وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

بدھ 29 مارچ 2017 موجودہ حکومت کا آخری بجٹ‘کڑوی گولی شکر میں لپیٹ کرکھلانے کی تیاریاں

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوںمیڈیا سے گفتگومیں بتایاتھا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کاکام جاری ہے۔ نواز حکومت اپنی موجودہ مدت حکمرانی کاغالباً آخری بجٹ مئی کے مہینے میں ہی پیش کردے گی۔
بجٹ کی تیاری کسی بھی حکومت کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ دنیا کے انتہائی باوسیلہ ممالک میں بھی بجٹ تیارکرنا آسان کام نہیں ہوتا جس کا اندازہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر پورے امریکا میں ہونے والی بحث اور اس پر ہر زاویہ سے ہونے والی تنقید سے لگایاجاسکتاہے، چہ جائیکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جہاں بجٹ کی تیاری کے لیے ملک اور عوام کی ضروریات کے ساتھ ہی سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔
موجودہ حکومت کا یہ بجٹ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کاحامل ہوگا کہ یہ اس حکومت کے پورے دور حکمرانی کی تصویر ہوگا اور اسی بجٹ میں رہ جانے والی خامیوں کو بنیاد بناکر اگلے عام انتخابات میں حکومت کے مخالفین عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت کے پاس بھی عوام کے سامنے اپنے پورے دور حکمرانی کی خوبیوں کی عکاسی کے لیے یہ بجٹ ہی ہوگا اور عوام اس بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز اور لگائے گئے ٹیکسوں یا عوام کو دی گئی چھوٹ کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر حکمرانی کاحق دینے یا نہ دینے کافیصلہ کریں گے۔
موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ انتخابات میں سابقہ حکومت کی ناکامیوں کو ہی بنیاد بنایاتھا اور خاص طور پر ملک میں بجلی کے شدید بحران کو حل کرنے کا وعدہ کرکے عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے،اگلے عام انتخابات میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہوگی فرق صرف یہ ہوگا کہ اگلے عام انتخابات میں مخالفین کے پاس موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور عوام سے کئے وعدے پورے نہ کیے جانے کی وجہ سے عام آدمی کو پہنچنے والی مشکلات ومصائب کی ایک طویل فہرست ہوگی جن میں سے بہت کاجواب دینا شاید حکمراں پارٹی کے شعلہ بیان مقرروں کے پاس نہیں ہوگا۔
محکمہ موسمیات پہلے ہی یہ پیش گوئی کرچکاہے کہ دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کی لہر سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا اور رواں سال پاکستان میں گرمی کی لہر کچھ زیادہ ہی شدید اور طویل ہوگی۔اس طرح لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کی قلعی پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی اس کے ساتھ ہی بجلی کے بلوں کی صورت حال سونے پر سہاگے کاکام کرے گی۔کیونکہ یہ بات تو شاید حکمراں بھی محسوس کرچکے ہوں گے کہ اب اس ملک کے عوام میں بھاری بلوں کابوجھ برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں رہی ہے اور اپوزیشن ان بھاری بلوں اور ایوان وزیر اعظم کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو یقیناً اپنی انتخابی مہم میں کلیدی حیثیت دیں گے اس طرح بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بھاری بل اس حکومت کے لیے تازیانے کاکام دے سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور ایک ایسا متوازن بجٹ پیش کرنا جس کے ذریعے عوام کو مزید زیر بار کیے بغیر تمام مالیاتی تقاضے پورے کرلیے جائیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے ارکان کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اس بجٹ میں نہ صرف حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے زیادہ رقم رکھنا ہوگی بلکہ بجٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال ترقیاتی منصوبوں، خاص طورپر وزیر اعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگراموں کے لیے رکھے گئے فنڈز کے استعمال اور اس سے عوام کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے بھی وضاحتیں پیش کرنا ہوں گی، اور یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب تک موجودہ حکومت ایسا کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچ رہاہو۔جہاں تک موٹرویز کی تعمیرکامعاملہ ہے تو یہ کبھی بھی عام آدمی کامسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اس سے عام طورپر کار نشینوں اورٹرانسپورٹرز کو فائدہ پہنچتاہے جن کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے،عام آدمی کی اکثریت کو تو بعض اوقات زندگی بھر اپنے علاقے سے باہر نکلنے کاموقع ہی میسر نہیں آتا اس لیے موٹر وےز کی ان کے سامنے کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔عام آدمی تو یہ دیکھتاہے کہ جب وہ بیماری کی حالت میں ہسپتال پہنچتاہے تو اس کو علاج معالجے کی کتنی سہولت ملتی ہے ۔وہ جب اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے لے جاتا ہے تو اس کے بچے کو کتنی آسانی سےتعلیم کی سہولت میسر آتی ہے ،سرکاری اسکولوں میں اس کے بچوں کو کس طرح پڑھایا جارہاہے اور حصول تعلیم کے بعد اس کے بچے کو ملازمت کتنی آسانی سے مل سکتی ہے۔عام آدمی تو صرف یہ دیکھتاہے کہ سارا دن کی شدید محنت کے بعد ملنے والی اجرت کی رقم لے کر جب وہ بازار جاتاہے تو اس رقم کے عوض اس کے اہل خانہ کی خوراک کی ضروریات کس حد تک پوری ہوتی ہیں اور خوراک کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کے لیے اس کے پاس کتنی رقم باقی بچتی ہے۔ظاہر ہے کہ کارکردگی کے اس پیمانے پر حکمراں پورے نہیں اترسکے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے سال کاایسا بجٹ پیش کرنا جو عام آدمی کے لیے قابل قبول بھی ہو اور جس کی بنیاد پر ارباب حکومت اگلے عام انتخاب میں عوام سے ووٹ مانگ سکیں بلاشبہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اگلے سال کے بجٹ میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں حسب معمول 10-15 فیصد تک اضافے کی سفارش کی جائے گی،جبکہ پی ایس ڈی پی کے لیے بھی 700 بلین روپے سے زیادہ رقم رکھنا مشکل ہوگا جو کہ رواں سا ل کے پی ایس ڈی پی سے صرف 7 فیصد زیادہ ہوگی،اس میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے50-80بلین روپے تک کی رقم شامل ہوگی جو وزیراعظم اپنے پسند کے ارکان قومی اسمبلی کو اپنے حلقوں میں اپنی صوابدید کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لیے فراہم کرتے ہیں اور جن کے استعمال پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ کی تمام تر کوششوں کے بعد باوجود ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور ٹیکس چوری کی شرح میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے بے انتہا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس اتنی وافر رقم بچ ہی نہیں سکتی کہ عوام کو مزید کوئی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں سوچا بھی جاسکے۔
یہ خبریں بھی عام ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم کی مصنوعات پر کئی طرح کے ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہے ہیں جس کابراہ راست اثر اس ملک کے غریب عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی اپنی زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لیے شدید کرب کاشکار ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کے پاس بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے جو اطلاعات کے مطابق اب ہماری مجموعی ملکی پیداوار کے 2.4 فیصد سے بھی تجاوز کرگیاہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ کی ترجیحات طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کااعلان اگلے مہینے ہوگا جس میں آمدنی اور ممکنہ اخراجات پر غور کے بعدبجٹ کی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا یعنی اس طرح بجٹ کی تیاری میں مصروف ٹیم کے ارکان کو ایک گائیڈ لائن دیدی جائے گی۔اب تک کے اندازوں کے مطابق نئے بجٹ میں آمدنی اور خرچ میں تفاوت کم از کم 180 بلین روپے ہوگا جس کو پوراکرنے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو غیر ملکی اور ملکی قرضوں کے علاوہ نئے ٹیکسوں اورسرچارجز پر ہی گزارا کرنا ہوگا۔
اس پوری صورتحال کے باوجود ایک امید افزا بات وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے یہ اشارہ دیاہے کہ نیا بجٹ عوام دوست ہوگا اور اس سے ملک کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔اسحاق ڈار کے اس بیان سے یہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ اور ان کی ٹیم میں شامل ماہرین عوام کو بجٹ کی شکل میں شکر میں لپٹی ہوئی کڑوی گولی دینے کی تیاری کررہے ہیں جس کی کڑواہٹ کا اندازہ فوری طورپر نہیں ہوسکے گا اور وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سب اچھا اور بہت اچھا کے نعرے سمیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اور جب تک اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے انتخابی عمل مکمل ہوچکاہوگا۔


متعلقہ خبریں


بچوں سے بد فعلی‘ 38 ممالک سے 337 افراد گرفتار وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

برطانیا اور امریکا کے تفتیش کاروں نے ڈارک ویب پر موجود بچوں سے بد فعلی پر مبنی ویڈیوز کی ویب سائٹ پر تحقیق کر کے مختلف ممالک سے 337 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔برطانیا کی سرکاری ایجنسی این سی اے نے بتایا کہ ویب سائٹ پر 2 لاکھ 50 ہزار ویڈیو موجود تھیں جن کو پوری دنیا سے مختلف افراد نے10 لاکھ بار ڈاون لوڈ کیا تھا۔ویب سائٹ پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کو ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کی جاتی تھی۔ تفتیش کاروں نے 38 ممالک سے 337 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں برطانیا، آئرلینڈ، امریکا،جنوب...

بچوں سے بد فعلی‘ 38 ممالک سے 337 افراد گرفتار

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

ترکی اور امریکا کے درمیان شام میں کردوں کے خلاف جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا جس کے بعد ترکی نے شام میں عارضی طور پر سیز فائر کا اعلان کرتے ہوئے کردوں کو نکلنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دے دی۔جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کے نائب صدر مائیک پینس ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کرنے انقرہ پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچایا، ان کے ساتھ وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں مائیک پینس نے بتایا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان...

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا

برطانیا نے یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدہ کرلیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے برسلز میں بلاک کے رہنماؤں کے سمٹ سے قبل بتایا کہ برطانیا نے یورپی یونین سے سخت کوشش کے بعد بریگزٹ معاہدہ حاصل کر لیا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن کا کہنا تھا کہ ہم نے زبردست بریگزٹ معاہدہ حاصل کیا ہے۔جین کلاڈ جنکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاں چاہت ہو وہاں معاہدہ ہوتا ہے، یہ یورپی یونین اور برطانیہ کے لیے منصفانہ اور متوازن معاہدہ ہے اور ہمارے حل تلاش کرنے کا عہد نامہ ہے۔انہوں نے آئندہ ہ...

برطانیا نے یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدہ کرلیا

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے ترک حکومت اور صدر طیب ایردوآن کے خلاف مزید اقدامات پرعمل درآمد شروع کیا ہے۔ ری پبلیکن رکن کانگرس سینیٹر لنڈسی گراہم اور متعدد امریکی سینیٹرز نے کانگرس میں ایک نیا بل پیش کیا ہے جس میں ترک عہدیداروں اور اداروں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ فراہم کرے۔ اس بل میں روس ، ایران اور ترکی کے لیے شام میں تیل پیدا کرن...

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں اضافہ وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اور مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آ سکی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے چینی کمپنی کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں، تمام تر کوششوں کے باوجود رواں سال کے پہلے نو ماہ میں کمپنی کی آمدن میں 24.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔کمپنی کے مطابق ہواوے کو 86.2 ارب ڈالرز کا منافع ہوا ہے اور اسکے منافع کی شرح میں 8.7 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔یاد رہے کہ امریکی صد...

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں اضافہ

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

رواں دور میں سفید بال ہونا عمومی بات ہے اور مرد و خواتین دونوں ہی اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں،کیونکہ سفید بال بڑھاپے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین صحت قبل از وقت سفید بال امراض قلب کا عندیہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی آف قاہرہ کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 545 مردوں میں سفید بالوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بالوں کی جتنی سفید رنگت زیادہ تھی اتنا ہی دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین نے مردوں کو وارننگ جاری کر تے...

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

اوریکل کی ملازمین کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے ملازمین کی سوچ کو بدل رکھ دیا ہے اور ملازمین عام منیجروں کے مقابلے میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے روبوٹس ساتھی ملازمین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ خوش ہیں، ایچ آر ٹیم کا کردار ملازمین کی بھرتی، ان کی تربیت اور ملازمین کو ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے بھی تبدیل ہوا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اوریکل اور فیوچر ورک پلیس نے کی جو کاروباری قائدین کی تیاری، ان کی ملازمتوں اور ملازمین کے دیگر...

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

امریکا میں گھر پرنظربند فلسطینی سائنسدان عبدالحلیم الاشقر کو اسرائیل کے حوالے کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ع،بدالحلیم الاشقر کی اہلیہ اسما ء مھنا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو امریکا میں گھر پرنظربند کیا گیا ہے ۔ ان کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ۔ خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت امریکا پروفیسر ڈاکٹر الاشقر کو امریکا کے حوالے کردے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے حوالے سے جاری تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں...

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار