... loading ...

سندھ میں ویسے ہی تعلیم کا بیڑا غرق ہوچکا ہے اور مختلف حکومتوں کے دور میں تعلیم کو تباہ کرنے کے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ، اور ایسے اساتذہ بھرتی کیے گئے جن کی تعلیمی قابلیت اچھی نہ تھی ۔یہ بھی اس صوبے نے دیکھا کہ ایک نان میٹرک وزیر تعلیم بنا اور سنگین نوعیت کے دہشتگردی کے کیسوں میں مطلوب شخص کو بھی وزیر تعلیم بنایا گیا۔ سب باتیں اپنی جگہ لیکن جس طرح تعلیم کو سابق سیکریٹری تعلیم فضل اﷲ پیچوہو نے تباہ کیا اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی اور جب صوبے میں تعلیمی پستی کی تاریخ لکھی جائے گی تب فضل اﷲ پیچوہو کا نام سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ چونکہ فضل اﷲ پیچوہو سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی ہیں اس لئے وہ اتنے طاقتور ہیں کہ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایک مرتبہ کہا کہ سندھ میں سیکریٹری تعلیم فضل اﷲ پیچوہو نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ہے، دوسرے روز فضل اﷲ پیچوہو نے ان کو جواب دیا کہ خورشید شاہ بھی وزیر تعلیم سندھ رہے انہوں نے نوکریاں فروخت کیں اور تعلیم کو تباہ کرنے کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی ۔بس خورشید شاہ کو چپ کا روزہ لگ گیا اور اب تو یہ حالت ہے کہ خورشید شاہ کو پارٹی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور ان کے حامیوں کو کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا جاتا۔
آج ہم اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ فضل اﷲ پیچوہو نے کراچی میں کس طرح سرکاری اسکول فروخت کیے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا کراچی میں 352 نجی اسکول سرکاری تحویل میں لے کر ان کو سرکاری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔ اور پھر کسی حکومت نے ان 352 اسکولوں کو واپس نجی شعبے یا اصل مالکان کے حوالے کرنے کی جرأت نہیں کی مگر جیسے ہی فضل اﷲ پیچوہو سیکریٹری تعلیم بنے، تو انہوں نے ذوالفقار بھٹو کے فیصلے کو روند ڈالا اور 352 کی جگہ 2650 سرکاری اسکول ڈی نیشنلائز کردیئے اور حکم صادر کیا کہ جو اسکول پہلے قومیائے (نیشنلائز) گئے تھے ان کو اب ڈی نیشنلائز کیا جارہا ہے۔
کراچی میں ضلع جنوبی‘ ضلع ملیر‘ ضلع کورنگی اور ضلع وسطی میں بڑی تعداد میں سرکاری اسکول تھے ،جنہیں فروخت کیا گیا ۔ذرا تصور کیا جائے کہ غیر سرکاری افراد کے ساتھ مل کر ایک ہزار گز یا دو ہزار گز پر بنی عمارت اور ساتھ موجودخالی پلاٹ یا گرائونڈ کسی کو فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت ایک ارب روپے سے یقینازیادہ ہوگی۔ اب اندازہ لگایا جائے کہ ایک ارب روپے کا ایک اسکول فروخت کیا جائے تو 2650 اسکولوں کی قیمت بھی 2650 ارب روپے یعنی 26 کھرب 50 ارب روپے ہوگئی۔ اب اتنے بڑے اسکینڈل کے باوجود کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان کھول سکے۔ اگر فضل اﷲ پیچوہو کا پیٹ بھر جاتا تو وہ خاموش ہوکر گھر بیٹھ جاتے مگر ایسا نہیں کیا، حرص اور لالچ انسان کو اندھا کردیتی ہے، عقل پر پردے پڑجاتے ہیں ۔انہوں نے اس پر بس نہیں کی، آگے چل کر انہوں نے باقی بچ جانے والے 683 اسکولوں کو بھی بیچنے کی تیاری کرلی۔ اتفاق سے اچھی خریدارپارٹیاں ملیں اوراس طرح 600 اسکول گود (ایڈاپٹ) لے لئے گئے ۔
اب کراچی کا نوحہ یا المیہ یہ ہے کہ 6 اضلاع پر مشتمل اس عروس البلاد شہر میں صرف 83 سرکاری اسکول باقی رہ گئے ہیں، اس پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟ کراچی میں 3200 سے زائد سرکاری اسکول تھے اور حکومت کا فرض تھا کہ ان اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کرے مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ،اضافہ کرنا تو کجا ،الٹا اس میں اتنی کمی کی گئی کہ اب کراچی میں سرکاری اسکول نہ ہونے کے برابر ہیں ۔کراچی جیسے دنیا کے بڑے شہر میں صرف 83 سرکاری اسکول باقی رہ گئے ہیں، کیا ہم مہذب اور تعلیم یافتہ کہلانے کے حقدار ہیں؟
اسکولوں کی فروخت کے ذریعے فضل اﷲ پیچوہو نے ذوالفقار بھٹو کی پالیسی کو بھی تہس نہس کردیا۔اس دوران سید قائم علی شاہ اورپھر سید مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ رہے مگر مجال ہے کوئی اس پر اعتراض کرتا۔ جب 2650 اسکول ڈی نیشنلائز کے نام پر فروخت کئے گئے اور کسی نے چوں تک نہیں کی تو فضل اﷲ پیچوہو کو شہ ملی اور انہوں نے 600 مزیداسکول گود میں دے دیئے ۔اس طرح کراچی میں کھربوں روپے لوٹ لیے گئے اور کسی نے ایک لفظ بھی احتجاج کیلئے استعمال نہیں کیا۔ کراچی میں عوام کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار ایم کیو ایم ویسے توچھوٹے بڑے مسائل پر شور شرابہ کرتی ہے مگر اتنے بڑے تاریخی اسکینڈل پر وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی ،ایک لحاظ سے آنے والی نسلوں کو فروخت کیا گیا۔ اسکول بیچ دیا گیا‘ عمارتیں فروخت ہوئیں لیکن مجال ہے کہ کوئی احتجاج کرے اور پھر بڑی مہارت سے اب انہوں نے سیکریٹری صحت بن کر نئے کھیل کا آغاز کردیا ہے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...