس پر برہم ہوں گے کیوں کہ اس میں سب کا بہت وقت ضائع ہو گا۔’


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل وجود - جمعه 09 جنوری 2026

قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس، چیف آف ڈیفنس فورسز کا ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ،لاہور گیریژن کا دورہ ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،آئی ایس پی آر پاک فوج ہرچیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے ت...

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف وجود - جمعه 09 جنوری 2026

بلوچستان میں دہشت گردی سے بے پناہ مشکلات ،کابینہ عوامی خدمت میں مصروف ہے این ایف سی ایورڈ میں پنجاب نے اپنے حصے کے11 ارب دیے،سیاسی قیادت سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ...

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 09 جنوری 2026

ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ذرائع پی ٹی آئی عوامی اجتماع کیلئے متبادل آپشنز پر غور،مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے...

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 07 جنوری 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف وجود - بدھ 07 جنوری 2026

اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر