وجود

... loading ...

وجود

فضل اللہ پیچوہونے 3200 سرکاری اسکول بیچ ڈالے

منگل 28 مارچ 2017 فضل اللہ پیچوہونے 3200 سرکاری اسکول بیچ ڈالے


سندھ میں ویسے ہی تعلیم کا بیڑا غرق ہوچکا ہے اور مختلف حکومتوں کے دور میں تعلیم کو تباہ کرنے کے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ، اور ایسے اساتذہ بھرتی کیے گئے جن کی تعلیمی قابلیت اچھی نہ تھی ۔یہ بھی اس صوبے نے دیکھا کہ ایک نان میٹرک وزیر تعلیم بنا اور سنگین نوعیت کے دہشتگردی کے کیسوں میں مطلوب شخص کو بھی وزیر تعلیم بنایا گیا۔ سب باتیں اپنی جگہ لیکن جس طرح تعلیم کو سابق سیکریٹری تعلیم فضل اﷲ پیچوہو نے تباہ کیا اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی اور جب صوبے میں تعلیمی پستی کی تاریخ لکھی جائے گی تب فضل اﷲ پیچوہو کا نام سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ چونکہ فضل اﷲ پیچوہو سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی ہیں اس لئے وہ اتنے طاقتور ہیں کہ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایک مرتبہ کہا کہ سندھ میں سیکریٹری تعلیم فضل اﷲ پیچوہو نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ہے، دوسرے روز فضل اﷲ پیچوہو نے ان کو جواب دیا کہ خورشید شاہ بھی وزیر تعلیم سندھ رہے انہوں نے نوکریاں فروخت کیں اور تعلیم کو تباہ کرنے کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی ۔بس خورشید شاہ کو چپ کا روزہ لگ گیا اور اب تو یہ حالت ہے کہ خورشید شاہ کو پارٹی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور ان کے حامیوں کو کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا جاتا۔
آج ہم اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ فضل اﷲ پیچوہو نے کراچی میں کس طرح سرکاری اسکول فروخت کیے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا کراچی میں 352 نجی اسکول سرکاری تحویل میں لے کر ان کو سرکاری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔ اور پھر کسی حکومت نے ان 352 اسکولوں کو واپس نجی شعبے یا اصل مالکان کے حوالے کرنے کی جرأت نہیں کی مگر جیسے ہی فضل اﷲ پیچوہو سیکریٹری تعلیم بنے، تو انہوں نے ذوالفقار بھٹو کے فیصلے کو روند ڈالا اور 352 کی جگہ 2650 سرکاری اسکول ڈی نیشنلائز کردیئے اور حکم صادر کیا کہ جو اسکول پہلے قومیائے (نیشنلائز) گئے تھے ان کو اب ڈی نیشنلائز کیا جارہا ہے۔
کراچی میں ضلع جنوبی‘ ضلع ملیر‘ ضلع کورنگی اور ضلع وسطی میں بڑی تعداد میں سرکاری اسکول تھے ،جنہیں فروخت کیا گیا ۔ذرا تصور کیا جائے کہ غیر سرکاری افراد کے ساتھ مل کر ایک ہزار گز یا دو ہزار گز پر بنی عمارت اور ساتھ موجودخالی پلاٹ یا گرائونڈ کسی کو فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت ایک ارب روپے سے یقینازیادہ ہوگی۔ اب اندازہ لگایا جائے کہ ایک ارب روپے کا ایک اسکول فروخت کیا جائے تو 2650 اسکولوں کی قیمت بھی 2650 ارب روپے یعنی 26 کھرب 50 ارب روپے ہوگئی۔ اب اتنے بڑے اسکینڈل کے باوجود کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان کھول سکے۔ اگر فضل اﷲ پیچوہو کا پیٹ بھر جاتا تو وہ خاموش ہوکر گھر بیٹھ جاتے مگر ایسا نہیں کیا، حرص اور لالچ انسان کو اندھا کردیتی ہے، عقل پر پردے پڑجاتے ہیں ۔انہوں نے اس پر بس نہیں کی، آگے چل کر انہوں نے باقی بچ جانے والے 683 اسکولوں کو بھی بیچنے کی تیاری کرلی۔ اتفاق سے اچھی خریدارپارٹیاں ملیں اوراس طرح 600 اسکول گود (ایڈاپٹ) لے لئے گئے ۔
اب کراچی کا نوحہ یا المیہ یہ ہے کہ 6 اضلاع پر مشتمل اس عروس البلاد شہر میں صرف 83 سرکاری اسکول باقی رہ گئے ہیں، اس پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟ کراچی میں 3200 سے زائد سرکاری اسکول تھے اور حکومت کا فرض تھا کہ ان اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کرے مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ،اضافہ کرنا تو کجا ،الٹا اس میں اتنی کمی کی گئی کہ اب کراچی میں سرکاری اسکول نہ ہونے کے برابر ہیں ۔کراچی جیسے دنیا کے بڑے شہر میں صرف 83 سرکاری اسکول باقی رہ گئے ہیں، کیا ہم مہذب اور تعلیم یافتہ کہلانے کے حقدار ہیں؟
اسکولوں کی فروخت کے ذریعے فضل اﷲ پیچوہو نے ذوالفقار بھٹو کی پالیسی کو بھی تہس نہس کردیا۔اس دوران سید قائم علی شاہ اورپھر سید مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ رہے مگر مجال ہے کوئی اس پر اعتراض کرتا۔ جب 2650 اسکول ڈی نیشنلائز کے نام پر فروخت کئے گئے اور کسی نے چوں تک نہیں کی تو فضل اﷲ پیچوہو کو شہ ملی اور انہوں نے 600 مزیداسکول گود میں دے دیئے ۔اس طرح کراچی میں کھربوں روپے لوٹ لیے گئے اور کسی نے ایک لفظ بھی احتجاج کیلئے استعمال نہیں کیا۔ کراچی میں عوام کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار ایم کیو ایم ویسے توچھوٹے بڑے مسائل پر شور شرابہ کرتی ہے مگر اتنے بڑے تاریخی اسکینڈل پر وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی ،ایک لحاظ سے آنے والی نسلوں کو فروخت کیا گیا۔ اسکول بیچ دیا گیا‘ عمارتیں فروخت ہوئیں لیکن مجال ہے کہ کوئی احتجاج کرے اور پھر بڑی مہارت سے اب انہوں نے سیکریٹری صحت بن کر نئے کھیل کا آغاز کردیا ہے۔


متعلقہ خبریں


ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان وجود - منگل 07 اپریل 2026

ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان وجود - پیر 06 اپریل 2026

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی حافظ نعیم الرحمان ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، گفتگو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے ...

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 06 اپریل 2026

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر...

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا وجود - پیر 06 اپریل 2026

جارحیت جاری رہی تو خطے کو امریکا، اسرائیل کیلئے دوزخ بنادیں گے،ایران کا دوٹوک جواب مزید جارحیت کا جواب خطے میں شدید رد عمل کی صورت میں دیا جائیگا، ترجمان ابراہیم ذوالفقاری ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا،ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ...

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر