وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

بدھ 29 مارچ 2017 موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوںمیڈیا سے گفتگومیں بتایاتھا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کاکام جاری ہے۔ نواز حکومت اپنی موجودہ مدت حکمرانی کاغالباً آخری بجٹ مئی کے مہینے میں ہی پیش کردے گی۔
بجٹ کی تیاری کسی بھی حکومت کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ دنیا کے انتہائی باوسیلہ ممالک میں بھی بجٹ تیارکرنا آسان کام نہیں ہوتا جس کا اندازہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر پورے امریکا میں ہونے والی بحث اور اس پر ہر زاویہ سے ہونے والی تنقید سے لگایاجاسکتاہے، چہ جائیکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جہاں بجٹ کی تیاری کے لیے ملک اور عوام کی ضروریات کے ساتھ ہی سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔
موجودہ حکومت کا یہ بجٹ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کاحامل ہوگا کہ یہ اس حکومت کے پورے دور حکمرانی کی تصویر ہوگا اور اسی بجٹ میں رہ جانے والی خامیوں کو بنیاد بناکر اگلے عام انتخابات میں حکومت کے مخالفین عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت کے پاس بھی عوام کے سامنے اپنے پورے دور حکمرانی کی خوبیوں کی عکاسی کے لیے یہ بجٹ ہی ہوگا اور عوام اس بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز اور لگائے گئے ٹیکسوں یا عوام کو دی گئی چھوٹ کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر حکمرانی کاحق دینے یا نہ دینے کافیصلہ کریں گے۔
موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ انتخابات میں سابقہ حکومت کی ناکامیوں کو ہی بنیاد بنایاتھا اور خاص طور پر ملک میں بجلی کے شدید بحران کو حل کرنے کا وعدہ کرکے عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے،اگلے عام انتخابات میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہوگی فرق صرف یہ ہوگا کہ اگلے عام انتخابات میں مخالفین کے پاس موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور عوام سے کئے وعدے پورے نہ کیے جانے کی وجہ سے عام آدمی کو پہنچنے والی مشکلات ومصائب کی ایک طویل فہرست ہوگی جن میں سے بہت کاجواب دینا شاید حکمراں پارٹی کے شعلہ بیان مقرروں کے پاس نہیں ہوگا۔
محکمہ موسمیات پہلے ہی یہ پیش گوئی کرچکاہے کہ دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کی لہر سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا اور رواں سال پاکستان میں گرمی کی لہر کچھ زیادہ ہی شدید اور طویل ہوگی۔اس طرح لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کی قلعی پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی اس کے ساتھ ہی بجلی کے بلوں کی صورت حال سونے پر سہاگے کاکام کرے گی۔کیونکہ یہ بات تو شاید حکمراں بھی محسوس کرچکے ہوں گے کہ اب اس ملک کے عوام میں بھاری بلوں کابوجھ برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں رہی ہے اور اپوزیشن ان بھاری بلوں اور ایوان وزیر اعظم کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو یقیناً اپنی انتخابی مہم میں کلیدی حیثیت دیں گے اس طرح بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بھاری بل اس حکومت کے لیے تازیانے کاکام دے سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور ایک ایسا متوازن بجٹ پیش کرنا جس کے ذریعے عوام کو مزید زیر بار کیے بغیر تمام مالیاتی تقاضے پورے کرلیے جائیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے ارکان کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اس بجٹ میں نہ صرف حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے زیادہ رقم رکھنا ہوگی بلکہ بجٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال ترقیاتی منصوبوں، خاص طورپر وزیر اعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگراموں کے لیے رکھے گئے فنڈز کے استعمال اور اس سے عوام کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے بھی وضاحتیں پیش کرنا ہوں گی، اور یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب تک موجودہ حکومت ایسا کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچ رہاہو۔جہاں تک موٹرویز کی تعمیرکامعاملہ ہے تو یہ کبھی بھی عام آدمی کامسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اس سے عام طورپر کار نشینوں اورٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچتاہے جن کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے،عام آدمی کی اکثریت کو تو بعض اوقات زندگی بھر اپنے علاقے سے باہر نکلنے کاموقع ہی میسر نہیں آتا اس لیے موٹر وےز کی ان کے سامنے کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔عام آدمی تو یہ دیکھتاہے کہ جب وہ بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچتاہے تو اس کو علاج معالجے کی کتنی سہولت ملتی ہے ۔وہ جب اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے لے جاتا ہے تو اس کے بچے کو کتنی آسانی سےتعلیم کی سہولت میسر آتی ہے ،سرکاری اسکولوں میں اس کے بچوں کو کس طرح پڑھایا جارہاہے اور حصول تعلیم کے بعد اس کے بچے کو ملازمت کتنی آسانی سے مل سکتی ہے۔عام آدمی تو صرف یہ دیکھتاہے کہ سارا دن کی شدید محنت کے بعد ملنے والی اجرت کی رقم لے کر جب وہ بازار جاتاہے تو اس رقم کے عوض اس کے اہل خانہ کی خوراک کی ضروریات کس حد تک پوری ہوتی ہیں اور خوراک کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کے لیے اس کے پاس کتنی رقم باقی بچتی ہے۔ظاہر ہے کہ کارکردگی کے اس پیمانے پر حکمراں پورے نہیں اترسکے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے سال کاایسا بجٹ پیش کرنا جو عام آدمی کے لیے قابل قبول بھی ہو اور جس کی بنیاد پر ارباب حکومت اگلے عام انتخاب میں عوام سے ووٹ مانگ سکیں بلاشبہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اگلے سال کے بجٹ میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں حسب معمول 10-15 فیصد تک اضافے کی سفارش کی جائے گی،جبکہ پی ایس ڈی پی کے لیے بھی 700 بلین روپے سے زیادہ رقم رکھنا مشکل ہوگا جو کہ رواں سا ل کے پی ایس ڈی پی سے صرف 7 فیصد زیادہ ہوگی،اس میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے50-80بلین روپے تک کی رقم شامل ہوگی جو وزیراعظم اپنے پسند کے ارکان قومی اسمبلی کو اپنے حلقوں میں اپنی صوابدید کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لیے فراہم کرتے ہیں اور جن کے استعمال پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ کی تمام تر کوششوں کے بعد باوجود ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور ٹیکس چوری کی شرح میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے بے انتہا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس اتنی وافر رقم بچ ہی نہیں سکتی کہ عوام کو مزید کوئی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں سوچا بھی جاسکے۔
یہ خبریں بھی عام ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم کی مصنوعات پر کئی طرح کے ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہے ہیں جس کابراہ راست اثر اس ملک کے غریب عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی اپنی زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لیے شدید کرب کاشکار ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کے پاس بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے جو اطلاعات کے مطابق اب ہماری مجموعی ملکی پیداوار کے 2.4 فیصد سے بھی تجاوز کرگیاہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ کی ترجیحات طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کااعلان اگلے مہینے ہوگا جس میں آمدنی اور ممکنہ اخراجات پر غور کے بعدبجٹ کی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا یعنی اس طرح بجٹ کی تیاری میں مصروف ٹیم کے ارکان کو ایک گائیڈ لائن دیدی جائے گی۔اب تک کے اندازوں کے مطابق نئے بجٹ میں آمدنی اور خرچ میں تفاوت کم از کم 180 بلین روپے ہوگا جس کو پوراکرنے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو غیر ملکی اور ملکی قرضوں کے علاوہ نئے ٹیکسوں اورسرچارجز پر ہی گزارا کرنا ہوگا۔
اس پوری صورتحال کے باوجود ایک امید افزا بات وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے یہ اشارہ دیاہے کہ نیا بجٹ عوام دوست ہوگا اور اس سے ملک کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔اسحاق ڈار کے اس بیان سے یہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ اور ان کی ٹیم میں شامل ماہرین عوام کو بجٹ کی شکل میں شکر میں لپٹی ہوئی کڑوی گولی دینے کی تیاری کررہے ہیں جس کی کڑواہٹ کا اندازہ فوری طورپر نہیں ہوسکے گا اور وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سب اچھا اور بہت اچھا کے نعرے سمیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اور جب تک اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے انتخابی عمل مکمل ہوچکاہوگا۔


متعلقہ خبریں


دسمبر میں نجی شعبے کے قرض لینے میں 65 فیصد تک کا اضافہ وجود - اتوار 24 جنوری 2021

دسمبر 2020 میں نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرض لینے میں 65 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔مرکزی بینک کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے نے جولائی سے 8 جنوری 21ـ2020 تک بینکوں سے 215 ارب 50 کروڑ روپے قرض لیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں معاشی سرگرمیاں بڑھنے کے دوران 130 ارب 20 کروڑ روپے تھا۔دسمبر میں قرضوں کے حصول میں تیزی گزشتہ 5 ماہ کی شدید کمی کے مقابلے میں ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر سامنے آئی کیونکہ رواں مالی سال کے گزشتہ 5 ماہ میں اس میں مالی سال 20 کے اسی عرصے کے...

دسمبر میں نجی شعبے کے قرض لینے میں 65 فیصد تک کا اضافہ

سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ ، چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا وجود - اتوار 24 جنوری 2021

سوشل میڈیا پرفیک اکائونٹ کے حوالے سے چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا ۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ آزادی رائے کا احترام کرتے ہیں ،فیک اکائونٹ کی آڑ میں کسی کو فیک نام سے کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پر غیر اسلامی مواد نشر کرنا خلاف قانون ہے ، فیک اکاوئنٹ کے حوالے سے بہت جلد قانون سازی کی جائیگی ، انھیں قانون کے دائرے میں لائیں گے ۔

سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ ، چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا

پاکستان ،کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر نمایاں کمی وجود - اتوار 24 جنوری 2021

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران پہلی بار مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے ۔وزارتِ صحت کے حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب پاکستان واپس آ گیا ہے ، 10 نومبر 2020ء کے بعد کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، جن میں اب ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔وزارتِ صحت کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 تا 8 نومبر 2020ء کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3 اعشاریہ 9 کے قریب تھی اب پاکستان کورونا وائرس ...

پاکستان ،کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر نمایاں کمی

کووڈ کے ہرتین میں سے ایک مریض میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تحقیق وجود - اتوار 24 جنوری 2021

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ایک تہائی افراد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں،، مگر اس دوران وہ اسے دیگر افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اسکریپپس ریسرچ کی اس تحقیق میں میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد ہونے والی 61 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر کم از کم ہر 3 میں سے ایک فرد میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین م...

کووڈ کے ہرتین میں سے ایک مریض میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تحقیق

امریکا کے عالمی نشریاتی اداروں میں ٹرمپ کے مقرر کردہ اعلی عہدے دار فارغ وجود - اتوار 24 جنوری 2021

امریکا کے وفاقی بجٹ سے چلنے والے تین بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے سربراہوں کو صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ نے ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا کی قائم مقام سربراہ کیلو شا نے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے ڈائریکٹر ٹیڈ لی پئین، ریڈیو فری ایشیا کے ڈائریکٹراسٹیفن ییٹس اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس کی ڈائریکٹر وکٹوریا کوٹس کو فارغ خطی دے دی ہے ۔ انھیں سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک ماہ قبل ہی ان عہدوں پر م...

امریکا کے عالمی نشریاتی اداروں میں ٹرمپ کے مقرر کردہ اعلی عہدے دار فارغ

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے یکطرفہ ریفرنڈم کا اعلان وجود - اتوار 24 جنوری 2021

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ایس این پی نے یکطرفہ طور پر دوسرا ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مئی میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے انتخابات میں اسکاٹش نیشنل پارٹی جیتی تو قانونی ریفرنڈم کرایا جائے گا۔اسکاٹش نیشنل پارٹی کے مطابق گیارہ نکاتی روڈ میپ پیش کیا جائے گا جبکہ برطانوی حکومت کی جانب سے ریفرنڈم روکنے کی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ایس این پی کے رہنما کیتھ براون کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس ریفرنڈم کے لیے حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی۔

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے یکطرفہ ریفرنڈم کا اعلان

معروف امریکی ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے وجود - اتوار 24 جنوری 2021

امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے لیری کنگ کے ٹوئٹر اکائونٹ پر اور میڈیا کی جانب سے ایک پیغام میں اس کی تصدیق کی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق اس پیغام میں لکھا گیا کہ ہمارے شریک بانی، میزبان اور دوست لیری کنگ لاس اینجلس کے سیڈرز سینائی میڈیکل سینٹر میں 87 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔لیری کنگ نے اس چینیل میں 25 سال کے دوران 30 ہزار سے زیادہ انٹرویوز کیے ۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے امریکا کے صدور رچرڈ نکسن سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کے ا...

معروف امریکی ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے

کورونا پر تحقیق ، عرب دنیا میں سعودی عرب پہلے اور دنیا میں 14 ویں نمبر پر وجود - اتوار 24 جنوری 2021

سعودی عرب نے جہاں کرونا کی وبا پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی وہیں اس موذی وبا کی روک تھام کے لیے سائنسی اور تحقیقی میدان میں بھی پیش پیش رہا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مملکت کی کئی جامعات اس وقت کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے مختلف سائنسی طریقوں پر کام کر رہی ہیں۔ چند ماہ قبل عالمی سطح پر سعودی عرب کا شمار کرونا سے متعلق سائنسی تحقیقات کے میدان میں 17 ویں نمبر پر تھا اور آج اس میدان میں مزید آگے بڑھ کر سعودی عرب عالمی سطح پر 14 ویں نمبر پرآ گیا ہے ۔ اس طرح سعودی عرب جی20گروپ ...

کورونا پر تحقیق ، عرب دنیا میں سعودی عرب پہلے اور دنیا میں 14 ویں نمبر پر

سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ وجود - هفته 23 جنوری 2021

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سمیت دیگر تلی ہوئی غذائیں کھانے سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔جرنل ہارٹ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تلی اشیا دل کی شریانوں سے متعلق بیمایوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، ان امراض میں ہارٹ اٹیک اور فالج نمایاں ہیں۔تحقیق کے مطابق تلی ہوئی غذاوں سے فالج کا خطرہ 28 فیصد، امراض قلب کا 22 فیصد جبکہ ہارٹ فیلیئر کا 37 فیصد بڑھ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اوسطا ہر ہفتے 114 گرام مذکورہ غذاوں کا است...

سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ

پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں وجود - هفته 23 جنوری 2021

مقررین نے کہا کہ پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں۔مقررین نے پاکستان پیس کالیکٹو،نیشنل کائونٹرٹیررازم اتھارٹی ،سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تحت منعقدہ محفوظ خیراتی اداروں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں جب کہ 26 فیصد پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کی دی ہوئی خیراتی رقم کہاں استعمال ہورہی ہے ۔ڈسٹرکٹ پروجیکٹ کوآرڈینیٹر پاکستان پیس کالیکٹو رانا آصف حبیب نے کہا کہ خیراتی رقم کے درست استعمال کیلیے قوانین پر عمل د...

پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی وجود - هفته 23 جنوری 2021

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی ہے ۔ اس ضمن میںترجمان نے زیر گردش پیغام کی تردید کی ہے جس میں اسٹیٹ بینک سے یہ ہدایت منسوب کی گئی ہے کہ اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے کی حدایک ہزار روپے تک محدود کردی گئی ہے ،ترجمان کے مطابق اسٹیٹ بینک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی لمٹ پر کوئی حد مقرر نہیں کرتا،اس حد کا فیصلہ بینک کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی

پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر مکوں کی بارش وجود - هفته 23 جنوری 2021

خیبرختونخوا کے شہر پشاور میں پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ہوئے ۔ قیوم اسٹیڈیم میں منعقد ٹورنامنٹ میں باکسرز نے ایک دوسرے پر مکوں کی بارش کر دی، ہمسایہ ملکوں کے کھلاڑیوں کے درمیان زبردست مقابلوں سے شائقین خوب لطف اندوز ہوئے ۔قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاورمیں پاکستان اور افغانستان کے باکسرز کے درمیان پروفیشنل باکسنگ کے مقابلے ہوئے جن میں باکسنگ کونسل اور محکمہ کھیل خیبر پختونخوا کے زیراہتمام ایک روزہ ایونٹ میں 12 افغان کھلاڑیوں سمیت 24 باکسرز نے حصہ لیا۔مقابلوں میں افغا...

پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر مکوں کی بارش