وجود

... loading ...

وجود

انڈیا: وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ یوپی کے ٹرمپ بن گئے

منگل 28 مارچ 2017 انڈیا: وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ یوپی کے ٹرمپ بن گئے

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما ہیں جن کی حکومت نے آتے ہی ان ذبح خانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا تھا جن کے پاس قانونی لائسنس نہیں ہیں۔جس کے خلاف اترپردیش کے قصاب میدان میں آگئے ہیں،اوربھارت کی سب سے بڑی ریاست میں غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنما آدتیہ ناتھ یوگی حکومت کی کارروائی کی مخالفت میں گوشت کے تاجروں نے پیر سے غیر معینہ مدت تک کے لیے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔خیال رہے کہ یہ ہڑتال غیر اعلانیہ طور پر دو دن پہلے سے ہی جاری ہے لیکن اب یہ ہڑتال ریاستی سطح پر پورے اترپردیش میںشروع کی جا رہی ہے۔
لکھنؤ میں گوشت اور مرغ کے تاجروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کمیٹی کے ریاستی صدر چوہدری اقبال قریشی نے برطانوی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ہڑتال کے دوران گوشت کی تمام دکانیں بند رہیں گی اور مچھلی کے کاروباری بھی ان کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہوں گے۔ وہیں گوشت کے تاجروں کی بعض دیگر تنظیموں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اقبال قریشی کا دعویٰ ہے کہ ان کی تنظیم پوری ریاست کی نمائندگی کرتی ہے۔دراصل، اتر پردیش میں غیر قانونی ذبح خانوں پر نئی حکومت کی جانب سے قدغن کے اثرات کاروبار سے لے کر لوگوں کے ذائقے تک پر نظر آ رہے ہیں۔بھارت میں بڑے جانور کے گوشت پر ایک عرصے سے تنازع جاری ہے اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت کے بعد اس کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
اس صورت حال کے سبب ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں گوشت کی فراہمی میں کمی کے سبب بہت سے معروف ہوٹل متاثر ہوئے ہیں جبکہ غیر قانونی ذبح خانوںکے خلاف انتظامیہ کی مسلسل کارروائی جاری ہے اور اب تک سینکڑوں غیر قانونی مذبخ خانے بند کرائے جا چکے ہیں۔ایسی صورت میں گوشت کے تاجروں کی تنظیم نے ریاست بھر میں ہڑتال کی کال دے کر حکومت کے فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ظاہر کیا ہے۔دراصل، بی جے پی نے انتخابات سے پہلے اپنے منشور میں اس کا وعدہ کیا تھا اور ان کی حکومت بنتے ہی انتظامیہ اسے پورا کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ روز ایک بار پھر حکومت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ جو دکانیں اور ذبح خانے پرمٹ کے ساتھ چل رہے ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لیکن جو غیر قانونی ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک دفعہ پھر یہ کہا ہے کہ ‘نیشنل گرین ٹریبیونل’ نے گزشتہ 2 برس کے دوران متعدد بار غیر قانونی ذبح خانوں کو ختم کرنے کا کہا ہے لیکن جو معیار پر پورا اتر رہے ہیں حکومت انہیں کچھ نہیں کہے گی۔”جو احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور غیر قانونی طور پر گندگی پھیلا رہے ہیں انہیں ایک عمل کے تحت ہٹایا جائے گا اور کسی کو صحت کے ساتھ کھیلنے کی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔’ اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے آتے ہی بہت سے ذبح خانے بند ہونا شروع ہو گئے ہیں جس سے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کئی دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کامؤقف یہ ہے کہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کڑوی گولی کھانا پڑے گی،اگر کروڑوں عوام کو صحت مند رکھنے کے لیے کچھ لوگوں کو بیروزگار ہونا پڑے تو یہ مہنگا سود ا نہیں ہے ، وقتی طورپر بیروزگار ہونے والے یہ لوگ ہمیشہ بیروزگار نہیں رہیں گے۔انہیں اس سے بہتر روزگار مل جائے گا، اور یہی غیر قانونی ذبح خانے لائسنس حاصل کرکے حفظان صحت کے انتظامات کرکے اپنے بوچرخانے بحال کرسکیں گے۔اس طرح ان میں کام کرنے والے زیادہ بہتر ماحول میں کام کرسکیں گے۔
گوشت کے تاجروں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ذبح خانوں پر کارروائی کرنا ٹھیک ہے لیکن کم از کم
انہیں کچھ وقت تو دیا جاتا۔ تاجر یہ بھی کہتے ہیں کہ اس معاملے میں لائسنس حاصل کرنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔اقبال قریشی کا کہنا ہے کہ ‘لکھنؤ میں کل لائسنس کی تعداد 603 ہے۔ ان میں سے 340 لائسنس کی تجدید کی گئی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں دکانیں بغیر لائسنس کے چل رہی ہیں اور لکھنؤ میونسپل نے بڑی تعداد میں ایسی دکانوں کو بند کرا دیا ہے۔’گوشت کی قلت کے سبب معروف ریستوراں بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ‘ کئی لوگوں نے تو پوچھ گچھ اور کارروائی کے خوف سے انہیں از خود بند کر دیا۔ محکمہ خوراک میونسپل کے لائسنس کو تسلیم نہیں کرتا لیکن کارروائی صرف ان دکانوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو میونسپل کمشنر کی اجازت کے بغیر کھلی ہیں۔’
بھارت میں ذبح خانوں کے متعلق قانون 1950ء کی دہائی کا ہے۔ جبکہ انہیں رہائشی علاقوں سے دور لے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے علاوہ قومی گرین ٹربیونل بھی حکم جاری کر چکا ہے۔سپریم کورٹ نے 2012ء میں حکم دیا تھا کہ تمام ریاستی حکومتیں ایک کمیٹی بنائیں جس کا کام شہروں میں ذبح کی جگہ طے کرنا اور ان کی تجدیدکاری کو یقینی بنانا ہو۔ اس کے باوجود بہت سے بوچر خانے غیر قانونی طریقے سے ابھی تک چل رہے ہیں۔حکومت کے اس فیصلے کا اثر لکھنؤ کے معروف ٹنڈے کباب پر بھی پڑا اور کئی دہائیوں میں پہلی بار انہیں اپنی دکانیں بند کرنی پڑی ہیں۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تاجروں کا ایک طبقہ معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے غازی آباد سمیت کئی علاقوں کے ذبح خانے بند کر دیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے پولیس کو ہدایات دی تھیں کہ ‘غیر قانونی’ ذبح خانوں کو بند کیا جائے۔
ذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت میں مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی بھی وابستہ ہے۔میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش پرکاش نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا: ‘ذبح خانے بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر دلّتوں پر پڑے گا۔ چمڑے کام دلتوں کا آبائی کاروبار ہے، جو وہ صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بند ہونے سے بڑی تعداد میں دلتوں کی روزی روٹی ماری جائے گی۔’محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 75 قانونی ذبح خانوں میں سے 38 ریاست اترپردیش میں ہیں اور اس میں دلتوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی وجود - بدھ 18 فروری 2026

سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت وجود - بدھ 18 فروری 2026

فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

مضامین
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

بھارتی مسلمانوں پر تشدد وجود جمعرات 19 فروری 2026
بھارتی مسلمانوں پر تشدد

سب سے بڑی بغاوت شعور ہے! وجود جمعرات 19 فروری 2026
سب سے بڑی بغاوت شعور ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر