وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پیٹرولیم صارفین پر ظلم‘دیگر ممالک کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ قیمتیں ادا کرنے پر مجبور

جمعرات 30 مارچ 2017 پیٹرولیم صارفین پر ظلم‘دیگر ممالک کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ قیمتیں ادا کرنے پر مجبور


ایک ایسے وقت جب پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں روبہ زوال ہیں اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی کمی کے سبب تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک معاشی انحطاط کا شکار ہیں اور معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اپنے اخراجات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، پاکستان میں حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام کو منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسیوں،ڈیوٹیز اور سرچارجز میں اضافے کے ذریعے عوام کو مسلسل زیر بار کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتی ہے۔
پاکستان میں تیل کی منصوعات پر نت نئے ٹیکسوں ،ڈیوٹیز اور سرچارجز کے نفاذ اور ان کی شرح میں بے انتہا اضافہ کیے جانے کی وجہ سے عوام کو پوری دنیا کے مقابلے میں تیل کی 38 فیصد زیادہ قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے جس کے نتیجے میںکار ، بھاری گاڑیوں ، صنعتوںاور زرعی مشینری استعمال کرنے والوں پربوجھ بڑھ رہاہے جس کی وجہ سے کرایوں ، نقل وحمل پرآنے والے اخراجات اور اس سب کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتاچلاجارہاہے۔جبکہ حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں روزبروز اضافے کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے ناقابل برداشت بوجھ سے لاپروا پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے اپنی آمدنی میں کمی پوری کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔حکومت دراصل اپنے غیر ضروری اخراجات اور کرپشن سے قومی خزانے پر پڑنے والے بے جا بوجھ کو کم کرنے کے لیے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام کو منتقل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات میں سب سے زیادہ ڈیزل استعمال ہوتاہے کیونکہ بھاری گاڑیوں اور زرعی اور صنعتی مشینری عام طورپر ڈیزل سے ہی چلتی ہیں۔ٹرانسپورٹر بھی خاص طورپر بھاری گاڑیاں چلانے والے بھی ڈیزل پر ہی انحصار کرتے ہیں ،ڈیزل کی قیمتوں میں زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوتاہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوتاہے اور عوام کو کم قیمت پر اجناس ، پھل اور سبزیاں فراہم کرنا آسان نہیں رہتا۔ ایک طرف زرعی مشینری ڈیزل سے چلتی ہے اور اس سے زرعی پیدا وار کی لاگت بڑھتی ہے، دوسری طرف ٹرانسپورٹر بھی ڈیزل پر ہی اکتفا کرتے ہیں جس کی وجہ سے کرائے میں اضافہ ہوتا ہے اورزرعی پیداوار کو کھیتوں سے منڈیوں تک پہنچانے کے اخراجات میں اضافہ ہوتاہے اور زرعی پیداوار کی قیمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے منفی اثرات کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ آئل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے جو رپورٹ تیار کرکے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی ہے اس میں واضح طورپر لکھا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میںتیل استعمال کرنے والے صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور انہیں ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس کی سب سے زیادہ شرح سے ادائیگی پر مجبور ہونا پڑا۔
اوگرا کی رپورٹ کے مطابق 2015-16 ءکے دوران پاکستان میں تیل کے صارفین نے ایک لیٹر ڈیزل پر 29.57 روپے جنرل سیلز ٹیکس ادا کیا،حکومت نے تیل کے صارفین سے ایک لیٹر ڈیزل پر 29.57 روپے جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان سے ہر لیٹر پر 6 روپے کی شرح سے پیٹرولیم لیوی بھی وصول کی۔اسی طرح پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو جن میں غریب اسکوٹر اور رکشہ والو ں کی اکثریت ہے فی لیٹر پیٹرول پر 15.22 روپے جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیاگیا۔مٹی کاتیل استعمال کرنے والوں کو فی لیٹر مٹی کے تیل یعنی کیروسین آئیل پر13.18 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل استعمال کرنے والوں کو12.21 روپے فی لیٹر جنرل سیلز ٹیکس اد ا کرنا پڑا۔پیٹرول ،ڈیزل اور کیروسین آئل استعمال کرنے والوں سے وصول کی جانے والی یہ رقم اپنی نوعیت کے اعتبار سے پاکستان کی پوری تاریخ کی سب سے زیادہ رقم ہے، یعنی اب تک پاکستان میں برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے عوام کی بے بسی سے اس طرح فائدہ اٹھانے اور اتنی بھاری شرح سے ڈیوٹیز اور لیویز وصول کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔
اس صورت حال پر اخبارات میں شور مچنے اورعوام کی جانب سے شدید ردعمل اور کئی ضمنی انتخابات سامنے آجانے کی وجہ سے حکومت نے بعد میںڈیزل پر وصول کیے جانے والے ٹیکس کی شرح کم کرکے19.39 روپے کردیا۔رواں مالی سال کے دوران پیٹرول پر وصول کیے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح10.71 روپے رکھی گئی جبکہ کیروسین پر جی ایس ٹی کی شرح2.83 روپے اورکیروسین آئل پر جی ایس ٹی کی شرح2.83 روپے مقر ر کی گئی۔
سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بالترتیب16.96 روپے،16.45 روپے اور15.71 روپے اور14.71 روپے تھی۔یہ ایک واضح امر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست صارفین اور بحیثیت مجموعی پورے ملک کے عوام پر پڑتاہے، پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر تمام ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی کمیابی کی صورت میں سامنے آتاہے۔
اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جب سردیوں میں پنجاب کے بعض علاقوں میں گیس کی فراہمی بند کی جاتی ہے تو گاڑیاں چلانے والے اور ٹرانسپورٹرز کو سی این جی کے بجائے پیٹرول کے استعمال پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹرول کی طلب میں بے انتہا اضافہ ہوجاتاہے اور حکومت کو پیٹرول پر ڈیوٹی ٹیکسوں اور جی ایس ٹی کی مد میں بھاری رقم ملنا شروع ہوجاتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات سے حکومت کو ہونے والی آمدنی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق حکومت ہر ماہ پیٹرولیم اور ڈیزل کے صارفین سے جی ایس ٹی کی مد میں 25 ارب روپے اورپیٹرولیم پر لیوی کی مد میں10 ارب روپے وصول کررہی ہے،یعنی صرف پیٹرولیم کی فروخت سے حکومت عوام سے ہر ماہ کم وبیش35 ارب روپے کی خطیر رقم وصول کررہی ہے، جو ملک کے کسی اور شعبے سے ممکن نہیں ہے۔
اب جبکہ عام انتخابات قریب ہیں اور انتخابی صف بندیا ں شروع ہورہی ہیں توقع کی جاتی ہے کہ حکومت پیٹرولیم اور ڈیزل کے صارفین پر جی ایس ٹی اور لیویز کے بوجھ میں مناسب حد تک کمی کرنے پر غور کرے گی تاکہ حکومت کے مخالفین اسے عوام کے سامنے حکمراں پارٹی کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔


متعلقہ خبریں


کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی وجود - هفته 14 دسمبر 2019

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد نے وسطی لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا، انہوں نے وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف نعرے بازی کی۔برطانیا میں پارلیمانی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد لندن کی سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین نے بورس جانسن میرے وزیراعظم نہیں اور بورس آئوٹ کے نعرے لگائے ، بینرز تھامے مظاہرین نے مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی، وزیراعظم بورس جانسن کی پارٹی نے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں وا...

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو وجود - هفته 14 دسمبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطی بالخصوص عراق میں واشنگٹن کے مفادات اور تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی قیمت ایران کو چکانا ہوگی کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران عراق میں ہمارے فوجی اڈوں پر میزائل اور راکٹ حملوں کے پیچھے ایرانی وفادار ملیشیائوں کا ہاتھ ہے ۔امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس موقع کو ایران کویقین دہانی کرکے بہتر موقع سمجھتے ہیں اور اسے یاد دلاتے ہیں کہ ایران یا اس کے کسی وفادار ایجنٹ نے امریکا یا اس کے اتحادیوں میں س...

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم وجود - هفته 14 دسمبر 2019

جرمنی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی'' را ''کے لیے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے والے جوڑے 50سالہ منموہن سنگھ اور 51سالہ کنول جیت کو بالتریب 18سال قید اور 180دن کی تنخواہ کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں فرینکفرٹ کی ایک عدالت نے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے پر دو بھارتی شہریوں کو سزائیں سنائی ہیں۔ دونوں شہری میاں بیوی ہیں اور کافی عرصے سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ یہ جوڑا جرمنی میں قیام پذیر دیگر کشمیریوں اور سکھوں کی معلومات اور سرگرمیوں ...

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ وجود - هفته 14 دسمبر 2019

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ کیا گیاہے ۔سعودی عرب میں بھی پہلی بار خود کار طریقے سے چلنے والی نئی گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں دو بسوں سے لوکل موٹرز اور ایزی مائل کمپنیوں کے اشتراک سے اس جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی(کاوسٹ)کے اس اقدام سے اسمارٹ بسوں کا پروگرام نافذ ہوگیا ہے جو بہت ...

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

امریکی ایئر فورس نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا ہے ، تین ماہ سے بھی کم وقت میں امریکی نیو کلیئر میزائل فورس کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا تجربہ ہے ۔بیلسٹک میزائل کیلی فورنیا میں وینڈن برگ ایئر فورس بیس سے داغا گیا جس نے بحر الکاہل میں ہدف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام نے اس میزائل تجربے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ، تاہم اسے امریکی نیوکلیئر میزائل ڈیفنس سسٹم کی آپریشنل صلاحیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو بھی امریکی ایئر فورس نے بین البراعظمی بیلسٹک می...

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

یکم نومبر کو ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ایران میں نومبر کے وسط میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پہلی ہلاکت سیرجان شہرمیں ہوئی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج ملک کے طول وعرض میں پھیل گیا۔ حکومت نے احتجاج کا دائرہ پھیلتے دیکھا تو انٹرنیٹ پرپابندی عائد کردی اور طاقت کا استعمال بڑھا دیا۔ ایرانی حکومت ک...

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا اور چین تجارتی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے اور معاہدے کے اصول بھی وضع کرلیے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری باقی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا ایک مرحلہ باقی ہے اور وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری ہے ۔"بلومبرگ" کا کہنا ہے کہ اسے چین اور امریکا کیدرمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے باخبر ذرائع کی طرف سے ا...

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کان...

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

اب کوئی میسجنگ یا چیٹنگ ایپ ہو یا روزمرہ کی زندگی، آپ کو بات چیت کے دوران دوسرے کی زبان نہ بھی آتی ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، آپ کو بس گوگل کے اس بہترین فیچر کو استعمال کرنا ہوگا۔درحقیقت گوگل کے اس فیچر کی بدولت بیشتر افراد تو کوئی دوسری زبان سیکھنے کی زحمت ہی نہیں کریں گے کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کے لیے گوگل ہے نا۔گوگل نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ میں انٹرپریٹر موڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو آپ کے فون میں رئیل ٹائم می...

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ فورس کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کو مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو ایران کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہمارے مفادات یا افواج پر حملہ کرتا ہے تو ہم فیصلہ کن طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مختلف اداروں، کمپنیوں اور افراد کے خل...

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالج کیمپسز میں یہودیوں کی مخالفت اور اسرائیل کا بائیکاٹ روکنے کے لیے نیا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ٹرمپ کے اس متنازع اقدام کے تحت ایسے تعلیمی اداروں کی حکومتی امداد روکی جاسکے گی جو یہودی اور اسرائیل مخالف واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں گے ۔صدارتی حکم نامے کے تحت محکمہ تعلیم کالج کیمپس میں یہود مخالف عناصر کے خلاف براہ راست کارروائی کر سکے گا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حکومت کو بحیثیت نسل، قوم یا مذہب یہودیت کی تشریح کی اجازت ہوگی ۔

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کررہا ہے ۔ جس کے لئے حکام کئی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائیگی، تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13ہزار ہے جن میں سے 5 ہزار سیکورٹی سے متعلق آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ باقی اہلکار افغان سیکورٹی فورسز ...

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور