وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

بدھ 29 مارچ 2017 موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوںمیڈیا سے گفتگومیں بتایاتھا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کاکام جاری ہے۔ نواز حکومت اپنی موجودہ مدت حکمرانی کاغالباً آخری بجٹ مئی کے مہینے میں ہی پیش کردے گی۔
بجٹ کی تیاری کسی بھی حکومت کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ دنیا کے انتہائی باوسیلہ ممالک میں بھی بجٹ تیارکرنا آسان کام نہیں ہوتا جس کا اندازہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر پورے امریکا میں ہونے والی بحث اور اس پر ہر زاویہ سے ہونے والی تنقید سے لگایاجاسکتاہے، چہ جائیکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جہاں بجٹ کی تیاری کے لیے ملک اور عوام کی ضروریات کے ساتھ ہی سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔
موجودہ حکومت کا یہ بجٹ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کاحامل ہوگا کہ یہ اس حکومت کے پورے دور حکمرانی کی تصویر ہوگا اور اسی بجٹ میں رہ جانے والی خامیوں کو بنیاد بناکر اگلے عام انتخابات میں حکومت کے مخالفین عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت کے پاس بھی عوام کے سامنے اپنے پورے دور حکمرانی کی خوبیوں کی عکاسی کے لیے یہ بجٹ ہی ہوگا اور عوام اس بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز اور لگائے گئے ٹیکسوں یا عوام کو دی گئی چھوٹ کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر حکمرانی کاحق دینے یا نہ دینے کافیصلہ کریں گے۔
موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ انتخابات میں سابقہ حکومت کی ناکامیوں کو ہی بنیاد بنایاتھا اور خاص طور پر ملک میں بجلی کے شدید بحران کو حل کرنے کا وعدہ کرکے عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے،اگلے عام انتخابات میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہوگی فرق صرف یہ ہوگا کہ اگلے عام انتخابات میں مخالفین کے پاس موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور عوام سے کئے وعدے پورے نہ کیے جانے کی وجہ سے عام آدمی کو پہنچنے والی مشکلات ومصائب کی ایک طویل فہرست ہوگی جن میں سے بہت کاجواب دینا شاید حکمراں پارٹی کے شعلہ بیان مقرروں کے پاس نہیں ہوگا۔
محکمہ موسمیات پہلے ہی یہ پیش گوئی کرچکاہے کہ دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کی لہر سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا اور رواں سال پاکستان میں گرمی کی لہر کچھ زیادہ ہی شدید اور طویل ہوگی۔اس طرح لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کی قلعی پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی اس کے ساتھ ہی بجلی کے بلوں کی صورت حال سونے پر سہاگے کاکام کرے گی۔کیونکہ یہ بات تو شاید حکمراں بھی محسوس کرچکے ہوں گے کہ اب اس ملک کے عوام میں بھاری بلوں کابوجھ برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں رہی ہے اور اپوزیشن ان بھاری بلوں اور ایوان وزیر اعظم کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو یقیناً اپنی انتخابی مہم میں کلیدی حیثیت دیں گے اس طرح بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بھاری بل اس حکومت کے لیے تازیانے کاکام دے سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور ایک ایسا متوازن بجٹ پیش کرنا جس کے ذریعے عوام کو مزید زیر بار کیے بغیر تمام مالیاتی تقاضے پورے کرلیے جائیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے ارکان کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اس بجٹ میں نہ صرف حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے زیادہ رقم رکھنا ہوگی بلکہ بجٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال ترقیاتی منصوبوں، خاص طورپر وزیر اعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگراموں کے لیے رکھے گئے فنڈز کے استعمال اور اس سے عوام کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے بھی وضاحتیں پیش کرنا ہوں گی، اور یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب تک موجودہ حکومت ایسا کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچ رہاہو۔جہاں تک موٹرویز کی تعمیرکامعاملہ ہے تو یہ کبھی بھی عام آدمی کامسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اس سے عام طورپر کار نشینوں اورٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچتاہے جن کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے،عام آدمی کی اکثریت کو تو بعض اوقات زندگی بھر اپنے علاقے سے باہر نکلنے کاموقع ہی میسر نہیں آتا اس لیے موٹر وےز کی ان کے سامنے کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔عام آدمی تو یہ دیکھتاہے کہ جب وہ بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچتاہے تو اس کو علاج معالجے کی کتنی سہولت ملتی ہے ۔وہ جب اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے لے جاتا ہے تو اس کے بچے کو کتنی آسانی سےتعلیم کی سہولت میسر آتی ہے ،سرکاری اسکولوں میں اس کے بچوں کو کس طرح پڑھایا جارہاہے اور حصول تعلیم کے بعد اس کے بچے کو ملازمت کتنی آسانی سے مل سکتی ہے۔عام آدمی تو صرف یہ دیکھتاہے کہ سارا دن کی شدید محنت کے بعد ملنے والی اجرت کی رقم لے کر جب وہ بازار جاتاہے تو اس رقم کے عوض اس کے اہل خانہ کی خوراک کی ضروریات کس حد تک پوری ہوتی ہیں اور خوراک کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کے لیے اس کے پاس کتنی رقم باقی بچتی ہے۔ظاہر ہے کہ کارکردگی کے اس پیمانے پر حکمراں پورے نہیں اترسکے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے سال کاایسا بجٹ پیش کرنا جو عام آدمی کے لیے قابل قبول بھی ہو اور جس کی بنیاد پر ارباب حکومت اگلے عام انتخاب میں عوام سے ووٹ مانگ سکیں بلاشبہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اگلے سال کے بجٹ میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں حسب معمول 10-15 فیصد تک اضافے کی سفارش کی جائے گی،جبکہ پی ایس ڈی پی کے لیے بھی 700 بلین روپے سے زیادہ رقم رکھنا مشکل ہوگا جو کہ رواں سا ل کے پی ایس ڈی پی سے صرف 7 فیصد زیادہ ہوگی،اس میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے50-80بلین روپے تک کی رقم شامل ہوگی جو وزیراعظم اپنے پسند کے ارکان قومی اسمبلی کو اپنے حلقوں میں اپنی صوابدید کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لیے فراہم کرتے ہیں اور جن کے استعمال پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ کی تمام تر کوششوں کے بعد باوجود ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور ٹیکس چوری کی شرح میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے بے انتہا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس اتنی وافر رقم بچ ہی نہیں سکتی کہ عوام کو مزید کوئی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں سوچا بھی جاسکے۔
یہ خبریں بھی عام ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم کی مصنوعات پر کئی طرح کے ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہے ہیں جس کابراہ راست اثر اس ملک کے غریب عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی اپنی زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لیے شدید کرب کاشکار ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کے پاس بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے جو اطلاعات کے مطابق اب ہماری مجموعی ملکی پیداوار کے 2.4 فیصد سے بھی تجاوز کرگیاہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ کی ترجیحات طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کااعلان اگلے مہینے ہوگا جس میں آمدنی اور ممکنہ اخراجات پر غور کے بعدبجٹ کی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا یعنی اس طرح بجٹ کی تیاری میں مصروف ٹیم کے ارکان کو ایک گائیڈ لائن دیدی جائے گی۔اب تک کے اندازوں کے مطابق نئے بجٹ میں آمدنی اور خرچ میں تفاوت کم از کم 180 بلین روپے ہوگا جس کو پوراکرنے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو غیر ملکی اور ملکی قرضوں کے علاوہ نئے ٹیکسوں اورسرچارجز پر ہی گزارا کرنا ہوگا۔
اس پوری صورتحال کے باوجود ایک امید افزا بات وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے یہ اشارہ دیاہے کہ نیا بجٹ عوام دوست ہوگا اور اس سے ملک کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔اسحاق ڈار کے اس بیان سے یہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ اور ان کی ٹیم میں شامل ماہرین عوام کو بجٹ کی شکل میں شکر میں لپٹی ہوئی کڑوی گولی دینے کی تیاری کررہے ہیں جس کی کڑواہٹ کا اندازہ فوری طورپر نہیں ہوسکے گا اور وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سب اچھا اور بہت اچھا کے نعرے سمیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اور جب تک اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے انتخابی عمل مکمل ہوچکاہوگا۔


متعلقہ خبریں


آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل وجود - هفته 28 نومبر 2020

بھارتی معیشت جولائی اور ستمبر کے دوران 7.5 فیصد سکڑنے سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی بڑی ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں شامل ہوگئی کیونکہ یہ آزادی کے بعد پہلہ مرتبہ تکنیکی کساد بازاری میں داخل ہوئی ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کساد بازاری میں داخل ہوگئی ہے ۔اگرچہ اعداد و شمار میں گزشتہ سہ ماہی میں ریکارڈ 23.9 فیصد سکڑنے کے مقابلے میں اعداد و شمار میں بہتری تھی تاہم یہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایشیا کی تیسری بڑ...

آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل

نامور ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ، اسرائیل کے ملوث ہونے کا شبہ وجود - هفته 28 نومبر 2020

ایرانی وزارت دفاع کے شعبہ تحقیق کے سربراہ محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق محسن فخری زادے تہران کے قریب دہشتگرد حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ محسن فخری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے محسن فخری زادہ کی ہلاکت پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران دہشت گرد حملے کی سختی سے مذمت کرت...

نامور ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ، اسرائیل کے ملوث ہونے کا شبہ

وزیراعظم سے امریکی گلوکارہ چیر کی ملاقات، تعاون کی پیشکش وجود - هفته 28 نومبر 2020

امریکی گلوکارہ چیر نے وزیر اعظم عمران خان کو تعاون کی پیشکش کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے کاون ہاتھی سے متعلق امریکی گلوکارہ کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کاون ہاتھی نے 35 سال تک عوام میں خوشیاں بانٹیں۔ امریکی گلوکارہ نے سرسبز پاکستان کیلئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کو سراہا اور ان کے بلین ٹری منصوبے کی تعریف کی۔گلوکارہ چیر نے گرین پاکستان اقدامات سے متعلق پی ٹی آئی حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔

وزیراعظم سے امریکی گلوکارہ چیر کی ملاقات، تعاون کی پیشکش

کورونا ،جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی وجود - هفته 28 نومبر 2020

موسم بہار میں کورونا وائرس کی وباء پر بہترانداز میں قابو پانے والے ملکوں جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔جنوبی کوریا میں مسلسل دوسرے روز 500 سے زائد نئے کیس رپورٹ ہونے سے مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے بستر کم پڑ گئے ۔ دوسری جانب جرمنی میں 22 ہزار سے زائد نئے کیسز کے بعد مجموعی تعداد 10لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور ملک بھر میں پابندیاں مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔یونان میں لاک ڈائون میں7 دسمبر تک توسیع کردی گئی تاہم برطانیہ اور فرانس نے پابندیوں میں نرم...

کورونا ،جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی

یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ، رپورٹ وجود - هفته 28 نومبر 2020

یورپین پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار یورپ میں 'بنیادی حقوق کی صورتحال 19ـ2018' کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ کی منظوری کیلئے ووٹنگ کے موقع پر کیا گیا۔ جس کے حق میں 330 ووٹ آئے ،298 نے مخالفت کی اور 65 ارکان غیر حاضر رہے ۔رپورٹ میں یورپ کے کئی ممالک کی حکومتوں کی جانب سے عدالتوں کی خودمختاری اور اداروں میں اختیارات کی تقسیم کے نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے کئی ممبر م...

یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ، رپورٹ

کورونا وائرس ،مزید54افراد جاں بحق 3113نئے کیسز رپورٹ وجود - جمعه 27 نومبر 2020

گزشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں عالمی وباء کوروناوائرس کے مزید 54مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد7897تک پہنچ گئی جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے 3113 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان میں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تین لاکھ 89ہزار311تک پہنچ گئی جبکہ ملک میں تین لاکھ 35ہزار881مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی اوسی)کی جانب سے جمعہ کے روز کوروناوائرس کے...

کورونا وائرس ،مزید54افراد جاں بحق 3113نئے کیسز رپورٹ

امریکی صدر ٹرمپ کا وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ وجود - جمعه 27 نومبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ دیدیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے اس کو جو بائیڈن کی انتخابات میں فتح کی تصدیق کے ساتھ مشروط کردیا ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابات میں جوبائیڈن کی فتح کی تصدیق ہو جائے تو وائٹ ہائوس چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے الیکشن کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانونی کارروائی جاری رکھوں گا، امریکہ کا ووٹنگ سٹرکچر تیسری دنیا کے ملک جیسا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹ بھی کیا تھا کہ یہ سو فیصد ...

امریکی صدر ٹرمپ کا وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ

صحت مند رہنے کیلیے صرف 12 منٹ کی سخت جسمانی مشقت بھی کافی ہے ، تحقیق وجود - جمعه 27 نومبر 2020

جسمانی مشقت بشمول ورزش کے نت نئے فائدے سامنے آتے جارہے ہیں؛ اور اب امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر روزانہ صرف 12 منٹ کی سخت جسمانی مشقت یا ورزش کی جاتی رہے تو بیک وقت کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہوئے صحت مند رہا جاسکتا ہے ۔ریسرچ جرنل سرکولیشن کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی میں 411 ادھیڑ عمر رضاکار شامل کیے گئے تھے جن میں سے ہر ایک سے 12 منٹ تک تیزی سے سائیکل چلوائی گئی اور اس کے فورا بعد ان کے جسموں میں میٹابولائٹس کہلانے والے مادوں کی 588 اقسام کا جائ...

صحت مند رہنے کیلیے صرف 12 منٹ کی سخت جسمانی مشقت بھی کافی ہے ، تحقیق

پاکستان کو واپس بھیجنے کی وارننگ، شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو کھری کھری سنا دیں وجود - جمعه 27 نومبر 2020

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نیوزی لینڈ کرکٹ پر کو کھری کھری سنا دیں ۔ تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں موجود قومی ٹیم کے 6 کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی جانب سے پاکستانی اسکواڈ کو آخری وارننگ دی گئی تھی کہ کووڈـ19 کی ایس او پیز کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پاکستان ٹیم کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا چا...

پاکستان کو واپس بھیجنے کی وارننگ، شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو کھری کھری سنا دیں

ارجنٹینا کے لیجنڈ فٹبالر میراڈونا سپردخاک، قریبی افراد کا خراج عقیدت وجود - جمعه 27 نومبر 2020

دنیائے فٹبال کے عظیم ہیرو اور ارجنٹینا کے فٹ بال لیجنڈ میراڈونا کو بیونس آئرس کے بیلا وسٹا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ارجنٹینا کے فٹ بال لیجنڈ میراڈونا کی تدفین میں خاندان کے افراد اور قریبی احباب نے شرکت کی جب کہ تدفین سے قبل ہیرو کی میت کو بیونس آئرس کی سڑکوں سے گزار کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔میراڈونا کے آخری دیدار کے لیے صدارتی محل میں مداحوں کا رش لگ گیا، ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنینڈز جب صدارتی محل پہنچے تو وہاں فٹبال لیجنڈ کے مداحوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔فٹبال لیج...

ارجنٹینا کے لیجنڈ فٹبالر میراڈونا سپردخاک، قریبی افراد کا خراج عقیدت

منی لانڈرنگ کیس ،شہباز شریف کے بیٹے، بیٹی، داماد اشتہاری قرار وجود - جمعرات 26 نومبر 2020

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز، بیٹی رابعہ عمران ، داماد ہارون یوسف ،طاہر نقوی اور علی احمد خان کو اشتہاری قرار دیدیا ، عدالت نے نیب کے تین گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد سماعت 3دسمبر تک ملتوی کر کے وکلاء کو جرح کیلئے پابند کردیا ۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی ۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ فاضل عدالت نے حاضری مکمل کرانے کے بعد سماعت شروع کی ۔ شہباز شریف کے ...

منی لانڈرنگ کیس ،شہباز شریف کے بیٹے، بیٹی، داماد اشتہاری قرار

احتساب عدالت کے جج اور نیب وکیل کی شہباز سے والدہ کے انتقال پر تعزیت وجود - جمعرات 26 نومبر 2020

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن اور نیب کے وکیل عثمان جی راشد چیمہ نے منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ۔ فاضل جج نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے ، دنیا میں ماں سے بڑھ کر کوئی اور رشتہ نہیں ہوتا ۔ اظہار یکجہتی کیلئے آنے والے پارٹی رہنمائوں نے بھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے محترمہ بیگم شمیم اختر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ۔اس موقع پر رہنمائوں نے شہباز شریف کو نماز جنا...

احتساب عدالت کے جج اور نیب وکیل کی شہباز سے والدہ کے انتقال پر تعزیت