وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

بدھ 29 مارچ 2017 موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوںمیڈیا سے گفتگومیں بتایاتھا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کاکام جاری ہے۔ نواز حکومت اپنی موجودہ مدت حکمرانی کاغالباً آخری بجٹ مئی کے مہینے میں ہی پیش کردے گی۔
بجٹ کی تیاری کسی بھی حکومت کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ دنیا کے انتہائی باوسیلہ ممالک میں بھی بجٹ تیارکرنا آسان کام نہیں ہوتا جس کا اندازہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر پورے امریکا میں ہونے والی بحث اور اس پر ہر زاویہ سے ہونے والی تنقید سے لگایاجاسکتاہے، چہ جائیکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جہاں بجٹ کی تیاری کے لیے ملک اور عوام کی ضروریات کے ساتھ ہی سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔
موجودہ حکومت کا یہ بجٹ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کاحامل ہوگا کہ یہ اس حکومت کے پورے دور حکمرانی کی تصویر ہوگا اور اسی بجٹ میں رہ جانے والی خامیوں کو بنیاد بناکر اگلے عام انتخابات میں حکومت کے مخالفین عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت کے پاس بھی عوام کے سامنے اپنے پورے دور حکمرانی کی خوبیوں کی عکاسی کے لیے یہ بجٹ ہی ہوگا اور عوام اس بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز اور لگائے گئے ٹیکسوں یا عوام کو دی گئی چھوٹ کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر حکمرانی کاحق دینے یا نہ دینے کافیصلہ کریں گے۔
موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ انتخابات میں سابقہ حکومت کی ناکامیوں کو ہی بنیاد بنایاتھا اور خاص طور پر ملک میں بجلی کے شدید بحران کو حل کرنے کا وعدہ کرکے عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے،اگلے عام انتخابات میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہوگی فرق صرف یہ ہوگا کہ اگلے عام انتخابات میں مخالفین کے پاس موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور عوام سے کئے وعدے پورے نہ کیے جانے کی وجہ سے عام آدمی کو پہنچنے والی مشکلات ومصائب کی ایک طویل فہرست ہوگی جن میں سے بہت کاجواب دینا شاید حکمراں پارٹی کے شعلہ بیان مقرروں کے پاس نہیں ہوگا۔
محکمہ موسمیات پہلے ہی یہ پیش گوئی کرچکاہے کہ دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کی لہر سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا اور رواں سال پاکستان میں گرمی کی لہر کچھ زیادہ ہی شدید اور طویل ہوگی۔اس طرح لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کی قلعی پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی اس کے ساتھ ہی بجلی کے بلوں کی صورت حال سونے پر سہاگے کاکام کرے گی۔کیونکہ یہ بات تو شاید حکمراں بھی محسوس کرچکے ہوں گے کہ اب اس ملک کے عوام میں بھاری بلوں کابوجھ برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں رہی ہے اور اپوزیشن ان بھاری بلوں اور ایوان وزیر اعظم کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو یقیناً اپنی انتخابی مہم میں کلیدی حیثیت دیں گے اس طرح بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بھاری بل اس حکومت کے لیے تازیانے کاکام دے سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور ایک ایسا متوازن بجٹ پیش کرنا جس کے ذریعے عوام کو مزید زیر بار کیے بغیر تمام مالیاتی تقاضے پورے کرلیے جائیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے ارکان کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اس بجٹ میں نہ صرف حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے زیادہ رقم رکھنا ہوگی بلکہ بجٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال ترقیاتی منصوبوں، خاص طورپر وزیر اعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگراموں کے لیے رکھے گئے فنڈز کے استعمال اور اس سے عوام کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے بھی وضاحتیں پیش کرنا ہوں گی، اور یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب تک موجودہ حکومت ایسا کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچ رہاہو۔جہاں تک موٹرویز کی تعمیرکامعاملہ ہے تو یہ کبھی بھی عام آدمی کامسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اس سے عام طورپر کار نشینوں اورٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچتاہے جن کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے،عام آدمی کی اکثریت کو تو بعض اوقات زندگی بھر اپنے علاقے سے باہر نکلنے کاموقع ہی میسر نہیں آتا اس لیے موٹر وےز کی ان کے سامنے کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔عام آدمی تو یہ دیکھتاہے کہ جب وہ بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچتاہے تو اس کو علاج معالجے کی کتنی سہولت ملتی ہے ۔وہ جب اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے لے جاتا ہے تو اس کے بچے کو کتنی آسانی سےتعلیم کی سہولت میسر آتی ہے ،سرکاری اسکولوں میں اس کے بچوں کو کس طرح پڑھایا جارہاہے اور حصول تعلیم کے بعد اس کے بچے کو ملازمت کتنی آسانی سے مل سکتی ہے۔عام آدمی تو صرف یہ دیکھتاہے کہ سارا دن کی شدید محنت کے بعد ملنے والی اجرت کی رقم لے کر جب وہ بازار جاتاہے تو اس رقم کے عوض اس کے اہل خانہ کی خوراک کی ضروریات کس حد تک پوری ہوتی ہیں اور خوراک کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کے لیے اس کے پاس کتنی رقم باقی بچتی ہے۔ظاہر ہے کہ کارکردگی کے اس پیمانے پر حکمراں پورے نہیں اترسکے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے سال کاایسا بجٹ پیش کرنا جو عام آدمی کے لیے قابل قبول بھی ہو اور جس کی بنیاد پر ارباب حکومت اگلے عام انتخاب میں عوام سے ووٹ مانگ سکیں بلاشبہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اگلے سال کے بجٹ میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں حسب معمول 10-15 فیصد تک اضافے کی سفارش کی جائے گی،جبکہ پی ایس ڈی پی کے لیے بھی 700 بلین روپے سے زیادہ رقم رکھنا مشکل ہوگا جو کہ رواں سا ل کے پی ایس ڈی پی سے صرف 7 فیصد زیادہ ہوگی،اس میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے50-80بلین روپے تک کی رقم شامل ہوگی جو وزیراعظم اپنے پسند کے ارکان قومی اسمبلی کو اپنے حلقوں میں اپنی صوابدید کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لیے فراہم کرتے ہیں اور جن کے استعمال پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ کی تمام تر کوششوں کے بعد باوجود ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور ٹیکس چوری کی شرح میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے بے انتہا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس اتنی وافر رقم بچ ہی نہیں سکتی کہ عوام کو مزید کوئی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں سوچا بھی جاسکے۔
یہ خبریں بھی عام ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم کی مصنوعات پر کئی طرح کے ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہے ہیں جس کابراہ راست اثر اس ملک کے غریب عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی اپنی زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لیے شدید کرب کاشکار ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کے پاس بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے جو اطلاعات کے مطابق اب ہماری مجموعی ملکی پیداوار کے 2.4 فیصد سے بھی تجاوز کرگیاہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ کی ترجیحات طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کااعلان اگلے مہینے ہوگا جس میں آمدنی اور ممکنہ اخراجات پر غور کے بعدبجٹ کی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا یعنی اس طرح بجٹ کی تیاری میں مصروف ٹیم کے ارکان کو ایک گائیڈ لائن دیدی جائے گی۔اب تک کے اندازوں کے مطابق نئے بجٹ میں آمدنی اور خرچ میں تفاوت کم از کم 180 بلین روپے ہوگا جس کو پوراکرنے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو غیر ملکی اور ملکی قرضوں کے علاوہ نئے ٹیکسوں اورسرچارجز پر ہی گزارا کرنا ہوگا۔
اس پوری صورتحال کے باوجود ایک امید افزا بات وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے یہ اشارہ دیاہے کہ نیا بجٹ عوام دوست ہوگا اور اس سے ملک کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔اسحاق ڈار کے اس بیان سے یہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ اور ان کی ٹیم میں شامل ماہرین عوام کو بجٹ کی شکل میں شکر میں لپٹی ہوئی کڑوی گولی دینے کی تیاری کررہے ہیں جس کی کڑواہٹ کا اندازہ فوری طورپر نہیں ہوسکے گا اور وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سب اچھا اور بہت اچھا کے نعرے سمیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اور جب تک اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے انتخابی عمل مکمل ہوچکاہوگا۔


متعلقہ خبریں


کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیو یارک ٹائمز نے کورونا کے خلاف مودی سرکار کی پالیسیوں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں۔نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی عوام حکومت پر اعتماد کھونے لگے ہیں، سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں جب کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں کیسز کم ہیں، جنوبی ایشیاء میں لاک ڈاؤن ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی اہم تھے، جنہیں مودی حکومت نے نظر انداز کیا۔رپورٹ میں کہا گیا...

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز

تجارتی جنگ عروج پر، چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کیلئے خطرناک قرار وجود - جمعرات 28 مئی 2020

چین 2022 میں ایک ڈیجیٹل یوآن کرنسی لانا چاہتا ہے جس کا نام ای آر ایم بی رکھا گیا ہے۔ 2022 میں چین جانے والے لوگوں کو اس نئی ڈیجیٹل کرنسی میں خرید و فروخت یا لین دین کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ ایسی کرنسی ہوگی جو نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی آپ اسے نوٹوں کی طرح ہاتھ میں پکڑ سکیں گے اور یہ کوئی خیالی بات نہیں ہے۔ایسے وقت میں جب دنیا کا ہر ملک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے چین ڈیجیٹل یوآن پر پائلٹ پروجیکٹ لانچ کرنے میں مصروف ہے۔گذشتہ ماہ چین کے مرکزی بینک پیپلز ب...

تجارتی جنگ عروج پر، چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کیلئے خطرناک قرار

کورونا کے باعث ہالی وڈ کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان وجود - جمعرات 28 مئی 2020

عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں عالمی معیشت کو دھچکا لگا وہیں ہالی وڈ انڈسٹری کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر کے سینما گھر بند ہونے سے فلم انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔جیمزبانڈ،ونڈر وومن اور ایونجرز سمیت بڑے بڑیسپر ہیروز کی فلموں کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔ جیمز بانڈ زیرو زیرو سیون کو جن کی فلم نوٹائم ٹو ڈائی کو اپریل میں ریلیز کیا جانا تھا لیکن کورونا وائرس کے سبب شائقین اب نومبر میں جیمز بانڈ کو ایکشن میں دیکھیں گے۔کورونا وائرس زیاد...

کورونا کے باعث ہالی وڈ کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا سپاہی کی ویڈیووائرل وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا، سوشل میڈیا پر نیپال کے سپاہی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت اور نیپال کے درمیان کشیدگی کا تعلق ہے تو بھارت کی طرف سے کھولی گئی ایک نئی سڑک جومتنازعہ علاقہ سے گزرتی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی تنازعہ پیداکردیاہے۔یہ رابطہ سڑک بھارتی ریاست اترکھنڈ کے علاقہ دھرچلا کو چین کے ساتھ بھارت کی سرحدلائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب لیپولیکھ پاس سے ملاتی ہے،بھارت کا کہنا ہے کہ یہ سڑک کیلاشمن سرورارجانے والے ...

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا سپاہی کی ویڈیووائرل

جنگ کیلئے مضبوط تیاری شروع کردیں، چینی صدر کا فوج کوتیار رہنے کا حکم وجود - جمعرات 28 مئی 2020

چینی صدر شی جن پنگ نے پیپلز لبریشن آرمی سے کہا ہے کہ ملک کا دفاع مزید مضبوط کیا جائے، فوج بد ترین حالات کے لیے اپنی مشقیں مکمل کر لے۔پیپلز لبریشن آرمی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ قومی خود مختاری، سیکورٹی اور ترقی سے منسلک مفادات کی حفاظت کی جائے گی۔چینی صدر نے کہا کہ تمام حالات سے فوری اور موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے فوج اپنی ٹریننگ کو بڑھائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ کی طرف سے فوج کو تیار رہنے کے حکم کو بھارت کی...

جنگ کیلئے مضبوط تیاری شروع کردیں، چینی صدر کا فوج کوتیار رہنے کا حکم

دبئی کا آج سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اعلان وجود - بدھ 27 مئی 2020

دبئی نے (آج) بدھ 27 مئی سے جِم ، سینما گھر اور دوسری کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے ۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق کاروباروں کو صبح چھے بجے سے رات گیارہ بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی لیکن انھیں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا یہ اعلان دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد کے زیر صدارت سپریم کمیٹی برائے بحران اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ کے ورچوئل اجلاس کے بعد کیا گیا ہے...

دبئی کا آج سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اعلان

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے 'ڈبلیو ایچ او وجود - بدھ 27 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہورہی ہے اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہوجائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ بہت سارے ممالک میں کیسز کم ہورہے ہیں تو وسطی اور جنوبی امریکا، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری اکثر لہروں کی صورت میں آتی ہے ، اس ...

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے 'ڈبلیو ایچ او

جاپان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائی گئی ایمرجنسی ختم وجود - بدھ 27 مئی 2020

جاپان نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی ہٹا دی ہے ۔جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبے کا ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ جاپان کی حکومت نے ایمرجنسی اٹھانے کے حوالے سے انتہائی سخت پیمانہ رکھا تھا، جس پر اب پورے اترے ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ جاپان کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔جاپان نے اپریل کے شروع میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے خدشے پر ٹوکیو سمیت 6 ریجن میں ایمرجنسی لگائی تھی۔واضح رہے کہ جاپان میں کورونا کیسز کی تعداد 16 ...

جاپان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائی گئی ایمرجنسی ختم

امریکا کا 28 سال بعد ایک بار پھر تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور وجود - بدھ 27 مئی 2020

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایک حالیہ اجلاس میں ایک بار پھر سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور کیا گیا ہے تاکہ روس اور چین کو مؤثر تنبیہ کی جاسکے ۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، 15 مئی کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ''جلد ہی'' تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر بھی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکا نے 1992 میں اپنا آخری تجرباتی ایٹمی دھماکہ کیا تھا لیکن تب تک وہ 1,032 ایٹمی دھماکے کرچکا تھا جن میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1945 میں جاپانی شہروں ہیر...

امریکا کا 28 سال بعد ایک بار پھر تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا وجود - بدھ 27 مئی 2020

یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل نے چین اور امریکا کے مابین راستہ بنائے جانے کے معاملے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی بحث و مباحثے کے دوران کہا ہے کہ ایشیائی صدی، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے 'دی گارجین' کی رپورٹ کے مطابق جرمن سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجزیہ کار طویل عرصے سے امریکی کے زیر قیادت نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کے بارے میں بات کررہے ہیں، یہ بات اب ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے ۔ج...

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا

کورونا سے دنیا کنگال ، چند ارب پتی مزید امیر ہو گئے وجود - بدھ 27 مئی 2020

کورونا نے دنیا بھر میں حکومتوں اور عوام کو کنگال کردیا ہے مگر دنیا کے چند امیر ترین افراد کی دولت مزید بڑھ گئی۔بزنس جریدے فوربز کے مطابق بے روزگاری، معاشی تنگی اور آلام و پریشانی کے دور میں دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں مزید اضافہ شیئرز کی قیمتوں کے بدولت ہے ۔ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز نے اسٹاک کی بدترین حالت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔گزشتہ دو ماہ میں ڈالر کی کھیپ لگانے والوں میں پہلا نام فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کا ہے ۔وہ امیر ترین افراد کی فہرست میں ساتویں س...

کورونا سے دنیا کنگال ، چند ارب پتی مزید امیر ہو گئے

بھارت میں کورونا کیسز میں ریکارڈ اضافہ، 10 بدترین متاثرہ ممالک میں شامل وجود - بدھ 27 مئی 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب اس سے زیادہ تیزی سے متاثرہ ہونے والے ممالک میں بھارت بھی شامل ہوگیا ہے جہاں ایک روز میں ریکارڈ کیسز میں اضافے کے بعد یہ دنیا کے ان 10 ممالک میں سے ایک ہوگیا جو کورونا سے بدترین متاثر ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پیر کو بھارت میں ایک روز کے اب تک کے سب سے زیادہ کورونا کیسز سامنے آئے اور یہ ایران کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے 10 بدترین متاثر ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا۔واضح رہے کہ بھارت میں ...

بھارت میں کورونا کیسز میں ریکارڈ اضافہ، 10 بدترین متاثرہ ممالک میں شامل