وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

ریکوڈک کیس ورلڈ بینک نے پاکستان کے ساتھ ہاتھ کردیا؟

منگل 28 مارچ 2017 ریکوڈک کیس ورلڈ بینک نے پاکستان کے ساتھ ہاتھ کردیا؟


ورلڈ بینک کے ثالثی ٹریبونل نے ریکوڈک پروجیکٹ کے حوالے سے دائر کردہ مقدمے میں پاکستان کے خلاف فیصلہ دے دیا۔چلی کی مائننگ کمپنی اینٹوفاگاستا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ورلڈ بینک کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) کی جانب سے قائم کردہ ٹریبونل نے 2011 میں ریکوڈک منصوبے میں کان کنی کی لیز نہ دینے کے معاملے پر حکومت پاکستان کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ اگرچہ ابھی حکومت پاکستان کی جانب سے اس فیصلے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیاگیا ہے لیکن اینٹو فاگاستا کی جانب سے جاری کردہ بیان کو غلط تصور کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی،تاہم اس مقدمے کی تفصیلات سے واقف حلقے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس حوالے سے چلی کی مائننگ کمپنی اینٹوفاگاستا کو کسی بھی طرح حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ منصوبہ بلوچستان کی حکومت نے چلی کی کمپنی کو کبھی دیاہی نہیں تھا بلکہ اس منصوبے کے تحت آسٹریلیا کی ایک کمپنی کو صرف ڈرلنگ کیلئے اجازت دی گئی تھی لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا اور کوشش کی کہ گودار پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا،ظاہر ہے کہ اتنا واضح کیس ہونے کے باوجود ورلڈ بینک کی جانب سے ریکوڈک کے حق میں فیصلے سے ظاہرہوتاہے کہ یا تو حکومت کی جانب سے اس کیس کی پیروی مناسب انداز میں نہیں کی گئی اور پاکستانی حکومت ورلڈ بینک کے حکام کو اپنا کیس درست انداز میں سمجھانے میں ناکام رہی یا پھر اس فیصلے میں جانبداری برتی گئی ، حکومت پاکستان کو اس پر توجہ دینی چاہئے اور ورلڈ بینک کے اس فیصلے کو مناسب فورم پر چیلنج کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ حکومت کو غیر ضروری طورپر بھاری رقم کی ادائیگی نہ کرنا پڑے۔
اطلاعات کے مطابق ثالثی کی درخواست ٹیتھیان کاپر کمپنی پرائیوٹ لمیٹڈ (ٹی سی سی) نے 2012 میں دائر کی تھی جو اینٹوفاگاستا چلی اور کینیڈا کی بیریک گولڈ کارپوریشن کا جوائنٹ وینچر ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ‘آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں پاکستان کے حتمی دلائل کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے آسٹریلیا کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی’۔تاہم اس معاملے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حکام سے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ورلڈ بینک کے ٹریبونل کی سربراہی جرمنی کے کلاایکس نے کی جبکہ ٹی سی سی کی جانب سے بلغاریہ کے اسٹینیمیراے ایلگزینڈروف کو اور پاکستان کی جانب سے انگلینڈ کے لیونارڈ ہوفمین کو ثالث مقرر کیا گیا تھا۔
ٹریبونل نے 22مارچ سے ان نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کیا ہے جو پاکستان کی جانب سے ٹی سی سی کو ادا کیے جائیں گے۔ٹریبونل پاکستان کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم کے تعین سے قبل دونوں فریقوں کے دلائل کو مد نظر رکھے گا۔خیال رہے کہ حکومت بلوچستان نے 2011 میں ریکوڈک کے سونے و تانبے کی کانوں پر کان کنی کے لیے ٹی سی سی کو لائسنس جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔نومبر 2011 میں اس وقت کے چیف سیکریٹری بلوچستان میر احمد بخش لہری نے تصدیق کی تھی کہ بلوچستان حکومت نے مائننگ کے لائسنس کے لیے ٹی سی سی کی درخواست مسترد کی ہے۔اس کے علاوہ 15 فروری 2011 کو ہی ٹی سی سی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی پروجیکٹ کی فیزیبلٹی رپورٹ کو بھی مسترد کردیا گیا تھا اور احمد بخش لہری کا کہنا تھا کہ رپورٹ پر ماہرین نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی نے سونے اور تابنے کی پروسیسنگ کے حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر نہیں کیا اور یہی بلوچستان حکومت کا سب سے بڑا خدشہ تھا۔احمد بخش لہری نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سونے اور تانبے کی پروسیسنگ کی اپنی ریفائنری لگانے کا اعلان کرچکی ہے اور اس کے لیے فنڈز بھی مختص کیے جاچکے ہیں اور اگر ٹی سی سی اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جانا چاہتی ہے تو چلی جائے۔2011 میں بلوچستان کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ٹی سی سی نے اپنی فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے میں کافی وقت لگایا اور وہ سونے اور تانبے کی قیمت کو کم ظاہر کرکے بلوچستان کو دھوکا دے رہی تھی۔سپریم کورٹ نے ریکوڈک گولڈ مائنز معاہدے کو کالعدم قرار دیدیا تھا جس کے تحت عدالت نے 23جولائی1993 میں ہونے والے اس معاہدے کو ملکی قوانین سے متصادم قرار دیا ۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کا سولہ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان کے علاقے ریکوڈک میں سونے اور دیگر معدنیات کے ذخائر کی تلاش کے معاہدے کو کالعدم قرار دیدیاتھا۔عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ ملک کے منرل رولز اور ملکیت کی منتقلی کے قوانین کے خلاف ہے۔فیصلے کے مطابق معاہدے میں کی گئی تمام ترامیم بھی غیرقانونی اور معاہدے کے منافی تھیں۔23 جولائی1993 کو غیرملکی کمپنی سے ہونے والے اس معاہدے کیخلاف 5 سال تک کیس عدالت میں زیرسماعت رہا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس گلزار اور جسٹس اجمل سعید شیخ پر مشتمل سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے اس کیس کا فیصلہ16 دسمبر کو محفوظ کیا تھا۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے غیرملکی کمپنی ٹی سی سی کے خلاف درخواستیں بھی سماعت کیلئے منظور کرلی تھیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ ریکوڈک معاہدے سے متعلق ٹیتھیان کمپنی کا اب کوئی حق باقی نہیں رہا۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب مشہور علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کونکالنے کے منصوبے کو ریکوڈک کانام دیاگیاتھا۔جولائی1993 میں وزیراعلی بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کاٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کودیا تھا۔
33 لاکھ 47 ہزار ایکٹر پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا اور کوشش کی کہ گودار پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔بلوچستان حکومت نے دوہزار دس میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ریکوڈک سے روزانہ پندرہ ہزار ٹن سونا اورتانبا نکالاجاسکتا ہے جس سے صوبے کوسالانہ اربوں ڈالر آمدنی ہوگی۔ ریکوڈک معاہدے پرمختلف این جی اوز اور ماہرین کیساتھ سول سوسائٹی بھی سوال
اٹھاتی رہی تھی۔ خود وزیراعلی اسلم رئیسانی نے چھ نومبردوہزار بارہ کو ایک بیان میں کہا تھا ریکوڈک کی وجہ سے مخصوص قوتیں انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہیں۔بعد ازاں 2013 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جنوری میں ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر