... loading ...
وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوںمیڈیا سے گفتگومیں بتایاتھا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کاکام جاری ہے۔ نواز حکومت اپنی موجودہ مدت حکمرانی کاغالباً آخری بجٹ مئی کے مہینے میں ہی پیش کردے گی۔
بجٹ کی تیاری کسی بھی حکومت کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ دنیا کے انتہائی باوسیلہ ممالک میں بھی بجٹ تیارکرنا آسان کام نہیں ہوتا جس کا اندازہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر پورے امریکا میں ہونے والی بحث اور اس پر ہر زاویہ سے ہونے والی تنقید سے لگایاجاسکتاہے، چہ جائیکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جہاں بجٹ کی تیاری کے لیے ملک اور عوام کی ضروریات کے ساتھ ہی سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔
موجودہ حکومت کا یہ بجٹ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کاحامل ہوگا کہ یہ اس حکومت کے پورے دور حکمرانی کی تصویر ہوگا اور اسی بجٹ میں رہ جانے والی خامیوں کو بنیاد بناکر اگلے عام انتخابات میں حکومت کے مخالفین عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت کے پاس بھی عوام کے سامنے اپنے پورے دور حکمرانی کی خوبیوں کی عکاسی کے لیے یہ بجٹ ہی ہوگا اور عوام اس بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز اور لگائے گئے ٹیکسوں یا عوام کو دی گئی چھوٹ کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر حکمرانی کاحق دینے یا نہ دینے کافیصلہ کریں گے۔
موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ انتخابات میں سابقہ حکومت کی ناکامیوں کو ہی بنیاد بنایاتھا اور خاص طور پر ملک میں بجلی کے شدید بحران کو حل کرنے کا وعدہ کرکے عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے،اگلے عام انتخابات میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہوگی فرق صرف یہ ہوگا کہ اگلے عام انتخابات میں مخالفین کے پاس موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور عوام سے کئے وعدے پورے نہ کیے جانے کی وجہ سے عام آدمی کو پہنچنے والی مشکلات ومصائب کی ایک طویل فہرست ہوگی جن میں سے بہت کاجواب دینا شاید حکمراں پارٹی کے شعلہ بیان مقرروں کے پاس نہیں ہوگا۔
محکمہ موسمیات پہلے ہی یہ پیش گوئی کرچکاہے کہ دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کی لہر سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا اور رواں سال پاکستان میں گرمی کی لہر کچھ زیادہ ہی شدید اور طویل ہوگی۔اس طرح لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کی قلعی پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی اس کے ساتھ ہی بجلی کے بلوں کی صورت حال سونے پر سہاگے کاکام کرے گی۔کیونکہ یہ بات تو شاید حکمراں بھی محسوس کرچکے ہوں گے کہ اب اس ملک کے عوام میں بھاری بلوں کابوجھ برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں رہی ہے اور اپوزیشن ان بھاری بلوں اور ایوان وزیر اعظم کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو یقیناً اپنی انتخابی مہم میں کلیدی حیثیت دیں گے اس طرح بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بھاری بل اس حکومت کے لیے تازیانے کاکام دے سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور ایک ایسا متوازن بجٹ پیش کرنا جس کے ذریعے عوام کو مزید زیر بار کیے بغیر تمام مالیاتی تقاضے پورے کرلیے جائیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے ارکان کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اس بجٹ میں نہ صرف حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے زیادہ رقم رکھنا ہوگی بلکہ بجٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال ترقیاتی منصوبوں، خاص طورپر وزیر اعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگراموں کے لیے رکھے گئے فنڈز کے استعمال اور اس سے عوام کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے بھی وضاحتیں پیش کرنا ہوں گی، اور یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب تک موجودہ حکومت ایسا کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچ رہاہو۔جہاں تک موٹرویز کی تعمیرکامعاملہ ہے تو یہ کبھی بھی عام آدمی کامسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اس سے عام طورپر کار نشینوں اورٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچتاہے جن کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے،عام آدمی کی اکثریت کو تو بعض اوقات زندگی بھر اپنے علاقے سے باہر نکلنے کاموقع ہی میسر نہیں آتا اس لیے موٹر وےز کی ان کے سامنے کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔عام آدمی تو یہ دیکھتاہے کہ جب وہ بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچتاہے تو اس کو علاج معالجے کی کتنی سہولت ملتی ہے ۔وہ جب اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے لے جاتا ہے تو اس کے بچے کو کتنی آسانی سےتعلیم کی سہولت میسر آتی ہے ،سرکاری اسکولوں میں اس کے بچوں کو کس طرح پڑھایا جارہاہے اور حصول تعلیم کے بعد اس کے بچے کو ملازمت کتنی آسانی سے مل سکتی ہے۔عام آدمی تو صرف یہ دیکھتاہے کہ سارا دن کی شدید محنت کے بعد ملنے والی اجرت کی رقم لے کر جب وہ بازار جاتاہے تو اس رقم کے عوض اس کے اہل خانہ کی خوراک کی ضروریات کس حد تک پوری ہوتی ہیں اور خوراک کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کے لیے اس کے پاس کتنی رقم باقی بچتی ہے۔ظاہر ہے کہ کارکردگی کے اس پیمانے پر حکمراں پورے نہیں اترسکے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے سال کاایسا بجٹ پیش کرنا جو عام آدمی کے لیے قابل قبول بھی ہو اور جس کی بنیاد پر ارباب حکومت اگلے عام انتخاب میں عوام سے ووٹ مانگ سکیں بلاشبہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اگلے سال کے بجٹ میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں حسب معمول 10-15 فیصد تک اضافے کی سفارش کی جائے گی،جبکہ پی ایس ڈی پی کے لیے بھی 700 بلین روپے سے زیادہ رقم رکھنا مشکل ہوگا جو کہ رواں سا ل کے پی ایس ڈی پی سے صرف 7 فیصد زیادہ ہوگی،اس میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے50-80بلین روپے تک کی رقم شامل ہوگی جو وزیراعظم اپنے پسند کے ارکان قومی اسمبلی کو اپنے حلقوں میں اپنی صوابدید کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لیے فراہم کرتے ہیں اور جن کے استعمال پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ کی تمام تر کوششوں کے بعد باوجود ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور ٹیکس چوری کی شرح میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے بے انتہا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس اتنی وافر رقم بچ ہی نہیں سکتی کہ عوام کو مزید کوئی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں سوچا بھی جاسکے۔
یہ خبریں بھی عام ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم کی مصنوعات پر کئی طرح کے ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہے ہیں جس کابراہ راست اثر اس ملک کے غریب عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی اپنی زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لیے شدید کرب کاشکار ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کے پاس بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے جو اطلاعات کے مطابق اب ہماری مجموعی ملکی پیداوار کے 2.4 فیصد سے بھی تجاوز کرگیاہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ کی ترجیحات طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کااعلان اگلے مہینے ہوگا جس میں آمدنی اور ممکنہ اخراجات پر غور کے بعدبجٹ کی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا یعنی اس طرح بجٹ کی تیاری میں مصروف ٹیم کے ارکان کو ایک گائیڈ لائن دیدی جائے گی۔اب تک کے اندازوں کے مطابق نئے بجٹ میں آمدنی اور خرچ میں تفاوت کم از کم 180 بلین روپے ہوگا جس کو پوراکرنے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو غیر ملکی اور ملکی قرضوں کے علاوہ نئے ٹیکسوں اورسرچارجز پر ہی گزارا کرنا ہوگا۔
اس پوری صورتحال کے باوجود ایک امید افزا بات وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے یہ اشارہ دیاہے کہ نیا بجٹ عوام دوست ہوگا اور اس سے ملک کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔اسحاق ڈار کے اس بیان سے یہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ اور ان کی ٹیم میں شامل ماہرین عوام کو بجٹ کی شکل میں شکر میں لپٹی ہوئی کڑوی گولی دینے کی تیاری کررہے ہیں جس کی کڑواہٹ کا اندازہ فوری طورپر نہیں ہوسکے گا اور وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سب اچھا اور بہت اچھا کے نعرے سمیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اور جب تک اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے انتخابی عمل مکمل ہوچکاہوگا۔
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...